نارویجئن نوبل کمیٹی کی مشکل


پاکستان کے بعد اسرائیل نے امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کو امن کے نوبل امن انعام کے لیے نامزد کیا ہے۔ گزشتہ رات وائٹ ہاؤس میں عشائیہ کے دوران اسرائیلی وزیر اعظم نیتن یاہو نے صدر ٹرمپ کو اس خط کی نقل دی جو ان کی حکومت نے نارویجئن نوبل کمیٹی کو روانہ کیا ہے۔ نوبل کمیٹی نے اگر انہیں اس انعام کا حقدار قرار دیا تو انہیں یہ انعام 2026 میں مل سکے گا کیوں کہ سال رواں کے انعام کی نامزدگیوں کی تاریخ 31 جنوری کو گزر چکی ہے۔

یوں تو پاکستان اور اسرائیل میں کوئی قدر مشترک نہیں ہے لیکن ٹرمپ کی ’امن کے لیے خدمات‘ پر دونوں متفق دکھائی دیتے ہیں۔ اس پیچیدہ تعلق پر غور کرتے ہوئے اس گتھی کو سلجھانا بھی مشکل نہیں ہونا چاہیے کہ اسلام آباد اور تل ابیب نے یکے بعد دیگرے کیوں امریکہ کے منہ زور صدر کو دنیا کے ممتاز ترین انعام کے لیے نامزد کیا ہے۔ ٹرمپ نے کبھی اس خواہش کو چھپانے کی کوشش نہیں کی کہ وہ اس انعام کے حقیقی حقدار ہیں لیکن ان کی امن کے لیے عظیم خدمات کے باوجود انہیں یہ انعام نہیں دیا گیا۔ حال ہی میں انہوں نے مئی کے دوران پاکستان اور بھارت کے درمیان چار روزہ جنگ رکوانے میں کردار ادا کرنے کا پرچار کرتے ہوئے خود کو دنیا میں امن کا سب سے بڑا موید قرار دیا تھا۔

امریکہ کا دوسری بار صدر بننے سے پہلے ڈونلڈ ٹرمپ یوکرین روس جنگ بند کرانے کا اعلان کرتے ہوئے اقتدار میں آئے تھے لیکن جس جنگ کو وہ چوبیس گھنٹے میں بند کرانے والے تھے، اسے اقتدار کے 6 ماہ گزرنے کے باوجود نہیں رکوایا جا سکا۔ بلکہ گزشتہ چند ہفتوں کے دوران روس کی طرف سے جنگ کی شدت میں اضافہ کیا گیا ہے جس کے بعد اب ٹرمپ نے یوکرین کو اسلحہ فراہمی جاری رکھنے کا اعلان کیا ہے اور روسی صدر پوتن سے شدید ناراضی کا اظہار کیا ہے۔ جنگ میں ملوث کسی ملک کو اسلحہ دینے والا ملک جنگ میں شریک سمجھا جاتا ہے۔ جبکہ الفریڈ نوبل کی وصیت کے مطابق امن انعام دنیا میں جنگیں بند کرانے اور امن کی کوشش کرنے والے شخص کو دیا جاسکتا ہے۔ بدقسمتی سے آج یوکرین کی جنگی امداد بحال کرنے کا امریکی اعلان اس وصیت کا تقاضا پورا نہیں کرتا۔ یوں بھی 22 جون کو ایران اسرائیل جنگ کے دوران امریکہ نے ایران پر حملے کیے تھے یوں دنیا میں جاری کم از کم ایک تنازعہ میں صدر ٹرمپ براہ راست ملوث رہے ہیں۔ یہ حرکت بھی الفریڈ نوبل کی وصیت کے متن کی صریح خلاف ہے۔ اس موقع پر غزہ میں اسرائیلی جارحیت کا ذکر بے سود ہو گا کیوں کہ 640 دنوں سے جاری اس جنگ میں امریکہ براہ راست اسرائیل کا معاون ہے اور سلامتی کونسل میں جنگ بندی کے لیے پیش کی جانے والی متعدد قراردادوں کو دنیا بھر کے ممالک کے اتفاق کے باوجود امریکہ، اسرائیل نوازی میں ویٹو کرتا رہا ہے۔ اس کے باوجود ٹرمپ خود کو امن کا چیمپئن کہلانے پر مصر ہیں تو کوئی ان کی زبان نہیں پکڑ سکتا۔

