حُسینیّت کا عَلَم سدا سَربلند رہے گا


تحریر: مقصود گل
ترجمہ: یاسر قاضی

محرم الحرام کا مہینہ ہمیں یاد دلاتا ہے کہ اسی مہینے ایک قافلہ اپنے پیارے نانا کی سرزمین، مدینۂ منورہ کو چھوڑ کر دَشتِ کرب و بلا کی طرف روانہ ہوا تھا۔ اس مختصر قافلے کے سردار، جگر گوشۂ رسول ﷺ، ابنِ بتُول، جانثارِ حیدر، حضرت امام حسین علیہ السلام تھے، جن کا مقصد صرف اور صرف یہ تھا کہ حق و صداقت کی حفاظت کی جائے اور نانا کی جلائی ہوئی شمعِ دین کی روشنی کو بُجھنے سے بچانے کے لیے اپنے خون کا نذرانہ پیش کیا جائے۔ جس کے لیے حق کے پیروکاروں نے اپنے اصولوں کو قائم اور زندہ رکھنے کے لیے اپنی جان کے ساتھ ساتھ اپنے بچوں کی قربانی دینے سے بھی گریز نہیں کیا۔

ذرا تصوّر کیجئے۔ میدانِ کربلا کا منظر ذہن میں لائیے! ایک طرف راقبِ دوشِ رسول ﷺ، اکیلا اپنے چند ساتھیوں، کچھ پیاسے سپاہیوں کے ساتھ کمربستہ کھڑا ہے، اور دوسری طرف یزید کے تربیت یافتہ فوجی اور پیشہ ور سپاہی، جنگی ساز و سامان کے ساتھ، بُھوکے بھیڑیے کی طرح شکار کی تلاش میں منتظر کھڑے ہیں۔

یہ ظلم بھی دیکھیے کہ جنہوں نے رسولِ اکرم ﷺ سے دین سیکھا، قرآن پڑھنا سیکھا، وہ آج نبی ﷺ کے جانثار پر فتوے لگا کر حضرت امام حسین علیہ السلام کو ”واجب القتل“ ثابت کرنے کی کوشش کر رہے تھے۔ کون سا ظلم تھا جو آلِ رسول ﷺ پر نہیں ڈھایا گیا! اس حد تک کہ ظلم کی تاریخ شرمناک ہے۔ اس ظلم کی کوئی مثال پیش نہیں کی جا سکتی۔ مگر فرزندِ شیرِ خدا کے نے یہ ثابت کر دیا کہ ظالم چاہے یزید کی شکل میں ہو، شمرِ لعین کی صورت میں ہو، یا حرمل کی شکل میں، حق کے حامی اور سچائی کے علمبردار اپنی جان کی بازی لگا کر، جان کی پروا نہ کرتے ہُوئے، اپن سَر پر کفن باندھ کر، باطل سے ٹکراتے رہیں گے، جب تک ان کی رگوں میں خون کی روانی اور سینے میں دل کی دھڑکن باقی ہے اور جھوٹ کے جھوٹے وقار کو ہمیشہ کے لیے نیست و نابود کرنے کے لیے سینہ سپر رہیں گے۔

کربلا کا میدان آج بھی حق اور سچ کے پرچم کو سربلند اور قائم رکھنے کے لیے دی گئی قربانی کا اعلیٰ ثبوت پیش کرتا ہے۔ جب حق، باطل سے ٹکرایا، یزیدیت، حسینیت کے سامنے آئی، تو اسے اپنی جھوٹی شان و شوکت کے گِرتے ہوئے مینار نظر آئے۔ تاریخ نے ثابت کیا کہ ظلم چاہے کتنا ہی طاقتور اور مضبوط کیوں نہ ہو، پھر بھی اسے مظلوم کے سامنے ایک نہ ایک دن ضرور گُھٹنوں پر آنا پڑتا ہے۔ تاریخ کا مطالعہ بتاتا ہے کہ یزید کو اس معرکے میں ظاہری فتح تو ضرور حاصل ہوئی تھی، مگر اس کے باوجود حضرتِ امام حسینؑ کی دی گئی قربانی نے یزید کی جھوٹی شان کو خاک میں ملا کر رکھ دیا۔ آج بھی اگر یزید اور اس کے ساتھیوں کو کوئی یاد کرتا ہے تو لعنت اور ملامت کے ساتھ!

شہادت کے بعد بھی حضرتِ امام حسینؑ اور ان کے ساتھیوں کے سَر، نیزے کی چوٹی پر بھی قرآن پاک کی تلاوت کرتے ہوئے یہ ثابت کرتے رہے کہ حق اور حق کے دیوانے ہمیشہ زندہ رہتے ہیں اور زندہ رہیں گے۔

( 1978 ء میں لکھی گئی تحریر)

Facebook Comments HS