شہر کراچی
کراچی۔ پاکستان کا معاشی انجن، سب سے زیادہ ٹیکس دینے والا شہر، اور دو کروڑ سے زائد انسانوں کا مسکن۔ آج اپنی زبوں حالی پر ماتم کناں ہے۔ کبھی جسے شہرِ قائد کہا جاتا تھا، آج وہ بدترین انفراسٹرکچرل تباہی کا نمونہ بن چکا ہے۔
کراچی کی سڑکوں کی حالت ایسی ہے کہ شہری اکثر طنزیہ انداز میں کہتے ہیں : ”ہم تو گاڑی نہیں چلاتے، سڑک پر پانی میں کشتی چلاتے ہیں یا گڑھوں سے بچتے ہوئے ناچتے ہیں!“ یہ مذاق نہیں، بلکہ ایک تلخ حقیقت ہے۔ جگہ جگہ سڑکوں پر گڑھے ایسے ہیں جیسے حکومت نے ارادہ کر لیا ہو کہ شہریوں کی گاڑیوں کے معائنے کا کام یہی گڑھے کریں گے۔ گٹر ابل رہے ہیں، بارش کے بعد سڑکیں تالابوں میں بدل جاتی ہیں، اور کئی علاقوں میں تو سڑکیں مکمل طور پر غائب ہو چکی ہیں۔
جس شہر سے ملک کا 60 فیصد ریونیو اکٹھا کیا جاتا ہے، اس شہر کو یہ صلہ دیا جاتا ہے کہ اس کے باسی بدترین سفری اذیت میں مبتلا ہوں۔ حکومتِ سندھ کی کارکردگی اکثر صرف کاغذوں اور دعووں تک محدود دکھائی دیتی ہے۔ زمینی حقائق کچھ اور ہی داستان سنا رہے ہیں۔ بدنظمی، بدعنوانی اور عوامی مسائل سے غفلت۔
سوال یہ ہے کہ جب انفراسٹرکچر اتنا زبوں حال ہے، تو کیا شہریوں کو ریلیف ملتا ہے؟ نہیں، بلکہ ان پر مزید بوجھ ڈال دیا جاتا ہے۔ ٹریفک چالان کی شرح کو دبئی کے طرز پر بڑھا دیا گیا ہے، حالانکہ کراچی کی سڑکیں موئن جو دڑو کی یاد دلاتی ہیں۔ نہ سگنلز کام کرتے ہیں، نہ لین مارکنگ موجود ہے، اور نہ ہی کوئی منظم ٹریفک سسٹم۔ پولیس صرف اس تاک میں رہتی ہے کہ کب کسی معصوم ڈرائیور سے چالان کے نام پر ”چائے پانی“ لیا جائے۔
اب نئی اسکیم لائی گئی ہے۔ گاڑیوں کی پرانی نمبر پلیٹیں ختم، نئی نمبر پلیٹیں لگوانے کا حکم، اور تمام رجسٹریشنز ازسرِنو کروانے کی مہم۔ حکومت اسے ”سیکیورٹی اقدام“ کہتی ہے، عوام اسے ”نیا ٹیکس چور دروازہ“ سمجھتے ہیں۔ ہر گاڑی والے سے ہزاروں روپے اینٹھنے کا نیا طریقہ متعارف کرایا جا رہا ہے، جب کہ عوام پہلے ہی مہنگائی، پٹرول کی قیمتوں، اور ٹیکسوں کے بوجھ تلے پس رہی ہے۔
پبلک ٹرانسپورٹ: المیہ در المیہ
کراچی جیسے شہر میں جہاں ذاتی گاڑی رکھنا ہر شہری کے بس کی بات نہیں، وہاں پبلک ٹرانسپورٹ زندگی کی بنیادی ضرورت ہے۔ لیکن افسوس کہ یہ شعبہ بھی بدترین حالت میں ہے۔ منی بسیں اور کوچز یا تو اپنی عمر پوری کر چکی ہیں یا پھر کسی بھی وقت حادثے کا شکار ہو سکتی ہیں۔ سیٹیں پھٹی ہوئی، چھتیں ٹپکتی ہوئی، کھڑکیاں بند، اور کرائے بڑھتے جا رہے ہیں۔ ان گاڑیوں میں سفر کرنا شہریوں کے لیے جسمانی اور ذہنی اذیت سے کم نہیں۔
سرکاری بسیں، جو کہ کچھ برس پہلے کراچی میں دوبارہ متعارف کرائی گئیں، وہ بھی ناکافی ہیں۔ مخصوص علاقوں تک محدود اور محدود اوقات میں دستیاب یہ سہولت عام شہری کی روزمرہ ضرورت پوری نہیں کر سکتی۔ شہر کے مضافاتی علاقوں میں تو جیسے یہ تصور ہی موجود نہیں۔
میگا پروجیکٹس جیسے ”گرین لائن بس“ منصوبے کو بڑے دعووں سے شروع کیا گیا، لیکن اس کا دائرہ کار بھی بہت محدود ہے۔ عام شہری اب بھی پبلک ٹرانسپورٹ کے لیے رُل رہا ہے۔
آخر کب تک؟
یہ سوال آج ہر کراچی والے کی زبان پر ہے : کیا ہمارا قصور یہ ہے کہ ہم اس شہر میں پیدا ہوئے؟ آخر اس شہر کو کیوں سزا دی جا رہی ہے؟ کیا کراچی پاکستان کا حصہ نہیں؟ کیا یہاں کے باسی انسان نہیں؟ کب تک ہماری گاڑیاں ٹوٹتی رہیں گی؟ کب تک ہم سڑک پر ٹریفک جام میں گھنٹوں پھنسے رہیں گے؟ کب تک حکمرانوں کی بے حسی جاری رہے گی؟
کراچی کو بچانا ہے تو باتوں سے نہیں، عملی اقدامات سے بچانا ہو گا۔ شفافیت، منصوبہ بندی، اور شہریوں کو اعتماد میں لے کر اگر انفراسٹرکچر کی بحالی شروع کی جائے تو کراچی ایک بار پھر چمک سکتا ہے۔ لیکن اگر یہی روش رہی تو ایک دن ایسا آئے گا جب کراچی کی کہانی صرف تاریخ کی کتابوں میں پڑھی جائے گی۔ ایک ایسا شہر جو کبھی معیشت کا دل تھا، مگر حکمرانوں کی غفلت نے اسے برباد کر دیا۔


