زرداری کے بعد
پاکستان پیپلز پارٹی کی سیاست کا حالیہ ماڈل مکمل طور پر آصف علی زرداری کی شخصی حکمتِ عملی، اسٹیبلشمنٹ سے مفاہمت، سیاسی توڑ جوڑ اور پارٹی کے اندر داخلی توازن کے قیام پر استوار رہا ہے۔ وہ پارٹی کے اندر موجود جاگیرداروں، سرمایہ داروں، وڈیروں، سرداروں، بوتاروں، مختلف لسانی و علاقائی دھڑوں کے درمیان ایک قوتِ توازن (پاور بیلنس) کے طور پر کام کرتے رہے ہیں۔ ان کی غیر موجودگی، عدم فعالیت یا بیماری کے باعث سیاسی منظر نامے سے غائب ہونے کی صورت میں یہ متضاد اور متصادم مفادات رکھنے والے عناصر جنہیں زرداری نے کبھی دبا کر، کبھی ڈرا کر، کبھی منا کر اور کبھی دھونس، دھمکی، جعلی مقدمات کے خوف، قید و بند، لالچ، ترغیب و تحریص کے ذریعے سنبھالا اور کنٹرول کیا ہے کھل کر سامنے آ سکتے ہیں اور پارٹی کو اندر سے توڑنے یا پارٹی کو چھوڑ کر جانے کا باعث بن سکتے ہیں۔
اس کی سب سے بڑی وجہ یہ ہے کہ بلاول بھٹو زرداری کی قیادت اب تک تصویری، علامتی اور تقریری نوعیت کی رہی ہے۔ ان کا تنظیم پر عملی کنٹرول، وزراء پر اختیار یا سیاسی فیصلوں میں آزادی نہایت محدود ہے۔ نہ وہ سندھ کی بیوروکریسی پر براہ راست (یعنی جب تک زرداری کی آشیر باد نہ ہو) کوئی خاص گرفت رکھتے ہیں نہ پارٹی کے مالی ذرائع پر کنٹرول رکھتے ہیں اور نہ ہی پارٹی کے مختلف دھڑوں کے ساتھ براہ راست سیاسی تعلق رکھتے ہیں۔ زرداری کی پس پردہ سیاسی کاریگری اور ساز باز کے بغیر بلاول کے لیے یہ ممکن نہیں کہ وہ ان تمام عوامل کو قابو میں رکھ سکیں جو پارٹی کو داخلی اور اندرونی سطح پر جوڑے ہوئے ہیں۔ یہ ایک تلخ مگر قابلِ غور حقیقت ہے کہ خود کو ”بلاول بھٹو لورز“ یا ”جانثارانِ بلاول“ کہنے والے کئی کارکن بھی بلاول بھٹو زرداری کو ایک انتہائی مغرور، عوام اور کارکنوں سے دور رہنے والا اور مشورہ نہ سننے والا رہنما سمجھتے ہیں۔ ان کے بقول بلاول میں وہ انکساری اور کارکن دوستی نظر نہیں آتی جو کبھی ذوالفقار علی بھٹو یا بے نظیر بھٹو کی شخصیت کا خاصا ہوا کرتی تھی۔
پارٹی کے اندرونی حلقوں میں یہ شکایت عام ہے کہ بلاول اپنے اردگرد چند چاپلوس مشیروں کو رکھتے ہیں جو نہ صرف زمینی حقیقتوں سے انہیں دور رکھتے ہیں بلکہ پارٹی کے ڈھانچے کو مزید کھوکھلا کر رہے ہیں۔ یہی وجہ ہے کہ مخلص اور پرانے جیالے بھی آج خود کو پارٹی قیادت سے بیگانہ محسوس کر رہے ہیں۔
