رقص میں ہے سارا جہاں


میرے ایک دوست جو پاکستان نیوی میں ہیں۔ مجھے ان کے پاس منوڑہ کراچی جانے کا اتفاق ہوا تو بات رقص پر چل نکلی وہ کہنے لگے سمندر بھی رقص کرتا ہے۔ میں نے پوچھا وہ کیسے؟ تو انہوں کہا آئیں آج آپ کو دکھاتے ہیں۔ اس روز چاند کی چودہویں رات تھی۔ وہ مجھے لے کر لائٹ ہاؤس کے قریب بیٹھ گئے جہاں چاندنی کی روشنی میں چھوٹی چھوٹی لہریں نظر آ رہی تھیں۔ انہوں نے کہا دیکھیں جوں جوں چاندنی بڑھے گی یہ لہریں رقص کرنے لگیں گی۔ چاندنی کی دلفریبی سے پانی کی لہروں میں اضطراب پیدا ہونے لگتا ہے۔ تھوڑی دیر میں سمند ر کی لہریں واقعی جھومتی ہوئیں رقص میں آ کر ہم تک پہنچ رہی تھیں اور ہمیں پیچھے ہٹنا پڑا لہریں ناصرف جھوم جھوم آگے بڑھ رہی تھیں بلکہ ان کے شور میں بھی اضافہ ہو رہا تھا۔

انہوں نے کہا دنیا میں ہر شے رقص کرتی ہے جنگل، پہاڑ، جھاڑیاں، سمندر، دریا، چرند، پرند، نباتات، جمادات، کیڑے مکوڑے بھی اپنے عشق کا اظہار رقص سے ہی کرتے ہیں لیکن ہم ان سب کے رقص کو محسوس نہیں کر پاتے مور اور بہت سے پرندوں اور جانوروں کا رقص تو دیکھا بھی جاسکتا ہے۔ رقص ایک جانب اپنی خوشی کا اظہار ہوتا ہے۔ تو دوسری جانب دوسروں کی خوشی کا موجب بھی بنتا ہے۔ رقص ہر انسانی سماج کا حصہ ہے رقص کی خواہش پر قابو پانا ممکن نہیں ہوتا ہے۔ اس لیے پوری دنیا ناچ بھی رہی ہے اور سب کو نچا بھی رہی ہے۔ ویسے ہی جیسے بابا بلھے شاہ ؒ نے اپنے مرشد کو راضی اور خوش کرنے کے لیے رقص کا سہارا لیا تھا۔ ایسے ہی لگتا ہے کہ واقعی ”رقص میں ہے سارا جہاں“ ۔ جو حرکات بے ساختہ فرط جذبات کے تحت ہم آہنگی کے ساتھ جسم کے مختلف اعضاء سے سرزد ہوتی ہیں انہی رقص یا ناچ کا نام دیا جاتا ہے۔ رقص کی روایت دنیا کے ہر حصہ میں اور لوگوں میں کسی نہ کسی انداز میں موجود ہوتی ہے۔ رقص کے بغیر انسانی معاشرہ مکمل نہیں ہوتا۔ مولانا رومی کی دنیا میں رقص ایک الہامی دلکشی ہے جو انسان کو خدا سے ملا دیتی ہے رومیؒ کے چاہنے والے رقص کر کے دلکشیاں بکھیرتے ہیں۔ یہی رقص جب بے قابو ہو تو دھمال بن جاتا ہے۔ یہی وجہ تھی کہ حسین ابن منصور الحاج رقص کرتے اور انالحق کا نعرہ لگاتے سوئے دار گئے۔ مولانا رومی ؒ نے کہا بہادر اپنے لہو میں رقص کرتے ہیں۔

