پروفیسر محمد اکرم: ایک باوقار استاد، مثالی والد اور سچے خادمِ علم


میرے والدِ محترم، پروفیسر محمد اکرم (مرحوم) ، اپنی ذات میں ایک مکمل اور باوقار شخصیت تھے۔ علم، خلوص، قربانی، دیانت اور انسانیت کی جیتی جاگتی مثال۔

مصر کے عظیم اور آفاقی شاعر، احمد شوقی نے کیا خوب فرمایا ہے
قم للمعلم وفّہ التبجیلا
کاد المعلم ان یکون رسولا

”اُٹھ، استاد کے احترام میں کھڑا ہو جا، اور اسے بھرپور تکریم دے، کیونکہ معلم ایسا عظیم منصب رکھتا ہے کہ گویا وہ ایک رسول ہی ہوتا ہے۔“

یہ عظمتِ استاد کا وہ درجہ ہے جو محض چند منتخب اور اعلیٰ صفات کے حامل افراد پر ہی صادق آتا ہے۔ اور انہی میں ایک نام میرے والدِ محترم، پروفیسر محمد اکرم کا ہے۔ جنہوں نے ساری زندگی علم کے چراغ روشن کرنے میں گزار دی، لیکن کبھی نہ اپنی خدمات کا چرچا کیا، نہ قربانیوں کا صلہ مانگا، اور نہ ہی دن رات کی محنت کا کوئی حساب طلب کیا۔

انہوں نے اپنی ساری زندگی گورنمنٹ اسلامیہ کالج میں فزکس کے استاد کے طور پر درس و تدریس کے لیے وقف کر دی۔ وہ نہ صرف ایک باصلاحیت استاد تھے، بلکہ ایک دردمند اور مخلص منتظم بھی۔ علم کو صرف پیشہ نہیں، عبادت سمجھ کر اپنایا۔ اُن کی تدریس صرف نصابی حد تک محدود نہ تھی، بلکہ طلبہ کی کردار سازی، ادارہ جاتی تعمیر، اور سسٹم کی بہتری تک ان کی محنت کے آثار نمایاں تھے۔

یقیناً وہ محض استاد نہیں، بلکہ ایک ایسے خادمِ علم تھے جنہوں نے ذاتی آرام، شہرت یا مالی فائدے کی کبھی پروا نہیں کی۔ ساری زندگی ٹیوشن پڑھانے سے اجتناب کیا۔ ان کا کہنا تھا:

”اگر میں کالج میں دیانتداری سے پڑھا دوں، تو یہی میرے لیے کافی ہے۔“

وہ اُس نسل سے تعلق رکھتے تھے جسے ہم ”پچھلی پیڑھی کے استاد“ کہتے ہیں۔ وہ اساتذہ جو سخت گیر ضرور ہوتے تھے، مگر ان کی ہر سختی کے پیچھے طلبہ کی تربیت، کردار سازی اور کامیابی کی سچی تڑپ چھپی ہوتی تھی۔

اپنے شاگردوں کی کامیابی کو وہ محض تعلیمی کامیابی نہیں سمجھتے تھے، بلکہ اُسے اپنی ذاتی خوشی، فخر اور سکونِ قلب کا ذریعہ جانتے تھے۔ جب کوئی طالبعلم کامیاب ہوتا، تو ان کے چہرے پر وہی خوشی جھلکتی جو ایک باپ کو اپنی اولاد کی کامیابی پر محسوس ہوتی ہے۔

وہ ہمیشہ اپنے طلبہ کے لیے فکرمند رہتے۔ ان کی تعلیمی، اخلاقی اور عملی بہتری کے لیے نہ صرف بھرپور کوشش کرتے بلکہ اکثر اپنی ذاتی سہولت اور آرام کو بھی قربان کر دیتے۔ ان کا یہ جذبہ خالصتاً ایک معلم کے خلوص کی علامت تھا۔

ان کی کلاس کا نتیجہ ہمیشہ نمایاں آتا، اور جب وہ یہ نتائج فخر سے بیان کرتے، تو اُن کے لہجے میں عاجزی کے ساتھ ایک حقیقی خوشی چھپی ہوتی تھی۔ وہ ہمیشہ اپنی استعداد سے بڑھ کر محنت کرتے، تاکہ اُن کے شاگرد زندگی میں کامیاب اور باکردار انسان بن سکیں۔

