خواب، محبت اور زندگی 44


mahnaz rahman

محبت کے رنگوں کی برکھا

نئے اخبار کا پہلے سے مارکیٹ میں قدم جمائے ہوئے مقبول اخباروں سے ٹکر لینا کوئی آسان کام نہیں تھا۔ احفاظ بے حد ذہنی دباؤ میں رہتے تھے۔ چین کی خالص غذاؤں اور آلودگی سے پاک ہواؤں سے چہرے پر آنے والی سرخی کراچی کی آلودگی، ملاوٹ والی غذا اور کام کے دباؤ کی وجہ سے غائب ہونا شروع ہو گئی تھی۔ ان کا پارہ چڑھنے میں دیر نہیں لگتی تھی۔ وہ اپنے غصے کے لئے بدنام تھے۔ جب کاتبوں کا کام ان کے اعلیٰ معیار پر پورا نہیں اترتا تھا تو دفتر میں چیخم دھاڑ مچ جاتی تھی۔ جن لوگوں نے احفاظ کے ساتھ کام کیا ہے وہ اچھی طرح جانتے ہیں کہ احفاظ کاملیت پسند یعنی پرفیکشنسٹ تھے۔ ان کے لئے قواعد زبان، املا اور ہجے بے حد اہمیت رکھتے تھے۔ مثال کے طور پر ان کا اصرار ہوتا تھا کہ ’طوطا‘ کو ’توتا‘ لکھا جائے اور ایسے ان کے بے شمار معیارات تھے۔

شروع میں مشہور صحافی خاتون صفورا خیری نے بھی کچھ عرصہ ہمارے ساتھ کام کیا۔ ایک روز وہ اپنی میز پر سر جھکائے کچھ لکھ رہی تھیں کہ احفاظ کسی کاتب پر چیخے، صفورا ڈر سے اچھل گئیں اور قلم ان کے ہاتھ سے چھوٹ کر فرش پر جا گرا۔ فرش لکڑی کا تھا اور کسی بھی چیز کے گرنے کی آواز زور سے آتی تھی۔ ایک عرصہ تک دفتر میں یہ قصہ لطیفے کے طور پر مشہور رہا۔ احفاظ اور ہیڈ کاتب سوز صاحب کے اتنے جھگڑے ہوتے تھے کہ شوکت صاحب نے احفاظ کو کتابت سیکشن کی طرف جانے سے منع کر دیا تھا۔ آرٹس کونسل میں سالہا سال کام کر کے اب امریکہ جا کے آباد ہونے والے شمیم عالم کا تقرر بھی مساوات کے میگزین سیکشن میں ہوا تھا۔ پہلے روز ہی اپنے صفحے کی پیسٹنگ کراتے ہوئے انہیں احفاظ سے اتنی ڈانٹ پڑی کہ وہ روہانسے ہو کر کام چھوڑ کر چلے گئے۔ بعد میں شام کو احفاظ نے ان کے گھر جا کر انہیں منایا۔

کچھ عرصہ بعد میری بھی شامت آئی تھی۔ ایک روز انہوں نے میرا ترتیب کردہ صفحہ اپنے سامنے رکھا اور لال بال پین ہاتھ میں لے کر پروف کی اتنی غلطیاں نکالیں کہ جب انہوں نے اخبار میرے سامنے لا کر رکھا تو سوائے لال دائروں کے اور کچھ نظر نہیں آ رہا تھا۔ میری تو حالت خراب ہو گئی، تذلیل کے شدید احساس کے ساتھ میں نے کھڑے ہونے کے لئے اپنے سامنے رکھے ہوئے فائل باکس کو پیچھے دھکیلا تو وہ میز کی چکنی سطح پر پھسلتا ہوا دھڑام سے لکڑی کے فرش پر جا گرا۔ اس زوردار آواز کو سن کر جس نے نہیں بھی دیکھنا تھا، اس نے بھی مڑ کر دیکھا۔ میں نے کرسی پر لٹکا ہوا پرس کندھے پر ڈالا اور سیڑھیاں اتر گئی۔ مجھے ایسی ملازمت نہیں کرنی تھی۔ تھوڑا آگے جانے کے بعد کسی نامعلوم احساس کے تحت میں نے مڑ کر دیکھا تو احفاظ میرے پیچھے آ رہے تھے۔ نکڑ تک پہنچنے سے پہلے وہ مجھے روکنے، معذرت کرنے اور منا کر واپس لانے میں کامیاب ہو گئے۔

