کیا جنوبی ایشیا مذہبی انتہا پسندی کے سامنے گھٹنے ٹیک چکا ہے؟
پاکستان میں جس طرح انتہا پسند گروہ من مانی اور خون ریزی کو اپنا حق سمجھتے ہیں وہ کسی سے پوشیدہ نہیں ہے۔ بھارت میں جس طریق پر بھارتیہ جنتا پارٹی نے پورے بھارتی معاشرے کا حلیہ بگاڑ دیا وہ سب کے سامنے ہے۔ لیکن ایسا معلوم ہوتا ہے کہ جنوبی ایشیا میں مذہبی انتہا پسندی کسی خوفناک وائرس کی طرح نہ صرف پھیل رہی ہے بلکہ شدید سے شدید تر ہوتی جا رہی ہے۔ جب سے بنگلہ دیش میں حسینہ واجد صاحبہ کی حکومت رخصت ہوئی ہے بنگلہ دیش میں مذہبی انتہا پسندی رجحانات شدید سے شدید تر ہوتے جا رہے ہیں۔ اگر اس تبدیلی کے نتیجہ میں بھارت کی حکومت کے خلاف جذبات بڑھ جاتے یا ان سے تعلقات کشیدہ ہو جاتے تو یہ ایک سیاسی معاملہ ہوتا لیکن اس تبدیلی کے بعد خود بنگلہ دیش کے ہندو شہریوں کے خلاف متعصبانہ واقعات میں تیزی سے اضافہ ہو رہا ہے۔ اور جب سے بھارت اور پاکستان کے درمیان سو گھنٹے کی جھڑپ ہوئی ہے ایسے واقعات میں مزید تیزی سے اضافہ ہوا ہے۔
اب ہندو احباب کی مذہبی رسومات بسنتی پوجا اور درگا دیوی کے لئے منائے جانے والے تہوار مہا آشاتمی کے موقع پر امن عامہ کو اتنا خطرہ تھا کہ فوج کو طلب کرنا پڑا۔ اس کے باوجود ہندو مت کی مذہبی علامات اور مذہبی عمارات کو نقصان پہنچانے کے افسوسناک واقعات ہوئے۔ یکم مارچ کو سری گنج کے مقام پر ہندو احباب کی دیوی کے مجسمہ کو نقصان پہنچایا گیا۔ اور تو اور پانچ مئی کو مدری پور میں صدیوں پرانا برگد کا درخت جس پر شیو مندر تھا اور جس کی نہ صرف ہندو احباب بلکہ بدھ احباب بھی عزت کرتے تھے جلا دیا گیا۔ ستائیس مئی کو مانک گنج کے مقام پر ایک ہندو اکثریت کے علاقہ میں کالی دیوی کے مندر کو نذر آتش کر دیا گیا۔ اس کے علاوہ گزشتہ ڈیڑھ سالوں میں بنگلہ دیش میں ہندو احباب پر بلاسفمی کے تحت مقدمات بنانے یا انہیں اغوا کر کے اذیتیں پہنچانے کے کچھ واقعات بھی ہوئے ہیں۔ گزشتہ دسمبر میں ایک لڑکے کے متعلق بلاسفمی کے غلط الزامات کی وجہ سے ہندو آبادی کے گھروں اور مندروں پر حملوں کے واقعات ہوئے۔ اسی طرح یونیورسٹیوں کے ہندو طلبا پر بھی ایسے الزامات لگا کر انہیں نشانہ بنایا گیا۔
حکومت کی تبدیلی کے بعد بہت سی دہشت گرد تنظیموں نے بھی دوبارہ سر اٹھانا شروع کیا ہے۔ ان میں وہ تنظیمیں بھی شامل ہیں جن کی ہمدردیاں القاعدہ اور اسلامک سٹیٹ جیسے گروہوں کے ساتھ ہیں۔ ان میں انصاراللہ بنگلہ ٹائیگر، انصاراللہ بنگلہ ٹیم، حزب التحریر اور نیو جماعت المجاہدین جیسے گروہ بھی شامل ہیں۔ کچھ عرصہ قبل اسلامک سٹیٹ والوں نے ایسے پوسٹر شائع کیے تھے کہ بنگلہ دیش میں اس موقع سے فائدہ اٹھا کر خلافت کے قیام کا اعلان کر دینا چاہیے۔ جماعت اسلامی پر حسینہ واجد صاحبہ کے دور میں پابندی لگائی گئی تھی اور ظاہر ہے کہ اب یہ پابندی اٹھا لی گئی ہے اور اب یہ جماعت بھی ملکی سیاست میں اپنا قد بڑھانے میں مصروف ہے۔