ستم ظریفی تو یہ بھی ہے کہ اس بار ڈونلڈ ٹرمپ کو نوبل امن انعام کا حقدار قرار دینے والا نیتن یاہو اکیس ماہ سے غزہ میں انسانوں کو ہلاک کرنے میں مصروف ہے اور حماس کے مکمل خاتمہ اور فلسطینیوں کو ہمہ قسم حقوق سے محروم کیے بغیر وہ اس جنگ کو بند کرنے پر آمادہ نہیں ہے۔ بین الاقوامی کرمنل کورٹ (آئی سی سی ) کی طرف سے نیتن یاہو کو جنگی جرائم اور انسانیت کے خلاف جرائم کا ملزم قرار دے کر ان کی گرفتاری کے وارنٹ جاری کیے گئے ہیں۔ وہ کسی ایسے ملک میں نہیں جا سکتے جو آئی سی سی کو تسلیم کرتا ہو کیوں کہ اس صورت میں وہ ملک اسرائیلی وزیر اعظم کو گرفتار کر کے عالمی عدالت کے سامنے پیش کرنے کا پابند ہے تاکہ اس شخص کو اس کے گناہوں کی سزا دی جا سکے۔ اس کے علاوہ جون کے دوران ایران پر بلا اشتعال حملہ کر کے نیتن یاہو اپنی جنگ جویانہ ذہنیت کا کھلم کھلا اظہار کرچکے ہیں۔ ایسے مشکوک کردار اور جنگ سے شیفتگی رکھنے شخص کی سفارش پر ٹرمپ کا اظہار مسرت حیرت انگیز ہونا چاہیے لیکن ٹرمپ جیسے لوگ صرف اسی سچ کو تسلیم کرتے ہیں جو انہیں فائدہ پہنچاتا ہو، وہ کسی اصول یا اخلاقیات کے پابند نہیں ہوتے۔

پاکستان نے بھی جون کے دوران ایران اسرائیل جنگ کے عین بیچ ٹرمپ کو نوبل امن انعام کے لیے نامزد کیا تھا۔ یہ اعلان وہائٹ ہاؤس میں فیلڈ مارشل عاصم منیر کے اعزاز میں دیے گئے ظہرانے کے تین دن بعد سامنے آیا تھا۔ تاہم پاکستان کی طرف سے امریکی صدر کو ’راضی‘ کرنے کی اپنی وجوہات ہیں۔ پاکستان پوری دیانت داری سے سمجھتا ہے کہ 7 مئی کو اچانک بھارتی حملے سے شروع ہونے والی جنگ رکوانے میں صدر ٹرمپ نے ذاتی دلچسپی لی اور خطے کو ایک مشکل اور طویل جنگ سے بچایا۔ اگر پاک بھارت جنگ رکوانے میں ٹرمپ کے کردار کو باقی امریکی پالیسیوں اور ٹرمپ کے دوہرے فیصلوں سے ہٹ کر دیکھا جائے تو یہ واقعی ایک ایسا کارنامہ ہے جس کی توصیف ہونی چاہیے۔ پاکستان اور بھارت نہ صرف ایٹمی طاقتیں ہیں بلکہ یہ خطہ کثیر آبادی پر مشتمل ہے۔ طویل جنگ کی صورت میں ہلاکتوں اور تباہ کاری کا اندازہ کرنا بھی ممکن ہو سکتا ۔ کسی معمولی غلطی کی وجہ سے کوئی جوہری تصادم پوری دنیا کے امن اور ماحولیات کو شدید خطرے سے دوچار کر سکتا تھا۔ لیکن ٹرمپ نے ایک جنگ بند کرائی تو دوسری جنگ میں حصہ لیا اور غزہ میں جنگ کی سرپرستی کر رہے ہیں۔

یہ کہنا قبل از وقت ہے کہ نارویجئن نوبل کمیٹی اگلے سال امن انعام دیتے ہوئے کیا فیصلہ کرے گی۔ ابھی تو 2025 کے انعام کے لیے نامزد ہونے والے امیدواروں پر غور ہو رہا ہے، اس لئے اگلے سال کی نامزدگی کا معاملہ دور ہے۔ دوسرے ماضی میں نوبل کمیٹی کے فیصلوں کی روشنی میں یہ قیاس کر لینا دشوار ہے کہ وہ الفریڈ نوبل کی وصیت کے عین مطابق ہی فیصلہ کرے گی۔ کمیٹی نے ماضی میں درخت اگانے اور انسانی حقوق کے لیے بعض ناپسندیدہ حکومتوں (چین، ایران روس وغیرہ) کے خلاف آواز اٹھانے والے افراد کو امن انعام دیتے ہوئے وصیت کے متن کی من پسند تشریح کی تھی جسے بعض ماہرین درست نہیں مانتے۔ لیکن اس سے کمیٹی کے فیصلے یا امن انعام لینے والے کی ’صحت‘ پر کوئی اثر نہیں پڑا۔ 2009 میں سابق امریکی صدر باراک اوباما کو اس وقت نوبل امن انعام دیا گیا جب امریکہ، افغانستان کی جنگ جیتنے کے لیے وہاں فوجی قوت میں اضافہ کر رہا تھا۔ خود اوباما نے یہ انعام ملنے پر حیرانی کا اظہار کیا تھا۔ البتہ ٹرمپ کو انعام ملنے کی صورت میں ڈونلڈ ٹرمپ یقیناً حیرت کی بجائے خوشی کا اظہار کریں گے اور نوبل کمیٹی کو شاندار الفاظ میں خراج تحسین پیش کرتے ہوئے کہیں گے کہ پہلی بار ’امن کے کسی حقیقی داعی‘ کو نوبل امن انعام دینے کا شاندار فیصلہ ہوا ہے۔

