لا مسلک بریانی اور حلیم
یہ دو ہزار کے ابتدائی برسوں کی بات ہے، ہم تازہ تازہ میٹرک کے امتحان سے فارغ ہو کر کالج کی تیاری میں مصروف تھے۔ جوانی کا جوش تھا، تو الطاف بھائی سے والہانہ عقیدت بھی اپنے عروج پر تھی۔ سو، ان سے اختلاف رکھنے والوں سے دل سے نفرت کرنا ہمیں اولین فریضہ محسوس ہوتا۔
ہمارے پیارے دوست سعد، جو فطرتاً اور نظریاتی طور پر جماعتی تھے، اکثر ہمیں جمعیت کے پروگراموں میں مدعو کرتے۔ اور ہم، فکری نشستوں کے شوقین (جس کا بھوت بالآخر اتر ہی گیا) ، کچھ ناں کچھ بہانے بنا کر نہیں جاتے۔
رمضان کا مہینہ آیا، اور سعد نے ہمیں جمعیت کے افطار پر بلایا۔ منہ پر انکار کرنا ممکن نہ تھا، دل میں کہا ”دفع دور“ ۔ اور اسی دفع دور کو اپنی نظریاتی فتح سمجھتے ہوئے، ہم ایک سینئر ساتھی بھائی کے پاس پہنچے اور دعوت کا حال سنایا۔ کہنے لگے :
”میاں، کھانا کب سے جماعتی یا لادینی ہو گیا؟ کھانا تو صرف کھانا ہوتا ہے۔ تم خود بھی چلو، میں بھی ساتھ چلتا ہوں۔“
تب جا کے سمجھ آیا کہ کھانے کی کوئی ذات، کوئی مسلک، کوئی نسل، کوئی رنگ نہیں ہوتا۔ کھانے کا کام بس بھوک مٹانا ہے۔
اب پرسوں کی بات ہے۔ میں اور عبداللہ ایک ہوٹل پر بیٹھے کٹنگ چائے کے ساتھ کروڑوں کے کاروبار پر گفتگو فرما رہے تھے جو چائے ختم ہوتے ساتھ ہی ٹھپ ہوجانا تھا کہ کاؤنٹر پر ایک صاحب نے ریستوران کے مالک سے نیاز کے لیے سو شیرمال کا آرڈر بک کروایا۔ ہمارے ساتھ والی میز پر بیٹھے ایک چچا کچھ بلند آواز میں بڑبڑائے :
”کافر کہیں کا!“
عبداللہ شرارتی ہے، فوراً بول اٹھا:
”چچا، نورِ اسلام مسجد کے پاس نیاز کی بیف بریانی بٹ رہی ہے، دیگچہ اور تھیلی لے جاؤ، ہاتھوں ہاتھ بھر کے دے رہے ہیں۔“
چچا نے فوراً فون نکالا، اور وائس نوٹ میں کسی کو حکم دیا:
”اپنی اماں سے بڑا والا دیگچہ لے کر نورِ اسلام مسجد پہنچو، میں آریا ہوں!“
تب دل کو ایک اور نکتہ سمجھ آیا۔ نیاز کا بھی کوئی خاص مسلک نہیں ہوتا، اصل چیز بریانی، حلیم اور جیلی والا شربت ہوتا ہے۔
اب رئیس بھائی کو ہی دیکھ لیجیے۔ کل میرے ساتھ بازار جا رہے تھے کہ چند نوجوان بریانی بانٹتے ہوئے نظر آئے۔ رئیس بھائی نے پوچھا:
”بیٹا یہ نذرِاللہ نیازِ حسین ہے؟“
نوجوان نے جھجکتے ہوئے کہا:
”جی، بھائی!“
تو رئیس بھائی نے مسکرا کر ایک تھیلی خود لی، دو گھر کے لیے اور لیں، اور آسمان کی طرف دیکھتے ہوئے بولے :
”اللہ اپنے نیک بندوں کو کبھی مایوس نہیں کرتا!“
میں نے حیرت سے پوچھا:
”یہ کیا ماجرا ہے؟“
بولے :
”تم بریلوی ہو، تم نہیں سمجھو گے۔ بس بریانی پر توجہ دو!“
نو محرم کی شب جرار میاں کے یہاں حلیم کی دعوت تھی۔ ہم سب بیٹھے تھے کہ سبطین میاں کی آمد ہوئی، حال احوال کے بعد سبطین نے پیاز اور لیموں ڈال کر مزیدار حلیم کا پیالہ بنایا اور اُسے نوش فرما رہے تھے کہ جرار بھائی کو فون آیا:
”سبطین بھائی کے والد کا انتقال ہو گیا ہے۔“
جرار بھائی نے افسوس کی یہ خبر جب سبطین بھائی کو دینے کی کوشش کی تو وہ بولے :
”بس حلیم کا پیالہ ختم کر لوں، پھر بات کرتا ہوں۔“
جرار بھائی کچھ دیر بعد پھر گئے، مگر وہی جواب۔
آخرکار، پیالہ ختم ہوا تو سبطین بھائی کو ابا کے انتقال کی خبر دی تو ہاتھ اٹھا کر کہنے لگے :
”دیکھو، اللہ مومنوں پر کتنا مہربان ہے، ابا کی خبر حلیم ختم ہونے کے بعد ملی!“
تو خلاصہ یہ ہے کہ۔
بریانی اور نہاری سُنّی ہیں، حلیم اور شیرمال شیعہ۔
اور وقتِ ضرورت سب قابلِ قبول! البتہ اگر نیاز میں بینگن کی ترکاری یا پتلی دال ہو، تو اس نیاز کے کافر یا حرام ہونے کا امکان موجود ہے۔
ابھی ابھی بیگم، پڑوس سے آئی کھیر لے آئیں۔ فرمایا:
”برابر سے نیاز آئی ہے۔“
ایک لمحے کو خیال آیا: ارے وہ تو دیوبندی ہیں!
جیسے ہی کھیر چکھی، وہی ذائقہ ملا جو صبح سامنے والے پڑوسیوں کے یہاں سے آئی کھیر میں تھا۔ یعنی، ادھ پکی ہوئی کچے چاول والی۔
بیگم نے فوراً کہا:
”یہ والی کھیر شاید کافر ہے!“



good 1