یوٹیلٹی اسٹورز کارپوریشن کی بندش: ایک عہد خاتمہ


وفاقی حکومت نے بالآخر 10 جولائی سے سخت خسارے کے شکار ادارے یوٹیلٹی اسٹورز کارپوریشن آف پاکستان کو مکمل طور پر بند کرنے کا فیصلہ کیا ہے جس کے تحت ملک بھر میں یوٹیلٹی اسٹورز کارپوریشن کا پورا نیٹ ورک ختم کر دیا جائے گا۔ یہ وفاقی حکومت کی پالیسی میں ایک بڑی تبدیلی کا مظہر ہے، جو کم آمدنی والے طبقہ کو رعایتی نرخوں پر ضروری اشیائے صرف فراہم کرنے کے دہائیوں پرانے منصوبے کا اختتام ہے۔ وفاقی حکومت نے اربوں روپے کے مسلسل خسارہ کو مد نظر رکھتے ہوئے اگست 2024 کو یوٹیلٹی اسٹورز کارپوریشن آف پاکستان کو ختم کرنے کا عندیہ دیا تھا اور یوٹیلٹی اسٹورز کارپوریشن آف پاکستان کے لئے فراہم کی جانے والی 50 ارب روپے کی مالی امداد بند کر دی تھی۔

رواں برس 22 جنوری کو وفاقی کابینہ نے یوٹیلٹی اسٹورز کارپوریشن کا آپریشنز بند کرنے کے لئے وفاقی وزیر صنعت و پیداوار رانا تنویر حسین کی سربراہی میں ایک سات رکنی کمیٹی تشکیل دی تھی۔ 15 نومبر 2024 کو سینیٹ کی قائمہ کمیٹی کے سامنے وفاقی وزیر صنعت و پیداوار رانا تنویر حسین نے انکشاف کیا تھا کہ سابق وزیر اعلیٰ پنجاب میاں منظور احمد وٹو نے اپنے انتخابی حلقہ دیپالپور سے تعلق رکھنے والے تین ہزار افراد کو غیر قانونی طور پر یوٹیلٹی اسٹورز کارپوریشن آف پاکستان میں بھرتی کیا تھا۔ وفاقی حکومت کے اس فیصلہ کے نتیجہ میں رواں برس ماہ فروری میں یوٹیلٹی اسٹورز کارپوریشن آف پاکستان کی تنظیم نو کا آغاز کیا گیا تھا اور ایک ہی دن میں یومیہ اجرت پر خدمات انجام دینے والے تین ہزار ملازمین کو برخاست کر دیا گیا تھا۔

یوٹیلٹی اسٹورز کارپوریشن آف پاکستان کو بند کرنے کا فیصلہ وزیر اعظم میاں شہباز شریف کی ہدایت پر کیا گیا ہے، جس کے نتیجے میں یوٹیلٹی اسٹورز کارپوریشن کے تمام فعال اسٹورز کے آپریشنل نیٹ ورک کو ختم کر دیا جائے گا اور 5 ہزار سے زائد ملازمین کو سرپلس پول میں ڈال دیا جائے گا جنہیں بعد ازاں رضاکارانہ علیحدگی اسکیم (VSS) کی پیشکش کی جائے گی۔ ذرائع کا کہنا ہے کہ ملک بھر میں اسٹورز کی بندش کا عمل مرحلہ وار جاری ہے جبکہ اسٹورز میں موجودہ اشیائے صرف کو واپس گوداموں میں منتقل یا نیلام کیا جائے گا۔ ادارہ کے اثاثہ جات اور املاک کی قیمتوں کے تعین کے لئے ماہرین سے تخمینہ کاری کرائی جائے گی۔ حکومت کا موقف ہے کہ یہ اقدام یوٹیلٹی اسٹورز کارپوریشن آف پاکستان کو درپیش سخت خسارے، قومی خزانہ پر مالی بوجھ کم کرنے اور سرکاری نظام کی اصلاح کے لئے ضروری تھا اور اب متبادل فلاحی منصوبوں کے ذریعہ متاثرہ عوام کی مدد کی جائے گی۔ یوٹیلٹی اسٹورز کارپوریشن آف پاکستان کی بندش اس بات کا ثبوت ہے کہ حکومت اپنی کمزور انتظامی استعداد کے باعث قومی مفاد کے ادارے چلانے میں بالکل ناکام ہو چکی ہے اور وہ اداروں کو درپیش بد انتظامیوں اور سنگین بدعنوانیوں کے مسائل سے جان چھڑوا کر ان کی اونے پونے نجکاری کرنا چاہتی ہے۔ یوٹیلٹی اسٹورز کارپوریشن آف پاکستان کی بندش سے ملک میں کم آمدنی والے طبقہ کے لئے اشیائے صرف اور مصنوعات کی ارزاں قیمتوں پر فراہمی کے ایک عہد کا خاتمہ ہو جائے گا۔

