عصمت فروشی: دیوداسی سے بازارِ حسن تک


کہا جاتا ہے کہ عصمت فروشی انسانی تاریخ کا قدیم ترین پیشہ ہے۔ معاشی مجبوریوں، سماجی ڈھانچے اور جنسی تسکین کی خواہش کے ملاپ نے اسے ایک منظم کاروبار کی شکل دے دی جو ارتقائی مراحل طے کرتے ہوئے آج بھی دنیا کے ہر معاشرے میں مختلف شکلوں میں موجود ہے۔

برصغیر میں عصمت فروشی کی تاریخ مذہبی رسوم، سماجی درجہ بندی، معاشی مجبوری، پدرانہ کنٹرول اور نو آبادیاتی مداخلت کے دھاگوں سے بُنی ایک پیچیدہ قالین سے مشابہ ہے۔ اس کا ایک اہم اور اکثر متنازع نقطۂ آغاز قدیم مندروں کی حدود میں پوشیدہ ہے، جہاں تقدیس اور گناہ کے درمیان کی لکیر کبھی کبھار دھندلا جاتی تھی۔ صدیوں کے ارتقاء کے بعد یہ عمل جنسی کاروبار کی بالکل مختلف تجارتی شکلوں میں ڈھل گیا۔ اس ارتقاء کا سراغ لگانا سماجی تبدیلیوں، طاقت کی حرکیات اور خواتین کی پسماندہ حیثیت پر پڑے دبیز پردے کو ہٹانے کے مترادف ہے۔

ہندوستان میں منظم عصمت فروشی کی جڑیں بنیادی طور پر دیوداسی نظام (دیوتاؤں کی باندی) میں پیوست ہیں۔ اگرچہ اس کی ابتدا مبہم ہے، لیکن دیوتاؤں کے لیے وقف خواتین کے وجود کے ناقابل تردید ثبوت مندروں کے کتبوں میں ملتے ہیں۔ ابتدائی طور پر، دیوداسیوں کو معزز فنکار اور مذہبی رسوم کی پالنہار سمجھا جاتا تھا۔ انہیں شادی جیسی ایک مقدس رسم کے ذریعے ہی عمر بھر کے لیے دیوتا کے حوالے کر کے مندر سے وابستہ کر دیا جاتا تھا، جہاں ان کو مندر کی نگرانی اور مورتیوں کی دیکھ بھال جیسی اہم ذمہ داریاں سونپی جاتی تھیں۔ مندر کی رسومات، تہواروں، شادی بیاہ اور دیگر سماجی تقریبات میں ان کی موجودگی اور رقص و موسیقی کی پیشکش کو دیوتاؤں کی نمائندگی کے طور پر متبرک سمجھا جاتا تھا۔

بن بیاہی ہونے کے ناتے جنسی تعلقات سے مبرا سمجھی جانے والی دیوداسیوں کے لیے جنسی تعلقات استوار کرنا باقاعدہ مذہبی فریضہ تو نہیں تھا، لیکن یہ مندر کی مرضی و منشا کے بغیر بھی ممکن نہ تھا۔ غالب امکان ہے کہ مندر کے اعلیٰ سرپرستوں (بادشاہوں، زمینداروں، نوابین) کے ساتھ تعلقات قائم کرنا فن کی سرپرستی، مالی معاونت اور جنسی قربت کے امتزاج پر مشتمل ہو سکتا تھا۔ ان تعلقات کو آج کے جدید دور کی طرح خالصتاً تجارتی عصمت فروشی نہیں سمجھا جاتا تھا، یہ مذہبی تقدیس، سماجی حیثیت اور مالی مفادات کے پیچیدہ جال میں گندھا ہوا ایک گورکھ دھندا تھا۔

اگرچہ جنسی پہلو مندر کی عبادت کا باقاعدہ حصہ نہیں تھا، لیکن مندر دیوداسیوں کو سماجی شناخت اور قانونی تحفظ فراہم کرتا تھا۔ سرپرستوں کے ساتھ ان کے تعلقات اکثر ان کی مندر سے وابستگی اور حیثیت کی بدولت ہی قائم ہوتے تھے۔ مورخین اس بات پر بحث کرتے ہیں کہ مندر نے ان تعلقات کو براہ راست کس حد تک منظور کیا یا ان سے فائدہ اٹھایا، اور کس حد تک یہ ان کی منفرد حیثیت کا سماجی نتیجہ تھا۔ دیوداسیوں کا تعلق عام طور پر مخصوص (اکثر نچلی ذات کی) برادریوں سے ہوتا تھا۔ اگرچہ کچھ نے شہرت اور دولت بھی حاصل کی، لیکن ان کی سماجی حیثیت مبہم اور کمزور ہی رہی۔