وہ لمحہ، غیر متوقع، نرمی سے لبریز، مخلص اور دل کو چھو لینے والا ہمارے تعلق کی حقیقی ابتدا ثابت ہوا۔ محبت ہمارا مقدر تھی، یہ فیصلہ ستاروں میں پہلے سے لکھا جا چکا تھا۔ ہم نے دفتر کے علاوہ بھی ملنا شروع کر دیا۔ اکثر ہم دفتر سے اٹھ کر فرئیر گارڈن جا کے بیٹھ جاتے تھے۔ ان مواقع پر شمیم عالم کا نیلا ویسپا اسکوٹر ہمارے کام آتا تھا۔ اس سے پہلے میں زندگی میں کبھی کسی کے پیچھے موٹرسائیکل یا اسکوٹر پر نہیں بیٹھی تھی۔ ہماری شہری خواتین دونوں ٹانگیں ایک طرف کر کے موٹر سائیکل کی پچھلی سیٹ پر بیٹھتی ہیں جو ایک غیر محفوظ طریقہ ہے۔ ایک مرتبہ جب ہم ریگل چوک سے گزر رہے تھے گو کہ رفتار بہت آہستہ تھی، مجھے لگا کہ میں سیٹ سے پھسل رہی ہوں، میں ڈر کے مارے ”روکیں۔ روکیں“ کہتی رہی۔ جب تک احفاظ بریک لگاتے میں سیٹ سے پھسل کر سڑک پر کھڑی ہو چکی تھی۔

ہماری محبت صرف پارک میں جا کے بیٹھنے اور اسکوٹر کی سواری تک محدود نہیں رہی۔ جلد ہی ہمیں منیر نیازی کی آشیرباد بھی حاصل ہو گئی۔ ہوا کچھ یوں کہ منیر نیازی ہمارے دوست اور کولیگ سلیم مبارک کے والد کے دوست تھے، وہ جب بھی کراچی آتے سلیم کے چھوٹے سے خوبصورت اپارٹمنٹ میں ہماری محفل جمتی۔ میں اور احفاظ دونوں ہی ان کی خوبصورت شاعری کے دلدادہ تھے۔ یہ اپارٹمنٹ ہمارے لئے ایک پر سکون پناہ گاہ بن گیا تھا جہاں ہم بیٹھتے، باتیں کرتے اور پس منظر میں منیر صاحب کی شفقت بھری تائید ساتھ رہتی۔

یہ بات زیادہ عرصہ چھپی نہ رہی۔ ایک روز ایک کاتب نے ہمیں فرئیر گارڈن میں بیٹھے دیکھ لیا اور دفتر جا کے بات پھیلا دی اور آپ تو جانتے ہی ہیں کہ ہمارے معاشرے میں جب اس طرح کی خبر عام ہو جائے تو احباب کی طرف سے شادی کے لئے اصرار ہونے لگتا ہے۔ جیسا کہ بعد میں احفاظ کے احباب مجھے بتایا کرتے تھے کہ انہیں اچھی طرح علم تھا کہ احفاظ کی شادی انہیں ہی کرانا ہو گی کیونکہ احفاظ اور ان کے گھر والوں کے ذہنی معیارات میں کوسوں کا فاصلہ تھا، اس لئے ہر دوست ان کے لئے اپنے طور پر کسی نہ کسی رشتے کے بارے میں سوچتا رہتا تھا۔

Facebook Comments HS