کم آمدنی والے طبقہ کو روزمرہ زندگی کی اشیائے صرف اور مصنوعات فراہم کرنے والے قومی ادارہ یوٹیلٹی اسٹورز کارپوریشن آف پاکستان کا قیام 54 برس قبل 1971 میں اس وقت عمل میں آیا تھا جب اس ادارہ نے وفاقی حکومت کی جانب سے سرکاری ملازمین کی فلاح و بہبود کے لئے قائم ایک ادارہ اسٹاف ویلفیئر آرگنائزیشن سے ان کے 20 ریٹیل آؤٹ لیٹس کو اپنے انتظام میں لیا تھا۔ بعد ازاں توسیعی عمل اور تنظیمِ نو کے مختلف مراحل سے گزرتے ہوئے یہ ادارہ ملک میں یوٹیلٹی اسٹورز کارپوریشن آف پاکستان کے نام سے ایک اہم کاروباری ادارہ کا درجہ اختیار کر گیا تھا جو اس وقت ملک بھر میں اشیائے صرف اور دیگر مصنوعات پر مشتمل 5939 سے زائد ریٹیل اسٹورز چلا رہا تھا۔ تاکہ معاشرے کے کم آمدنی والے طبقے کو روز مرہ خوراک اور دیگر اشیائے صرف کی خریداری پر قیمتوں میں ریلیف فراہم کیا جا سکے۔ وفاقی حکومت کی جانب سے یوٹیلٹی اسٹورز کارپوریشن آف پاکستان کے قیام کا مقصد عوام الناس اور خاص طور پر غریب طبقے کو ارزاں قیمت پر صاف، معیاری اور صحت کے لحاظ سے موزوں خوراک و غیر خوراکی اشیاء بغیر ملاوٹ کے فراہم کرنا تھا اور عوام الناس کو ایک ایسی پر سہولت جگہ فراہم کرنا تھا جہاں وہ مارکیٹ کے مقابلے میں ارزاں قیمتوں پر اشیائے صرف کی خریداری کر سکیں۔ کارپوریشن کی ویب سائٹ کے مطابق اس ادارہ کا عزم تھا کہ عوام الناس خاص طور پر معاشرے کے غریب طبقے کو صاف ستھری، معیاری، ملاوٹ سے پاک اور خالص غذائی اشیاء مارکیٹ سے نسبتاً کم قیمت پر فراہم کی جائیں، تاکہ وہ خریداری کے دوران باہمی اعتماد پر مبنی خوشگوار ماحول سے مستفید ہو سکیں۔

یوٹیلٹی اسٹورز کارپوریشن آف پاکستان وفاقی حکومت کا قائم کردہ سینکڑوں مصنوعات اور اشیائے صرف کی فروخت کا ایک اہم کاروباری اور تجارتی ادارہ تھا جو وزارت صنعت و پیداوار حکومت پاکستان کے تحت خدمات فراہم کرتا تھا۔ اس کا ہیڈ آفس اسلام آباد میں قائم تھا اور اس قومی ادارہ کا انتطام اس کے مینیجنگ ڈائریکٹر کی سربراہی میں قائم دس رکنی بورڈ آف ڈائریکٹرز کے تحت چلایا جاتا تھا۔ ملک بھر میں اس ادارہ کا انتظامی ڈھانچہ 63 ریجن اور 9 زونز پر مشتمل تھا۔

یوٹیلٹی اسٹورز کارپوریشن آف پاکستان ملک بھر میں اپنے چین اسٹورز چلاتا تھا جو عوام کو بنیادی اشیائے صرف اور دیگر مصنوعات مارکیٹ سے کم قیمت پر فراہم کرتے تھے کیونکہ وفاقی حکومت یوٹیلٹی اسٹورز کارپوریشن آف پاکستان کو بھاری مالی امداد کے ذریعہ ان اشیائے صرف پر خصوصی رعائت فراہم کرتی تھی۔ اس لحاظ سے یہ ملک کا سب سے بڑا سرکاری چین اسٹور نیٹ ورک تھا لیکن وقت گزرنے کے ساتھ ساتھ یوٹیلٹی اسٹورز کارپوریشن آف پاکستان اپنی افادیت کھو بیٹھا تھا اور شدید بدانتظامی اور سنگین بدعنوانیوں کا شکار ہو گیا تھا۔ اس کے بیشتر اسٹورز پر غیر معیاری اور مضر صحت اشیائے صرف اور اسٹورز کے عملہ کی جانب سے صارفین سے غیر پیشہ ورانہ اور برے برتاؤ اور زائد قیمتیں وصول کرنے کی شکایات عام تھیں۔

