حافظ نعیم کے آنسو
کہانی ایک شہر کی ہے جس کا دل سمندر کے کنارے دھڑکتا ہے، جس کی گلیاں ماضی میں احتجاجوں، دعووں اور وعدوں کی گواہ رہی ہیں۔ کہانی اُس شخص کی ہے جسے کراچی نے امید کی آخری شمع سمجھا تھا حافظ نعیم الرحمٰن۔
کراچی کے باسیوں نے جب ”حق دو کراچی“ کی آواز سنی تو اُسے اپنا درد لگا۔ جب پانی، شناختی کارڈ، کوٹہ سسٹم، کے فور پر آواز بلند ہوئی، تو لگا شاید کوئی ہے جو صرف بولتا نہیں، لڑتا بھی ہے۔ اور پھر، بلدیاتی انتخابات میں کراچی نے وہ کر دکھایا جو برسوں سے نہیں ہوا تھا سیاسی تعصبات کو ہٹا کر، نئی نسل نے جماعت اسلامی کو چُنا۔
لیکن آج، دو سال بعد ، جب ہم جماعت اسلامی کے زیرِانتظام یوسیز کو دیکھتے ہیں، دل سوال کرتا ہے : کیا ہم پھر دھوکہ کھا گئے؟
سڑکیں ٹوٹی ہوئی، سیوریج ابلتا، کوڑا ہر نکڑ پر، اندھیرے ہر گلی میں۔ عوام حیران کہ اختیارات ہوتے ہوئے بھی یہ حال ہے؟ اختیار اور وسائل تو اب آپ کے ہاتھ میں ہیں صرف ایک یوسی نہیں، پورے 9 ٹاؤنز، درجنوں یوسیز۔ پھر بھی وہی پرانی بے حسی؟ وہی خاموشی؟
ہمیں یاد ہے وہ دن نسلہ ٹاور کا دن۔ جب متاثرہ لوگ ریاستی مشینری کے سامنے بے بس کھڑے تھے۔ جب حافظ صاحب ان کے ساتھ آنسو بہاتے نظر آئے، اور کہا: ”میں نے کہا تھا، میں آپ کے ساتھ ہوں گا“ ۔
لیکن حافظ صاحب، آنکھیں نم کر لینا کافی نہیں۔ عوام کو آنکھوں میں آنسو نہیں، زمین پر کام چاہیے۔
یہاں ہمیں یاد آتی ہے ایک اور کہانی ریچل کوری کی۔ تئیس سالہ امریکی لڑکی، جو غزہ میں فلسطینیوں کے گھروں کو بلڈوز ہونے سے بچانے کے لیے ایک اسرائیلی بلڈوزر کے سامنے کھڑی ہو گئی۔ مر گئی لیکن اپنے موقف سے نہ ہٹی۔
تو حافظ صاحب، ہم پوچھتے ہیں : وہ لڑکی، جو نہ ہمارے مذہب کی تھی، نہ ہماری قوم کی اُس میں آپ سے زیادہ جرات نکلی؟ وہ ڈٹ گئی، آپ۔ خاموش ہو گئے؟
اس روز رونے کی جگہ آپ کو سرکاری مشنری کے آگے آ جانا تھا یقین جانیے پھر مجھ سے غیر جماعتی کا ووٹ بھی آپ کو ہی جاتا۔
کراچی نے آپ پر اعتماد کیا تھا۔ آپ کو اختیارات دیے، وسائل دیے، میدان دیا صرف اس امید پر کہ اب کوئی تو ہو گا جو بہانے نہیں، عمل کرے گا۔
آپ سے گزارش ہے : یوسیز کا دورہ کریں، عوام سے ملیں، کام کریں اور اُن وعدوں کو یاد کریں جو ہم نے آپ کے لفظوں پر یقین کر کے مانے تھے۔
اور آخرکار ہمیں ماننا پڑے گا کہ:
بہتر ہے ایک دن کی وہ زندگی جو شیر کی ہو، بہ نسبت ان بے بس دنوں کے جو خاموشی، بہانوں اور مایوسی میں گزرتے رہیں۔ ”
عزیز دوستو!
آخر میں ہم آپ کو یہ بتانا چاہتے ہیں کے یہ تحریر ہمارے بھائی ذیشان الرب جعفری کے ایک دکھ بھرے خط سے نکلی ہوئی ہے جو ان کی اجازت سے ہم نے تھوڑی آگے پیچھے کی ہے اور آپ کی خدمت میں پیش کی ہے



میں عرصے سے کراچی نہیں گیا لیکن جماعتی بالخصوص انجینئر یعنی حافظ نعیم جیسوں کو بخوبی جانتا ہوں۔ ان کی دکان اول تو کراچی میں اس وقت ہی چلتی ہے جب متحدہ نہ ہو یعنی بائیکاٹ کردے۔ اس بار بھی ایسا ہی ہوا تھا۔
دوسری حماقت ان جیسوں کی یہ ہے کہ فجر میں فرض کی دوسری رکعت چل رہی ہو تو یہ لوگ مسجد میں سنتوں کی نیت باندھ لیتے ہیں۔
ان کے پاس مارکیٹ کے لئے دو ہی باتیں ہیں۔
احمقانہ معاملہ تو ان کا یہ بھی ہے کہ یہ متحدہ کے ساتھ ایک سادہ سا معاملہ نہ بلدیہ میں کرسکے اور نہ اسمبلی کے انتخابات میں۔
سادہ سا سوال ہے کہ اگر یہ بلدیہ میں کچھ ہوچکے تھے تو اسمبلی کے انتخابات میں کیوں کودے۔
متعدد لوگ یہ بھی نہیں جانتے کہ حافظ صاحب کا ڈومیسائل بھی شاید کراچی کا نہیں ہے !!