قرون وسطیٰ کے آخر میں اور اسلامی حکمرانی کے تحت، دیوداسی نظام میں تبدیلی آنا شروع ہوئی۔ بادشاہتوں کے ٹوٹنے اور شاہی درباروں کے زوال کے ساتھ، مندروں کی عیش و عشرت والی سرپرستی کم ہو گئی۔ دیوداسیاں معاشی طور پر زیادہ سے زیادہ انفرادی سرپرستوں پر انحصار کرنے لگیں۔ جیسے جیسے ان کی معاشی بقا ان سرپرستوں سے وابستہ ہوئی جو فن سے زیادہ جسمانی تعلق میں دلچسپ رکھتے تھے، ان کے کردار میں جنسی پہلو نمایاں تر ہوتا گیا۔

انگریزوں کی آمد کے ساتھ اس نظام میں ایک بنیادی تبدیلی رونما ہوئی۔ وکٹورین اخلاقیات نے دیوداسی روایت کو گہری نفرت اور حقارت کی نظر سے دیکھا، اسے محض ”عصمت فروشی“ کے مترادف قرار دے دیا۔ اس نظام پر قدغن لگانے کے لئے نئے قوانین نافذ کیے گئے جن کا مقصد سپاہیوں میں جنسی امراض کو کنٹرول کرنا بھی تھا۔ ان قوانین نے عصمت فروشی پر شبہ رکھنے والی خواتین بشمول دیوداسیوں کے جبری معائنے اور رجسٹریشن کو لازمی قرار دیا جس کے نتیجے میں دیوداسی نظام کا عملی طور پر خاتمہ ہو گیا۔

انگریزوں نے اس کاروبار کو ریاستی کنٹرول میں لے کر ایک نئی شکل دی۔ مغربی ”ریڈ لائٹ ایریاز“ کی طرز پر مخصوص علاقے قائم کیے گئے جہاں خواتین کو کوٹھے بنا کر رہنے اور اپنی خدمات (رقص و موسیقی ) پیش کرنے کی اجازت دی گئی۔ اس نئے انتظام سے ان مخصوص علاقوں میں ایک منفرد سماجی ڈھانچہ (سب کلچر) وجود میں آیا جہاں کوٹھا چلانے والی عورت (نائکہ) جائیداد کی مالک بن سکتی تھی اور اپنے کاروبار پر نسبتاً زیادہ اختیار رکھتی تھی۔ اس دور میں طوائفیں صرف جنسی خدمات کی بجائے موسیقی، رقص اور گفتگو کی ماہر فنکارہ کے طور پر بھی مشہور ہوئیں۔ انگریز افسران اور مقامی اشرافیہ کے ساتھ تعلقات کی بدولت کچھ نامور طوائفوں (جیسے کلکتہ کی وصلہ جان، گراموفون ریکارڈنگ کرنے والی پہلی گلوکارہ گوہر جان، پشاور کی ممتاز محل اور لاہور کی بینو) کو بے پناہ دولت، شہرت اور سیاسی اثر و رسوخ حاصل ہوا۔

آزادی کے بعد پاکستان میں جنسی کاروبار، جسے مقامی طور پر ”بازارِ حسن“ کہا جاتا ہے، کی تاریخ بھی ثقافتی اشرافیہ کے زوال، نو آبادیاتی اثرات کے تسلسل، گہری سماجی و معاشی ناہمواریوں، بڑھتی ہوئی مذہبی انتہا پسندی اور قانونی ابہام کے سنگم پر کھڑی ہے۔ پاکستان کے علاقوں، بالخصوص پنجاب اور سندھ، میں طوائف (رقاصہ/گلوکارہ) کی روایت مغلیہ اور نوابی دور میں عروج پر تھی۔ پنجاب میں لاہور کی ہیرا منڈی (عرف عام شاہی محلہ) اس ثقافت کا مرکز تھی۔ طوائفیں صرف جنسی خدمات پیش کرنے والی نہیں تھیں ؛ وہ کلاسیکی موسیقی، رقص، شاعری اور نفیس گفتگو میں ماہر تھیں۔ ان کا کردار نوابوں کے محلات اور امیر تاجروں کی محفلوں میں اہم تھا اور انہیں فنکار اور ثقافتی ورثے کی حامل سمجھا جاتا تھا۔ تاہم، ان کی سماجی حیثیت ہمیشہ مبہم رہی، ایک طرف فن کی بدولت عزت اور دولت، دوسری طرف جنسی تعلق کی وجہ سے پست سماجی درجہ۔ ان کا تعلق اکثر مخصوص گھرانوں یا برادریوں سے ہوتا تھا جہاں یہ پیشہ نسلوں سے چلا آ رہا تھا۔

