موت سے پہلے آدمی غم سے نجات پائے کیوں؟


ممتاز شاعر اسرار الحق مجاز نے کہا تھا ”کلیجہ پُھنک رہا ہے اور زباں کہنے سے عاری“ بس کچھ ایسا ہی وقت مجھ پر بھی آن پڑا ہے کہ یہ حقیقت کس طرح سے تحریر کروں کہ میرے بڑے بھائی، جانی دوست، استاد اور عظیم صحافی جناب نعیم اللہ خان صاحب، اب ہم میں نہیں رہے، انا اللہ و انا الیہ راجعون۔ عاشورہ ( 10 محرم الحرام ) بتاریخ 6 جولائی 2025 کی صبح مجھے جناب نعیم اللہ خان صاحب کے بھائی عبید اللہ خان صاحب کا واٹس ایپ پر ایک پیغام موصول ہوا جو برادر نعیم اللہ خان صاحب کے اس دنیا سے رخصت ہو جانے سے متعلق تھا۔ خبر پاتے ہی میں ایسی ہی کیفیت میں مبتلا ہو گیا تھا جیسا کہ گزشتہ برس اپنی والدہ ماجدہ کے انتقال پُرملال کی خبر پانے کے بعد مجھ پر طاری ہوئی تھی۔ دُکھ اور غم کی کوئی حد نہیں ہوتی ہم ہر روز کسی نہ کسی کے انتقال کی خبر پاتے ہیں، لیکن کچھ دُکھ اور غم ایسے ہوتے ہیں کہ ہم رو کر بھی اس سے نجات حاصل نہیں کر پاتے۔ میرا تعلق برادر نعیم اللہ خان سے کچھ اسی طرح کا تھا، میں ان کے دنیا سے رخصت ہو جانے کی خبر پا کر بہت تکلیف میں رہا، حالانکہ میرا یہ رخصت ہو جانے والا دوست نا جانے کتنی ہی تکالیف، مصائب اور رنج سے نجات پا گیا ہے۔

وفاقی دارالحکومت اسلام آباد ہو یا پھر پنجاب کا دارالحکومت لاہور ہو، اپنے صحافتی کیریئرکے دوران نا جانے کتنے ہی لوگوں کو صحافتی تربیت دیں اور قلم کی حرمت کا درس دیا، یعنی اپنے صحافتی کیریئر میں وہ صرف دو ہی ہنر جانتے تھے، کسی کو دوست بنا لیا یا پھر کسی کو اپنی شفقت میں لے لینا۔ جیسا کہ اسلام آباد کے ممتاز صحافی اعزاز سید نے برادر نعیم اللہ خان صاحب کی وفات پر اپنی ایک تعزیتی پوسٹ میں تحریر کیا ہے کہ ”آج زندگی کے قیمتی ترین اثاثوں میں سے ایک اس دنیا سے چلا گیا۔ نعیم اللہ خان سے تعارف تو اے پی پی کے دنوں میں ہوا مگر جلد صحافتی تعلق ذاتی و خاندانی دوستی میں بدل گیا۔ نعیم بھائی اردو صحافت میں صرف لفظوں، فقروں اور خبروں کی بنت کی مہارت ہی نہیں رکھتے تھے بلکہ سیاست، تاریخ اور ادب پر بڑی گرفت کے حامل تھے۔ ان سب سے بڑھ کر یہ کہ وہ بے لوث تھے۔ ہماری 24 سالہ رفاقت میں کوئی ایک دن بھی ایسا نہیں آیا کہ انہوں نے میرے سامنے کسی کی کوئی برائی کی ہو یا کسی بات پر ناراض ہوئے ہوں۔ پہلے ہیپاٹائیٹس سے لڑے پھر گردوں کی بیماری نے آن لیا۔ آخری دنوں میں درد و تکلیف کاٹی لیکن لب پر کوئی حرفِ شکایت تک نہیں صرف مسکراہٹ۔ ہمیشہ بتاتے، سکھاتے اور مسکراتے رہے۔ ان سے بہت کچھ سیکھا دل رنجیدہ ہے مگر اس یقین کے ساتھ کہ وہ جہاں بھی ہوں گے بیماری کی تکلیفوں سے آزاد۔ خوش و خرم ہوں گے“ ۔

