شہباز نثار ملاقات ”اندرونی کہانی“ پارٹ ۱
وزیراعظم شہباز شریف کی سابق وفاقی وزیر داخلہ چوہدری نثار علی خان سے ملاقات کے بعد ایک بار پھر چوہدری نثار علی خان افواہوں کی زد میں ہیں ان کے سیاسی مستقبل کے بارے میں قیاس آرائیوں کا سلسلہ شروع ہو گیا ہے پچھلے سات سال سے پرنٹ و الیکٹرانک میڈیا کی ان تک رسائی نہیں ایک آدھ انٹرویو کے سوا تاحال چوہدری نثار علی خان نے چپ کا روزہ رکھا ہوا ہے کسی سیاست دان کا اس قدر طویل چپ کا روزہ اسے سیاست سے آؤٹ کر دیتا ہے یا لوگ اسے بھلا دیتے ہیں لیکن چوہدری نثار علی خان کی شخصیت کے بارے میں میری رائے مختلف ہے ”تنہائی پسند“ راجپوت اب بھی لوگوں کے دلوں بس رہا ہے جس کا اپنے حلقہ انتخاب میں بڑی تعداد میں ذاتی ووٹ بینک موجود ہے
پچھلے چند سالوں کے دوران نام نہاد سیاسی نجومی چوہدری نثار علی خان کی کئی بار مسلم لیگ (ن) میں واپسی اور پی ٹی آئی میں شمولیت کی قیاس آرائیاں کرچکے ہیں لیکن کوئی بات درست ثابت نہیں ہوئی اب ایک بار پھر ان کی مسلم لیگ (ن) میں واپسی کی خبروں نے مسلم لیگی حلقوں میں کھلبلی مچا دی ہے۔ سرکاری ٹیلی ویژن کے کیمرہ مین ابھی فیض آباد پہنچ نہیں پائے تھے کہ مجھے میڈیا میں کئی دوستوں کے فون آنا شروع ہو گئے ان کے خیال میں، میں ”چوہدری نثار علی خان ایکسپرٹ“ ہوں لہذا میری انفارمیشن مصدقہ ہو گی کیونکہ چوہدری نثار علی خان تک مجھے رسائی حاصل ہے
میں نے بھی اس بھرم کو قائم رکھا ہوا ہے حالانکہ میری چوہدری نثار علی خان سے ان کی ہمشیرہ کی وفات پر ہی ملہال مغلاں میں ملاقات ہوئی تھی تاہم اس دوران ان سے بالواسطہ علیک سلیک ہوتی رہتی ہے اور پیغام رسانی کا سلسلہ بھی جاری رہتا ہے میں نے چوہدری نثار علی خان کی شخصیت کے بارے میں کتاب بھی لکھی لیکن اس کی وصولی کے لئے بھی ان کے پاس وقت نہیں تھا میں نے یہ کتاب چوہدری نثار علی خان کی مخالفت کے باوجود لکھی۔ چوہدری نثار علی خان جہاں بے پناہ خوبیوں کے مالک ہیں وہاں وہ زود رنج بھی ہیں کوئی بات پسند نا آئے تو جلدی ناراض ہو جاتے ہیں چند ماہ قبل ہمارے درمیان ناراضی کا باعث ایک کالم بنا لیکن ہمارے درمیان بالواسطہ رابطہ قائم رہا ان کے سیاسی امور کے سیکریٹری شیخ ساجد پیغام رسانی کی بھاری ذمہ داری ادا کرتے رہتے ہیں۔ وزیراعظم شہباز شریف سے ملاقات کے بعد چوہدری نثار علی خان نے تین اخبار نویسوں سے دو روز بعد بات کرنے کا وعدہ تو کیا لیکن وہ اب تک پورا نہیں کیا انہوں نے اپنے قریبی افراد کو ملاقات کے موضوع پر کوئی بات کرنے سے سختی سے روک دیا ہے یہ پہلی بار ایسا ہوا کہ ملاقات میں موجود ان کے اکلوتے صاحبزادے چوہدری تیمور علی خان کو بھی فون اٹینڈ کرنے سے منع کر دیا۔
ہم نے بھی نصف صدی سے صحافت کی خاردار وادی میں محض خاک نہیں چھانی اندر کی خبر تلاش کر ہی لی۔ کل تک میں بھی یہی کہتا تھا کہ ”چکری کا چوہدری“ کہیں نہیں جا رہا ہے لیکن شہباز نثار ملاقات کے بعد میرے موقف میں بھی قدرے تبدیلی آ گئی ہے اس ملاقات کے بعد دونوں اطراف برف پگھلی ہے وزیراعظم شہباز شریف نے نواز شریف کا ”سلام و پیغام“ پہنچایا۔ چوہدری نثار علی خان جس نے سات سال قبل جاتی امرا کے ”مکین“ سے رابطے ختم کر دیے تھے دوست احباب کے دباؤ اور مشوروں کے باوجود مڑ کر جاتی امرا کی طرف نہیں دیکھا لیکن اب چوہدری نثار علی خان کے رویہ میں تبدیلی نظر آئی ہے باڈی لینگوئج سے پتہ چلتا ہے کہ وہ دوستوں کے دباؤ کے سامنے سرنڈر کرتے نظر آر ہے ہیں وہ آئندہ چند دنوں میں چونکا دینے والا فیصلہ کر سکتے ہیں۔ اگر وہ یہ کہہ کر کہ ”میں نے مسلم لیگ (ن) چھوڑی ہی کب تھی جو واپس آ گیا ہوں“ مسلم لیگ (ن) میں باضابطہ شمولیت کا اعلان کر دیں تو حیرت کی کوئی بات نہیں ہو گی۔