پاکستان میں 1979 ء کے زنا اور حدود آرڈیننس کے نفاذ نے صورتحال کو یکسر بدل دیا۔ اس قانون نے عصمت فروشی کو زنا کے مساوی جرم قرار دے دیا۔ روایتی ”بازارِ حسن“ پر چھاپے مارے گئے اور اسے قانونی طور پر بند کرنے کی کوششیں کی گئی۔ تاہم، اس کا نتیجہ یہ نکلا کہ عصمت فروشی ختم نہیں ہوئی بلکہ زیادہ پوشیدہ، منتشر اور غیر محفوظ شکلیں اختیار کر گئی۔ یہ کاروبار دیگر گلی محلوں، ہوٹلوں، اور دیگر سفید پوش علاقوں میں منتقل ہو گیا، جہاں خواتین استحصال، تشدد اور بلیک میلنگ کا زیادہ شکار ہونے لگیں۔ قانونی خوف اور سماجی بدنامی نے انھیں پولیس اور عدالتی نظام تک رسائی سے بھی محروم کر دیا ہے۔

برصغیر میں عصمت فروشی کا ارتقائی سفر دیوداسیوں کی مذہبی تقدیس سے لے کر انگریز دور کی نامور طوائفوں کی سماجی حیثیت اور پھر پاکستان میں اس پیشے کے مکمل جرم قرار پانے اور زیر زمین چلے جانے تک پھیلا ہوا ہے۔ یہ سفر سماجی، معاشی، مذہبی اور سیاسی قوتوں کے گہرے تعامل کی عکاسی کرتا ہے۔ دیوداسی نظام سے لے کر درباروں کی رقاصاؤں اور پھر ”بازارِ حسن“ تک، خواتین کا کردار کبھی صرف جنسی نہیں رہا، بلکہ وہ فن اور ثقافت کی حامل بھی تھیں، جنہیں ایک خاص سماجی و معاشی حیثیت حاصل تھی۔ تاہم، نوآبادیاتی دور کی وکٹورین اخلاقیات نے اسے محض ”بدکاری“ کے لیبل سے موسوم کر دیا، جس کی وجہ سے اس پیشے کی ثقافتی و سماجی اہمیت مجروح ہوئی۔

پاکستان میں 1979 ء کے قوانین نے اسے مکمل طور پر جرم قرار دے کر اسے مزید تاریکیوں میں دھکیل دیا۔ نتیجتاً، عصمت فروشی ختم ہونے کی بجائے زیادہ غیر محفوظ، استحصالی اور منظم جرائم کی آماجگاہ بن گئی۔ اس تاریخی جائزے سے یہ واضح ہوتا ہے کہ صرف قانونی پابندیاں اور سماجی بدنامی اس پیچیدہ معاشرتی مسئلے کا حل نہیں ہیں۔ اس کے پیچھے کارفرما گہری معاشی مجبوریاں، صنفی نا انصافیاں، تعلیم کی کمی اور سماجی تحفظ کے نظام کی ناکامی کو سمجھے بغیر کوئی دیرپا حل ممکن نہیں۔ عصمت فروشی کا سوال درحقیقت معاشرے کی اخلاقیات سے زیادہ اس کی بنیادی انسانی مجبوریوں، سماجی ڈھانچے کی ناکامیوں اور عورت کے جسمانی استحصال کا آئینہ دار ہے۔ تاریخی تناظر میں دیکھیں تو اس پیشے کی شکل بدلتی رہی ہے، لیکن اس کے وجود کے بنیادی اسباب آج بھی اسی طرح موجود ہیں۔ جب تک اسباب موجود ہیں جرم ہوتا رہے گا۔

Facebook Comments HS

علی احمد جان

علی احمد جان سماجی ترقی اور ماحولیات کے شعبے سے منسلک ہیں۔ گھومنے پھرنے کے شوقین ہیں، کو ہ نوردی سے بھی شغف ہے، لوگوں سے مل کر ہمیشہ خوش ہوتے ہیں اور کہتے ہیں کہ ہر شخص ایک کتاب ہے۔ بلا سوچے لکھتے ہیں کیونکہ جو سوچتے ہیں, وہ لکھ نہیں سکتے۔

ali-ahmad-jan has 289 posts and counting.See all posts by ali-ahmad-jan