اگر ہم سندھ حکومت کی موجودہ ساخت کا باریک بینی سے جائزہ لیں تو واضح ہوتا ہے کہ یہ محض ایک متحدہ کابینہ نہیں بلکہ متوازی طاقت کے مراکز (Parallel Power Centres) کا ایک پیچیدہ مجموعہ بن چکی ہے۔ اکثر وزراء، ایم پی ایز اور با اثر سیاسی شخصیات ایک الگ مرکزِ اختیار (Centre Of Power) کی صورت اختیار کر چکے ہیں جو نہ صرف حکومتی پالیسی سازی میں غیر یقینی صورتحال پیدا کرتا ہے بلکہ عوامی فلاح و بہبود کے فیصلوں کو ذاتی مفادات کی بھینٹ چڑھا دیتا ہے۔ یہ وزراء نہ صرف ایک دوسرے سے ذاتی، سیاسی اور نظریاتی اختلاف رکھتے ہیں بلکہ اکثر ذاتی انا، مقامی سیاسی اثر و رسوخ و اختیارات، بیوروکریسی پر قبضہ اور ترقیاتی فنڈز کی تقسیم جیسے معاملات پر کھلی محاذ آرائی میں مصروف نظر آتے ہیں۔
سندھ کابینہ کے اندر واضح دھڑے بندی موجود ہے مثلاً سعید غنی اور ناصر حسین شاہ کے درمیان بڑھتی ہوئی کشیدگی ہو یا مرتضیٰ وہاب اور کراچی کے دیگر ضلعی رہنماؤں کے درمیان خفیہ رسہ کشی اور کشمکش اس بات کا ثبوت ہیں کہ پارٹی مجموعی طور پر ایک منقسم اور غیر مربوط ادارہ بن چکی ہے۔ ہر وزیر، ایم پی اے، ایم این اے، ایڈوائزر اپنی ذاتی میڈیا ٹیم، سوشل میڈیا نیٹ ورک اور حلقہ اثر کو استعمال کرتے ہوئے نہ صرف اپنی شخصیت، سیاسی سرگرمیوں اور بیانیے کو فروغ دیتا ہے بلکہ دوسروں کو کمزور کرنے کے لیے اندرونی لابنگ، بیوروکریسی میں تقرریوں تبادلوں اور یہاں تک کہ اہم فائلوں کی منظوری میں تاخیر جیسے حربے استعمال کرتا ہے۔ اس اندرونی عدم ہم آہنگی کا سب سے بڑا نقصان صوبے کے عوام کو اٹھانا پڑتا ہے جن کی روزمرہ کی زندگی ان سیاسی کھیلوں کی وجہ سے مزید بدتر ہوتی جا رہی ہے۔ ان متوازی پاور سینٹرز کا سب سے خطرناک پہلو یہ ہے کہ ہر طاقت کا مرکز پارٹی ڈسپلن سے زیادہ اپنی بقا، برتری اور سیاسی مستقبل کو ترجیح دیتا ہے۔
پیپلز پارٹی کی مرکزی قیادت آصف علی زرداری کی غیر موجودگی میں ان دھڑوں کو یکجا رکھنے میں ناکام ہو گی۔ کیونکہ یہ بات تو واضح ہے کہ بلاول بھٹو کی قیادت یا تو ان اندرونی تضادات اور دھڑے بندیوں کو نظرانداز کر رہی ہے یا ان پر گرفت اور کنٹرول سے قاصر ہے جس سے پارٹی میں غیر علانیہ انارکی کی کیفیت پیدا ہو چکی ہے۔ یہ ایک حقیقت ہے کہ مرتضیٰ وہاب کو کراچی کی میئر شپ دینا پارٹی کے اندر کئی حلقوں کے لیے ناپسندیدہ عمل رہا ہے۔ ضلعی سطح پر کراچی کے پرانے جیالے اور نچلی قیادت انہیں ”اوپر سے مسلط کردہ“ قرار دیتی ہے۔
اس کے علاوہ مختلف وزراء اپنی نجی محفلوں میں پالیسی اختلافات کا اظہار کرتے رہتے ہیں۔ اب تک یہ تمام تر اختلافات صرف زرداری کی موجودگی کی وجہ سے دبے ہوئے ہیں ان کی غیر موجودگی میں یہ تضادات اور بھی زیادہ شدت کے ساتھ ابھر کر سامنے آئیں گے۔ زرداری کی غیر موجودگی میں سندھ کے اندر ضلعی سطح پر پارٹی قیادت کی باہمی چپقلش کھل کر سامنے آ سکتی ہے کیونکہ ٹھٹھہ، دادو، لاڑکانہ، نواب شاہ، گھوٹکی، شکارپور وغیرہ میں مختلف خاندانوں اور گروپوں کے درمیان ٹکٹوں کی تقسیم، ٹھیکوں کے حصول، ترقیاتی فنڈز اور، میئرشپ، ٹاؤن چیئرمین شپ اور یونین کونسلز کے عہدوں پر شدید کشمکش رہی ہے اور یہ تمام تناؤ زرداری کے سیاسی توازن کے بغیر بڑھ کر بدترین شکل اختیار کر سکتے ہیں۔
