اصلاحی تنقید: مسلم لیگی شناخت کا تحفظ یا زوال کا زینہ؟
پاکستان مسلم لیگ (ن) کے ایک کارکن کی حیثیت سے، میں نے ہمیشہ اپنی تحریروں اور کالمز میں اپنی جماعت پر تنقید کو ایک ذمہ داری کے طور پر اپنایا ہے۔ یہ تنقید کبھی تنقید برائے تنقید نہیں رہی، بلکہ ہمیشہ اصلاح کے جذبے سے کی گئی۔ یہ وہ سبق ہے جو ہمیں ہماری قیادت، بالخصوص میاں محمد نواز شریف، نے سکھایا کہ حق بات کے لیے ڈٹ کر مقابلہ کیا جاتا ہے۔ لیکن بدقسمتی سے، آج کچھ لوگ اس تنقید کو لے کر خوامخواہ تنازع کھڑا کر رہے ہیں۔ وہ اسے پارٹی سے غداری یا دشمنی سے تعبیر کرتے ہیں۔ یہ رویہ نہ صرف غیر منطقی ہے بلکہ جماعت کے بنیادی اصولوں کے بھی خلاف ہے۔
میرا سوال ان لوگوں سے ہے : کیا اصلاحی تنقید مسلم لیگی شناخت سے محروم کر دیتی ہے؟ کیا وہ کارکن جو دل سے جماعت سے محبت کرتا ہے، خلوص اور وابستگی کے ساتھ زمینی حقائق کی روشنی میں پالیسیوں پر تنقید کرتا ہے، کیا وہ مسلم لیگی نہیں رہتا؟ یہ معیار کس نے طے کیا؟ اور کیوں؟ کیا اختلاف رائے کو غداری سے جوڑنا عقلمندی ہے؟ یہ سوالات ہر اس کارکن کے ذہن میں ہیں جو جماعت کے مستقبل کے لیے فکرمند ہے۔
میں نے اپنے کالمز میں ہمیشہ عوامی مسائل کو ترجیح دی۔ جنوری کے وسط میں لکھے گئے میرے کالم ”میاں صاحب سے تازہ ملاقات“
(https://www.humsub.com.pk/577130/faheem-ahmad-khan-16/)
میں کی گئی دو پیشگوئیاں آج سو فیصد درست ثابت ہو رہی ہیں۔ پہلی، چوہدری نثار علی خان کی مسلم لیگ (ن) میں واپسی، اور دوسری، نواز شریف اور عمران خان کے درمیان ملاقات کا امکان۔ یہ پیشگوئیاں محض اتفاق نہیں، بلکہ زمینی حقائق اور سیاسی بصیرت کا نتیجہ تھیں۔
میں نے 1994 میں، طالب علمی کے دور میں، مسلم لیگ (ن) کو جوائن کیا۔ تحریک نجات سے لے کر ہر ریلی، جلوس اور تحریک میں بھرپور حصہ لیا۔ ہر محاذ پر جماعت کا دفاع کیا اور قیادت کے بیانیے کے ساتھ جڑا رہا۔ لیکن کبھی ضمیر کی آواز سے ہٹ کر سمجھوتہ نہیں کیا۔ جہاں جماعت یا قیادت کی پالیسیاں عوامی مفاد کے خلاف نظر آئیں، وہاں بھرپور مخالفت کی۔ میرا ماننا ہے کہ ایک کارکن کا اصل فرض عوام کی آواز کو قیادت تک پہنچانا ہے، نہ کہ چاپلوسی کے ذریعے عہدوں کی دوڑ میں شامل ہونا۔
آج مسلم لیگ (ن) کو درپیش چیلنجز کوئی راز نہیں۔ متوسط طبقہ، بزنس کمیونٹی، اور نوجوان سب سوال اٹھا رہے ہیں۔ ان کی ناراضگی محض ٹیکسز یا گیس، بجلی کے بلوں اور بڑھتی ہوئی پٹرول، ڈیزل کی قیمتوں تک محدود نہیں، بلکہ اس کا سبب وہ اقدامات ہیں جو ان کی زندگیوں کو مزید مشکل بنا رہے ہیں۔ ابھی میں یہ کالم لکھ ہی رہا تھا کہ ایکس پر اک ٹویٹ میں کارکن نے کہا کہ ”شہباز شریف کی مہنگائی، پٹرول کی قیمتیں، بجلی کے بلوں میں نا انصافی، اور اشرافیہ کی عیاشیوں نے عوام کو مسلم لیگ (ن) سے متنفر کر دیا ہے۔“ یہ الفاظ تلخ ہیں، لیکن ان میں عوام کے جذبات کی عکاسی ہوتی ہے۔
سوشل میڈیا کے جہاں بہت سے نقصانات ہیں وہاں اسی سوشل میڈیا کی بدولت عوام اب باشعور ہیں۔ وہ شخصیت پرستی کے کلچر کو مسترد کر چکے ہیں، جسے ہم نے خود عمران خان کے دور میں تنقید کا نشانہ بنایا تھا۔ لیکن افسوس کہ آج ہم خود اسی کلچر کا شکار ہو رہے ہیں۔ چند میمز بنانے یا سوشل میڈیا پر واویلا کرنے سے یا سوشل میڈیا ٹیم بنانے سے عوام کی رائے نہیں بدلتی۔ وزیراعظم شہباز شریف، وزیراعلی پنجاب مریم نواز شریف یا دیگر قیادت پر تنقید کو برداشت کرنے کی بجائے، اسے غداری سے جوڑنا جماعت کے لیے نقصان دہ ہے۔