اس میں کوئی شک نہیں کہ عوامی لیگ کے دور میں خاص طور پر آخر میں جو اقدامات اٹھائے گئے تھے ان میں سے کئی اقدامات جمہوری روایات کے بالکل منافی تھے۔ اس کالم کا مقصد ان اقدامات کا دفاع کرنا نہیں ہے۔ لیکن بعد میں جو صورت حال نمودار ہو رہی ہے وہ بھی بہت تشویشناک ہے۔ جس طرح بھارت میں مسلمانوں کو مکمل مذہبی آزادی کا حق حاصل ہے بالکل اسی طرح پاکستان اور بنگلہ دیش کی ہندو یا مسیحی آبادی کو بھی مکمل مذہبی آزادی کا حق حاصل ہے۔ لازمی طور پر ایک کی نفی کا نتیجہ دوسرے کی نفی کی صورت میں برآمد ہو گا۔ پاکستانی ہونے کے ناتے ہم اس بات پر خوشی محسوس کرتے ہیں کہ اب بنگلہ دیش اور پاکستان کے تعلقات پہلے سے بہتر ہو رہے ہیں لیکن بنگلہ دیش کے دوستوں کو پاکستان کی تاریخ سے سبق حاصل کرنا چاہیے۔ آخر مذہبی تنگ نظری سے پاکستان کو کیا حاصل ہوا جو اب بنگلہ دیش کو حاصل ہو گا؟
(Rising Islamist and Anti-Hindu Sentiment in Bangladesh in Wake of Pahalgam Attack: Terrorism Monitor Volume: 23 Issue: 2)
پاکستان، بھارت اور بنگلہ دیش تو ایک طرف رہے میانمار میں بھی بدھ مت کے راہبوں کا ایک شدت پسند منظم گروہ سنگھا ملٹری حکومت کی حمایت کر رہا ہے اور ان کی سیاست کا مرکز مذہبی اور نسلی اقلیتوں کے ارد گرد گھیرا تنگ کرنا ہے۔ اس ملک میں ساڑھے پانچ لاکھ سے زائد بدھ مت کے راہب مرد و خواتین موجود ہیں۔ اور یہ مضبوط گروہ ملکی سیاست میں کافی عمل دخل رکھتا ہے۔ ان راہبوں میں ایک خاطر خواہ گروہ میانمار میں مسلمانوں کی مخالفت میں بھی پیش پیش رہا ہے۔ اگر پاکستان میں ہندو اور مسیحی احباب کو مکمل مذہبی آزادی حاصل نہیں ہو گی تو اس سے بھارت میں ان شدت پسند گروہوں کو مدد ملے گی جو کہ مسلمانوں اور مسیحی آبادی کے حقوق سلب کرنے کے لئے کوشاں ہیں۔ اور اگر بنگلہ دیش میں ہندو احباب پر مظالم کیے گئے تو اس سے صرف یہی نتیجہ نکلے گا کہ بھارت کے انتہا پسندوں کے ہاتھ مضبوط ہوں گے۔ اس صورت حال میں میانمار کے شدت پسند بدھ کہہ سکتے ہیں کہ ہم بھی تو اپنے ملک کے اندر خودمختار ہیں۔ ہمارے ملک میں اقلیتوں سے جو سلوک بھی ہو وہ ہمارا اندرونی معاملہ ہے۔ اور افغانستان کی حالت پر تبصرہ کرنے کی ضرورت نہیں۔ اس طرح جنوبی ایشیا کبھی بھی مذہبی شدت پسندی کے منحوس چکر سے باہر نہیں نکل پائے گا۔
یہ وہ دور ہے جب آزادی مذہب اور آزادی ضمیر کی حفاظت کرتے ہوئے اور جنگوں اور خانہ جنگیوں کے چنگل سے آزاد ہو کر ہر ملک کو اپنے ملک کے شہریوں کے معیار زندگی، صحت اور تعلیم جیسے امور پر توجہ مرکوز کرنے کی ضرورت ہے۔ لیکن اس وقت جنوبی ایشیا میں ہر طرف عدم برداشت کا راج ہے۔ اس صورت حال کو بدلنے کے لئے ذہنیت کو تبدیل کرنے کی ضرورت ہے۔
جنوبی ایشیا میں اگر کسی آئین کو سب سے زیادہ کام کرنے کا موقع ملا ہے تو وہ بھارت کا آئین ہے۔ اور ہم جانتے ہیں کہ یہ آئین ڈاکٹر امبیدکر کی قیادت میں تیار کیا گیا تھا۔ ڈاکٹر امبیدکر اچھوت اقوام کے لیڈر تھے۔ ان کے حقوق کے لئے ساری عمر جد و جہد کی۔ کبھی اس کی خاطر کانگرس سے لڑے اور کبھی گاندھی جی سے ٹکر لی۔ کوئی ان سے اختلاف کرے یا اتفاق اب تک دنیا ان کی قابلیت اور جد و جہد کی معترف ہے۔ 1953 میں بی بی سی نے ان سے ایک انٹرویو لیا۔ اس میں ان سے دریافت کیا کہ کیا بھارت میں جمہوریت چل پائے گی۔ ان کا صاف جواب تھا کہ نہیں۔ انہوں نے کہا کہ جمہوریت کا ڈھانچہ موجود ہو گا۔ ہر پانچ سال کے بعد انتخابات ہوں گے وزیراعظم منتخب ہوں گے لیکن جمہوریت نہیں چل رہی ہو گی۔ جمہوریت چلانے کے لئے معاشرے کو درست کرنا ہو گا۔ طبقاتی تقسیم ختم کرنا ہو گی۔ لوگوں کو شعور دینا ہو گا۔ کیا ڈاکٹر امبیدکر کے خدشات درست ثابت ہو رہے ہیں؟