یہ ایک تلخ حقیقت ہے کہ موجودہ دور میں اسٹیبلشمنٹ کی پاکستانی سیاست پر گرفت کافی مضبوط ہے۔ زرداری کی سیاست کا ایک بنیادی ستون ہمیشہ سے اسٹیبلشمنٹ سے مصالحانہ اور مفاہمانہ تعلقات رہا ہے۔ بالفرض اگر وہ سیاسی منظر عام سے ہٹ جاتے ہیں تو ان کی غیر موجودگی میں پیپلز پارٹی کے لیے فوج، عدلیہ اور حساس اداروں سے سیاسی گنجائش حاصل کرنا نہایت دشوار ہو جائے گا۔ زرداری کے بغیر پیپلز پارٹی کے لیے یہ کافی مشکل ہو گا کہ وہ وفاقی سطح پر کسی قومی سیاسی ایڈجسٹمنٹ کا حصہ بن سکے۔ کیونکہ زرداری کی غیر موجودگی میں پیپلز پارٹی کے پاس نہ تو کوئی عوامی تحریک ہے نہ نظریاتی شناخت اور نہ کوئی ایسا بیانیہ جو نئی نسل کو اپنی طرف متوجہ کر سکے۔ پیپلز پارٹی جن نعروں کی بنیاد پر کھڑی ہے ایک طرف ان نعروں کی سیاسی افادیت ختم ہو چکی ہے جبکہ دوسری جانب مہنگائی، بے روزگاری، زمینوں پر قبضہ، سندھو دریا پر کینالز کی تعمیر، کارپوریٹ فارمنگ اور ماحولیاتی تباہی جیسے مسائل پر پارٹی کی پالیسی مبہم، غیر واضح یا سرمایہ دار نواز ہے۔
رہی سہی کسر کراچی میں پیپلز پارٹی کی سیاست کے تابوت میں آخری کیل کے طور پر کے الیکٹرک کی بدترین لوڈشیڈنگ، مقامی شہری آبادی کو مسلسل نظرانداز کرنا، پانی، صحت اور سڑکوں جیسی شہری سہولیات کی عدم فراہمی اور ملیر کی زرخیز زمینوں پر بحریہ ٹاؤن جیسے سرمایہ دارانہ منصوبوں کی سرپرستی نے پوری کر دی ہے۔ ان اقدامات نے نہ صرف عوامی غصے کو بھڑکایا ہے بلکہ پارٹی کو شہر کے مڈل و لوئر مڈل کلاس میں مکمل طور پر بے توقیر کر دیا ہے۔ یوں محسوس ہوتا ہے کہ پیپلز پارٹی نے کراچی کو صرف ایک معاشی چراگاہ اور سیاسی بے حسی کا میدان سمجھ رکھا ہے جس کا خمیازہ اسے عوامی حمایت کے شدید زوال کی صورت میں بھگتنا پڑ رہا ہے۔ یہ تمام تر صورت حال پیپلز پارٹی کو صرف ایک خاندانی سیاسی ورثے کا نمائندہ برانڈ بنا دیتی ہے نہ کہ کوئی متحرک عوامی جماعت۔