ایسے اساتذہ کا کردار محض تدریس تک محدود نہیں ہوتا، بلکہ وہ نسلوں کے مزاج اور معاشروں کے مستقبل کی تشکیل میں بنیادی کردار ادا کرتے ہیں۔

ادارے سے ان کا تعلق محض ایک ملازم یا استاد کا نہ تھا، بلکہ وہ کالج کو اپنا گھر، اپنی ذمہ داری اور اپنی پہچان سمجھتے تھے۔ انتظامی معاملات ہوں یا تدریسی امور۔ انہوں نے ہر میدان میں اپنی موجودگی، فہم، محنت اور اخلاص سے واضح نقوش چھوڑے۔

انہوں نے کبھی کسی ذمے داری سے پہلو تہی نہ کی؛ جو کام بھی سپرد کیا گیا، اسے نہایت خلوص اور محنت سے انجام دیا۔ ان کی گہری وابستگی کا اندازہ اس بات سے لگایا جا سکتا ہے کہ انہیں کالج کی ہر چھوٹی سے چھوٹی تفصیل ازبر تھی۔ کالج کا کل رقبہ کتنا ہے، تعمیر شدہ حصہ کتنا ہے، اوپن ایریا کتنا ہے، پارک کس رقبے پر محیط ہے، اور کون سی عمارت کہاں واقع ہے۔ یہ سب تفصیلات وہ بغیر کسی نوٹ یا نقشے کے بیان کر سکتے تھے۔

یہی نہیں، بلکہ ان کے نزدیک یہ صرف معلومات نہ تھیں، بلکہ ایک عہد کا حوالہ، ایک خدمت کا استعارہ، اور ان کے شعورِ فرض شناسی کا زندہ ثبوت تھیں۔

مجھے یاد پڑتا ہے کہ ایک بار کالج کا ٹیوب ویل خراب ہو گیا، تو جب تک وہ درست نہ ہوا، انہیں چین نہ آیا۔ وہ ذاتی تعلقات اور روابط استعمال کر کے کالج کے لیے گرانٹس منظور کرواتے، نئی عمارتیں بنواتے، جدید لیبارٹریز قائم کرتے، اور ادارے کی ہر ممکن ترقی میں پیش پیش رہتے۔ فزکس کی لیبارٹریز اور کمپیوٹر لیبز ان کی خصوصی کاوشوں کا نتیجہ تھیں۔

وہ ایک بے لوث، مخلص، وفا شعار اور اعلیٰ ظرف شخصیت تھے۔ ان کی رفاقت ادارے کے لیے باعثِ فخر اور ان کا کردار آئندہ نسلوں کے لیے مشعلِ راہ ہے۔ ان کا دل علم و حکمت، خلوص و انسانیت اور وقار و حلم سے معمور تھا۔ وہ نہ صرف ایک استاد تھے بلکہ ایک مربی، محسن اور رہبر بھی تھے۔

ایسے لوگ وقت کی گرد میں دب نہیں جاتے، بلکہ اپنی نیک سیرت اور پاکیزہ کردار کی بدولت ہمیشہ زندہ رہتے ہیں۔

لیکن ان کی شخصیت کا سب سے درخشاں پہلو اُن کا والد کا کردار تھا۔ وہ ایک مثالی باپ تھے۔ ہمارے بچپن میں اگرچہ مالی وسائل محدود تھے، مگر ان کی محبت، حکمت اور قربانی نے ہمیں کبھی کسی کمی کا احساس نہ ہونے دیا۔ ہمیں ہمیشہ تحفظ، عزت اور شفقت کا احساس ملا۔ انہوں نے ہر حال میں یہ اہتمام کیا کہ ہم خود کو کسی سے کم تر نہ سمجھیں۔

میرے والد محترم اپنی اولاد کی ترقی، خوشی اور کامیابی کے لیے ہمہ وقت کوشاں رہتے تھے۔ اُن کی خواہش ہوتی کہ ہم زندگی کے ہر میدان میں آگے بڑھیں، اور جب کبھی کوئی کامیابی حاصل ہوتی تو اُن کی خوشی دیدنی ہوتی۔ یوں محسوس ہوتا جیسے اُن کی اپنی مرادیں پوری ہو گئی ہوں۔