رقص اندر خون مرداں کنند۔ مطرباں شاں از دروں دف می زنند

ایک بزرگ کہتے ہیں اپنے بابا جی کے پاس بیٹھا ہوا تھا۔ فرمانے لگے او پتر! کوئلے کو کبھی دیکھا ہے تم نے میں نے عرض کی جی حضور دیکھا ہے۔ فرمانے لگے دیکھو اس کا رنگ بھی کالا اس کی خاصیت بھی کالی ہے جو چھوئے وہ بھی کالا ہو جاتا ہے۔ کوئلہ عیبوں ہی عیبوں سے بھرا ہوا ہے۔ مگر جیسے ہی یہ کوئلہ آگ میں ڈالا جاتا ہے۔ کوئی اسے کوئلہ نہیں کہتا سب اسے انگارہ کہتے ہیں۔ پہلے ٹھنڈا تھا اب آگ بن گیا ہے۔ پہلے ہر کوئی ہاتھ میں لے سکتا تھا عام تھا اب اتنا خاص ہے کہ جو چھوئے جل جائے۔ بھلا فرق کیا ہے؟ کوئلہ تو وہی ہے اب بھی آگ سے نکالو تو ٹھنڈا بن کر کوئلہ ہی بن جائے گا۔ ایسا ہی انسان کے ساتھ ہے جب تک عشق کی آگ میں نہ جلے یہ اس کوئلے کی مانند ہوتا ہے۔ اس میں عیب ہی عیب ہیں مگر جیسے ہی خدا سے عشق ہوا عام سے خاص بن گیا۔

بابا جی فرماتے ہیں۔ عشق نا چیز کو چیز بناتا ہے اور عام سے خاص کر دیتا ہے۔ کوئلہ جب ایک خاص کیفیت سے گزرتا ہے تو ہیرا بن کر چمکنے لگتا ہے۔ اسی طرح انسان جب عشق کے اہم مراحل گزارجاتا ہے تو اور بھی ہیرے کی طرح خاص ہو جاتا ہے۔ جس کی پوری دنیا دیوانی بن جاتی ہے۔ یہی بابا بلھے شاہ ؒ کے ساتھ بھی ہوا اپنے مرشد سے جڑ کر وہ انگارہ تو بن گئے مگر ہیرا بننے کے لیے انہیں رقص کا سہارا لینا ہی پڑا۔ ان کے صوفیانہ کلام کی وجہ سے مجھے حضرت بلھے شاہ ؒ سے عشق تو شروع سے ہی تھا۔ لیکن انہوں نے پنجابی زبان کی صوفی روایت میں رقص کو فنا فی الذات کا ذریعہ بناتے ہوئے وحدت الوجود کا جیسے سفر کیا اس نے انہیں صوفیا کی روایت عشق میں منفرد کر دیا۔ بلھے شاہ ؒ سے یہی عشق اور شوق ملاقات مجھے بھی پچھلے دنوں قصور لے گیا جہاں مجھے اس عظیم ہستی کو خراج عقیدت و محبت پیش کرنے کا شرف حاصل ہوا اور میری برسوں پرانی خواہش پوری ہوئی۔ وہاں جا کر احساس ہوا کہ بابا بلھے شاہ ؒ کی موجودگی کو دیکھا تو نہیں جا سکتا مگر محسوس کیا جاسکتا ہے۔ شاید چند مخصوص آنکھیں انہیں دیکھ بھی سکتی ہوں۔

اِٹ کھڑَکے تے دُکّڑ وجّے تَتا ہووے چُلھا
آن فقیر تے کھا کھا جاون راضی ہووے بُلھا

اینٹوں سے اینٹیں ٹکراتی ہیں۔ ناچ ہوتا ہے۔ چولہا گرم ہوتا ہے۔
فقیر آتے ہیں۔ کھانا کھا کر جاتے ہیں۔ بُلھا راضی ہوتا ہے۔

اگر ناچ حرام ہوتا تو بُلھے شاہ کبھی یہ نہ کہتا

بلھے نچ کے یار منایا اے
سارا بھید اندر دا پایا اے

کہتے ہیں جب من کے اندر پھوٹنے والی بے پناہ خواہش کو اظہار کا راستہ نہ ملا ہو گا تو یقیناً تب ہی انسان نے رقص ایجاد کیا ہو گا۔ اسی لیے رقص میں جسم کا انگ انگ تھرکتا ہے۔ لیکن بلھے شاہ ؒ نے رقص کے ذریعے یار منانے کی ایک نئی روایت اور مثال قائم کی ہے۔ بلھے شاہ نے اپنا محبوب رقص کر کے راضی کیا ہے اور وہ اپنے اندر چھپے راز سے واقف ہو گیا ہے۔ کسی نے جب یہ پوچھا کہ وہ کیا راز ہے جس سے واقف ہوئے ہو تو بلھے شاہ نے جواب دیا۔