واشنگٹن میں ٹرمپ کے دوبارہ اقتدار سنبھالنے کے بعد سے یورپی قیادت مسلسل بے یقینی کا شکار ہے۔ ایک طرف وہ نیٹو میں امریکی موجودگی یقینی بنانا چاہتی ہے تو دوسری طرف ٹیرف کے سوال پر یورپین یونین امریکی صدر کے ساتھ شدید اختلاف کا شکار ہے۔ البتہ یورپی لیڈروں نے اس حوالے سے کوئی متبادل حکمت عملی بنانے کی بجائے صدر ٹرمپ کی خوشامد اور کاسہ لیسی کے ذریعے راستہ نکالنے کی کوشش کی ہے۔ کہا جاسکتا ہے کہ اس وقت متعدد ممالک کے لیڈر اپنے اپنے طور امریکی صدر کو ’خوش‘ کرنے کے مقابلے میں شامل ہیں۔ البتہ عام طور سے جو معلومات سامنے ہیں، ان کے مطابق یقین سے کہا جاسکتا کہ فی الوقت نیٹو کے سیکرٹری جنرل مارک روٹے سب سے آگے ہیں۔ 23، 24 جون کو ہیگ میں منعقد ہونے والی نیٹو سربراہی اجلاس کے موقع پر مارک روٹے نے صدر ٹرمپ کو خیر مقدم کہنے کے لیے جو پیغام بھیجا، وہ اس مزاج کی نادر روزگار مثال ہے۔

ٹرمپ نے نجی طور سے بھیجے گئے اس پیغام کا اسکرین شاٹ اپنے سوشل میڈیا اکاؤنٹ پر شائع کر کے اپنی ’مقبولیت‘ کا اعلان کرنا ضروری سمجھا۔ روٹے نے لکھا تھا کہ ’جناب صدر آپ کو ایران میں فیصلہ کن قدم اٹھانے پر مبارک ہو۔ کوئی بھی دوسرا صدر ایسا غیر معمولی اقدام کرنے کا حوصلہ نہیں کر سکتا تھا۔ آپ آج نیٹو کانفرنس میں ایک اور بڑی کامیابی سمیٹیں گے۔ اگرچہ یہ آسان نہیں تھا لیکن سب 5 فیصد پر دستخط کرنے پر تیار ہیں۔ (نیٹو کے رکن ممالک کا فیصلہ کہ قومی پیداوار کا پانچ فیصد دفاع پر صرف کیا جائے گا) ۔ ڈونلڈ! آپ امریکہ، یورپ اور دنیا کی صحیح سمت میں قیادت کر رہے ہیں۔ آپ وہ مقاصد حاصل کریں گے جو کوئی دوسرا امریکی صدر حاصل نہیں کر سکا‘ ۔

نارویجئن نوبل کمیٹی جب 2026 کے امن انعام کا فیصلہ کرنے کے لیے جمع ہوگی تو اس کے لئے ٹرمپ کا نام مسترد کر کے کسی دوسرے کو یہ انعام دینا آسان نہیں ہو گا۔ کمیٹی کو شاید اپنی تاریخ کا مشکل ترین فیصلہ کرنا پڑے گا۔ صدر ڈونلڈ ٹرمپ کو انعام دیا جائے یا اس سے گریز کیا جائے، دونوں صورتوں میں مشکل یکساں ہوگی۔ تاہم یہ جان کر سکون کا سانس لینا چاہیے کہ ناروے بھی یورپ ہی کا حصہ ہے اور کمیٹی کے ارکان ویسے ہی سیاست دانوں پر مشتمل ہوتے ہیں جو اس وقت ٹرمپ کو دنیا کا عظیم ترین لیڈر ثابت کرنے میں سر دھڑ کی بازی لگا رہے ہیں۔

Facebook Comments HS

سید مجاہد علی

(بشکریہ کاروان ناروے)

syed-mujahid-ali has 3148 posts and counting.See all posts by syed-mujahid-ali