ہمیں اس نقطے کو نظر انداز نہیں کرنا چاہیے کہ پیپلز پارٹی کا مالیاتی نظم و نسق (مالی ذرائع) مکمل طور پر زرداری کے ذاتی نیٹ ورک پر انحصار کرتا رہا ہے۔ مثال کے طور پر ٹکٹوں کی تقسیم کے عوض مالی فائدہ، پارٹی فنڈنگ کے نام پر مالی ذرائع کا حصول، ٹھیکوں کے عوض سیاسی وفاداریاں خریدنا اور الیکشن میں اخراجات کے مختلف غیر رسمی ذرائع۔ ان کے جانے کے بعد نہ صرف یہ نیٹ ورک منقطع ہو گا بلکہ کئی کارپوریٹ ڈونرز، ٹھیکیدار، سرمایہ دار، اسپانسرز، فنڈنگ کرنے والے سردار، وڈیرے اور بیوروکریٹس دوسری جماعتوں یا مقتدرہ کی پناہ میں چلے جائیں گے۔ پیپلز پارٹی سے وابستہ کارکن یہ بات بخوبی جانتے ہیں اور اکثر اپنی نجی محفلوں یا سیاسی گفتگو میں اس کا برملا اظہار بھی کرتے ہیں کہ پارٹی کا تنظیمی ڈھانچہ اب جمہوری مرکزیت (Democratic Centralism) کے اصولوں پر نہیں چل رہا بلکہ ایک خاندانی دربار میں تبدیل ہو چکا ہے جہاں فیصلے چند مخصوص خاندانوں کے درمیان محدود ہو کر رہ گئے ہیں۔ نظریاتی کارکن جو کبھی پارٹی کی پہچان ہوا کرتے تھے اب حاشیے پر دھکیلے جا چکے ہیں اور ان کی رائے یا موجودگی کو نہ صرف نظر انداز کیا جاتا ہے بلکہ ان کی سرگرم شمولیت کی گنجائش بھی باقی نہیں رہی۔
اسی طرح صوبائی اور ضلعی سطح کی تنظیمیں جو ماضی میں عوامی رابطے، نظریاتی تربیت اور سیاسی تحریکوں کا ہراول دستہ ہوا کرتی تھیں اب محض ایک الیکشن مشینری کی شکل اختیار کر چکی ہیں جن کا مقصد صرف الیکشن کے دنوں میں بینرز لگانا، سوشل میڈیا پر پوسٹیں کرنا اور جلسوں کی حاضری مکمل کرنا رہ گیا ہے۔ اس کے ساتھ ساتھ پیپلز پارٹی کے کارکن اب مرکزی تنظیم یا نظریاتی وابستگی کے بجائے پارٹی میں موجود مختلف با اثر دھڑوں، وزیروں، ایم این ایز، ایم پی ایز یا مقامی علاقائی طاقتوں کے ورکر اور سپورٹر بن چکے ہیں۔ ہر حلقے میں کارکنوں کی وفاداریاں پارٹی کے کسی مخصوص وزیر، ایم این اے، ایم پی اے یا بلدیاتی نمائندے کے ساتھ جڑی ہوتی ہیں جو انہیں نوکری، فنڈ یا سیاسی سرپرستی فراہم کرتا ہے۔ اس صورتِ حال نے پارٹی کو مفادات پر مبنی ایک الائنس میں بدل دیا ہے جہاں شخصیت پرستی، لابنگ اور مقامی پاور پالیٹکس ہی سب کچھ بن چکی ہے۔
پاکستان پیپلز پارٹی کو اس کے بانی ذوالفقار علی بھٹو نے ایک عوامی انقلابی جماعت کے طور پر پیش کیا تھا جس کی نظریاتی بنیاد مساوات، طبقاتی انصاف اور قومی خودمختاری پر قائم تھی۔ مگر آج وہی جماعت سیاسی، معاشی اور تنظیمی سطح پر خاندانی اجارہ داری، طبقاتی مفادات، سرمایہ دار نواز پالیسیوں، مزدور دشمن اقدامات اور بیوروکریٹک سیاست کا نمائندہ بن چکی ہے۔ اس لیے ایسی صورتحال میں ایک نئی عوامی تحریک اور متبادل قیادت کی ضرورت ہے جو مزدور، کسان، طلبہ، خواتین، اقلیتوں اور محکوم قومیتوں پر مبنی ہو۔ مگر یہ تحریک صرف اس وقت جنم لے سکتی ہے جب ماضی کی روایتی جماعتوں کی تقلید کے بجائے عوامی سیاست کے نئے سانچے کی تعمیر کی جائے۔


