سوات واقعہ حکومتی ناکامی یا لاپرواہی ۔۔۔ قصوروار کون ؟


silhouette 08
سوات میں پیش آنے والا حالیہ سانحہ ایک بار پھر ہمارے اجتماعی طرزِ عمل، حکومتی ناکامی اور عوامی لاپرواہی کا افسوسناک مظہر بن کر سامنے آیا ہے۔ صبح کے وقت جب سوات وادی کے دریا کنارے لوگ اپنے اہل خانہ کے ساتھ ناشتہ کر رہے تھے، سیلفیاں لے رہے تھے، تب حکومت کی طرف سے دی گئی خطرے کی وارننگز اور دفعہ 144 کی موجودگی کے باوجود کوئی عملی اقدام دکھائی نہیں دیا۔ پاکستان کے محکمہ موسمیات نے 26 جون کی شام خیبر پختونخوا میں طوفانی بارشوں اور ممکنہ طغیانی کے خطرے کے پیش نظر ایک سنجیدہ وارننگ جاری کی تھی، جو 28 جون تک موثر رہنی تھی۔ مگر یہ وارننگ محض ایک اعلان تک محدود رہی۔ کسی قسم کی SMS الرٹس جاری نہیں کی گئیں، نہ ہی دریا کنارے پولیس یا مقامی انتظامیہ کے اہلکاروں کو تعینات کیا گیا، اور نہ ہی کسی قسم کی رکاوٹیں یا حفاظتی اقدامات لیے گئے۔

صبح تقریباً 8 بجے دریا کی سطح میں تیزی سے اضافہ ہوا۔ ایک مقامی شخص نے پشتو زبان میں ویڈیو بناتے ہوئے لوگوں کو خبردار کیا کہ وہ دریا کے بیچ میں بیٹھ کر تصویریں لے رہے ہیں اور یہ بھی کہا کہ ”جب پانی آئے گا تو سب یہی کہیں گے کہ حکومت کہاں تھی“ ۔ چند ہی لمحوں بعد دریا کا ریلا آیا اور ہر طرف تباہی مچ گئی۔ 9 بجے کے قریب منظر عام پر ایسی ویڈیوز آئیں جن میں سیاح چٹانوں سے چمٹے ہوئے مدد کے لیے چیخ رہے تھے، ہاتھ ہلا رہے تھے، اور اپنی جان بچانے کی کوشش کر رہے تھے۔ لیکن امدادی ٹیموں، جیسے ریسکیو 1122 اور مقامی ایجنسیز، کو جائے وقوعہ پر پہنچنے میں تقریباً دو گھنٹے لگے۔ اس وقت تک بہت دیر ہو چکی تھی۔ دریا کی تیز لہریں کئی زندگیاں نگل چکی تھیں۔

سرکاری اعداد و شمار کے مطابق کم از کم 17 افراد دریا میں بہہ گئے، جن میں سے 9 کی لاشیں نکالی جا چکی ہیں، جب کہ کئی تاحال لاپتہ ہیں۔ سیاکوٹ اور مردان سے تعلق رکھنے والے پورے خاندان ایک ہی لمحے میں ختم ہو گئے۔ اور پھر وہی پرانا سلسلہ۔ سرکاری تعزیت، معطلیاں، انکوائری کمیٹیاں، وعدے اور دعوے۔ جن سے آج تک کچھ نہیں بدلا۔ دفعہ 144 جو کہ ایک سخت قانونی اقدام ہوتا ہے، صرف کاغذوں پر نافذ رہی۔ نہ کسی جگہ چیک پوسٹس لگائی گئیں، نہ ہی لوگوں کو روکنے کے لیے کوئی موثر قدم اٹھایا گیا۔

یہاں سوال صرف حکومت سے نہیں بلکہ عوام سے بھی ہے۔ آخر ہم کب سمجھیں گے کہ زندگی ایک تصویر یا سیلفی سے زیادہ قیمتی ہے؟ ہم کیوں خطرے کی وارننگز کو نظر انداز کرتے ہیں؟ جب مقامی لوگ ہمیں کسی مقام سے دور رہنے کا مشورہ دیتے ہیں تو ہم اسے سنجیدگی سے کیوں نہیں لیتے؟ آخر وہی لوگ اس مقام کے حالات، موسم، اور خطرات کو ہم سے بہتر جانتے ہیں۔ اگر ہم خود اپنے اور اپنے بچوں کے تحفظ کے لیے تیار نہیں تو ہر بار ریاست کو مورد الزام ٹھہرا دینا بھی ایک غیر سنجیدہ طرزِ عمل ہے۔

یہ ایک افسوسناک سچ ہے کہ حکومت نے اپنی ذمہ داری پوری نہیں کی۔ نہ وارننگز کو موثر طریقے سے پھیلایا گیا، نہ ایمرجنسی سسٹمز کو متحرک کیا گیا، نہ ہی عوامی مقامات پر سائرن یا انتباہی اعلانات کیے گئے۔ لیکن اس کے ساتھ ہی عوام نے بھی اپنی ذمہ داریوں سے منہ موڑا۔ ہم نے خطرے کے باوجود دریا کے کنارے جانے کو تفریح سمجھا، وارننگز کو مذاق بنایا، اور اپنی ضد کو اپنی جان پر ترجیح دی۔

یہ حادثہ کوئی قدرتی آفت نہیں تھا، بلکہ ایک اجتماعی غفلت کا نتیجہ تھا۔ ایک طرف حکومتی ادارے مکمل طور پر ناکام ہوئے اور دوسری طرف عوام کی لاپرواہی نے اس سانحے کو جنم دیا۔ اگر ہم ان دونوں پہلوؤں کو بیک وقت درست نہ کریں تو ایسے حادثے بار بار ہوتے رہیں گے۔ سب سے تکلیف دہ بات یہ ہے کہ حکومت جب چاہے عوام کے موبائل فونز پر وزیر اعظم کا پیغام زبردستی نشر کر سکتی ہے، چاہے وہ صرف بجلی کے بل میں چند روپے کی رعایت کا اعلان ہو، مگر ایک جان لیوا خطرے کے بارے میں کوئی SMS نہیں بھیجا جا سکا۔ یہی دفعہ 144 جب سیاسی مخالفین کو روکنے کی بات ہو تو پوری قوت سے نافذ کی جاتی ہے، مگر جب اس کا مقصد عوام کی جان بچانا ہو تو صرف کاغذ تک محدود رہتی ہے۔

اب وقت آ گیا ہے کہ ہم سنجیدگی سے سوچیں۔ ہر ضلع کے لیے علیحدہ ہنگامی SMS الرٹ سسٹم قائم ہونا چاہیے۔ دریا کناروں پر وارننگ سائرن لگنے چاہئیں۔ دفعہ 144 کا عملی نفاذ ہونا چاہیے اور عوام کے لیے ایسی مہمات چلائی جائیں جو انہیں سکھائیں کہ طغیانی زدہ دریا سیلفی لینے کی جگہ نہیں بلکہ زندگی اور موت کے درمیان لکیر ہے۔ اگر 27 جون کا واقعہ ہمیں بیدار نہ کر سکا، تو اگلی بار دریا ہمیں بیدار کرے گا۔ اور جب وہ آئے گا، تو وہ یہ نہیں پوچھے گا کہ قصور کس کا تھا۔ وہ صرف لے جائے گا۔

Facebook Comments HS