پاکستان میں جمہوری نظام کی تشکیل و ترقی ہمیشہ سے ایک پیچیدہ اور ناہموار عمل رہا ہے۔ قیام پاکستان سے اب تک ملکی سیاست زیادہ تر بڑی سیاسی جماعتوں جیسے پاکستان مسلم لیگ (ن) ، پاکستان پیپلز پارٹی، اور بعد ازاں پاکستان تحریکِ انصاف کے گرد گھومتی رہی ہے۔ تاہم، 2008 سے 2022 کے درمیانی عرصے میں ایک نیا رجحان واضح ہوا ہے جس میں چھوٹی سیاسی جماعتوں اور آزاد امیدواروں کا انتخابی میدان میں ابھرنا اور قومی سیاست میں فیصلہ کن کردار ادا کرنا۔ آج ہم اسی رجحان کا ایک جامع اور تجزیاتی جائزہ لیتے ہیں جس میں اس عمل کے، اثرات، اور آئندہ ممکنہ نتائج اسباب کیا ہوں گے۔

پاکستان کے ابتدائی انتخابات میں زیادہ تر قومی جماعتوں کا غلبہ رہا، اور مقامی یا علاقائی سطح پر سیاست کرنے والی جماعتیں یا آزاد امیدوار صرف مخصوص نشستوں تک محدود تھے۔ لیکن وقت کے ساتھ ساتھ جب قومی جماعتیں بار بار اقتدار میں آ کر عوامی توقعات پر پورا نہ اتر سکیں، تو عوام میں سیاسی مایوسی اور متبادل قیادت کی تلاش کا رجحان پیدا ہوا۔ یہی وہ لمحہ تھا جب چھوٹی جماعتوں نے علاقائی، لسانی، یا مذہبی بنیاد پر سیاست کر کے اپنے لیے گنجائش بنائی۔ بلوچستان میں نیشنل پارٹی، بلوچستان عوامی پارٹی، سندھ میں گرینڈ ڈیموکریٹک الائنس، خیبر پختونخوا میں عوامی نیشنل پارٹی، اور مذہبی جماعتوں جیسے جمعیت علمائے اسلام (ف) ، تحریک لبیک پاکستان اور دیگر چھوٹے گروہوں نے رفتہ رفتہ قومی سطح پر اپنی شناخت بنائی۔

جنرل پرویز مشرف کے طویل دور کے بعد 2008 میں جمہوریت بحال ہوئی۔ اس وقت عوام کی نظریں دوبارہ پاکستان پیپلز پارٹی اور پاکستان مسلم لیگ نون پر تھیں، لیکن بلوچستان اور فاٹا جیسے علاقوں میں آزاد امیدواروں اور چھوٹی جماعتوں نے قابل ذکر کارکردگی دکھائی۔ بلوچستان اسمبلی میں ایک تہائی سے زائد نشستیں آزاد امیدواروں نے جیتیں۔ اسی طرح جمعیت علمائے اسلام، نے صوبائی سیاست میں اہم کردار ادا کیا۔

2013 کے انتخابات میں ایک طرف پی ٹی آئی ایک قومی متبادل کے طور پر سامنے آئی، تو دوسری طرف کئی حلقوں میں آزاد امیدواروں کی غیر معمولی کامیابی دیکھنے میں آئی۔ جنوبی پنجاب اور قبائلی علاقوں میں متعدد نشستیں ایسی تھیں جہاں امیدواروں نے کسی جماعت کے بغیر انتخابات جیتے، اور بعد ازاں حکومت سازی میں اہم ترین کھلاڑی بن گئے۔

پنجاب اسمبلی میں کم از کم 28 آزاد امیدوار کامیاب ہوئے جن کی اکثریت نے بعد میں پاکستان مسلم لیگ ن، یا دیگر جماعتوں میں شمولیت اختیار کر لی۔ یہ صورتحال اس بات کی طرف اشارہ کرتی ہے کہ ووٹروں میں جماعتی وفاداری کمزور ہو چکی تھی اور امیدوار کی شخصیت یا مقامی حیثیت زیادہ اہمیت اختیار کر چکی تھی

2018کے انتخابات میں چھوٹی جماعتیں اور آزاد امیدوار فیصلہ کن کردار میں آ گئے۔ اگرچہ پی ٹی آئی نے قومی سطح پر اکثریت حاصل کی لیکن وہ تنہا حکومت بنانے کے قابل نہ تھی۔ اسے بلوچستان عوامی پارٹی، مسلم لیگ (ق) ، متحدہ قومی موومنٹ اور آزاد ارکان کی حمایت سے مخلوط حکومت بنانا پڑی۔ اسی انتخابات میں ٹی ایل پی جیسی نئی مذہبی جماعت نے بھی حیرت انگیز مظاہرہ کیا، اگرچہ وہ اسمبلی میں نہ پہنچ سکی، لیکن اس کے ووٹ بینک نے بڑے شہروں میں نتائج پر اثر ڈالا۔

