پاکستان کا انقلابی ضمیر کون؟
یہ مردِ آہن سنہ 1928 ء میں ہوشیار پور، برطانوی ہندوستان میں پیدا ہوئے اور تقسیم کے بعد پاکستان میں آباد ہوئے۔ ان کی شاعری نے ان کو جنوبی ایشیا کے بے باک عوامی شاعر طور پر منوا لیا۔ ان کے الفاظ محض شعر نہیں بلکہ مزاحمتی نعرے تھے جو ملک بھر کے اسکولوں، عدالتوں، جیلوں، اور احتجاجی اجتماعات میں گونجتے تھے۔ وہ صرف ایک شاعر ہی نہیں، بلکہ ایک طاقتور سیاسی آواز تھے۔ انہوں نے پاکستان کے عام شہریوں کے خوف، مایوسی، امید اور استقامت کو الفاظ دیے۔ وقت گزرنے کے ساتھ، وہ ایک ادبی شخصیت سے بڑھ کر ایک علامت بن گئے۔ آمریت کے خلاف مزاحمت کی اور انصاف کے لیے انتھک جدوجہد۔ ان کی زندگی میں 1950 ء سے 1990 ء تک پاکستان میں فوجی آمریت اور سیاسی دباؤ کے دور چلتے رہے۔ ان پُرآشوب دہائیوں میں، جب دانشوروں کو خاموش کر دیا گیا اور سنسرشپ معمول بن گئی، حبیب جالب ڈٹے رہے۔ آمریت کے خلاف ان کا یہ غیر متزلزل موقف ان کی شاعری میں جھلکتا ہے جو بے خوف اور آتش بیانی سے بھرپور ہے۔
سماجی انصاف کی وکالت
جالب کی شاعری صرف حکمرانوں اور فوجی جرنیلوں کے خلاف ہی نہیں تھی۔ وہ پاکستان کے محروم طبقات، مزدوروں، خواتین، کسانوں، نسلی اقلیتوں اور سیاسی قیدیوں کے لیے بھی آواز اٹھاتے تھے۔ جب ان کے ہم عصر شاعر مابعد الطبیعاتی یا رومانی موضوعات اپناتے تھے، جالب عام لوگوں کی زندگیوں سے جڑے رہے۔ حبیب جالب نے غربت، مہنگائی، بے روزگاری، اور نظامی استحصال کی طرف توجہ دلائی۔ وہ صرف کرسی نشین نقاد نہیں تھے، بلکہ مزدوروں کے ساتھ احتجاجوں میں چلتے، طلبہ کے ساتھ تعلیمی اصلاحات کے لیے مارچ کرتے، اور ان خاندانوں کے ساتھ کھڑے ہوتے جن کے پیارے لاپتہ ہو گئے تھے۔ ان کا یقین ایک ایسے مساوی معاشرے پر تھا جو طبقاتی تفریق اور اداراتی تعصب سے پاک ہو۔
جب خواتین کے حقوق پر کھل کر بات کرنے کی ہمت بہت کم لوگوں میں تھی، جالب نے خواتین حقوق کی تحریکوں کی حمایت کی۔ ان کی نظمیں، خاص طور پر حدود آرڈیننس (ضیا الحق کے دور میں نافذ کردہ قوانین جو خواتین کے خلاف امتیازی سلوک پر مشتمل تھے ) کے خلاف، ان کے حوصلے اور ہمدردی کی عکاس ہیں۔
سادہ زبان، پراثر پیغام
جالب کی شاعری کی سب سے نمایاں خصوصیت اس کی سادگی ہے۔ روایتی اردو شاعری کے برعکس، جو اکثر پیچیدہ استعاروں اور آراستہ زبان استعمال کرتی ہے، جالب نے براہ راست اور عام فہم لہجہ اپنایا۔ یہ انداز ان کے کام کو عوام کے لیے انتہائی قابلِ فہم اور رسائی میں آسان بناتا تھا۔ انہوں نے جان بوجھ کر ادبی لہجے سے گریز کیا اور گلی کوچوں اور بازاروں کی زبان میں بات کی۔ ان کے الفاظ رکشہ ڈرائیوروں، فیکٹری مزدوروں، کسانوں اور گھریلو خواتین تک پہنچے۔ وہ لوگ جو شاید ہی کبھی شاعری پڑھتے تھے، لیکن جالب کے اشعار ان کو زبانی یاد تھے۔ ان کی نظموں کی جذباتی طاقت پیچیدہ علامتوں سے نہیں بلکہ ان کی سچائی، فوری ضرورت اور کھری ایمانداری سے پیدا ہوتی تھی۔ یہ سادگی ان کے کام کی شاعرانہ خوبصورتی کو کم نہیں کرتی تھی بلکہ اسے اور بڑھا دیتی تھی۔ جالب کی عظمت یہ تھی کہ انہوں نے فن کو جدوجہد کے ساتھ، جذبات کو عقل کے ساتھ ملا دیا۔
شاعر عوام: ایک علامتی حیثیت
حبیب جالب صرف پسندیدہ نہیں، بلکہ ایک محترم شاعر تھے۔ ’شاعر عوام‘ کا خطاب محض ایک لقب نہیں تھا۔ بلکہ یہ اس بات کی زندہ گواہی تھی کہ ان کے الفاظ پاکستانی عوام کے اجتماعی ضمیر میں کتنی گہرائی تک اتر گئے تھے۔ بہت سے شاعر ادبی حلقوں تک محدود رہ جاتے ہیں، لیکن جالب ان حدود سے آگے نکل گئے۔ وہ ان گمشدہ آوازوں کی آواز بنے جو نظرانداز کر دی گئیں تھی۔ ان کی شاعری سننے کے لئے نا صرف دانشور اور ادیب، بلکہ ہر طبقے کے لوگ بڑی تعداد میں جمع ہوتے تھے۔
مالی مشکلات کے باوجود، انہوں نے سیاستدانوں کی پرکشش پیشکشوں کو ٹھکرا دیا جو ان کی مقبولیت کو اپنے مقاصد کے لیے استعمال کرنا چاہتے تھے۔ جالب بہت سادگی سے رہے، سرکاری سرپرستی یا اعزازات سے انکار کرتے رہے۔ ان کا عزم آزادی اور حقوق کے لیے ہمیشہ غیر متزلزل رہا، چاہے اس کی قیمت انہیں کتنی ہی کیوں نہ چکانی پڑی۔
جیل کا سفر
حبیب جالب نے اپنی بے باک رائے کی بھاری قیمت چکائی۔ انہیں مختلف ادوار میں حکومتوں نے کئی بہانوں سے گرفتار کیا، لیکن ہر بار ایک ہی جرم میں، سچ بولنے کے لیے۔ تاہم، جیل نے انہیں خاموش نہیں کیا، بلکہ ان کے عزم کو اور بھی تیز کر دیا۔ جیل میں گزارے گئے دنوں میں بھی وہ لکھتے اور لوگوں کو متاثر کرتے رہے۔ ان کی بغاوت ڈانواں ڈول نہ ہوئی، اور وہ اکثر طنز و مزاح کے ذریعے بھی سنسرشپ اور ریاستی جبر پہ لکھتے رہے۔ جالب کے لیے جیل کوئی سزا نہیں، بلکہ ایک اعزاز تھا۔ ثبوت یہ کہ انہوں نے کبھی سمجھوتہ نہیں کیا۔ ان کی بے خوفی نے صحافیوں، کارکنوں اور طلبہ کی ایک پوری نسل کو متاثر کیا۔ انہوں نے لوگوں کو سکھایا کہ خوف کا مقابلہ کیا جا سکتا ہے، اور ضمیر جبر سے زیادہ طاقتور ہوتا ہے۔
اہم نظمیں
ان کی دو مشہور نظمیں، ’دستور‘ اور ’ظلمت کو ضیا‘ ، مزاحمتی شاعری کی تاریخ میں سنگ میل کی حیثیت رکھتی ہیں۔
’دستور‘ ایوب خان کے 1962 ء کے آئین کے جواب میں لکھی گئی تھی، اور اس کا ایک جملہ۔ ’میں نہیں مانتا‘ پاکستان کی سیاسی لغت کا حصہ بن چکا ہے۔ یہ نظم اس نظام کو مسترد کرتی ہے جس نے عدم مساوات کو قانونی شکل دی تھی اور دکھاوٹی جمہوریت کے خلاف ایک طاقتور چارج شیٹ تھی۔
دیپ جس کا محلات ہی میں جلے
چند لوگوں کی خوشیوں کو لے کر چلے
وہ جو سائے میں ہر مصلحت کے پلے
ایسے دستور کو، صبح بے نور کو
