منافع کی منڈی میں عقیدہ فقط ایک نعرہ


بھارت دنیا کا دوسرا سب سے بڑا ”بیف“ یعنی گائے اور بھینس کے گوشت کا برآمد کنندہ ملک ہے، جو ہر سال تقریباً 3.8 ارب ڈالر کا زرمبادلہ کماتا ہے۔ اس تجارت کا بڑا حصہ بھینس کے گوشت پر مشتمل ہے، جو جنوب مشرقی ایشیا اور مشرقِ وسطیٰ کے ممالک میں بے حد مقبول ہے۔

لیکن دلچسپ بات یہ ہے کہ یہی بھارت اپنے اندر گائے کے گوشت کے معاملے پر اتنا حساس ہے کہ محض اس کا استعمال، شبہ یا افواہ تک بعض اوقات انسان کی جان لے لیتا ہے۔ گائے کو ”ماں“ ماننے والے ہندو شدت پسند گروہوں نے پچھلے کچھ سالوں میں درجنوں بے گناہ مسلمانوں کو محض اس شک میں قتل کر دیا کہ اُنہوں نے بیف کھایا یا اس کی تجارت کی۔ کئی بار یہ جھوٹ بھی ثابت ہوا، لیکن خون تو بہہ چکا ہوتا ہے۔

اب سوال یہ ہے کہ ایک طرف بھارت دنیا بھر کو بیف بیچ کر اربوں ڈالر کماتا ہے، اور دوسری طرف اسی گوشت پر اپنے ہی شہریوں کو قتل کرتا ہے؟ کیا یہ محض تضاد ہے یا اس تضاد کے پیچھے کوئی گہرا نظام کار فرما ہے؟

جو لوگ سرمایہ داری کو محض ایک معاشی ماڈل سمجھتے ہیں، وہ اس سوال کا جواب کبھی نہیں دے پائیں گے۔ سرمایہ داری صرف دولت کا نظام نہیں، یہ فکر کا سانچہ بھی ہے جو ہر اصول، ہر عقیدے، ہر اخلاقی قدر کو منافع کے تابع کرتا ہے۔ جہاں نفع ہو، وہاں سب کچھ جائز ہے ؛ اور جہاں نفع نہ ہو، وہاں ”عقیدہ“ ، ”غیرت“ ، ”ثقافت“ اور ”مذہب“ کے نام پر لاشیں گرانا بھی معمول بن جاتا ہے۔

بھارت کا یہی ”گوشت کا تضاد“ سرمایہ داری کے چہرے سے نقاب ہٹانے کے لیے کافی ہے۔ اندرون ملک گوشت کھانے والے کو ہلاک کر دیا جاتا ہے اور بیرون ملک وہی گوشت ڈالرز میں بیچ دیا جاتا ہے۔ یہاں مذہب صرف کمزور کو قابو میں رکھنے کا آلہ ہے، طاقتور کے لیے مذہب ہمیشہ لچکدار ہوتا ہے۔

یہ تضاد صرف بھارت تک محدود نہیں۔ یہی عالمی سرمایہ دارانہ نظام ہے جو ایک طرف فلسطین میں انسانی حقوق کی پامالی پر خاموش تماشائی بنا رہتا ہے اور دوسری طرف انسانی حقوق کی عالمی تنظیمیں قائم کر کے امن کے ایوارڈ بانٹتا ہے۔ یہی نظام افریقہ میں کانیں خالی کرا لیتا ہے اور پھر انہی ممالک کو خوراک کی امداد بھی دیتا ہے۔ اور یہی نظام بھارت میں بیف ایکسپورٹ کو فروغ دیتا ہے، جبکہ ملک کے اندر بیف کھانے والے کی جان لینا حب الوطنی بن جاتی ہے۔

یہ بات جتنی سادہ ہے، اتنی ہی اہم بھی، کہ دنیا کو سمجھنے کے لیے صرف اعداد و شمار کافی نہیں ہوتے، نہ ہی مذہبی اخلاقیات۔ اس نظام کے تضادات کو سمجھنے کے لیے مارکسزم کا مطالعہ ناگزیر ہے۔ مارکس نے کہا تھا کہ ہر دور کی غالب سوچ، حکمران طبقے کی سوچ ہوتی ہے۔ بھارت کے حکمران طبقے نے جو سوچ فروغ دی ہے، وہ منڈی کی منطق ہے۔ گائے مقدس ہے، اگر وہ گوشت بن کر باہر ڈالر لائے ؛ لیکن اگر وہی گوشت کسی مسلمان کے پلیٹ میں آ جائے، تو وہ قابلِ گردن زدنی ہے۔

یہ تضاد صرف مذہبی شدت پسندی نہیں، یہ سرمایہ دارانہ اخلاقیات کی منافقت ہے۔ جس نظام میں انسان کی قدر صرف صارف ہونے پر ہو، وہاں عقائد بھی جنسِ بازار بن جاتے ہیں۔ ہر وہ چیز جو منافع دے سکتی ہو، مقدس ہے ؛ اور جو منافع نہ دے، وہ حرام، ناقابلِ برداشت، اور مٹانے کے قابل۔

مارکسزم ہمیں یہ سمجھاتا ہے کہ سماج صرف اخلاقیات اور مذہب سے نہیں چلتے، بلکہ طبقاتی تضادات اور پیداواری رشتے ہی وہ دھارے ہیں جو سماجی رویوں، اقدار اور حتیٰ کہ عقائد کو تشکیل دیتے ہیں۔ بھارت کا بیف ایکسپورٹ اسی سرمایہ دارانہ تضاد کی ایک شکل ہے، جس میں دولت اور عقیدے کے بیچ جو رشتہ قائم ہوتا ہے، وہ رشتہ صرف مارکسی نقطہ نظر سے ہی مکمل طور پر سمجھا جا سکتا ہے۔

آج ہمیں دنیا کے ہر گوشے میں یہی تضاد نظر آتا ہے۔ پاکستان میں مذہب کو سیاسی مقاصد کے لیے استعمال کیا جاتا ہے، امریکہ میں جمہوریت کے نام پر جنگیں مسلط کی جاتی ہیں، اور بھارت میں گاؤ رکھشا کے نام پر معیشت کا خون پیا جاتا ہے۔ لیکن ان سب تضادات کا ایک ہی مرکز ہے : منافع۔

اور جب تک ہم اس مرکز کو نہ سمجھیں، ہم محض سطحی بحثوں میں الجھ کر رہ جائیں گے۔ دنیا کو سمجھنے، بدلنے اور بہتر بنانے کے لیے مارکسی تنقید کو اپنانا ناگزیر ہے۔ کیونکہ سچ وہی ہوتا ہے، جو تضادات کو بے نقاب کرے۔

Facebook Comments HS