تخلیقی اقلیت کا فکری جائزہ


تصنیف: ڈاکٹر خالد سہیل
ترجمہ: نعیم اشرف
تبصرہ : محمد آصف رانا

دنیا میں ہر دور میں ایسے افراد پیدا ہوتے آئے ہیں جو معمول کی زندگی جینے سے انکار کرتے ہیں۔ وہ ان راستوں پر نہیں چلتے جو سماج، مذہب، ریاست یا روایت ان کے لیے متعین کرتی ہے۔ یہ لوگ وہی کرتے ہیں جو ان کا ضمیر، فہم اور تخیل انہیں کرنے پر مائل کرتا ہے۔

ڈاکٹر خالد سہیل کی کتاب ’تخلیقی اقلیت‘ ان ہی فکری باغیوں کی داستان ہے جو سسٹم کی پگڈنڈی کو چھوڑ کر اپنی راہ خود بناتے ہیں۔ جب زمانہ جمود میں قید ہو، جب سوچ پر پہرے ہوں، جب زبان پر تالے ہوں اور دلوں میں خوف ہو، تب کچھ لوگ اٹھتے ہیں۔ خاموش، سادہ، مگر شعور سے لبریز۔ یہ لوگ ”تخلیقی اقلیت“ کہلاتے ہیں۔ اسی وجہ سے کتاب کا ذیلی عنوان یہ رکھا گیا : ان لوگوں کی داستانِ حیات جو من کی پگڈنڈی پر چلتے ہیں َ ’یہ وہ چراغ ہوتے ہیں جو تاریکیوں میں روشنی بانٹتے ہیں، وہ چشمے ہوتے ہیں جو بنجر زمینوں کو سیراب کرتے ہیں۔

تخلیقی اقلیت کوئی سیاسی یا مذہبی جماعت نہیں، یہ وہ افراد ہیں جو سچ کے متلاشی، حسن کے شیدائی اور انسانیت کے علمبردار ہوتے ہیں۔ ان کا کام تخلیق برائے تخریب نہیں بلکہ تخلیق برائے تعمیر ہوتا ہے۔ انہیں اکثر معاشرے سے بے اعتنائی، طعن و تشنیع اور جلا وطنی کا سامنا کرنا پڑتا ہے، مگر وہ اپنا راستہ نہیں چھوڑتے۔

سقراط کی تخلیقی جرات کی ایک روشن مثال ”دیویوں اور دیوتاؤں کے تصور پر سوال اٹھانا“ تھا۔ یونان میں اُس وقت کا مذہبی نظام دیوی دیوتاؤں کے گرد گھومتا تھا، جنہیں انسانوں کی تقدیر کا مالک مانا جاتا تھا۔ سقراط نے ان خداؤں کی کہانیوں اور ان کی اخلاقی حیثیت پر سوال اٹھایا۔ اُس نے پوچھا کہ ’اگر یہ دیوتا واقعی کامل اور مقدس ہیں، تو پھر ان کے افعال انسانی کمزوریوں، حسد، غصے، جنگ اور انتقام سے لبریز کیوں ہیں؟

‘ یہ سوال اس وقت کی مذہبی پیشوائیت کے لیے ناقابلِ برداشت تھا کیونکہ ان کا اقتدار انہی عقائد پر قائم تھا۔ سقراط نے کہا: ”میں اُس خدا کو مانتا ہوں جو عقل، انصاف اور خیر کا سرچشمہ ہو، نہ کہ وہ جو انسانوں کی مانند عیب دار ہو۔“ اس کی یہ فکر نے مذہبی بنیادوں کو ہلا کر رکھ دیا۔ اسی سوچ کی بنیاد پر اسے ”یونانی خداؤں کی توہین“ اور ”نوجوانوں کو گمراہ کرنے“ کے جرم میں سزا دی گئی۔

عبدالغفار خان المعروف باچا خان نے پختونوں کو بتایا کہ اصل جہاد بندوق اٹھانا نہیں بلکہ علم حاصل کرنا ہے، اور اصل بہادری دشمن کو مار دینا نہیں بلکہ معاف کر دینا ہے۔ انہوں نے ’خدائی خدمتگار تحریک‘ کے ذریعے تعلیم کو ایک مقدس مشن قرار دیا، اور اپنے پیروکاروں کو اس نہج پر چلایا کہ وہ اسکول بنائیں، کتابیں تقسیم کریں، اور اسلحے کی جگہ علم کو دے دیں۔ ان کا ماننا تھا کہ: ”جب تک پختون تعلیم نہیں پائے گا، وہ خنجر سے زیادہ اپنی عقل پر بھروسا کرنا نہیں سیکھے گا۔