میں نہیں مانتا، میں نہیں جانتا
یہ نظم طلبہ تحریکوں، سیاسی مخالفین اور سول سوسائٹی کے لیے ایک نعرہ بن گئی۔
سنہ 1960 ء میں ایوب خان کے دور حکومت میں حسن ناصر، جو پاکستان کے بائیں بازو کے نامور انقلابی اور کالعدم کمیونسٹ پارٹی آف پاکستان کے جنرل سیکرٹری رہے تھے، کو گرفتار کر کے شاہی قلعہ لاہور کی جیل میں طرح طرح کی اذیتیں دے کر شہید کر دیا گیا۔ جالب نے حسن ناصر کی یاد میں لکھا۔
ترا لہو ہمیں دیتا ہے یہ پیام کہ ہم
تمام دہر میں لہرائیں امن کا پرچم
تجھے نظر میں رکھیں تیرے راستے پہ چلیں
سرِ زمانہ کریں سامراج کا سر خم
انہوں نے مشرقی پاکستان میں 1971 ء کی فوجی کارروائی پہ اپنا تاثر اس طرح بیان کیا۔
محبت گولیوں سے بو رہے ہو
وطن کا چہرہ خوں سے دھو رہے ہو
گماں تم کو کہ رستہ کٹ رہا ہے
یقیں مجھ کو کہ منزل کھو رہے ہو
1974 ء میں وزیراعظم بھٹو نے جن ساتھیوں کے کندھوں پر سوار ہو کر وہ اقتدار تک پہنچے تھے، انہیں نام نہاد حیدرآباد سازش کیس میں جیل میں بند کر دیا۔ اس دور میں جالب کی یہ نظم بہت مشہور ہوئی۔
قصر شاہی سے یہ حکم صادر ہوا
لاڑکانے چلو، ورنہ تھانے چلو
ان کی نظم ’ظلمت کو ضیا‘ جنرل ضیا الحق کے مارشل لا دور پر تنقید تھی۔ اس نظم نے ’ضیا‘ کے نام سے کھیلتے ہوئے ’روشنی‘ کے لغوی معنی کو جبر کے اندھیرے سے متصادم کیا۔ یہ نظم بہت ہی دلیرانہ اور ذہین تھی، جو سخت سنسرشپ کے باوجود بغاوت کا اظہار کرنے میں کامیاب رہی۔
ظلمت کو ضیا، صرصر کو صبا
بندے کو خدا کیا لکھنا
آمریت کے خاتمے کے بعد جب بینظیر بھٹّو کی حکومت آئی اور عوام کے حالات نہیں بدلے، تو جالب کو کہنا پڑا۔
وہی حالات ہیں فقیروں کے
دن پھریں ہیں فقط وزیروں کے
ہر بلاول ہے دیس کا مقروض
پاؤں ننگے ہیں بے نظیروں کے
ایک مشہور واقعہ جو ملک کی مزاحمتی داستانوں کا حصہ بن چکا ہے۔ مغربی پاکستان کے گورنر نواب آف کالا باغ نے ایران کے شاہ رضا پہلوی کے لئے فلمی اداکارہ نیلو کو رقص کرنے کی دعوت دی۔ جب انہوں نے انکار کیا تو پولیس نے انہیں زبردستی لانے کی کوشش کی، جس پر نیلو نے خودکشی کی کوشش کی۔ اس واقعے نے جالب کو ایک نظم لکھنے پر مجبور کیا، جو بعد میں ’زرقا‘ ( 1969 ) فلم میں شامل کی گئی۔
تو کہ ناواقفِ آدابِ غلامی ہے ابھی
رقص زنجیر پہن کر بھی کیا جاتا ہے
اس کے علاوہ انہوں نے کئی فلموں کے لیے گیت بھی لکھے، جن میں ’ہم ایک ہیں‘ ، ’موت کا نشہ‘ ، ’ناگ منی‘ ، ’دو راستے‘ ، ’زخمی‘ ، ’بھروسا‘ شامل ہیں۔
ان کی نظمیں ’دستور‘ اور ’مشیر‘ آج بھی اتنی ہی مقبول ہیں جتنی پہلی بار پڑھی گئی تھیں۔ ’مشیر‘ کی مقبولیت اس وقت اور بڑھ گئی جب ’لال بینڈ‘ نے اسے گایا۔ ’لال بینڈ‘ جالب کی شاعری کو اپنے گانوں میں استعمال کرنے کے لیے جانا جاتا ہے، جس سے جالب کے اشعار کی رسائی اور اثر میں اضافہ ہوا۔