آج کل کی نو بالغ مسلم لیگ نون کی سوشل میڈیا ٹیم خود کو قیادت اور مسلم لیگ (ن) کا سب سے بڑا خیرخواہ سمجھتی ہے، جبکہ وہ ہم جیسے ہزاروں کارکن جو بچپن سے جوانی تک تن، من، دھن لٹا کر جماعت کے لیے لڑے، وہ زمینی حقائق بتانے پر غدار قرار پاتے ہیں۔ یہ چند درجن سوشل میڈیا ارسطو صرف ہوا میں تیر چلاتے ہیں، لیکن جلسوں، جلوسوں یا احتجاج میں کبھی نظر نہیں آتے۔ ان کا خلوص کیسے مانا جائے جب وہ گراؤنڈ پر پارٹی کی جدوجہد سے غائب رہتے ہیں؟
قیادت کو سمجھنا چاہیے کہ مسلم لیگ (ن) کا اصل اثاثہ اس کا کارکن ہے۔ وہ کارکن جو دل سے جماعت سے جڑا ہے، جو تنقید برائے اصلاح کرتا ہے، جو عوامی آواز کو قیادت تک پہنچاتا ہے، جو گراؤنڈ پر محنت کرتا ہے، اور جو محلے، رشتے داروں اور حلقہ احباب کے لوگوں کی تنقید خندہ پیشانی سے برداشت کرتا ہے۔ اگر اس کارکن کی آواز دبائی گئی، اگر اس کی اصلاحی بات کو غداری سمجھا گیا، اور اگر چاپلوسوں کو اہمیت دی گئی، تو پھر جماعت کے پاس صرف سائے رہ جائیں گے، اور اس کی داستانیں مٹ جائیں گی۔
چوہدری نثار علی خان نے 2022 میں کہا تھا کہ وہ ”چور دروازے سے اقتدار کی دہلیز پر قدم نہیں رکھیں گے“ اور ان کے ووٹرز ان کی کشتی کے ملاح ہیں۔ یہ بات ہر کارکن پر صادق آتی ہے۔ کارکن ہی جماعت کی اصل طاقت ہیں، اور ان کی رائے کو عزت دینا قیادت کی ذمہ داری ہے۔
اس لیے مسلم لیگ نون کے تمام سوشل میڈیا ٹیم اور عام ورکرز سے اپیل ہے کہ اگر پارٹی اور قیادت سے محبت ہے تو سچ بولیے، ورنہ زوال مقدر ہے۔
ایسے ہی آج اس امر کی فوری ضرورت ہے کہ وفاقی و صوبائی وزراء، مشیران و دیگر ذمہ داران اور اہم عوامی عہدوں پر تعینات مسلم لیگی شخصیات ہر ضلع میں ماہانہ بنیادوں پر کارکنوں سے رابطہ بحال کریں اور ان کی تجاویز کی روشنی میں آئندہ کی حکمت عملی وضع کریں۔ خاص طور پر جنوبی پنجاب میں پارٹی کو وڈیروں اور الیکٹ ایبلز کے ڈیروں کی غلامی سے نکال کر عام کارکنوں کے حوالے کیا جائے۔ یہ کارکن ہی ہیں جو گراس روٹ لیول پر پارٹی کو مضبوط کر سکتے ہیں اور اسے عوام میں دوبارہ متعارف کروا سکتے ہیں۔
جیسے وزیراعلیٰ پنجاب کے معاون خصوصی ذیشان مشتاق ملک نے گزشتہ روز بھکر میں محرم کے امن و امان کے اجلاس کی صدارت کی، روٹس اور سیکورٹی اقدامات کا جائزہ لیا، اور عزاداروں کی سہولت کے لیے اقدامات پر غور کیا۔ اس کے بعد وہ مسلم لیگ (ن) کے عام کارکنوں مزمل ملک اور مبشر ملک کے والد کی وفات پر تعزیت کے لیے خصوصی طور پر پہنچے۔ اس اقدام سے ضلع بھر کے کارکنوں میں جوش و جذبہ پیدا ہوا اور انتظامیہ و اراکین اسمبلی کو کارکنوں کی عزت و اہمیت کا واضح پیغام ملا۔
آخر میں مسلم لیگ (ن) کی قیادت، فیصلہ سازوں اور وفاقی و صوبائی عہدوں پر براجمان مسلم لیگی ارباب حل و عقد سے گزارش ہے کہ آپ کو آج نہیں تو کل اپنے کارکنوں کی آواز ضرور سننی ہوگی، ان کے تحفظات دور کرنے ہوں گے، اور عوامی مفاد کو ترجیح دینی ہوگی۔ بہتر ہے آج ہی سے تنقید کو غداری سمجھنے کے بجائے، اسے جماعت کی بہتری کے لیے ایک موقع کے طور پر دیکھا جائے۔ یہی وہ راستہ ہے جو مسلم لیگ (ن) کو نہ صرف آنے والے الیکشن کے لئے مضبوط کرے گا، بلکہ عوام کے دلوں میں دوبارہ اس کی جگہ بنائے گا۔


