چیٹ جی پی ٹی کے ساتھ قرض سے نجات: ایک امریکی خاتون کی داستانِ ہمت


آج کے ڈیجیٹل دور میں جہاں مصنوعی ذہانت (AI) نے زندگی کے ہر شعبے میں اپنے پنجے گاڑ دیے ہیں، وہاں یہ تصور کرنا بھی مشکل نہیں کہ ہمارے روزمرہ مسائل کے حل میں بھی اس کا کردار کلیدی ہوتا جا رہا ہے۔ امریکہ سے موصول ہونے والی ایک خبر نے اس حقیقت کو مزید تقویت بخشی ہے کہ کس طرح چیٹ جی پی ٹی جیسی مصنوعی ذہانت کی ٹیکنالوجی ایک عام شہری خاتون کی مالی مشکلات کو دور کرنے کا ذریعہ بنی۔ جینیفر ایلن کی یہ کہانی محض ذاتی قرض کی ادائیگی کی نہیں، بلکہ عزم، جدت پسندی اور خود کو با اختیار بنانے کی ایک شاندار مثال ہے۔

مالی پریشانیوں کا بھنور اور امید کی کرن

امریکی ریاست ڈیلاویئر سے تعلق رکھنے والی 35 سالہ رئیلٹر اور مواد تخلیق کار جینیفر ایلن ایک ایسے مالی بھنور میں پھنسی ہوئی تھیں جہاں 23,000 ڈالر کے کریڈٹ کارڈ قرض کا بوجھ ان کے کاندھوں پر لدا تھا۔ یہ بوجھ محض مالی نہیں تھا بلکہ ذہنی اور جذباتی طور پر بھی انہیں نڈھال کر رہا تھا۔

انہوں نے اپنی یہ داستان امریکی جریدے نیوزویک کو سناتے ہوئے بتایا کہ کس طرح مالی خواندگی نہ ہونے کی وجہ سے وہ عمر بھر پریشان رہیں۔ ان کی آمدنی مناسب تھی مگر ان کے اخراجات ان کے اختیار سے باہر تھے۔ انہوں نے کبھی گھر کے اخراجات کا بجٹ بنانے کی کوشش نہیں کی۔ پیسوں کو سنبھال کر استعمال کرنا ان کے لیے مشکل تھا۔

”میں ہمیشہ یہ سوچتی رہی کہ اگر میں مزید محنت کروں گی تو اس مسئلے کو پیچھے چھوڑ دوں گی، مگر یہ حل محض ایک سراب ثابت ہوا،“ ۔ بیٹی کی پیدائش کے بعد ان کی مالی حالت مزید دگرگوں ہو گئی، جب اسپتالوں کے بل، علاج کے اخراجات اور زچگی کے بعد کی پیچیدگیوں پر ہونے والے اضافی اخراجات نے ان کی کمر توڑ دی۔ انہیں اس کٹھن وقت میں کریڈٹ کارڈز کا سہارا لینا پڑا، جس سے زندگی کی گاڑی تو چلتی رہی مگر قرض کا پہاڑ بڑھتا چلا گیا۔

30 روزہ چیلنج: چیٹ جی پی ٹی ایک مشیر کے روپ میں

یہ وہی وقت تھا جب جینیفر کو احساس ہوا کہ شاید مصنوعی ذہانت کی مدد سے وہ اپنی عادات میں تبدیلی لا سکتی ہیں۔ انہوں نے ٹک ٹاک پر ایک 30 روزہ چیلنج کا آغاز کیا، جہاں انہوں نے چیٹ جی پی ٹی کو اپنا روزانہ کے لئے مالی مشیر مقرر کیا۔ یہ چیلنج محض کریڈٹ کارڈز کا قرض اتارنے تک محدود نہیں تھا بلکہ اس میں اضافی آمدنی کے ذرائع تلاش کرنا اور ایک منظم مالی منصوبہ بندی کرنا بھی شامل تھا۔ چیٹ جی پی ٹی نے انہیں ایسے عملی مشورے دیے جو بظاہر معمولی لگتے تھے مگر ان کے اثرات دور رس ثابت ہوئے۔ غیر ضروری سبسکرپشنز منسوخ کرنا، فیس بک مارکیٹ پلیس پر پرانی اشیاء فروخت کرنا، کھوئی ہوئی رقم کی بازیابی کے لیے درخواست دینا، حتیٰ کہ پرانے پرسوں میں پڑی ریزگاری کی تلاش بھی ان تجاویز میں شامل تھا، جن سے انہیں 100 ڈالر سے زائد کی آمدنی ہوئی۔