وہ خود ہماری تعلیم کے ہر مرحلے میں شامل رہے۔ رہنمائی کرتے، وقت دیتے، اور ہمارے مسائل کو سمجھتے اور سلجھاتے۔

ان کی محنت، محبت اور تربیت کا ہی نتیجہ ہے کہ ہم آج زندگی کے مختلف میدانوں میں خوداعتمادی اور اصولوں کے ساتھ کھڑے ہیں۔

شادی کے بعد میں اپنے آبائی گھر سے کچھ فاصلے پر منتقل ہو گیا، لیکن والد صاحب سے ربط اور محبت میں کوئی کمی نہ آئی۔ روزمرہ معمول یہی تھا کہ جاب سے واپسی پر میرا پہلا قدم والد صاحب کے گھر کی دہلیز پر ہوتا۔ وہ عموماً گھر کے لان میں کرسی یا چارپائی پر آرام فرما رہے ہوتے، اُن کے کسی قریبی دوست کی محفل بھی لگی ہوتی۔ جیسے ہی مجھے دیکھتے، اُن کے چہرے پر ایک خاص چمک آ جاتی اور وہ بھرپور مسکراہٹ کے ساتھ مجھے خوش آمدید کہتے۔

میں چند لمحے اُن کے پاس بیٹھتا، احوال پوچھتا، لیکن جب رخصت چاہتا تو وہ محبت بھرے اصرار سے مجھے روک لیتے۔ اپنے مخصوص پنجابی انداز میں کہتے :

”اوئے! تو کار جا کے کی کرنا؟ ایتھے ای بیٹھا رہ!“

اور اگر کبھی کسی دن مصروفیت کے باعث اُن سے ملنے نہ جا پاتا، تو وہ خود مجھے فون کرتے۔ آواز میں محبت چھپی ہوتی، لیکن انداز وہی مانوس:

”اوئے، تو آیا ہی نہیں آج! ؟“
اور پھر ایک پیار بھری گالی کے ساتھ تاکید کرتے کہ فوراً آؤ، اور مجھے حاضر ہونا ہی پڑتا۔

یہ اندازِ محبت، یہ شفقت بھری جھڑکیاں، اور وہ انتظار۔ یہ سب یادیں آج بھی دل کے نہاں خانوں میں ایک خوشبو کی طرح بسی ہوئی ہیں، جو وقت گزرنے کے ساتھ مزید مہکتی جاتی ہیں۔

پچھلی پیڑھی کے بہت سے افراد کی طرح والد صاحب بھی گھر کے تمام معاملات میں ہر فن مولا تھے۔ الیکٹریکل ہو یا مکینیکل، لکڑی کا کام ہو یا کوئی اور فنی مسئلہ۔ چھوٹا موٹا کام اپنے ہاتھوں سے نمٹا لیتے تھے، اور بڑی خوشی سے کرتے تھے۔

گھر میں جب بھی کوئی مستری آتا، ایک دلچسپ منظر بنتا۔ والد صاحب اُس کے قریب کرسی ڈال کر بیٹھ جاتے، اور نرمی مگر مہارت سے اسے رہنمائی دینا شروع کر دیتے : ”یوں نہیں، ذرا یوں ہاتھ رکھو۔“ ۔

گھر کی تعمیر کے دوران یہ رنگ اور نمایاں ہو گیا۔ ٹھیکیدار اگرچہ تجربہ کار تھا، مگر والد صاحب کے تجربے، مشاہدے اور اصول پسندی کے آگے اکثر خاموش ہو جاتا۔ وہ صرف مشورہ نہیں دیتے تھے، بلکہ ہر چیز کو تکنیکی اصولوں اور عملی ضرورتوں کے مطابق درست انداز میں لے کر چلتے تھے۔

اُن کی شخصیت میں ایک انجینئر جیسی باریک بینی، ایک کاریگر جیسی مہارت، اور ایک استاد جیسی رہنمائی کا امتزاج تھا۔ وہ صرف کام نہیں کرتے تھے، وہ کام کو فن بناتے تھے۔ اصولوں کے ساتھ، دل سے۔