گل سمجھ لئی اے تاں رولا کیہ
ایہہ رام رحیم تے مولا کیہ

(بات سمجھ میں آ جائے تو رام رحیم کے جھگڑے ختم ہو جاتے ہیں )

برصغیر پاک و ہند میں جب بھی کسی کے دل سے رام رحیم کا جھگڑا ختم ہوا تو اس کے قدم اس کے من کی لَے پر اٹھنے لگے اور وہ بلھے شاہ کے حلقے میں جا بیٹھا۔ یہاں فقیروں پر آنے جانے کی کوئی روک ٹوک نہیں ہے۔ اور جہاں من کی لَے پر ناچنے سے کسی کا دھرم بھرشٹ نہیں ہوتا۔ کہتے ہیں کہ بلھے شاہ زندہ تھا تو شریعت کے پابند علمائے کرام اس کی مخالفت کیا کرتے تھے۔ کیونکہ وہ ملامتی صوفی تھا اور ملامتیوں کی علتوں کو بہت بے باکانہ انداز سے اپنائے رکھتا تھا۔ وہ قدم قدم پہ محتاط فکر پاک بازوں پہ چوٹ لگاتا اور انہیں اپنی بے ساختہ کافیوں سے آزردہ کیے رکھتا۔ ان کی انہی بے باکیوں نے ان کے مرشد کو ان سے ناراض کر دیا اور انہوں نے بلھے شاہ کو اپنے حلقے سے نکل جانے کا حکم دے دیا۔ اب جو مرشد کی ناراضی کا احساس کچوکے دینے لگا تو وہ انہیں منانے کی خاطر مست قوالوں میں جا کر ناچ سیکھنے لگ گئے اور ہجر میں عشق کا غم اپنے شعروں میں کہنے لگے :

ایس عشقے دی جھنگی وچ مور بولیندا
سانوں قبلہ تے کعبہ، سوہنا یار دسیندا
سانوں گھائل کر کے، پھیر خبر نہ لئی آ
تیرے عشق نچایا کر کے تھیّا تھیّا

(عشق کی جھاڑی میں مور بولتا ہے، ہمیں قبلہ اور کعبہ اپنے محبوب میں دکھائی دیتا ہے۔ مجھے دکھی کر کے ہماری خبر تک نہ لینے والے، میں تیرے عشق میں ناچ رہا ہوں )

ایک روز اپنے مرشد کے سامنے ناچتے ناچتے جب مرشد کے قدموں میں جا گرے تو انہوں نے معاف کر دیا۔ وہ پکار پکار کر کہنے لگے :

آؤ نی سیٔو رل دیو نی ودھائی
میں ور پایا سوہنڑا ماہی

(میری سہیلیو! مجھے مبارک دو، میرے محبوب نے مجھے اپنا لیا ہے )

بقول مولانا رومی ؒ ”محبت کے بغیر ہر موسیقی شور ہے، ہر رقص پاگل پن ہے اور ہر عبادت بوجھ ہے“ محبت کی لگن، رقص سے والہانہ عقیدت اور اس کے رستے پر چل کر وجود کی وحدت کے اسرار کے پردے چاک کرنے کے لیے ہمیں کہیں دور جانے اور کوئی بہت بڑی تپسیا کرنے کی ضرورت نہیں ہے۔ قصور میں بلھے شاہ کا مزار ہمارا منتظر ہے اور وہاں جانے پر ممکن ہے کہ آپ کی ملاقات بلھے شاہ ؒسے بھی ہو جائے کیونکہ وہ خود ہی یہ کہتے کہتے رخصت ہوئے ہیں اور آج ایک دنیا ان کے مزار کے گرد محو رقص ہے دھمال ڈال رہی ہے۔

بلھے شاہ اسیں مرنا ناہیں گور پیا کوئی ہور

Facebook Comments HS