“ یہ جملہ اُن کے فکر کی گہرائی کو ظاہر کرتا ہے۔ انہوں نے عدم تشدد کو صرف ہتھیار کی مخالفت تک محدود نہیں رکھا، بلکہ اسے دلوں کی صفائی، ذہنوں کی بیداری اور معاشرے کی اصلاح کا ذریعہ بنا دیا۔ باچا خان کی جدوجہد، ان کی تعلیمات، اور ان کی زندگی کا ہر لمحہ ’تخلیقی اقلیت‘ کا جیتا جاگتا مظہر تھا۔ وہ ایک ایسا درویش رہنما تھا جو نہ جنگ لڑا، نہ حکومت میں حصہ دار بنا، نہ ملا بن کر کوئی فتویٰ دیا، مگر اپنی سوچ کے پرچار سے لاکھوں دلوں کو بدل دیا۔ ان کی تحریک آج بھی اس بات کی دلیل ہے کہ قوموں کی زندگی کو اسلحے سے نہیں بلکہ شعور سے بدلا جا سکتا ہے۔

نیلسن منڈیلا کی زندگی صبر، شعور اور مفاہمت کی ایک غیر معمولی داستان ہے۔ وہ ایک ایسے دور میں پیدا ہوئے جب جنوبی افریقہ میں سیاہ فاموں کو انسان تک نہیں سمجھا جاتا تھا۔ ان کی نسل کو تعلیم، ووٹ، رہائش اور بنیادی انسانی حقوق سے محروم رکھا گیا۔ مگر منڈیلا نے اس استحصال کے خلاف صرف آواز ہی نہیں اٹھائی، بلکہ عملی مزاحمت کا علَم بھی بلند کیا۔ ان کا اصل تعارف صرف ایک سیاسی رہنما یا انقلابی مجاہد کی حیثیت سے نہیں، بلکہ ایک ایسے انسان کے طور پر ہوتا ہے جس نے نفرت میں نہیں، برداشت میں عظمت دیکھی۔

ان پر نسل پرست حکومت نے غداری کا الزام لگایا اور انہیں 27 برس تک قید تنہائی میں رکھا گیا۔ جیل کی دیواریں ان کے جسم کو قید کر سکیں، مگر ان کے شعور اور ارادے کو جھکا نہ سکیں۔ ان کا مشہور قول ہے : ”میں اس لیے باہر نہیں نکلا کہ سفید فاموں سے بدلہ لوں، میں اس لیے باہر نکلا ہوں کہ اپنی قوم کو معاف کرنا سکھاؤں۔“

یہی وہ لمحہ تھا جب تاریخ نے اپنے اوراق کو پلٹا اور منڈیلا کو عفو، رواداری اور انسانیت کی علامت بنا دیا۔ انہوں نے یہ سبق دیا کہ طاقت صرف بندوق سے نہیں آتی، بلکہ درگزر اور امن کا ظرف بھی طاقت ہے۔ ان کی قیادت میں جنوبی افریقہ نے پہلی بار ایک جمہوری، نسلی امتیاز سے پاک حکومت کا خواب دیکھا اور پایۂ تکمیل تک پہنچایا۔ منڈیلا کی زندگی ایک زندہ گواہی ہے کہ سچائی اور انسان دوستی کی راہ چاہے کتنی بھی کٹھن ہو، اگر انسان نفرت کے جواب میں محبت، اور تشدد کے جواب میں امن کا ہاتھ بڑھائے تو تاریخ اسے ہمیشہ یاد رکھتی ہے۔

ڈاکٹر خالد سہیل ”سسٹم کی پگڈنڈی“ کو محض ایک سماجی نظام نہیں بلکہ سوچ کی غلامی، روایات کی جکڑ بندی اور اجتماعی بے شعوری کی علامت کے طور پر استعمال کرتے ہیں۔ یہ وہ تنگ راستہ ہے جس پر چلنے والے بچے بغیر سوال کیے تعلیم حاصل کرتے ہیں۔ نوجوان والدین اور معاشرے کی مرضی سے کیریئر چنتے ہیں۔ خواتین خاموشی سے صنفی کردار قبول کرتی ہیں اور بوڑھے افراد گزرے ہوئے زمانے کے خوابوں میں دفن ہو جاتے ہیں۔ مصنف کے مطابق روایات کی راہ پر چلنے والوں کی زندگیاں یکسانیت، تقلید اور اندرونی خلا سے بھرپور ہوتی ہیں۔