والد صاحب نہ صرف پھل اور گوشت کے شوقین تھے بلکہ ان کے حقیقی شناسا بھی تھے۔ یہ شوق محض ذائقے تک محدود نہ تھا بلکہ وہ ایک ماہر کی نگاہ سے ہر چیز کو پرکھتے۔ کون سا پھل کب اور کہاں کا بہتر ہوتا ہے، اچھے پھل کی پہچان کیا ہے۔ رنگ، خوشبو، مٹھاس اور تازگی کو کس زاویے سے دیکھنا ہے۔ یہ سب باریکیاں وہ ہمیں سکھایا کرتے۔

گوشت کے معاملے میں بھی اُن کی پسند ناپسند بڑی واضح اور تجربے کی آئینہ دار تھی۔ کس جانور کا گوشت زیادہ لذیذ ہو گا، کس حصے کا گوشت زیادہ نرم اور ذائقہ دار ہے، اور کون سی دکان یا علاقہ معیاری گوشت کے لیے بہتر ہے۔ یہ سب ان کے علم کا حصہ تھا۔

بازار ساتھ لے جاتے، چیزیں چنواتے، اور ہر قدم پر یہ احساس دلاتے کہ زندگی کے چھوٹے چھوٹے ذوق بھی ایک شعور، ایک تہذیب اور ایک تربیت مانگتے ہیں۔ یہ سب کچھ صرف خریداری نہیں تھی، یہ ایک باپ کی طرف سے اولاد کو ذوق، سلیقے اور معیار کی عملی تربیت تھی۔

جب کبھی بورڈ آفس پیپر مارکنگ کے لیے جاتے، تو ماحول محض خشک اور رسمی نہ رہنے پاتا۔ اُن کے ساتھ مزاح بھی ہوتا اور مزا بھی۔ کام سنجیدگی سے ہوتا، مگر فضا میں ہنسی کی ہلکی ہلکی خوشبو بسی رہتی۔

موسم کے مطابق کوئی نہ کوئی پھل منگوا لیا جاتا۔ آم ہوں یا خربوزے، سیب ہوں یا کینو۔ وہ پھل صرف کھانے کے لیے نہ ہوتے، بلکہ اُن کے ذریعے وہ ایک محفل بساتے۔ پھر وہی دلنشیں منظر: ہاتھ میں پلیٹ، چہرے پر تبسم، اور آواز میں ایک خاص بزرگانہ شفقت لیے سب کو آواز دیتے،

”اوئے تم بھی آ جاؤ!“
”ادھر آؤ، تمہیں بھی دینا ہے!“

اور یوں لمحے لمحے میں ماحول بدل جاتا۔ کمرہ امتحانی اسکرپٹس کی بجائے ایک خوشگوار دعوت میں ڈھل جاتا، اور ہر فرد اُن کی شفقت سے خود کو خاص محسوس کرتا۔

یہ صرف ایک پھل کھانے کا منظر نہ ہوتا، بلکہ اُن کے انداز میں ایک اجتماعی تہذیب، ایک مانوس سا خلوص اور زندگی کا سلیقہ بولتا تھا۔

والد صاحب نہ صرف ایک باوقار انسان تھے بلکہ حقیقی معنوں میں ”یاروں کے یار“ تھے۔ ان کی دوستی وقتی یا رسمی نہیں ہوتی تھی، بلکہ جب کسی سے تعلق قائم کرتے تو اُسے دل سے نبھاتے، چاہے حالات جیسے بھی ہوں۔ ان کے تعلقات میں نہ مفاد ہوتا، نہ نفع و نقصان کا حساب۔ صرف خلوص، محبت اور انسانیت ہوتی۔ اس جذبۂ وفا اور تعلق کو نبھانے کی جیتی جاگتی مثال اکرام طاہر صاحب ہیں۔ لیکن والد صاحب کے ساتھ ان کا تعلق صرف دوستی کا محتاج نہ تھا۔

