سندھ کے ساتھ نا انصافی کا دہرایا جانے والا باب


سندھ کئی دہائیوں سے ابتدائی خریف کے موسم میں پانی کی شدید کمی کا سامنا کر رہا ہے، جس کا اثر سندھ اور بلوچستان کی پوری خریف کی فصل پر پڑتا ہے۔

سندھو دریا پر بنے تربیلا ڈیم، جس کی ملکیت واٹر اینڈ پاور ڈویلپمنٹ اتھارٹی (واپڈا) کے پاس ہے، سے پانی چھوڑنے یا نہ چھوڑنے کے مصنوعی بحران کو ایک غیر منصفانہ فیصلے کی شکل دے دی گئی۔ یہ بحران کوئی قدرتی آفت نہیں تھا، بلکہ کمزور پالیسیوں اور فیصلوں کا نتیجہ تھا، جس کا بوجھ نچلے صوبوں پر پڑا، جبکہ اپر رپیرین پنجاب اپنی طرف بہنے والی نہروں سے اپنی مرضی کے مطابق پانی لیتا رہا۔

اپریل سے جون کے آغاز تک، جب سندھ کی زراعت کے لیے کپاس، چاول اور گنا اگانے کے لیے پانی کی ضرورت ہوتی ہے، واپڈا اور انڈس ریور سسٹم اتھارٹی (ارسا) نے تربیلا ڈیم سے پانی چھوڑنے کے بجائے اسے ذخیرہ کرنے کو ترجیح دی۔ سندھ حکومت، زرعی ماہرین اور کسانوں کے نمائندوں نے بارہا خبردار کیا کہ اس وقت پانی چھوڑنا انتہائی ضروری ہے۔ ان کا موقف واضح تھا کہ جولائی میں شروع ہونے والی بارشوں اور گلیشیئرز کے پگھلنے سے تربیلا خود بخود بھر جائے گا، اس لیے موجودہ کاشت کے موسم میں پانی روکنا سندھ کی زرعی معیشت کے لیے خطرناک ہو گا۔ 4 جولائی 2025 کو تربیلا کی سطح 1520 فٹ تک پہنچ چکی تھی، جو اس کی مکمل سطح 1550 فٹ سے صرف 30 فٹ کم ہے۔ ڈیم کے اسپل وے 4 جولائی کو کھولے گئے، جن سے روزانہ 265,000 کیوسک سے زائد پانی نچلے علاقوں کی طرف چھوڑا جا رہا ہے۔ اس حقیقت نے سندھ کے اس دعوے کو پختہ کر دیا کہ اپریل سے جون تک پانی روکنا غیر ضروری تھا، کیونکہ آنے والے وقت کے قدرتی بہاؤ ڈیم کو بھرنے کے لیے کافی تھے۔ لیکن افسوس، جب فصلوں کو پانی کی شدید ضرورت تھی، وفاقی اداروں نے اپنی ترجیحات کو زراعت کے بجائے ڈیم بھرنے اور توانائی کی پیداوار پر مرکوز رکھا۔ یہ پاکستان کے آئین اور قانون کے برابری کے اصولوں کو نظر انداز کرنے کے مترادف تھا۔

جب موسمی پیش گوئیاں اور ماڈل بتا رہے تھے کہ گرمی گلیشیئرز کو زیادہ پگھلائے گی اور بارشیں بھی معمول سے زیادہ ہوں گی، اس کے باوجود ڈیم میں پانی پہلے سے جمع کرنا عجیب دانشمندی تھی، جس کے نتیجے میں سندھ اور بلوچستان کو پانی کی قلت کا سامنا کرنا پڑا۔ خاص طور پر کپاس کی کاشت کا وقت تو سندھ کے ہاتھ سے نکل گیا۔

مئی 2025 میں تربیلا میں روزانہ اوسطاً 165,527 کیوسک پانی کی آمد اور 144,736 کیوسک پانی کا اخراج رہا، جس سے 1.487 ملین ایکڑ فٹ پانی ذخیرہ ہوا۔ جون کے ابتدائی دس دنوں میں نچلے علاقوں کو آنے والے بہاؤ سے زیادہ پانی چھوڑا گیا، لیکن 11 جون کے بعد آمد کی شرح بڑھنے سے پانی دوبارہ ذخیرہ ہونے لگا، اور ماہ کے اختتام تک 0.337 ملین ایکڑ فٹ مزید پانی محفوظ کیا گیا۔ جولائی کے پہلے چار دنوں میں، جب پانی کی آمد 280,550 کیوسک تھی، واپڈا نے صرف 149,925 کیوسک پانی چھوڑا، جس سے صرف 4 دنوں میں 1.039 ملین ایکڑ فٹ پانی ذخیرہ ہوا۔ اس جمع شدہ ذخیرے کا مطلب یہ تھا کہ سندھ کو ابتدائی خریف میں پانی نہ ملا، حالانکہ یہ وقت زرعی لحاظ سے سب سے نازک ہوتا ہے۔ یہ بھی یاد رکھنا چاہیے کہ سندھ کو پانی چشمہ کے مقام پر دیا جاتا ہے، جسے گڈو تک پہنچتے ہوئے دو ہفتے لگ جاتا ہیں۔