نواز شریف کا چوہدری نثار علی خان کو گلے لگانے کا سٹیج سجنے کو ہے پچھلے سات سال کے دوران چوہدری نثار علی خان سے مسلم لیگ (ن) کے بارے میں ہونے والے مکالمے میں وہ مجھے نواز شریف کا شیدائی ہونے کا طعنہ دیتے رہتے ہیں تو میں بھی ان کو ترکی بہ ترکی جواب دیتا کہ ان کے دلے میں ابھی تک نواز شریف موجود ہیں جب کہ میرے دل میں دوسرے نون (نثار) کی بھی جگہ ہے۔ میں دوستانہ ماحول میں چوہدری نثار علی خان کو ہمیشہ مسلم لیگ (ن) کے قائد نواز شریف سے تعلقات کار بحال کرنے کی ترٖغیب دیتا رہتا ہوں وہ اپنے دل کے پھپھولے دکھا کر خاموش ہو جاتے ہیں میں نے چوہدری نثار علی خان کو ”آن دی ریکارڈ یا آف دی ریکارڈ“ نواز شریف کے خلاف کوئی بات کرتے نہیں سنا انہوں نے میاں صاحب کے بارے میں بات پر ہمیشہ خاموشی اختیار کیے رکھی۔
سات سال کی طویل خاموشی سیاست دان کی سیاسی موت بن جاتی ہے لیکن چوہدری نثار علی خان کی خاموشی بھی خبر ہے میں نے سینکڑوں صحافی اور اینکر پرسن ان سے ملاقات اور انٹرویو کے لئے سرگرداں دیکھے ہیں لیکن انہوں نے میدان سیاست میں سات سالہ خاموشی کا ریکارڈ قائم کر دیا ہے جو لوگ مجھے چوہدری نثار علی خان کی سیاسی موت کا طعنہ دیتے ہیں ان کے اس طعنہ میں کوئی وزن نہیں کیونکہ وہ گوشہ نشینی کے باوجود آج بھی سیاست میں اسی طرح زندہ ہیں جیسے اقتدار و اپوزیشن میں اس کا اندازہ سوشل میڈیا پر ان کے بارے میں وائرل ہونے والی وڈیو کو سب سے زیادہ دیکھے جانے سے لگایا جا سکتا ہے میری چوہدری نثار علی خان کے سیاسی جانشین چوہدری تیمور علی خان سے گاہے بگاہے گفتگو ہوتی رہتی ہے وہ بھی ملکی سیاست پر گہری نظر رکھتے ہیں شہباز نثار ملاقات کے بارے میں استفسار پر انہوں نے کھل کر بات نہیں بلکہ اشاروں کنایوں میں سوالات کے جواب دیے بہر حال ان کا کہنا ہے ملاقات کے حوالے سے میڈیا پر جو کچھ آ رہا ہے اس میں کوئی صداقت نہیں یہ محض کرٹسی کال تھی۔ اس ملاقات کے بعد چوہدری نثار علی خان کے قریبی لوگوں نے بھی اس خدشے کے پیش نظر کہ ان کے منہ سے کوئی بات نہ نکل جائے فون اٹینڈ کرنا چھوڑ دیے ہیں۔ چوہدری نثار علی خان سائیڈ پر مکمل
خاموشی ہے کچھ ایسی ہی صورتحال دوسری طرف ہے۔
سوال یہ ہے وزیر اعظم شہباز شریف چوہدری نثار علی خان کے پاس کیا پیغام لے کر آئے میری اطلاع کے مطابق وزیراعظم شہباز شریف فرصت کے اوقات میں اکثر چوہدری نثار علی خان کے ساتھ گپ شپ لگاتے رہتے ہیں وہ نواز شریف سے پیشگی اجازت کے بغیر چوہدری نثار علی خان سے ملاقات کے لئے نہیں جا سکتے یہ بات قابل ذکر ہے وزیر اعظم چوہدری نثار علی خان سے ملاقات کے بعد مری چلے گئے جہاں انہوں نے نواز شریف سے ملاقات کی اس ملاقات میں وزیر اعلیٰ پنجاب مریم نواز بھی موجود تھیں انہوں نے یقیناً چوہدری نثار علی خان سے ہونے والی ملاقات کی تفصیلات سے آگاہ کیا ہو گا ایسا دکھائی دیتا ہے ہے فی الحال فریقین نے ”خاموشی“ اختیار کرنے کا فیصلہ کیا مناسب وقت پر خاموشی توڑ دی جائے گی۔
(جاری ہے )

