خوش فہمی کا پنجرہ: جہاں مرد کی طاقت اس کا سب سے بڑا بوجھ بن جاتی ہے


ہمارے معاشرتی شعور میں یہ بات ایک ناقابلِ تردید حقیقت بن چکی ہے کہ یہ سماج مرد کے قبضے میں ہے، جہاں عورت ایک مظلوم اور بے بس مخلوق ہے جو اس کے ظلم و ستم کا شکار ہے۔ یہ ایک ایسی سچائی ہے جس سے انکار ممکن نہیں، مگر اس تصویر کا ایک اور رخ بھی ہے جو اکثر نظروں سے اوجھل رہتا ہے۔ یہ تصویر اس مرد کی ہے جو خود اسی نظام کا ایک قیدی ہے، ایک ایسا قیدی جسے طاقت اور اختیار کی زنجیروں سے جکڑ دیا گیا ہے۔ یہ دونوں کرب ایک ہی نظام کے پروردہ ہیں، ایک ہی درخت کی شاخیں ہیں جن کی جڑیں پدر سری کے زہریلے پانی میں ڈوبی ہوئی ہیں۔ ہم نے مرد کو ایک ایسا رول ماڈل بنا دیا ہے جس میں اس کے تمام جذبات کو دفن کر کے اسے صرف ’فرائض‘ اور ’ذمہ داریوں‘ کا دیوتا بنا دیا گیا ہے، اور وہ ان توقعات کے بوجھ تلے خود کو کھوتا چلا جاتا ہے۔

تاریخ اور فلسفے کے صفحات پلٹیں تو آپ کو معلوم ہو گا کہ انسان نے جب سے گروہوں کی شکل اختیار کی، اس نے طاقت اور ذمہ داریوں کو جنس کی بنیاد پر تقسیم کرنا شروع کر دیا۔ مرد کو شکار، حفاظت اور حکمرانی کا ذمہ دار ٹھہرایا گیا جبکہ عورت کو گھر، خاندان اور نسل کو پروان چڑھانے کا۔ یہ تقسیم بظاہر فطری لگتی تھی، مگر آہستہ آہستہ یہ ایک جبر کی شکل اختیار کر گئی۔ مرد کا مقام بلند ہوا، اسے طاقت کا مرکز بنا دیا گیا، لیکن یہ طاقت ایک پنجرہ بن گئی۔

ایک ایسا پنجرہ جس کی سلاخیں سونے کی تھیں، لیکن جس کے اندر جذبوں کے پر کاٹ دیے گئے۔ اس پر ایک ایسا سماجی لباس تھوپ دیا گیا جہاں رونے، ڈرنے، یا کمزور پڑنے کی کوئی گنجائش نہیں تھی۔ اسے یہ سکھایا گیا کہ مرد کی آنکھوں میں آنسو نہیں آتے، مرد کو تکلیف نہیں ہوتی، وہ لوہے کی دیوار ہوتا ہے۔ یہ فلسفہ اس کی روح میں اس حد تک سرایت کر گیا کہ وہ اپنے اندر کے حساس انسان کو جیتے جی مارنے پر مجبور ہو گیا۔ اس کے لیے والد کا رتبہ، شوہر کا منصب، یہ سب رشتوں سے زیادہ ’فرض‘ اور ’ذمہ داری‘ کی صورت اختیار کر گئے، جس کی ادائیگی کے لیے اسے اپنی تمام ذاتی خواہشات اور خوشیوں کی قربانی دینا پڑی۔ وہ ایک ایسی مشین بن گیا جو خاندان کے نام پر چلتی رہتی ہے، مگر اس کی اپنی بیٹری کبھی چارج نہیں ہوتی۔

یہی نفسیاتی اور سماجی بوجھ اسے ایک عجیب سی کشمکش میں مبتلا کر دیتا ہے۔ وہ اپنے والدین اور بیوی کے درمیان ایک ایسے بوجھل پل کی مانند رہتا ہے جس پر دونوں طرف سے توقعات کا وزن لادا جاتا ہے۔ اگر وہ والدین کی خدمت کو ترجیح دے تو اسے ’ماما بوائے‘ کے طعنے ملتے ہیں، اور اگر بیوی کی سنے تو ’زن مرید‘ کا طعنہ۔ وہ ہمیشہ ایک توازن قائم کرنے کی کوشش میں لگا رہتا ہے، مگر اس توازن کا حاصل اس کی اپنی ذات کی فنا ہوتی ہے۔

