پاکستانی معاشرہ اور ذہنی الجھنیں
انسانی تہذیب کی بساط پر پھیلے ہوئے معاشروں کا مطالعہ کیا جائے تو ہر سماج اپنے اندر ایک خاص طرح کی انفرادیت اور ذہنی روایات کا حامل ہوتا ہے۔ پاکستان، ایک نوزائیدہ اسلامی ریاست کے طور پر، تاریخ کے صفحات سے ابھرا اور آج بھی اپنی ثقافتی، مذہبی اور سماجی شناخت کے تلاطم خیز سمندر میں گہرے سوالات کے بھنور میں گھرا ہوا ہے۔ اِس خطّے کے باسیوں کی فکری اور عقیدتی کسمپرسی، اور اس کے نتیجے میں جنم لینے والی ذہنی اُلجھنیں، ایک ایسا موضوع ہے جو نہ صرف گہری نفسیاتی، سماجی اور فلسفیانہ بصیرت کا تقاضا کرتا ہے بلکہ اس کے تاریخی اور حیاتیاتی محرکات کو بھی سمجھنا ازبس ضروری ہے۔
پاکستان کے معاشرتی تانے بانے کو اگر باریک بینی سے دیکھا جائے تو ایک عجیب و غریب تنازعہ صاف دکھائی دیتا ہے : جدیدیت کی طرف کشش اور قدامت پرستی کی طرف جھکاؤ۔ یہ تضاد افراد کی روزمرہ زندگیوں میں ذہنی انتشار کی صورت میں نمودار ہوتا ہے۔ ہمارے ہاں ایک طویل عرصے سے یہ بحث جاری ہے کہ ہماری اخلاقی اقدار کی گراوٹ، خصوصاً نوجوان نسل کی ”بے راہ روی“ اور مردوں کی ”بہکاوے“ میں آنے کی وجہ کیا ہے؟ اِس سوال کا سب سے آسان اور فوری جواب جو ہمارے ہاں مقبول ہے، وہ یہ کہ ٹیلی ویژن، وی سی آر، انٹرنیٹ، فیس بک اور اب ٹک ٹاک جیسی جدید ٹیکنالوجیز اِس تمام بگاڑ کی جڑ ہیں۔ ایک لمحے کے لیے بھی یہ نہیں سوچا جاتا کہ کیا اِن آلات کے علاوہ بھی کوئی ایسا بنیادی عنصر ہے جو ہماری سماجی ڈھانچے کی کمزوری کا باعث بن رہا ہے؟
تاریخی طور پر، برصغیر پاک و ہند ایک ایسی سرزمین رہی ہے جہاں مختلف تہذیبیں، مذاہب اور ثقافتیں ایک ساتھ پھلتی پھولتی رہی ہیں۔ یہ ثقافتی گہما گہمی جہاں تنوع کا حسین امتزاج تھی، وہیں بعض اوقات فکری اور عقیدتی تصادم کا باعث بھی بنی۔ قیامِ پاکستان کے بعد ، ایک نئی شناخت قائم کرنے کی کوششوں میں، ہم نے اپنے آپ کو ایک ایسے دوراہے پر پایا جہاں ہم اپنی روایات اور عالمگیر جدیدیت کے تقاضوں کے درمیان پِستے چلے گئے۔
ایک طرف ہمارا مضبوط عقیدتی پس منظر ہے جو ہمیں ایک خاص طرزِ زندگی کی تعلیم دیتا ہے، اور دوسری طرف گلوبلائزیشن کی ہوائیں ہیں جو نت نئی فکری لہریں اپنے ساتھ لاتی ہیں۔ یہ دو انتہائیں ہمارے معاشرے میں ایک مستقل ذہنی کشمکش پیدا کرتی ہیں، جس کا نتیجہ یہ ہوتا ہے کہ ہم کسی بھی بیرونی تحریک کو فوراً ”خطرہ“ سمجھ کر اس پر پابندی لگانے یا اسے ”شیطانی آلہ“ قرار دینے پر کمر بستہ ہو جاتے ہیں۔
سماجی اور نفسیاتی نقطہ نظر سے دیکھیں تو یہ رجحان ایک سادہ سے دفاعی میکانزم کی عکاسی کرتا ہے۔ جب کوئی معاشرہ اندرونی طور پر اپنی اقدار کے نظام میں کمزوری محسوس کرتا ہے، تو وہ بیرونی ذرائع کو اپنی اخلاقی گراوٹ کا ذمہ دار ٹھہرانے لگتا ہے۔ ٹی وی کی آمد پر کہا گیا کہ یہ خاندانوں کو بگاڑ دے گا، وی سی آر آیا تو اسے ”فحاشی کا آلہ“ قرار دیا گیا، پھر انٹرنیٹ کو ”شیطان کی ایجاد“ سمجھا گیا اور اب فیس بک اور ٹک ٹاک کو ”جوانوں کو بہکانے“ اور ”لڑکیوں کو بے حیا“ بنانے کا ذریعہ سمجھا جاتا ہے۔