2022میں پیدا ہونے والے سیاسی بحران جس میں عدم اعتماد کی تحریک کے ذریعے عمران خان کی حکومت کا خاتمہ ہوا جو کہ چھوٹی جماعتوں اور آزاد امیدواروں کے سیاسی وزن کی عملی مثال تھا۔ یہ تمام جماعتیں وقتاً فوقتاً کسی ایک کیمپ کا حصہ بن کر حکومتی یا اپوزیشن اتحاد کو تقویت دیتی رہیں۔ اسی دوران بلوچستان میں بی اے پی (بلوچستان عوامی پارٹی) ، سندھ میں جی ڈی اے، اور دیگر علاقائی جماعتیں وفاقی سیاست میں کلیدی کھلاڑی کے طور پر ابھریں۔ کئی حلقوں میں آزاد امیدوار دوبارہ کامیاب ہو کر حکومت سازی کے عمل میں شامل ہوئے۔

اس کی بنیادی وجوہات میں قومی جماعتوں کی کمزور کارکردگی، بدعنوانی، غیر شفافیت، اور ناقص طرز حکمرانی نے ووٹروں میں قومی جماعتوں پر عدم اعتماد کو جنم دیا ہے۔ دوسری بڑی وجہ علاقائی اور لسانی نمائندگی کیونکہ چھوٹی جماعتیں اپنے مخصوص حلقے کی ترجمانی بہتر طور پر کر پاتی ہیں جیسے بلوچستان، سندھ اور جنوبی پنجاب میں قوم پرستی یا علاقائی محرومی کی بنیاد پر عوام نے ان جماعتوں کو ترجیح دی۔ تیسری بڑی وجہ شخصیت پر مبنی سیاست ہے۔ بہت سے علاقوں میں امیدوار کی مقامی حیثیت یا برادری کا اثر جماعتی وابستگی سے زیادہ اہم ہوتا ہے۔ یہی وجہ ہے کہ لوگ اس کو ہر آنے ولے الیکشن میں اپنا امیدوار سلیکٹ کرتے ہیں۔

چوتھی اور سب سے اہم وجہ غیر سیاسی قوتوں کا کردار ہے۔ بہت سے تجزیہ کاروں کا خیال ہے کہ کچھ مقتدر حلقے دانستہ طور پر طاقت کے ارتکاز کو روکنے کے لیے سیاسی منظرنامے کو منتشر رکھتے ہیں تاکہ مخلوط حکومتیں ان کے لیے قابل قبول رہیں۔ اور ایسے میں میڈیا خصوصاً سوشل میڈیا کا کردار بہت اہم ہے۔ ڈیجیٹل میڈیا نے چھوٹے سیاسی گروہوں کو بھی اپنی آواز بلند کرنے کا موقع فراہم کیا، جس سے ان کی سیاسی پہنچ میں وسعت آئی۔

مگر ایسے عوامل نے سیاسی استحکام یا غیر یقینی کی صورتحال پیدا کر دی ہے۔ جس میں چھوٹی جماعتوں اور آزاد امیدواروں ابھر کر سامنے آئے ہیں۔ اگرچہ اس کے کچھ مثبت پہلو بھی ہیں اور منفی بھی۔ مثبت پہلو میں جمہوریت کا دائرہ وسیع ہوا، عوامی نمائندگی متنوع اور علاقائی سطح پر موثر ہوئی۔ اختیارات کی مرکزیت ٹوٹی۔ اور منفی پہلو میں مخلوط حکومتیں غیر مستحکم ہوتی ہیں، چھوٹے گروہ ”بلیک میلنگ“ کی سیاست کرتے ہیں، پالیسی سازی میں تسلسل متاثر ہوتا ہے اور حکومت سازی میں غیر شفاف سودے بازی کو فروغ ملتا ہے۔

ایسے میں ایک سوال جنم لیتا ہے کہ کیا قومی جماعتیں اپنی حیثیت بحال کر سکیں گی؟ تو جواب ہے نہیں۔ اگرچہ چھوٹی جماعتوں کا عروج جمہوری نقطہ نظر سے خوش آئند ہے، لیکن اس کے منفی اثرات سے بچنے کے لیے قومی جماعتوں کو اپنی پالیسیوں، تنظیمی ڈھانچے اور طرز حکومت کو بہتر بنانا ہو گا۔ دوسری جانب، الیکشن کمیشن اور عدلیہ جیسے اداروں کو بھی چاہیے کہ وہ آزاد امیدواروں اور چھوٹی جماعتوں کے مالیاتی و انتخابی معاملات کی نگرانی کو موثر بنائیں تاکہ انتخابی عمل شفاف رہے۔

پاکستان کی انتخابی سیاست میں چھوٹی سیاسی جماعتوں اور آزاد امیدواروں کا ابھرنا محض ایک وقتی رجحان نہیں بلکہ ایک گہری عوامی تبدیلی کا مظہر ہے۔ عوام اب صرف نعروں سے نہیں بلکہ حقیقی خدمت، مقامی مسائل کے حل، اور عملی کارکردگی کو بنیاد بنا کر ووٹ دیتے ہیں۔ یہی وجہ ہے کہ سیاست کا توازن بڑی جماعتوں سے چھوٹی قوتوں کی طرف جھک رہا ہے۔ تاہم اس عمل کو موثر اور فائدہ مند بنانے کے لیے ضروری ہے کہ سیاسی جماعتیں اصلاحات پر توجہ دیں، جمہوری ادارے مضبوط ہوں، اور عوامی شعور بلند کیا جائے۔