تربیلا سے پانی نہ چھوڑنے کی وجہ صرف پالیسی ہی نہیں، بلکہ آپریشنل ناکامی بھی تھی۔ ٹنل فور، جو تربیلا کے چوتھے توسیعی منصوبے کے تحت بنایا گیا، اس کے لو لیول آؤٹ لیٹ کے ذریعے 75,000 کیوسک پانی چھوڑنے کی صلاحیت رکھتا ہے۔ لیکن جیسا کہ پہلے کئی مضامین اور خبروں میں آ چکا ہے، یہ ابھی تک قابل استعمال نہیں بنایا گیا۔ تشویشناک بات یہ ہے کہ واپڈا نے گزشتہ 33 مہینوں سے ”لو لیول آؤٹ لیٹ“ (LLO) کو فعال نہیں کیا، جو کم سطح پر پانی چھوڑنے کے لیے ایک اہم نظام ہے۔ اس تکنیکی کمزوری کے نتیجے میں واپڈا کی مجموعی اخراج کی صلاحیت محدود ہو گئی، اور مئی اور جون کے اضافی بہاؤ کے باوجود، پانی نچلے علاقوں تک نہ پہنچ سکا۔

اس دوران، پنجاب کے لیے چشمہ جہلم (CJ) اور تونسہ پنجند (TP) لنک نہروں کے ذریعے پانی کی فراہمی جاری رہی، جو ارسا کے اختیار میں ہیں۔ ان نہروں کو کھولنے کا عمل اس وقت کیا گیا جب سندھ کے گڈو، سکھر اور کوٹری بیراجوں کو 30 فیصد سے زائد پانی کی کمی کا سامنا تھا۔ سندھ حکومت مسلسل کہتی رہی کہ پنجاب اس وقت بھی پانی لے رہا تھا جب باقی صوبے بنیادی ضروریات کے لیے بھی پریشان تھے۔

پانی کی کمی کے نتائج خوفناک تھے۔ سندھ کی شاخوں میں پانی نہ ہونے کی وجہ سے فصلوں کو نقصان پہنچا۔ کسانوں کو جب وقت پر پانی نہ ملے تو فصل کم ہونے یا نہ ہونے سے زرعی قرض کا بوجھ بڑھ جاتا ہے، کیونکہ پیداوار نہ ہونے سے واپسی ممکن نہیں ہوتی۔ بلوچستان کی بھی پٹ فیڈر اور کیرتھر نہروں میں بہاؤ کم ہونے کی وجہ سے ہزاروں ایکڑ زمین کاشت سے محروم رہی۔

یہ بحران صرف زرعی مسئلہ نہیں، بلکہ ایک سماجی اور سیاسی چیلنج بھی ہے۔ اگر ایک صوبے کو بار بار اس کے جائز حقوق سے محروم کیا جائے گا، تو اعتماد اور شراکت داری کمزور ہو گی۔ سندھ، جو پہلے ہی پانی کی کمی، سمندری چڑھاؤ اور ماحولیاتی زوال کے بحرانوں سے لڑ رہا ہے، اس پر مزید بوجھ ڈالنا وفاقی ادارے کی ذمہ داری کو بھاری کرتا ہے۔

2025 کا بحران یہ واضح کرتا ہے کہ پانی کے انتظام کی موجودہ پالیسیاں نہ صرف ناقص ہیں، بلکہ وقت کے تقاضوں سے بھی ہم آہنگ نہیں۔ اب وقت آ گیا ہے کہ حکومت تربیلا، منگلا اور دیگر ڈیموں کی آپریشنل پالیسیوں کا از سر نو جائزہ لے۔ پانی کی قانونی تقسیم، جو 1991 کے واٹر اپورشنمنٹ ایکارڈ کے تحت طے کی گئی ہے، وہ پابندی سے نافذ کی جائے۔ واپڈا کو اپنی توانائی کی پیداوار کی ترجیح کے مقابلے میں زراعت کو ترجیح دینی ہو گی، کیونکہ زرعی معیشت لاکھوں خاندانوں کی زندگی سے جڑی ہے۔ ویسے بھی ہمارے پاس پہلے سے اضافی بجلی پیدا ہو رہی ہے۔

واپڈا کو اپنے ڈھانچوں کی ناکامی پر بھی غور کرنا ہو گا۔ LLO کو فوری طور پر بحال کرنا، T 5 کو دوبارہ آبپاشی کے لیے قابل استعمال بنانا، اور اسپل ویز کے آپریشن کو شفاف بنانا وقت کی ضرورت ہے۔ ارسا کے لیے بھی ضروری ہے کہ وہ اپنی فیصلہ سازی میں تمام صوبوں کی ضروریات کو مدنظر رکھے، اور کسی بھی فیصلے سے متعلق بروقت مکمل ڈیٹا اور مشاورت فراہم کرے۔

اگر ملک واقعی مستقبل میں پانی کی کمی، صوبائی کشیدگی اور زرعی بحران سے بچنا چاہتا ہے تو فوری طور پر پالیسیوں میں انصاف، شفافیت اور سائنس پر مبنی فیصلے کرنے ہوں گے۔ بصورت دیگر، ہر آنے والا خریف اور ربیع سندھ کے لیے ایک نئی آزمائش بن جائے گا۔

Facebook Comments HS