وہ ایک دوسرے کے دکھ سکھ کے سچے شریک تھے۔ خوشی ہو یا غم، ، بیماری ہو یا تندرستی، کامیابی ہو یا ناکامی، دونوں ہمیشہ ایک دوسرے کے ساتھ کھڑے نظر آتے۔ ان کا رشتہ وقت کی دھند میں دھندلایا نہیں، بلکہ وقت کے ساتھ مزید مضبوط ہوتا گیا۔ ایسے تعلقات آج کے دور میں کم ہی دیکھنے کو ملتے ہیں، جہاں لوگ وقتی فائدے کے لیے قریب آتے اور پھر مصلحت کے ساتھ دور ہو جاتے ہیں۔ والد صاحب نے دوستی کو ایک مقدس رشتہ سمجھا اور اس کا حق ادا کیا۔

اکرام طاہر صاحب کے ساتھ ان کا تعلق اس بات کی گواہی ہے کہ سچے رشتے خون سے نہیں، دل سے جُڑتے ہیں۔ اور جو دل سے جُڑ جائے، وہ تا عمر قائم رہتا ہے۔

میرے دوستوں کے ساتھ والد صاحب کا رویّہ ہمیشہ ایک پدرانہ شفقت لیے ہوتا۔ وہ نہ صرف اُنہیں عزت دیتے بلکہ یوں گپ شپ میں مصروف ہو جاتے جیسے برسوں پرانے شناسا ہوں۔ اکثر اوقات تو یوں محسوس ہوتا کہ وہ میرے نہیں، والد صاحب کے دوست ہیں۔ جیسے ایک پرانی یاری کی گرمجوشی ان کے درمیان رواں ہو۔

کبھی چائے کے دوران نشست جمتی، کبھی کسی سادہ سی گفتگو میں گہرے موضوعات چھڑ جاتے، اور والد صاحب پوری دلچسپی اور وقار سے شامل ہوتے۔ اُن کی باتوں میں تجربے کی گہرائی بھی ہوتی اور محبت کی مٹھاس بھی۔

دوستی کے اس انداز میں نہ کوئی فاصلہ ہوتا نہ کوئی بناوٹ۔ بس ایک ایسا تعلق جس میں عمر کی قید نہیں، صرف دل کی کشادگی اور لہجے کی مروّت ہوتی۔

والد صاحب کی مہمان نوازی ضرب المثل تھی۔ ان کے دروازے پر آنے والا کوئی بھی شخص، خواہ شناسا ہو یا اجنبی، بغیر خاطر مدارات کے کبھی واپس نہ جاتا۔ وہ مہمان کو محض ایک رسمی ذمہ داری نہیں سمجھتے تھے، بلکہ ایک نعمت اور باعثِ برکت جانتے تھے۔ ان کی پیش کش میں دکھاوا نہ ہوتا، بلکہ دل کی گہرائی سے نکلا ہوا خلوص اور عزت ہوتی۔

چائے سے لے کر کھانے تک، ہر چیز میں ان کا ذوق، سلیقہ اور مہمان کے لیے محبت جھلکتی۔ مہمانوں کے چہرے پر مسکراہٹ اور دل میں اپنائیت پیدا کرنا انہیں بخوبی آتا تھا۔ یہی وجہ تھی کہ ان کے گھر کا ماحول ہمیشہ ایک کھلے دل، کھلے دروازے اور گرم جوشی سے بھرپور تعلق کا آئینہ دار ہوتا۔

میری والدہ محترمہ نہایت لذیذ اور ذائقہ دار کھانے بنانے میں مہارت رکھتی ہیں۔ ان کے ہاتھ کا پکا ہوا کھانا صرف گھر والوں ہی کو نہیں، بلکہ والد صاحب کے دوستوں اور مہمانوں کو بھی بے حد پسند تھا۔ اکثر ایسا ہوتا کہ والد صاحب کو اُن کے دوستوں کی طرف سے خاص طور پر کسی ڈش کی فرمائش موصول ہوتی۔ کبھی کوئی سالن، کبھی کوئی خاص چٹنی یا میٹھا۔

والد صاحب نے کبھی بھی کسی مہمان کی خواہش کو رد نہ کیا۔ وہ فوراً گھر فون کرتے اور بڑے محبت بھرے انداز میں والدہ سے کہتے :

