جے یو آئی کا تصور انقلاب!
معاشروں میں نا انصافی اور عدم مساوات جب اپنے آخری نقطے کو چھو رہے ہوتے ہیں تو اس دوران سماج کے اندر ہی اندر گھٹن کا ماحول جنم لیتا اور پھلتا پھولتا رہتا ہے، گھٹن زدہ ماحول اپنے دامن میں شدید بے چینی، اضطراب، غصہ، اشتعال اور نفرت کی کیفیات ساتھ لیے انہیں انسانی نفسیات میں شامل کر دیتا ہے، ماضی کے جھروکوں کا مطالعہ کریں یا حال کے منظرناموں پر نظر ڈالیں، اس طرح کے اضطرابی اور بے چینی کے حالات ہمیشہ تبدیلی کے باعث بن کر رہے ہیں۔ دنیا بھر میں ماضی قریب میں جتنے ممالک میں تبدیلیاں رونما ہوئی ہیں ان کا بنیادی سبب نا انصافی اور عدم مساوات کی کوکھ سے جنم لینے والا عمومی اضطرابی ماحول رہا ہے جس نے برسوں وہاں کے باشندوں کی ذہنی تشکیل میں بنیادی کردار ادا کیا اور یوں عوامی طاقت سے تبدیلیوں کا خواب شرمندہ تعبیر ہوا ہے۔
لیکن کیا محض بے چینی اور عدم مساوات کے ماحول سے پیدا شدہ اضطراب مثبت تبدیلیوں کا سبب بنتا ہے، ہرگز نہیں، اس کے لیے ضروری ہے کہ، جس طرح سماجی ماحول سے اشتعال، نفرت، بے چینی، غصہ اور اضطراب بڑھ رہا ہے اسی طرح ایک مضبوط سیاسی پلیٹ فارم اور ایک دوراندیش قیادت بھی انہی حالات کے پیداوار کی شکل میں وقت کے ساتھ ساتھ وہ قوت حاصل کرتا رہے جس سے وہ عوامی اشتعال اور نفرت کو تعمیری تبدیلی کا رخ دے سکے جو اپنے نکتہ عروج پر پہنچ کر سماجی افراتفری کی شکل اختیار کر کے مثبت تبدیلی کی بجائے عوامی تباہی کی صورت میں نمودار نہ ہو سکیں۔
ہم اپنے ارد گرد کا جائزہ لیں، آج سے پچاس سال قبل کو دیکھیں، آج کو دیکھیں، ملک کے سیاسی نظام سے لے کر نظام انصاف تک، پر نظر دوڑائیں، عوام کی طرز زندگیوں میں جھانکیں، طبقات میں بٹے عوام کی صورتحال پر نظر کریں، اشرافیہ اور عام افراد میں موجود فاصلے کو ناپیں، ملک میں عوامی خدمت پر مامور اداروں کا جائزہ لیں، مسند اقتدار کے وارثوں کے رویوں کی جانچ پڑتال کریں، ملک اور عوام سے ان کی کمٹمنٹ کی سنجیدگی پر غور کریں، ایک کثیر القومی ریاست کو چلانے کے لیے تشکیل شدہ متفقہ آئین کا حشر نشر دیکھیں، کیڑے مکوڑوں کی طرح رینگتے لاکھوں انسان ہیں، ان کی آہ و بقاء ہے، ان کے ننگے بدن ہیں، بھوکے شکم ہیں، پیاس سے بنجر ہوتے ہوئے لب ہیں، ایک طرف عشرت کدوں کی بلندی آسمان چھوتی ہے تو دوسری طرف عسرت کدے ہیں کہ، پیوند زمین ہوتے جا رہے ہیں۔
دہائیوں پر محیط حالات نے ملک میں وہ ماحول جنم تو دیا ہے جو دیگر ممالک میں انقلاب کا سبب بنے ہیں جس سے عوام کی سیاسی قوت سے تعمیری تبدیلیاں رونما ہوئی ہیں، مگر سوال یہ ہے کہ، یہاں پر عوامی سیاسی تبدیلی کے بھی امکانات ہوسکتے ہیں یا یہ نظام اسی طرح عوام کے سینے پر مونگ دہلتا چلتا رہے گا۔
قانون فطرت یہ نہیں ہے کہ ایک عمل اپنی تمامتر خامیوں، کمزوریوں، غلطیوں اور ناکامیوں کے باوجود اسی تسلسل سے چلتا رہے جس طرح چلا آ رہا ہے، اسی طرح اس نظام کو کہیں نہ کہیں جاکر بریک لگنا ہے، ٹوٹ جانا ہے اور زمین بوس ہونا ہے۔
پاکستان میں تبدیلی اور انقلاب کے اس وقت دو تصور موجود ہیں اور دونوں تصور مذہبی پس منظر لیے ہوئے ہیں، ایک عسکری نکتہ نظر ہے اور ایک سیاسی اور عوامی جدوجہد کا تصور ہے۔
