پانچ جولائی اور بھینس کے آگے بین


dr abdul rauf sweden

وسعت اللہ خان نے ایک بار لکھا تھا: ”کچھ زمینیں آمریت کے لیے زرخیز ہوتی ہیں، بھلے آمریت کسی بھی شکل میں ہو“ اگر پاکستان، بالخصوص پنجاب کے معروضی حالات پر نگاہ ڈالی جائے تو یہ بات پوری طرح سچ محسوس ہوتی ہے۔

پانچ جولائی وہ دن ہے جسے تاریخ نے پاکستان کی سیاسی، سماجی اور نظریاتی ساخت کے ایک سنگین موڑ کے طور پر محفوظ کر رکھا ہے۔ آج سے ٹھیک 48 برس قبل، ملک کو ایک ایسی سازش کا نشانہ بنایا گیا جس کے اثرات تاحال ہمارے حال و مستقبل پر سایہ فگن ہیں۔ اس دن کے حوالے سے بہت کچھ لکھا اور پڑھا جا چکا ہے ؛ حقائق بھی موجود ہیں اور پروپیگنڈا بھی۔ مگر المیہ یہ ہے کہ اس دن کی تباہ کاریوں کا سلسلہ تھمنے کا نام نہیں لے رہا۔

ایک اور کالم میں وسعت اللہ خان نے پانچ جولائی کی ہولناکی کو یوں بیان کیا تھا: ”پھر یوں ہوا کہ ذہنی قد چھوٹے ہونے لگے اور سائے لمبے۔ ارے یاد آیا، آج پانچ جولائی بھی تو ہے“ یہ جملے شاید تلخ ہوں، لیکن جب آپ دیکھتے ہیں کہ اعلیٰ تعلیم یافتہ نوجوان سوشل میڈیا پر جھوٹی معلومات، آدھے سچ اور تاریخی تحریفات کو فروغ دے رہے ہیں، تو وسعت اللہ کے الفاظ ایک تلخ مگر سچی حقیقت بن جاتے ہیں۔ صفدر ہمدانی نے اسی تناظر میں کہا تھا:

”آج کے دن میری دھرتی پر عذاب اُترا تھا“

اور یہ عذاب، مختلف شکلوں میں آج بھی ہمارے گرد موجود ہے۔ دہشت گردی، کرپشن، منشیات اور فرقہ واریت تو جنرل ضیاء الحق کے ادوار کے تحفے تھے ہی، لیکن اس سے بڑھ کر یہ المیہ بھی ہماری تاریخ کا حصہ بن چکا ہے کہ تاریخی حقائق کو مسخ کر کے بنیاد پرستی اور نفرت کا بازار گرم رکھا جائے۔

آج سوشل میڈیا اور مصنوعی ذہانت کے دور میں جہاں تحقیق اور تجزیے کے بے پناہ مواقع میسر ہیں، وہیں ان کا منفی استعمال بھی اپنی انتہا کو پہنچ چکا ہے۔ افسوس کی بات یہ ہے کہ ایسے لکھاری جو علمی اور فکری ساکھ رکھتے ہیں، وہ بھی اس منفی بیانیے کا حصہ بن رہے ہیں۔

گزشتہ دنوں ایک اچھے صحافی خالد جمیل صاحب نے دو تاریخی واقعات کو آپس میں جوڑ کر ایک بے بنیاد دعویٰ کیا، جس پر خوب داد سمیٹی۔ حالانکہ یہ بات وثوق سے کہی جا سکتی ہے کہ وہ خود ان واقعات کی اصل ترتیب اور سیاق و سباق سے ناآشنا نہیں ہو سکتے۔

ان کی پوسٹ کا مفہوم کچھ یوں تھا کہ ”یحییٰ خان نے مجیب الرحمٰن کی اکثریتی نشستیں منسوخ کر کے ممبران کو آزاد قرار دیا تو بھٹو صاحب نے کہا کہ شکر ہے پاکستان بچ گیا۔“

یہ بیان نہ صرف تاریخی ترتیب کو مسخ کرتا ہے بلکہ سچائی کو ایک مخصوص طبقے کی خوشنودی کی خاطر بدلنے کی کوشش ہے۔

حقیقت یہ ہے کہ مارچ 1971 میں مجیب الرحمٰن، بھٹو اور یحییٰ خان کے درمیان جب ملک کے مستقبل کے آئینی خاکے پر گفتگو ہو رہی تھی، تو مجیب اپنے چھ نکات سے پیچھے ہٹنے کو تیار نہ تھے۔ نکات جن کے نتیجے میں مشرقی پاکستان کو نہ صرف علیحدہ ملیشیا بلکہ بیرونی دنیا سے آزاد تجارت کا حق بھی حاصل ہو جاتا۔ بھٹو صاحب ان نکات پر شدید معترض تھے اور اسی لیے اپنے ارکان کو ڈھاکہ جانے سے روکا، کیونکہ خدشہ تھا کہ عوامی لیگ ان نکات کو اسمبلی میں منظور کروا کر مشرقی پاکستان کو عملاً خودمختار حیثیت دے دے گی۔