وہ خاندان کا سب سے مضبوط ستون کہلاتا ہے، مگر اس کے فیصلوں کی اہمیت ریٹائرمنٹ کے بعد ختم ہو جاتی ہے اور وہ ایک ناکارہ شے کی طرح سائڈ لائن کر دیا جاتا ہے۔ یہ ایک عام مشاہدہ ہے کہ اولاد کی تمام محبت اور عقیدت ماں کے نام ہو جاتی ہے، اور باپ جو ساری عمر اپنی ضروریات کو قربان کرتا رہا، اس کی محنت و مشقت کو بھی ایک وقت کے بعد بے تُکی اور فضول باتیں کہہ کر رد کر دیا جاتا ہے۔ لیکن یہ ایک پدر سری سماج کا المیہ ہے جو مرد کو صرف اس وقت تک عزت دیتا ہے جب تک وہ ’کماؤ‘ اور ’طاقتور‘ ہو۔ جب وہ اپنی یہ حیثیت کھو دیتا ہے تو اس کی قدر بھی ختم ہو جاتی ہے۔ اس کی یہ حالت اس وجہ سے نہیں ہے کہ اس کا اپنا کوئی جرم ہے، بلکہ اس وجہ سے ہے کہ اس نے معاشرے کے بنائے ہوئے ’مردانگی‘ کے معیار کو پورا کرنے کے لیے اپنی انسانیت کو قربان کر دیا۔

اس سارے سماجی جبر کا ایک تاریک ترین پہلو وہ جنسی اور جذباتی محرومی ہے جس کا بوجھ مرد اٹھاتا ہے، خاص طور پر گھریلو تعلقات میں۔ یہ ایک پیچیدہ حقیقت ہے جسے صرف عورت کی ’بدمزاجی‘ یا ’چڑچڑے پن‘ سے نہیں سمجھا جا سکتا۔ اگر ہم نفسیات اور سماجیات کے نقطہ نظر سے دیکھیں تو عورت کی ’بے رغبتی‘ محض شرم و حیا کا پردہ نہیں، بلکہ صدیوں کی اس سماجی تربیت کا نتیجہ ہے جہاں عورت کو یہ سکھایا گیا کہ جنسی عمل ایک ’شرمناک‘ اور ’ناپسندیدہ‘ فعل ہے جو صرف مرد کی تسکین کے لیے بھگتنا پڑتا ہے۔

اس کے اپنے جذبات اور خواہشات کو ہمیشہ ہی ایک شجرِ ممنوعہ سمجھا گیا، اور اس کی اپنی جنسیت کو ہی دبا دیا گیا۔ جب کسی انسان کی فطری جبلتوں کو ہی ’گناہ‘ قرار دے کر اسے اس طرح کی سوچ میں پروان چڑھایا جائے، تو وہ کیسے ایک ’خود سپردگی‘ اور ’جاذبیت‘ کا اظہار کر سکتی ہے؟ یہ جبر صرف عورت کا نہیں، بلکہ مرد کا بھی ہے جو اپنے ہی گھر میں اپنی خواہشات کا گلا گھونٹنے پر مجبور ہے۔

یہ ایک پیچیدہ حقیقت ہے جسے صرف عورت کی ’بدمزاجی‘ یا ’چڑچڑے پن‘ سے نہیں سمجھا جا سکتا۔ نفسیاتی ماہرین، جیسے سگمنڈ فرائیڈ نے بھی، اس بات پر زور دیا کہ جنسی خواہشات کو دبانے سے کیا شدید نفسیاتی مسائل جنم لیتے ہیں۔ لیکن مسئلہ صرف مرد کی تسکین کا نہیں، بلکہ دونوں فریقوں کے درمیان باہمی سمجھ، احترام اور جذبات کے اظہار کی کمی کا ہے جو اسی نظام کی دین ہے جہاں جذباتی گفتگو کو ’مردانگی‘ کے خلاف سمجھا جاتا ہے۔