”سعدی! آج فلاں دوست آ رہے ہیں، اُن کی پسند کا کھانا بنا دینا۔“

انہیں ہر دوست کی پسند و ناپسند کا بخوبی علم ہوتا۔ کون کون سے کھانوں کو کون پسند کرتا ہے، کون کیا شوق سے کھاتا ہے۔ وہ سب ذہن میں رکھتے، اور اسی کے مطابق کھانے کا اہتمام کرواتے۔ جب مہمان آتے، اور اُن کی پسند کا کھانا دسترخوان پر موجود ہوتا، تو والد صاحب کی خوشی دیدنی ہوتی۔ اُن کے چہرے پر ایک ایسی طمانیت ہوتی جیسے کوئی بڑی نعمت میسر آ گئی ہو۔ مہمانوں کی خدمت اور دلجوئی اُن کے مزاج کا ایک بنیادی جزو تھی، اور اس کام میں وہ اپنی زندگی کی خوشی محسوس کرتے تھے۔ یہ خلوص اور اپنائیت سے بھرا ہوا طرزِ زندگی، نہ صرف ہمارے لیے ایک ورثہ ہے بلکہ آنے والی نسلوں کے لیے بھی ایک مثال ہے۔

والد صاحب ان لوگوں میں سے تھے جو رشتے صرف رکھتے نہیں تھے، نبھاتے بھی تھے۔ پورے خلوص، ذمہ داری اور احساس کے ساتھ۔ وہ ہر تعلق کو ایک امانت سمجھتے اور اسے وفاداری، عزت اور خدمت سے سنوارتے۔ جب کوئی رشتہ کمزور پڑتا، تو وہ اس کی ڈور تھام لیتے ؛ جب کوئی شخص زندگی کے بوجھ تلے دبنے لگتا، تو وہ بے آواز سہارا بن جاتے۔

ان کا ظرف ایسا تھا کہ دوسروں کی آسانی کے لیے اپنی راہ میں آنے والی مشکلات کو گلے لگا لیتے، بنا کسی شکوے یا دکھاوے کے۔

ان کے نزدیک کسی کا سہارا بننا صرف نیکی نہیں بلکہ انسانی فرض تھا، اور وہ اس فرض کو ہمیشہ خوش دلی سے ادا کرتے رہے۔

ان کی پوری زندگی قربانی، سادگی، خلوص اور وقار سے عبارت تھی۔ انہوں نے سختیاں خود برداشت کیں، لیکن اپنے بچوں کو ہمیشہ برے اثرات سے دور رکھا، اور بہترین ماحول مہیا کیا تاکہ ہم بہتر تعلیم و تربیت حاصل کر سکیں۔ نہ انہوں نے کبھی صلے کی تمنا کی، نہ ستائش کی پروا۔ وہ ایک ایسے خاموش محسن تھے جن کی زندگی کا مقصد صرف دینا تھا، لینا نہیں۔

والد صاحب کو فطرت اور قدرتی ماحول سے بے پناہ محبت تھی۔ کھلی فضا، ہریالی، اور درختوں سے ان کا ایک قلبی تعلق تھا۔ اگرچہ ہم ایک شہری ماحول میں رہتے تھے، لیکن انہوں نے اپنے گھر کے باہر موجود لان کو گویا ایک چھوٹے باغ کی شکل دے رکھی تھی۔ نرسری سے پھول اور پودے خود لے کر آتے، انہیں اپنی نگرانی میں لگواتے، اور پھر بچوں کی طرح ان کی آبیاری اور نگہداشت کرتے۔ یہ شغف اُن کے لیے محض ایک مشغلہ نہ تھا، بلکہ ایک جذبہ، ایک لگن تھی جو انہیں اپنے والد گرامی سے ورثے میں ملی تھی۔ اُن کے والد نے بھی اپنی زندگی میں درجنوں درخت لگائے، گویا یہ شجرکاری کا ذوق ایک نسل سے دوسری نسل میں منتقل ہوا۔