پاکستان میں ایک محدود طبقے کی سوچ یہی ہے کہ، اسلام کے نام پر بننے والے ملک میں بندوق کے زور پر انقلاب لایا جائے اس کے علاوہ اور کوئی راستہ نہیں ہے، اس کے لیے وہ ہمسایہ ملک افغانستان کی مثال پیش کرتے ہیں، لیکن پاکستان نہ افغانستان ہے اور نہ ہی یہاں بندوق کی طاقت سے تبدیلی کا عمل ممکن ہے۔ افغانستان پر جب سوویت یونین نے قبضہ کیا تو ایک غاصب کے مقابلے میں انہوں نے بندوق کا سہارا لیا، کیونکہ وہ ملک میں داخلی نظام کی تبدیلی نہیں بلکہ ایک قابض سامراج کے مدمقابل تھے، پاکستان میں جس طبقے نے یہ سوچ کر بندوق اٹھائی ہے اس سے کسی بھی تبدیلی کی امید رکھنا عبث پے بلکہ یہ تصور سماجی افراتفری اور خانہ جنگی کی صورتحال پیدا کرنے کا سبب بنے گا، افغانستان میں جدوجہد کی بنیاد ہی بندوق سے شروع ہوئی ہے، وہاں کسی بھی طرح کی سیاسی جدوجہد کا تصور موجود نہیں تھا، جبکہ پاکستان ایک سیاسی جدوجہد سے وجود میں آیا ہے یہاں نظام کی تبدیلی کے لیے سیاسی اور عوامی جدوجہد ہی نسخہ اکسیر ہے۔
یہ تو طے ہے کہ، دہائیوں کی نا انصافیوں اور عدم مساوات نے عوام کے صبر کا پیمانہ لبریز کر دیا ہے، بے چینی اپنی آخری حدوں پر ہے، اشتعال کا لاوا پھٹنے کو ہے، اضطراب نے عوامی اذہان کو اپنی گرفت میں لے لیا ہے، مگر کیا ملک میں ایسی تنظیم یا قیادت موجود ہے جو اس ماحول کو تحریکی قالب میں ڈھال کر عوامی سیاسی تبدیلی کا باعث بن سکے، اس بات میں اب دو رائے نہیں ہیں کہ، پارلیمانی سیاست سے تبدیلی کی امیدیں کم سے کم تر ہو گئی ہیں اور اسی جانب گزشتہ دنوں پارلیمنٹ سے خطاب کرتے ہوئے مولانا فضل الرحمن نے کہا تھا کہ، روایتی سیاست ( پارلیمانی طرز سیاست ) کا وقت ختم ہو گیا ہے ملک کو انقلاب کی ضرورت ہے۔
ملک کی دو بڑی جماعتوں نے سسٹم کے آگے سرینڈر کیا ہے، اور وہ اسی سسٹم میں حصہ بقدر جثہ وصول کر رہی ہیں، تحریک انصاف نے تبدیلی کا نعرہ لگایا مگر اسی سسٹم کی بیساکھیوں کے سہارے اقتدار حاصل کیا اور منہ کے بل گر گیا۔ اس وقت جے یو آئی ہی واحد جماعت ہے جو کسی بھی جدوجہد کی قیادت کر سکتی ہے، مولانا فضل الرحمن عام سیاستدان نہیں ہیں، بلکہ ایک مدبر کے روپ میں میدان عمل کا حصہ ہیں، ملکی منظر نامہ کے تمام پہلوؤں کی باریکیاں ان کی نظر میں ہیں، جے یو آئی نے گزشتہ چھ سالوں میں اپنے ٹھوس بیانیہ کی وجہ سے جس طرح عوامی پذیرائی حاصل کی ہے اس سے حالات کے رخ کا اندازہ ہوتا ہے، جے یو آئی کا تصور سیاست ہر طبقے کے لیے قابل قبول ہے، حتی کہ ملک میں موجود اقلیتیں اس تصور سیاست میں تحفظ کا احساس رکھتی ہیں۔ افرادی اعتبار سے چھوٹی اقوام کی بے چینی کو بھی اسی تصور سے ختم کیا جاسکتا ہے۔
مولانا کی چالیس سالہ جدوجہد میں ایک لمحے کے لیے بھی تشدد یا جذباتی پن کا شائبہ تک محسوس نہیں کیا گیا ہے۔ کئی ایسے مواقع آئے جب اسلام اور شریعت کے نام پر جذبات کی فضائیں آسمان چھو رہی ہوتی تھیں اور یوں لگتا تھا کہ، اس ماحول میں جے یو آئی کے لیے اپنے عدم تشدد اور خالصتاً جمہوری طرز سیاست کو بچانا ممکن نہیں ہو گا، لیکن قیادت کو اندازہ تھا کہ یہ سب وقتی ابھار اور مصنوعی بیانیے ہیں، جو پیدا کیے گئے ہیں اور وقت کے ساتھ ساتھ گرد راہ بن جائیں گے، اور ہوا بھی یہی، آج جے یو آئی اپنے پورے سیاسی، عوامی اور جمہوری قد کاٹھ کے ساتھ میدان عمل میں موجود ہے اور سسٹم کے مقابلے میں واحد قابل اعتماد منظم سیاسی پلیٹ فارم کے طور پر عوام کی امیدوں کا مرکز ہے۔
مولانا جب روایتی سیاست کے خاتمے کی بات کرتے ہیں تو ہوا میں تیر نہیں چلاتے ہیں، سارے منظرنامے کو دیکھ کر اپنا فکری تصور رکھتے ہیں، جمعیت علماء اسلام کے پاس منظم ذہنی و فکری تربیت یافتہ ورکرز کی ایک ایسی کھیپ موجود ہے جو کسی بھی انقلابی جدوجہد کے لیے ہر اول دستے کا کام کرے گی، جے یو آئی کا تصور انقلاب مکمل عوامی و سیاسی تصور انقلاب ہے، جو ایک خوشحال پاکستان کا ضامن ہو گا اور ملک میں نا انصافی و عدم مساوات پر مبنی نظام کی تبدیلی کا سبب بنے گا۔


