چیٹ جی پی ٹی کے ساتھ قرض سے نجات: ایک امریکی خاتون کی داستانِ ہمت

آج کے ڈیجیٹل دور میں جہاں مصنوعی ذہانت (AI) نے زندگی کے ہر شعبے میں اپنے پنجے گاڑ دیے ہیں، وہاں یہ تصور کرنا بھی مشکل نہیں کہ ہمارے روزمرہ مسائل کے حل میں بھی اس کا کردار کلیدی ہوتا جا رہا ہے۔ امریکہ سے موصول ہونے والی ایک خبر نے اس حقیقت کو مزید تقویت بخشی ہے کہ کس طرح چیٹ جی پی ٹی جیسی مصنوعی ذہانت کی ٹیکنالوجی ایک عام شہری خاتون کی مالی مشکلات کو دور کرنے

Read more

کیا ہندوستانی نوجوان امریکہ میں آئی ٹی کے بعد سیاست میں رہنمائی پر تیار ہیں؟

شوبز اور سیاست کا رشتہ کوئی نیا نہیں ہے۔ فنکاروں نے ہمیشہ عوامی رائے پر گہرا اثر ڈالا ہے، اور کئی ایسے بھی ہیں جنہوں نے محض اداکاری یا گلوکاری تک خود کو محدود نہیں رکھا بلکہ سیاست کے میدان میں بھی قدم رکھا۔ یہ رجحان نہ صرف پاکستان بلکہ دنیا بھر میں بھی پایا جاتا ہے، جہاں فنکار اپنی مقبولیت اور اثر و رسوخ کو سیاسی مقاصد کے لیے استعمال کرتے ہیں۔ پاکستان میں کئی ایسے مشہور چہرے ہیں

Read more

توشہ: ایک میٹھی مشرقی روایت

پورا ہفتہ محنت مشقت کے بعد پردیس یعنی کینیڈا میں دیسی یعنی پاکستانی دوست مل بیٹھتے ہیں اور دکھ سکھ سانجھے کرتے ہیں۔ گزشتہ اتوار بھی ایسی ہی ایک محفل برپا ہوئی۔ ہمارے میزبان ادب نواز اور مشرقی روایات کے امین ہیں۔ شام کی پُرتکلف دعوت کے بعد جب تمام دوست رخصت ہونے لگے تو ہر مہمان کو توشہ کے ساتھ وداع کیا گیا۔ گویا یہ کوئی معمولی رخصتی نہ تھی بلکہ اس میں مشرق کی صدیوں پرانی مہمان نوازی

Read more

زندگی کے کھوئے ہوئے رنگ: ٹیکنالوجی کے دور میں ایک بھولا ہوا سبق

اتوار کی سہ پہر کو میں اپنا فون گھر چھوڑ آیا۔ اس لیے نہیں کہ میں غلطی سے بھول گیا تھا، بلکہ میں نے جان بوجھ کر ایسا کیا تھا۔ یہ ایک چھوٹا سا عمل تھا، مگر اپنے اندر ایک گہرے احساس اور ایک تلخ سچائی کا پیغام لیے ہوئے تھا۔ میں نے محض ایک آلہ یا ڈیوائس گھر نہیں چھوڑا تھا، بلکہ اُس ڈیجیٹل قفس سے چند گھنٹوں کی رہائی حاصل کی تھی جس میں ہم سب اپنی مرضی

Read more

کیا ہماری نانیاں اور دادیاں ان پڑھ تھیں؟

ڈاکٹر ثمینہ اعوان صاحبہ نے ایک بار پھر اپنی شاندار بصیرت کا ثبوت دیتے ہوئے ایک ایسے موضوع کا انتخاب کیا ہے جو ہماری تہذیبی و سماجی گہرائیوں میں پیوستہ ہے۔ ان کی تحریر کا محور پنجاب کے وہ دیہی علاقے ہیں جہاں کی زندہ و جاوید خواتین، ماؤں، نانیوں، دادیوں، خالاؤں، چاچیوں، ممانیوں اور پھوپھیوں کے روپ میں، ہمارے معاشرتی اور معاشی ڈھانچے کی اساس بنی ہوئی ہیں۔ یہ وہ ہستیاں ہیں جنہوں نے صدیوں پرانی روایات کا بوجھ

Read more

مصنوعی ذہانت: کیا ہم تخلیقی ادب کی آخری دہائی میں سانس لے رہے ہیں؟

سوشل میڈیا کے افق پر اکثر یہ نوحہ خوانی سنائی دیتی ہے کہ کتابوں سے رشتہ کمزور ہو چکا ہے، اور قرطاس و قلم کی یہ میراث شاید عنقریب تاریخ کا حصہ بن جائے گی۔ لائبریریوں کی حاضری میں مسلسل کمی اور کتاب خانوں کی خاموشی، اس خدشے کو مزید تقویت دیتی ہے۔ لیکن میرا آج کا سوال اس سے کہیں زیادہ بنیادی، کہیں زیادہ گہرا اور حساس ہے۔ کیا ہم اس ادبی زوال کے پیش خیمہ کو محسوس کر

Read more