وفاقی حکومت کی جانب سے اربوں روپے کی مالی امداد کے باوجود یوٹیلٹی اسٹورز کارپوریشن آف پاکستان کی کارکردگی دن بدن بد سے بدتر ہوتی چلی گئی۔ ملک کے مختلف حصوں خصوصاً صوبہ بلوچستان اور گلگت بلتستان میں قائم 2400 اسٹورز سخت خسارہ کا شکار چلے آرہے تھے۔ یوٹیلٹی اسٹورز کارپوریشن آف پاکستان کی کمزور اور ناتجربہ کار انتظامیہ اس ملک گیر ادارہ میں بد انتظامیوں پر قابو پانے اور سنگین مالی بدعنوانیوں کے خاتمہ میں بری طرح ناکام ثابت ہوئی تھی۔ اسٹورز کے عملہ کی جانب سے اختیارات کے ناجائز استعمال، کرپشن اور بدانتظامی کی شکایات زبان زدعام تھیں۔ کارپوریشن کی انتظامیہ کی عدم دلچسپی اور غفلت کے نتیجہ میں یوٹیلٹی اسٹورز کارپوریشن بڑے پیمانے پر بد انتظامیوں، خرد برد، غبن اور سنگین بدعنوانیوں کا مضبوط گڑھ بن گیا تھا اور وفاقی حکومت کی جانب سے اربوں روپے کی امداد کی فراہمی کے باوجود قومی معیشت پر بھاری بوجھ بن گیا تھا۔

روزنامہ ڈان کے ہفت روزہ دی بزنس اینڈ فنانس میں 27 جنوری 2025 کو شائع رپورٹ کے مطابق مالی سال 2025 کے بجٹ میں یوٹیلٹی اسٹورز کارپوریشن آف پاکستان کے لئے مختص رقم پچھلے سال کی نسبت تقریباً دُگنی کر دی گئی تھی۔ حالیہ برسوں میں اس ادارے کی مالی حالت بہتر بنانے یا ملک بھر میں خسارہ کا شکار 1,000 اسٹورز بند کرنے کے لئے مختلف تجاویز دی گئی تھیں۔ جس پر وفاقی حکومت نے پچھلے مہینے فیصلہ کیا تھا کہ یوٹیلٹی اسٹورز کارپوریشن آف پاکستان کو مکمل طور پر بند کر دیا جائے کیونکہ یہ ادارہ حکومت سے اربوں روپے کی خطیر امدادی رقم لینے کے باوجود اپنی افادیت کھو چکا ہے اور عوام الناس کو اشیائے صرف کی فراہمی کی سستی اور معیاری خدمات فراہم کرنے میں مکمل طور پر ناکام ثابت ہوا ہے۔ پچھلے چند برسوں میں قومی بجٹ میں یوٹیلٹی اسٹورز کارپوریشن کی امدادی رقم میں تیزی سے اضافہ اس لئے بھی ہوا کہ مہنگائی کی بلند ترین شرح نے ہر چیز کی قیمتوں کو بلند کر دیا تھا جس میں بنیادی اشیائے صرف بھی شامل تھیں۔

حکومت کی شدید مالی مشکلات اور غیر ضروری اخراجات کم کرنے کی مہم نے یوٹیلٹی اسٹورز کارپوریشن آف پاکستان کے خاتمے کی راہ ہموار کی۔ اگرچہ کم آمدنی کے حامل شہریوں کو رعایتی قیمت پر اشیائے صرف کی فراہمی کی ضرورت سے انکار کسی طور ممکن نہیں۔ تاہم یہ حقیقت ہے کہ فی پچاس ہزار افراد کے لیے بمشکل ایک یوٹیلٹی اسٹور کی سہولت دستیاب تھی۔ اس پر مزید ستم یہ کہ یوٹیلٹی اسٹورز کارپوریشن آف پاکستان میں بدعنوان عملہ کی جانب سے سرکاری خزانہ میں خرد برد، غبن، بد انتظامیوں اور سنگین کرپشن کی رپورٹس بھی آئے دن سامنے آتی رہی ہیں۔ ایک رپورٹ کے مطابق سال 2021 میں یوٹیلٹی اسٹورز کارپوریشن آف پاکستان میں تقریباً 2 ہزار ”گھوسٹ ملازمین“ باقاعدگی سے تنخواہیں وصول کر رہے تھے جبکہ وہ یوٹیلٹی اسٹورز کارپوریشن آف پاکستان کے مجاز ملازم بھی نہیں تھے۔ پاکستان کو درپیش بے شمار مسائل کی طرح یہ مسئلہ بھی آسانی سے حل ہونے والا نہیں۔ غریبوں کو سستے داموں ضروری اشیاء فراہم کرنا لازمی ہے۔ دریں اثناء وفاقی حکومت کی جانب سے ملک کے قدیم ترین سرکاری کاروباری اور تجارتی ادارے یوٹیلٹی اسٹورز کارپوریشن آف پاکستان کی بندش کے فیصلہ کے نتیجہ میں اس کے ہزاروں ملازمین میں تشویش کی لہر دوڑ گئی ہے۔

Facebook Comments HS