بھٹو صاحب کا موقف تھا کہ اسمبلی اجلاس سے قبل آئینی فریم ورک پر باقاعدہ معاہدہ ہونا ضروری ہے، جبکہ مجیب اجلاس بلا کر فوری عملدرآمد کا خواہشمند تھا۔ یحییٰ خان نے اسی تناؤ کے پیش نظر اجلاس ملتوی کیا، جس پر بھٹو صاحب نے واپسی پر ڈھاکہ ائرپورٹ پر کہا تھا:

”شکر ہے، پاکستان بچ گیا۔“

اس کے بعد یحییٰ خان نے نہ صرف آپریشن کا حکم دیا بلکہ عوامی لیگ کی نشستیں خالی قرار دے کر ضمنی انتخابات کا اعلان کیا۔ بھٹو نے کوئٹہ میں پریس کانفرنس کر کے واضح کیا کہ وہ چاہتے ہیں تمام امیدواران کو الیکشن میں حصہ لینے کا مساوی حق حاصل ہو۔ مگر حالات اس قدر بگڑ چکے تھے کہ تین ماہ بعد یحییٰ خان نے الیکشن ہی منسوخ کر دیے اور عوامی لیگ کی نشستیں ستمبر 1971 میں جماعت اسلامی، یونائٹیڈ فرنٹ اور دیگر اپوزیشن جماعتوں میں بانٹ دیں۔ دلچسپ امر یہ ہے کہ پیپلز پارٹی نے اس عمل میں کسی بھی نشست کو قبول نہیں کیا۔

خالد جمیل صاحب نے نہ صرف تاریخی ترتیب کو مسخ کیا بلکہ جان بوجھ کر سچائی کو بدل کر پیش کیا، تاکہ ایک مخصوص بیانیے کو فروغ دیا جا سکے۔ یہی وہ طرزِ فکر ہے جس کے ذریعے ضیاء الحق کے نظریاتی وارث آج بھی نوجوان نسل کے ذہن میں پیپلز پارٹی اور بھٹو دور کے بارے میں زہر گھول رہے ہیں۔

ایک اور غلط تصور جو اکثر دہرایا جاتا ہے وہ یہ ہے کہ بھٹو صاحب بنگلہ دیش کے قیام کے ذمہ دار تھے۔ سوال یہ ہے کہ ایک ایسی ریاست میں، جسے دنیا ”فوج کی مملکت“ کہتی ہے، وہاں اپوزیشن لیڈر جو نہ صدر ہے، نہ آرمی چیف کیوں کر اس قابل تھا کہ وہ اقتدار کی منتقلی کو روک سکے؟ اقتدار کی منتقلی تو یحییٰ خان کی ذمہ داری تھی۔

ان سب واقعات سے زیادہ اہم وہ پس منظر ہے جسے دانستہ طور پر نظرانداز کیا جاتا ہے :
جب اکثریت پر اقلیت نے ایک ایسی زبان تھوپنے کی کوشش کی جسے نہ پڑھا جا سکتا تھا، نہ لکھا، نہ بولا۔
جب ڈھاکہ یونیورسٹی کے طلبا نے بانی پاکستان کا خطاب سننے سے انکار کیا۔
جب بنگالی اکثریتی اسمبلی توڑ کر وہاں گورنر راج نافذ کیا گیا۔
جب فوج، بیوروکریسی اور ترقیاتی بجٹ میں بنگالیوں کا حصہ نظرانداز کیا گیا۔
اور جب ایوب خان نے 1963 میں خود بنگالیوں کو علیحدگی کا مشورہ دیا۔

یہ تمام عوامل مشرقی پاکستان کی علیحدگی کے اسباب تھے، جنہیں نظرانداز کر کے سارا ملبہ ایک شخص، بھٹو پر ڈال دینا نہ صرف غیرمنصفانہ ہے بلکہ تاریخ کے ساتھ نا انصافی بھی۔

یہ بھی حقیقت ہے کہ بھٹو ایک انسان تھا، اور اس کی شخصیت میں خامیاں بھی تھیں۔ لیکن اس کی خدمات کو بھی نظرانداز نہیں کیا جا سکتا۔ جب وہ برسرِاقتدار آیا تو ملکی بجٹ کا 21 فیصد ترقیاتی کاموں پر خرچ کیا جبکہ صرف 2 فیصد دفاع پر۔ اس کے برعکس جنرل ضیاء الحق نے دفاعی اخراجات کو بڑھا کر 9 فیصد جبکہ ترقیاتی فنڈز کو گھٹا کر 3 فیصد کر دیا۔ بھٹو کو ٹوٹا ہوا ملک ملا، ضیاء کو امریکی جنگ کے بدلے میں ڈالر کی بوریاں۔ یہی ایک گناہ بھٹو کا کافی ہے کہ اسے پھانسی کے 36 سال بعد بھی معاف نہیں کیا جا سکا۔

میں نظریات کی پیروی کو گمراہی نہیں سمجھتا۔ میں پیپلز پارٹی کی پرو سوشلسٹ اکنامک پالیسیوں اور نسبتاً سیکولر نظریے کا قائل ہوں اور ان نظریات کو ہی اس ملک کے مسائل سے نکلنے کی واحد امید سمجھتا ہوں بھلے کوئی بھی پارٹی ان نظریات پر عمل پیرا ہو۔ دوسری طرف مذہب کے نام پر سیاسی اداکاری کرنے والے افراد ملک کو صرف افغانستان بنا سکتے ہیں، کچھ اور نہیں۔

Facebook Comments HS