ایک واقعہ آج بھی میری یاد میں تازہ ہے، جو والد صاحب کی درختوں سے محبت کی ایک زندہ مثال ہے۔ ہمارے گھر سے کچھ فاصلے پر ایک خالی پلاٹ میں ایک تناور کھجور کا درخت موجود تھا۔ جب اس پلاٹ میں تعمیرات شروع ہونے لگیں تو درخت کو کاٹنے کا ارادہ کیا گیا۔ والد صاحب کو کسی ذریعے سے یہ خبر ملی، اور جیسے ہی سنا، بے چین ہو گئے۔ انہوں نے فوری طور پر پلاٹ مالکان سے رابطہ کیا، کچھ وقت کی مہلت لی، اور مجھے ساتھ لے کر بائیک پر نکل کھڑے ہوئے۔ قریبی علاقے سے ایک کرین کا بندوبست کیا، درخت کے گرد گاچا کھدوایا، اور بڑی احتیاط سے اسے زمین سے نکال کر اپنے پارک میں منتقل کروایا۔

یہ ایک معمولی کام نہ تھا۔ اس میں مالی وسائل بھی صرف ہوئے، جسمانی مشقت بھی، اور وقت بھی لگا۔ لیکن ان کے چہرے پر اُس وقت طمانیت کی جھلک دیکھی جا سکتی تھی جب درخت نئی جگہ پر اپنی جڑیں جما چکا تھا۔ یہ محض ایک درخت کی منتقلی نہ تھی، بلکہ ایک انسان کی محبت کا اظہار تھا جو قدرت کے ہر مظہر کو احترام، احساس اور اپنائیت کی نظر سے دیکھتا تھا۔

تمام بھائیوں میں میرا مزاج والد صاحب سے سب سے زیادہ مشابہ ہے۔ اُن کی شخصیت میں بھی ایک عوامی رنگ نمایاں تھا۔ سادگی، قناعت اور بے لوثی اُن کی زندگی کے بنیادی اصول تھے۔ کبھی کسی چیز کا لالچ نہیں کیا؛ جو میسر آ گیا، اسی پر شکر ادا کیا اور قناعت اختیار کی۔

ان کی طبیعت میں فنی ذوق بھی بدرجۂ اتم موجود تھا۔ شعر و ادب سے محبت رکھتے تھے اور اچھی موسیقی کے رسیا تھے، خصوصاً غزلوں سے گہری دلچسپی تھی۔ ٹھمری، دادرا اور دیگر کلاسیکی اصناف کو بھی بڑی دلچسپی سے سنتے۔

مجھے جب بھی کوئی اچھی کمپوزیشن سننے کو ملتی، تو میں فوراً اُنہیں بھیجتا۔ اکثر ایسا ہوتا کہ جو دھن میرے دل کو بھاتی، وہی اُن کے ذوق سے بھی ہم آہنگ نکلتی۔ یوں موسیقی کے ذریعے ہم دونوں میں ایک خاموش مگر گہرا ربط قائم ہو گیا تھا۔

افسوس! زندگی نے مہلت نہ دی، وقت نے وفا نہ کی، اور وہ چراغ جو ہمیں روشنی دے رہا تھا، بہت جلد بجھ گیا۔ وہ رخصت ہو گئے، مگر دلوں میں ہمیشہ زندہ رہیں گے۔ آج جب ہم اُن کی یاد میں سر جھکاتے ہیں، دل گواہی دیتا ہے کہ وہ ایک عظیم انسان تھے۔ ایک سچے معلم، ایک عظیم والد، اور ایک بے لوث شخصیت۔ ان کی دی گئی اقدار، تربیت اور دعائیں آج بھی ہماری زندگی کی راہیں روشن کیے ہوئے ہیں۔

صحیحین کی روایت ہے۔ انسان کے مرنے کے بعد اس کو کوئی چیز فائدہ نہیں پہنچاتی سوائے تین چیزوں کے : پہلا صدقہ جاریہ کے لیے کیا کوئی کام جیسے کنواں کھدوانا، مسجد بنوا دینا، درخت لگوا دینا وغیرہ جس سے لوگوں کو فائدہ حاصل ہوتا رہے۔ دوسرا کوئی نافع علم یا علمی خدمت جس سے لوگ اس شخص کی موت کے بعد بھی فائدہ حاصل کریں اور تیسری نیک اولاد جو اس کے لیے مغفرت کی دعا کرے۔

Facebook Comments HS