ان کے علاوہ، جالب کی دیگر تخلیقات جو طبقاتی نا انصافی، ثقافتی شناخت اور انسانی وقار پر ہیں آج بھی لوگوں کو متاثر کرتی ہیں۔ ان کی شاعری عارضی یا وقتی نہیں تھی، بلکہ بنیادی تھی جو پاکستان کے فکری اور اخلاقی تانے بانے کا حصہ بن چکی تھی۔
ایک لازوال شعلہ
حبیب جالب صرف ایک شاعر نہیں تھے۔ وہ ایک ایسی قوم کے لیے اخلاقی رہنما تھے جو اکثر آمریت اور نا انصافی کے طوفانوں میں بھٹکتی رہی۔ انہوں نے صرف تاریخ کو دیکھا ہی نہیں، بلکہ اسے تشکیل دیا۔ اپنے قلم، اپنی آواز اور اپنے اٹل عزم کے ساتھ۔
آج، جب سچائی پر حملے بڑھ رہے ہیں اور عوامی بیانیہ شور سے گھرا ہوا ہے، جالب کی شاعری ہمیں صاف گوئی، ہمت اور ہمدردی کی طاقت یاد دلاتی ہے۔ ان کے اشعار انسانی روح کی لازوال طاقت کی گواہ ہیں۔
وراثت اور اثرات
حبیب جالب 1993 ء میں انتقال کر گئے، لیکن ان کی شاعری ہمیشہ زندہ رہے گی۔ ان کے اشعار آج بھی سیاسی تقاریر میں شامل کیے جاتے ہیں، احتجاجی بینروں پر لکھے جاتے ہیں، اور پاکستان اور بھارت کی بعض تنظیموں کی محفلوں میں گائے جاتے ہیں۔
2007 ء کی وکلاء تحریک، فوجی مداخلت کے خلاف احتجاجات، اور پریس کی آزادی کی مہمات نے جالب کی شاعری سے قوّت لی۔ بے شمار ذرائع ابلاغ استعمال کرنے والے سیاسی پروپیگنڈے کے اس دور میں، ان کی صاف گوئی اور یقین پہلے سے کہیں زیادہ متعلقہ محسوس ہوتا ہے۔
جالب کی وراثت کو ان کے کاموں کو ڈیجیٹل شکل میں محفوظ کرنے، ان کی زندگی کو دستاویزی شکل دینے، اور نئی نسل کو ان کے نظریات سے روشناس کرانے کی کوششوں کے ذریعے بھی زندہ رکھا جا رہا ہے۔ نوجوان شاعر، موسیقار اور گلوکار ان کے اشعار کو نئے انداز میں پیش کر رہے ہیں، جس سے ان کا پیغام ہمیشہ کی طرح تازہ رہتا ہے۔
انہیں 2009 ء میں پاکستان کا سب سے بڑا قومی اعزاز ’نشان امتیاز‘ (بعدِ وفات) دیا گیا۔ افسوس کہ پاکستان کے اسکولوں کے اردو نصاب میں ان کا ذکر بمشکل ہی ملتا ہے۔ یہ واضح ہے کہ پاکستان میں ایسی شخصیات جنہوں نے عوام کے لیے اپنی زندگیاں قربان کیں، سرکاری نصاب اور تاریخ میں جگہ نہیں پاتے۔
تصانیف: درجِ ذیل کتب ان کے شعری مجموعے ہیں۔
•صراط مستقیم
•ذکر بہتے خوں کا
•گنبدِ بے در
•کلیات حبیب جالب
•اس شہرِ خرابی میں
•گوشے میں قفس کے
•حرفِ حق
•حرفِ سرِ دار
•احدِ سزا
•رات کلہنی
•سرِ مقتل
•برگِ آوارہ
•سرِناواں
اعزازات
• 2009 ء میں پاکستان کا سب سے بڑا سویلین اعزاز ’نشان امتیاز‘ (بعد از مرگ) دیا گیا۔
• انہیں نگار فلمی ایوارڈ سے نوازا گیا۔
• 2006 ء سے ان کے نام پر ’حبیب جالب امن ایوارڈ‘ کا اجرا کیا گیا۔
نوٹ: یہ مضمون ’تم اپنے چراغوں کی حفاظت نہیں کرتے‘ کی سیریز کی بارہویں قسط ہے۔


