زرعی ملک، بھوکے بچے، ایک تلخ قومی سچائی
پاکستان ایک زرعی ملک ہونے کے باوجود غذائی قلت جیسے سنگین مسئلے کا شکار ہے، جو ایک قومی المیہ بن چکا ہے۔ زرعی معیشت کا حامل ملک، جہاں زمینیں زرخیز ہیں، نہریں بہتی ہیں، فصلیں اگتی ہیں، وہاں چالیس فیصد سے زائد بچے غذائی قلت کا شکار ہوں، یہ صرف ایک تضاد نہیں بلکہ ایک ناقابلِ معافی اجتماعی غفلت کی علامت ہے۔ ایسی صورتِ حال میں جہاں ایک طرف کھیتوں میں گندم، چاول، مکئی اور سبزیاں اگائی جا رہی ہوں، وہیں دوسری طرف بچے بھوکے سو رہے ہوں، یا ضروری غذائی اجزاء سے محروم ہو کر جسمانی و ذہنی نشوونما سے محروم رہ رہے ہوں، تو سوال پیدا ہوتا ہے کہ یہ نظام کہاں ناکام ہوا ہے؟
غذائی قلت کی بنیادی وجہ وسائل کی غیر منصفانہ تقسیم، غربت، مہنگائی، عدم تعلیم، اور ریاستی پالیسیوں میں تسلسل کی کمی ہے۔ ہمارے دیہی علاقوں میں اگرچہ کھانے پینے کی پیداوار موجود ہے، مگر وہ یا تو برآمد کر دی جاتی ہے، یا چند با اثر طبقات تک محدود رہتی ہے۔ شہروں میں متوسط اور نچلے طبقے کے لیے صحت مند خوراک کی قیمتیں دن بہ دن بڑھتی جا رہی ہیں، یہاں تک کہ ایک عام مزدور یا کم آمدنی والا والدین اپنے بچوں کے لیے روزمرہ کی ضروری غذائیں خریدنے سے قاصر ہو چکے ہیں۔ دودھ، گوشت، انڈے، دالیں، پھل اور سبزیاں جیسے بنیادی اجزاء اب عام لوگوں کی دسترس سے دور ہو چکے ہیں۔
اس مسئلے کی روک تھام کے لیے سب سے پہلے حکومت کو زراعت سے جڑے نظام کو عوام دوست بنانا ہو گا۔ سبسڈی کی پالیسیوں کو چھوٹے کسانوں کے لیے فائدہ مند بنایا جائے، تاکہ خوراک کی قیمتیں عام آدمی کی پہنچ میں رہیں۔ غذائیت پر مبنی قومی پروگراموں کو ضلعی سطح تک موثر انداز میں نافذ کیا جانا چاہیے۔ دیہی طبی مراکز اور ماں و بچے کی صحت سے متعلق سہولیات کو مضبوط کیا جائے، تاکہ پیدائش سے پہلے ہی بچے کی متوازن غذا کا بندوبست کیا جا سکے۔ سکولوں میں ”مڈ ڈے میل“ جیسی اسکیم متعارف کرائی جا سکتی ہے، جیسا کہ کئی ترقی پذیر ممالک میں کامیابی سے جاری ہیں، تاکہ کم از کم تعلیمی اداروں میں موجود بچوں کو دن میں ایک مکمل اور متوازن خوراک میسر ہو۔
والدین کا کردار بھی اس بحران کے حل میں کلیدی حیثیت رکھتا ہے۔ انہیں بچوں کی غذائی ضروریات، متوازن خوراک اور ابتدائی صحت کی تعلیم دی جانی چاہیے۔ بدقسمتی سے ہمارے ہاں بچوں کو محض پیٹ بھرنے کے لیے خوراک دی جاتی ہے، اس میں غذائیت کا خیال نہیں رکھا جاتا۔ والدین کو یہ آگاہی دینا لازم ہے کہ صرف روٹی اور چاول ہی کافی نہیں، بلکہ پروٹین، وٹامنز اور منرلز بھی انسانی جسم کی بنیادی ضرورت ہیں، خصوصاً بچوں کے لیے۔
معاشرہ بھی بری الذمہ نہیں۔ ہم سب کو اجتماعی شعور بیدار کرنے کی ضرورت ہے۔ جب تک ہم اپنے آس پاس کے مسائل کو دیکھ کر بھی آنکھیں بند رکھیں گے، اور صرف حکومت کو کوستے رہیں گے، تب تک ہم حقیقی تبدیلی نہیں لا سکتے۔ صاحبِ حیثیت افراد، سماجی تنظیمیں، میڈیا، اور تعلیمی ادارے، سب کو اپنا کردار ادا کرنا ہو گا۔ سماجی سطح پر عوامی آگہی مہمات چلانا ہوں گی، جن کے ذریعے غذائیت، بچوں کی صحت اور ماں کی خوراک کے بارے میں سادہ زبان میں معلومات فراہم کی جائیں۔
آج جب دنیا ترقی کے سفر میں آگے بڑھ رہی ہے، اور غذائی قلت کے مسائل کا حل سائنسی بنیادوں پر تلاش کیا جا رہا ہے، پاکستان میں بھوک اور غذائی قلت کے سائے بڑھتے جا رہے ہیں۔ یہ محض ایک انسانی المیہ نہیں، بلکہ ہماری آنے والی نسلوں کی ذہنی و جسمانی ترقی کا سوال ہے۔ ایک کمزور بچہ نہ صرف تعلیمی میدان میں پیچھے رہ جاتا ہے بلکہ مستقبل میں ایک کمزور معاشرے کا حصہ بنتا ہے۔ لہٰذا اگر ہم ایک مضبوط، توانا، اور باشعور قوم چاہتے ہیں، تو ہمیں بچوں کی صحت اور خوراک کو اولین ترجیح دینا ہوگی۔ یہ صرف حکومت کی نہیں، ہم سب کی مشترکہ ذمہ داری ہے۔ اور اگر ہم نے آج یہ ذمہ داری نہ نبھائی، تو آنے والا کل ہماری کوتاہیوں کی بھاری قیمت چکائے گا۔