مرد کو یہ سکھایا جاتا ہے کہ وہ صرف ’فراہم کنندہ‘ ہے اور عورت کو یہ کہ وہ ’اطاعت گزار‘ ہے۔ اس تربیت میں کہیں بھی یہ نہیں سکھایا جاتا کہ وہ دونوں برابر کے شراکت دار ہیں اور ان کی جذبات، خواہشات اور ضروریات ایک دوسرے کی طرح اہم ہیں۔ اس گھٹن کے نتیجے میں مرد جب باہر کے راستے تلاش کرتا ہے، یا مذہبی ہو کر اپنی خواہشات کو دباتا ہے، تو اس کے نتائج معاشرے میں بے راہ روی اور جنسی تشدد کی صورت میں ظاہر ہوتے ہیں۔ یہ کوئی فطری عمل نہیں، بلکہ ایک بیمار سماجی نظام کی پیداوار ہے۔ یہ تشدد اکثر ان مقامات پر زیادہ ہوتا ہے جہاں جذباتی اور جنسی گھٹن زیادہ ہوتی ہے اور جہاں طاقت کا ناجائز استعمال عام ہے۔

ایسی اذیتیں جہاں کمسن لڑکوں کو جبری طور پر خواجہ سرا بنا دیا جاتا ہے، یا ان پر جنسی تشدد ہوتا ہے، اس کے پیچھے بھی یہی نظام کارفرما ہے جو جنسیت کو ایک فطری عمل کے بجائے ایک ممنوعہ خواہش بنا دیتا ہے۔ جب فطری جبلتیں سماجی دیواروں میں قید ہو جاتی ہیں، تو وہ غیر فطری راستے اختیار کرنے پر مجبور ہو جاتی ہیں، اور اس کا سب سے بڑا شکار وہ کمزور اور محروم افراد ہوتے ہیں جن کے پاس اپنی حفاظت کا کوئی نظام نہیں ہوتا۔ ایک ایسے معاشرے میں، جہاں نوجوانوں کو صحت مند تفریح اور جنسی تعلیم نہیں دی جاتی، ’لوگ کیا کہیں گے‘ کی تلوار ہمیشہ سر پر لٹکتی رہتی ہے، اور وہ اپنی خواہشات کو پورا کرنے کے لیے خطرناک اور غیر صحت مند راستے اختیار کر لیتے ہیں۔ اس کی وجہ سے ان کی کارکردگی، صحت اور مستقبل سب کچھ داؤ پر لگ جاتا ہے۔

آخر میں، یہ کہنا بالکل حق بجانب ہے کہ مرد کی اہمیت کم نہیں کی جا سکتی، وہ سورج کی مانند ہے جس کے دم سے زندگی ہے۔ لیکن، تاریخ اور انسانیت کا فلسفہ یہ سکھاتا ہے کہ سورج کی حدت زندگی دینے کے ساتھ جلا بھی سکتی ہے۔ ایک صحت مند وجود کے لیے سورج کی روشنی کے ساتھ چاند کی ٹھنڈک، زمین کی نمی، اور ہوا کا سکون بھی ضروری ہے۔ مرد اور عورت کو ایک دوسرے کے خلاف کھڑا کرنے کے بجائے، ہمیں ان پر عائد کردہ ان سخت سماجی رشتوں کو ختم کرنا ہو گا جنہیں طاقت اور اختیار کے نام پر مقدس بنا دیا گیا ہے۔

جب مرد کو جذباتی ہونے کی آزادی ملے گی اور عورت کو اپنی مرضی اور شناخت کا اختیار، تبھی یہ گھر، یہ خاندان اور یہ معاشرہ ایک صحت مند اور مکمل وجود بن سکے گا۔ حقیقی انسانیت کا تقاضا ہے کہ ہم دونوں کی ذات کو ان فرسودہ تصورات کی زنجیروں سے آزاد کریں اور ایک ایسا معاشرہ تشکیل دیں جہاں محبت، احترام اور مساوات ہو، نہ کہ طاقت کا جبر اور رشتوں کی بے حسی۔

Facebook Comments HS

ڈاکٹر سنتوش کامرانی

ڈاکٹر سنتوش کامرانی حیدرآباد، سندھ کی ایک نجی یونیورسٹی میں انسانی رویے، منطق و تنقیدی سوچ، فلسفہ، انسانی علوم اور تعلیمی نفسیات جیسے مضامین کی تدریس میں مشغول ہیں۔ ان کے تعلیمی پس منظر میں میڈیکل سائنسز، ماس کمیونیکیشن، تعلیم، اور پبلک ایڈمنسٹریشن شامل ہیں۔ آپ یونیسکو پاکستان کے پلیٹ فارم سے امن، انسانی حقوق اور تنازعہ حل کرنے کی تعلیم پر مرکزی کردار ادا کرتے رہے ہیں

dr-santosh-kamrani has 33 posts and counting.See all posts by dr-santosh-kamrani