میرا ان سے تعلق برسوں پر محیط نہیں ہے، میں ان سے پہلی مرتبہ ”روزنامہ ممتاز، اسلام آباد“ میں ملا، اور ان سے میری پہلی ملاقات میرے ہر دلعزیز استاد جناب جاوید قریشی صاحب (اس وقت روزنامہ ممتاز کے ایڈیٹر تھے ) نے کروائی۔ میں برادر نعیم اللہ خان صاحب کے زیر سایہ روزنامہ ممتاز کے لئے اداریے تحریر کرتا تھا۔ ہم نے بہت سا وقت ایک ساتھ گزارا اور بھرپور گزار۔ ہم نے روزنامہ ممتاز میں ”جلیبی کلب“ بھی قائم کیا اور ہر شام مغرب سے پہلے یا کچھ بعد جلیبیاں کھایا کرتے تھے۔ حالانکہ انھیں بہت سی چیزوں کی کھانے سے ممانعت تھی اور شاید ان چیزوں میں جلیبی بھی شامل تھی۔

برادر نعیم اللہ خان صاحب جگر کے عارضے میں مبتلا تھے بلکہ ان کا جگر کا ٹرانسپلانٹ بھی ہو چکا تھا جو کہ بھارت میں ہوا تھا، اس لیے ان کا متعدد بار بھارت بھی جانا ہوا، جہاں انھیں حضرت شاہ ولی اللہ خانؒ، مولانا ابو الکلام آزادؒ، شاعر حضرت مومن خان ؒ اور دیگر عظیم شخصیات کی قبور کی زیارت بھی نصیب ہوئی اور ان ہی کے توسط سے مجھے بھی گراں قدر عظیم شخصیات کی قبور کی روحانی زیارت نصیب ہوئیں۔ بردار نعیم اللہ خان صاحب ابھی جگر کی کشمکش سے گزر رہے تھے کہ انھیں گردوں کا مرض لاحق ہو گیا اور اپنی موت تک وہ ڈائیلاسز پر انحصار کرتے رہے۔ ایک بار مجھے برادر نعیم اللہ خان صاحب کا فون آیا کہ پھیپھڑوں میں پانی جمع ہو جانے کی وجہ سے مجھے پانی پینے کی اجازت نہیں ہے، بس اتنی ہے کہ تبرک کے طور پر جس طرح پیا جاتا ہے، اور یہی صورت کھانے کے حوالے سے ہے۔ جس پر میں نے یکم نومبر 2024 کو نعیم صاحب کی اس حالت پر ایک آرٹیکل بعنوان ”پیڑا جلیبی لڈو جو کھاؤ سو منگا دیں“ تحریر کیا جو ملک کی معروف ویب سائٹ ”ہم سب“ پر پبلش ہوا تھا۔

میرے محترم برادر نعیم اللہ خان صاحب پنجاب کے شہر دیپالپور ضلع اوکاڑہ سے تعلق رکھنے کے باوجود لکھنوی اور دلی کے لہجے کی اردو بولتے تھے، اردو ادب سے خصوصی لگاؤ رکھتے تھے اور موقع محل کی مناسبت سے اکثر و بیشتر اشعار سناتے رہتے تھے (یہ وہ الفاظ ہیں جو پہلے میں ’نے ”ہیں“ کے ساتھ تحریر کیے تھے اور اب ”تھے“ کے ساتھ تحریر کرنا پڑ رہے ہیں ) ۔ بہر کیف میری جانب سے بر صغیر کے نامور شاعر نظیر اکبر آبادی کے اس شعر کے ذریعے نعیم بھائی سے پیشکش کی گئی تھی کہ

پیڑا جلیبی لڈو جو کھاؤ سو منگا دیں
چیرا دوپٹہ جامہ جیسا کہو رنگا دیں

لیکن وہ چپ رہے اور فون پر میں ان کی آنکھوں کی نمی کو محسوس کر رہا تھا اور اب یہ عالم ہے کہ

شام ڈھلی کیا زمانے بھی گئے
چاندنی تو کیا چاندنے بھی گئے

یہ شعر میں نے نعیم بھائی کے لئے ان کے سامنے ہی کہا تھا جس پر انھوں نے مجھے کہا کہ ”قاضی“ تم شاعری بھی کیا کرو یار۔ آخر میں اپنے اس شعر کے ساتھ اپنے اس عریضے سے رخصت چاہوں گا۔

کارواں بچھڑ گئے، طوفاں بھی گزر گئے
میں بھی گزر گیا، وہ بھی گزر گئے

Facebook Comments HS