اس میں مصنف نے جس ”تخلیقی اقلیت“ کا ذکر کیا ہے، وہ کوئی تنظیم، طبقہ یا جماعت نہیں بلکہ وہ آزاد فکر انسان ہیں جو سسٹم کے جبر کو چیلنج کرتے ہیں۔ ان کی زندگی ایک احتجاج ہے۔ ایک تخلیقی بغاوت۔ یہ لوگ سوال کرتے ہیں جہاں جواب ممنوع ہوں۔ تخلیق کرتے ہیں جہاں تقلید رائج ہو۔ سوچتے ہیں جہاں سوچنا جرم ہو۔ اور جیتے ہیں جہاں زندہ رہنے کی اجازت مشروط ہو۔ یہ وہ کردار ہیں جو دنیا کے ہر معاشرے میں کسی نہ کسی صورت میں پائے گئے : سقراط، منصور، غالب، چی گویرا، نطشے، قرۃ العین حیدر، ویرساوا۔ جیسی شخصیات روایتی نظام سے انکار کی روشن مثالیں ہیں۔

مصنف کے نزدیک سسٹم صرف بیرونی نہیں، اندرونی بھی ہوتا ہے۔ جب ایک فرد معاشرتی خوف، مذہبی وسوسوں، طبقاتی احساسِ کمتری اور روایتی تعلیم کے سائے میں جیتا ہے تو وہ خود اپنے اندر ایک سسٹم قائم کر لیتا ہے۔ تخلیقی اقلیت ان ہی اندرونی زنجیروں کو توڑ کر زندگی کو نیا مفہوم دیتی ہے۔ اس میں یہ نکتہ بہت باریکی سے اجاگر کیا گیا ہے کہ تخلیق صرف ادب، فن یا موسیقی تک محدود نہیں بلکہ تخلیقی انداز میں زندگی جینے کا فن ہے۔

مصنف کہتے ہیں کہ تخلیقی اقلیت کے لوگ دوسروں کی لکھی ہوئی کہانی نہیں جیتے، بلکہ اپنی زندگی کو خود تحریر کرتے ہیں۔ وہ کردار نہیں، مصنف بنتے ہیں۔ ان کی داستانِ حیات:

کبھی عشق کا بیانیہ ہوتی ہے
کبھی جدوجہد کا نوحہ
کبھی علم کا خواب
اور کبھی خاموشی کی چیخ
یہ وہ لوگ ہوتے ہیں جو دوسروں کو بھی سوچنے، سوال کرنے اور نئی راہوں پر چلنے کی دعوت دیتے ہیں۔

نعیم اشرف کے ترجمے میں اس قدر سلاست اور روانی ہے کہ معلوم ہوتا ہے کہ کتاب دراصل اردو میں ہی لکھی گئی ہے۔ اس کو ایک تخلیقی ترجمہ کہا جا سکتا ہے۔ مترجم نے جس مہارت سے ”پگڈنڈی“ ، ”داستانِ حیات“ ، ”تخلیقی بغاوت“ ، اور ”ذہنی آزادی“ جیسے الفاظ استعمال کیے ہیں، وہ نہ صرف فکری گہرائی پیدا کرتے ہیں بلکہ قاری کو جذباتی طور پر بھی جھنجھوڑتے ہیں۔ ”پگڈنڈی“ جیسا لفظ سادگی میں گہرائی کی علامت بن گیا ہے جو روایت اور تقلید کے جبر کو بیان کرنے کے لیے نہایت موزوں ہے۔

یہ صرف چند تخلیقی انسانوں کی تعریف نہیں بلکہ ایک فکری انقلاب کی دعوت ہے۔ یہ ایک اعلان ہے کہ اگر آپ سسٹم کی پگڈنڈی پر نہیں چلتے تو آپ اکیلے نہیں۔ بلکہ تخلیقی اقلیت کا حصہ ہیں۔ تخلیقی اقلیت ایک فکری نفسیاتی اور سماجی نوعیت کی کتاب ہے جس کا مقصد ان افراد کی زندگیوں کو اجاگر کرنا ہے جو عام دھارے سے ہٹ کر سوچتے ہیں جیتے ہیں اور دنیا کو نئی فکری جہتوں سے آشنا کرتے ہیں۔

یہ کتاب ان افراد کی کہانی ہے جو روایتی اقتدار نظریات اور سماجی سانچوں کو چیلنج کرتے ہیں جو نئی راہیں نکالتے ہیں اور اکثر تنہائی مخالفت اور جدوجہد کا سامنا کرتے ہیں جن کی زندگی عام افراد سے مختلف ہوتی ہے لیکن وہی افراد کسی قوم معاشرے یا انسانیت کی فکری ترقی کا سبب بنتے ہیں۔ یہ اپنی نوعیت کی ایک منفرد اور اہم کتاب ہے۔ میں مصنف اور مترجم کو اس قابل ستائش کاوش پر مبارک باد پیش کرتا ہوں۔

(محمد آصف رانا، مسلم یوتھ یونیورسٹی اسلام آباد میں پی۔ ایچ۔ ڈی اسکالر ہیں )

Facebook Comments HS