حیرت انگیز انکشافات اور کامیابی کی جانب پہلا قدم

تاہم، اس چیلنج کا سب سے حیران کن اور اہم موڑ وہ تھا جب چیٹ جی پی ٹی کی تجویز پر ایلن نے اپنی مالیاتی ایپس اور اکاؤنٹس کا تفصیلی جائزہ لیا۔ چیٹ جی پی ٹی نے انہیں ایک ایسا بروکریج اکاؤنٹ بتایا جس کے بارے میں وہ بھول چکی تھیں، اور اس سے انہیں 10,000 ڈالر سے زائد کی رقم ہاتھ لگی۔ یہ ایک ایسا انکشاف تھا جس نے ان کے مالی سفر کو یکسر تبدیل کر دیا۔ 19 جون کو، ایلن نے ٹک ٹاک پر اپنی 30 روزہ پیش رفت شیئر کرتے ہوئے یہ مژدہ سنایا کہ وہ 12,078.93 ڈالر کا قرض ادا کرنے میں کامیاب ہو چکی ہیں۔ ”میں اس کامیابی سے بے حد خوش ہوں، میں نے اپنا آدھا قرض اتار لیا ہے،“ انہوں نے جذباتی انداز میں بتایا۔ اس چیلنج کے اختتام پر ایک دلچسپ مرحلہ یہ بھی تھا کہ انہیں صرف اپنے باورچی خانے میں موجود اشیاء سے مہینے بھر کا کھانا تیار کرنے کا منصوبہ بنانا پڑا۔ اس کی وجہ یہ تھی کہ اس 30 روزہ چیلنج کے آغاز میں جینیفر نے بہت ساری گروسری خرید کر اپنے باورچی خانے میں جمع کرلی تھی تاکہ چیلنج کے دوران انہیں مزید گروسری نہ خریدنی پڑے۔

خود اعتمادی اور مستقبل کا عزم

جینیفر ایلن نے اب ایک نیا 30 روزہ چیلنج شروع کیا ہے تاکہ باقی ماندہ قرض کو بھی جلد از جلد ادا کیا جا سکے۔ انہوں نے نیوزویک کو بتایا کہ یہ کوئی ”مالی ہیک“ نہیں تھا، بلکہ ”یہ ہر روز اپنی مالی صورت حال کا سامنا کرنے، اسے ٹریک کرنے، اس کے بارے میں بات کرنے اور اس کی مسلسل نگرانی کرنے کا عمل تھا۔“ میں نے اپنے اعداد و شمار سے ڈرنا چھوڑ دیا۔ میں نے اپنے لئے ایک قرضہ کا ٹریکر بنایا۔ میں نے سوشل میڈیا ٹک ٹاک پر اپنا سفر شیئر کرنا شروع کیا اور پہلی بار مجھے شرمندگی محسوس نہیں ہوئی۔ مجھے اپنے اوپر بھروسے کا احساس ہوا، جیسے میں کچھ بھی فتح کر سکتی ہوں۔ ”

وسیع تر تصویر: بڑھتے ہوئے گھریلو قرضے

جینیفر کی یہ کہانی محض ان کی ذاتی کامیابی کی نہیں، بلکہ ایک وسیع تر سماجی مسئلے کی بھی عکاس ہے۔ فیڈرل ریزرو بینک آف نیویارک کے اعداد و شمار کے مطابق، 2025 کی پہلی سہ ماہی میں امریکہ میں گھریلو قرضے 18.2 ٹریلین ڈالر کی خطیر رقم تک پہنچ چکے ہیں۔

اسی طرح، ایکوئیفیکس کینیڈا کے مطابق، 2024 کی چوتھی سہ ماہی میں کینیڈا میں مورٹگیج کے علاوہ اوسط گھریلو قرض 21,931 ڈالر تھا، جو سال بہ سال 17.98 % کے اضافے کو ظاہر کرتا ہے۔

یہ اعداد و شمار جینیفر ایلن کی کہانی کو مزید بامعنی بنا دیتے ہیں کہ کس طرح ایک فرد کی کوشش، جدید ٹیکنالوجی کے استعمال اور خود اعتمادی کے ذریعے، بڑے مالیاتی چیلنجز کا سامنا کیا جا سکتا ہے۔ یہ کہانی ہمیں سکھاتی ہے کہ اگر ارادہ پختہ ہو تو کوئی بھی مالی بوجھ انسان کی ہمت کو توڑ نہیں سکتا۔

Facebook Comments HS