یہ سب اس بات کی نشاندہی کرتا ہے کہ ہم اپنی بنیادی سماجی تعلیم و تربیت، خاندانی اقدار اور ریاستی قوانین کی کمزوریوں کا ادراک کرنے کی بجائے، ایک آسان ہدف ڈھونڈ لیتے ہیں جس پر سارا الزام ڈال کر خود کو بری الذمہ قرار دے سکیں۔ یہ ایک طرح کا فکری جمود ہے جہاں ہم وجہ تلاش کرنے کی بجائے، معصوم آلات کو قربانی کا بکرا بنا دیتے ہیں۔
انسانی جبلتیں، اپنی حیاتیاتی نوعیت کے اعتبار سے، کسی خاص اخلاقی معیار کی پابند نہیں ہوتیں۔ بھوک، پیاس، جنسی خواہشات، اور تسلیم کیے جانے کی تمنا۔ یہ سب انسانی بقا کے بنیادی محرکات ہیں۔ معاشرہ اور اس کے بنائے ہوئے ضابطے ہی ہیں جو ان جبلتوں کو ایک اخلاقی اور سماجی ڈھانچے میں ڈھالتے ہیں۔ ترقی یافتہ معاشروں میں ایسا کیوں نہیں ہوتا کہ انٹرنیٹ کی وجہ سے مرد اپنی حدود سے تجاوز کر جائیں یا خواتین کے پردے میں نہ ہونے سے مرد بے قابو ہو جائیں؟
وہاں ایسا نہیں ہوتا کیونکہ وہاں کی تربیت، قانون اور سماجی ضابطے اس قدر مضبوط ہیں کہ وہ ہر فرد کو اپنی حدود میں رہنے پر مجبور کرتے ہیں۔ وہاں فرد کو بچپن سے ہی خود احتسابی اور اخلاقی ذمہ داری کا درس دیا جاتا ہے۔ اگر کوئی فرد قانون شکنی کرتا ہے یا سماجی اقدار کو پامال کرتا ہے، تو قانون بغیر کسی تفریق کے حرکت میں آتا ہے۔
تربیت، یعنی بچوں کی فکری، اخلاقی اور سماجی پرورش، کسی بھی معاشرے کی بنیاد ہوتی ہے۔ یہ وہ عمل ہے جو فرد کو نہ صرف اچھے اور برے کی تمیز سکھاتا ہے بلکہ اسے سماجی ذمہ داریوں اور اخلاقی معیارات کا پابند بھی بناتا ہے۔ جب گھروں میں بچوں کو سکرین پر وقت گزارنے کے قواعد و ضوابط سکھائے جاتے ہیں، اور انہیں یہ بتایا جاتا ہے کہ ٹیکنالوجی ایک آلہ ہے جسے اچھے مقاصد کے لیے استعمال کیا جا سکتا ہے، تو وہ اس کا مثبت استعمال سیکھتے ہیں۔ بدقسمتی سے ہمارے ہاں اکثر و بیشتر اس پہلو کو نظر انداز کر دیا جاتا ہے۔ والدین خود تو بچوں کو سکرین تھما دیتے ہیں، لیکن جب وہ کسی نامناسب مواد کا شکار ہوتے ہیں تو الزام ٹیکنالوجی پر آتا ہے۔
قانون کی حکمرانی اور اس کا بلا تفریق نفاذ بھی معاشرتی نظم و ضبط کا ایک اہم ستون ہے۔ ترقی یافتہ ممالک میں، اگر کوئی فرد سائبر کرائم، ہراسانی یا کسی بھی اخلاقی یا سماجی قانون کی خلاف ورزی کرتا ہے تو اسے سخت نتائج کا سامنا کرنا پڑتا ہے۔ وہاں قانون کی آنکھ ہر ایک پر نظر رکھتی ہے اور کوئی بھی طاقتور یا کمزور اس کی زد سے نہیں بچ سکتا۔ پاکستان میں قانون کا احترام اور اس کا نفاذ اکثر کمزور نظر آتا ہے، جس کی وجہ سے افراد کو اپنی جبلتوں اور خواہشات پر قابو پانے کا موقع کم ملتا ہے، اور وہ بیرونی اثرات کے بہکاوے میں زیادہ آسانی سے آ جاتے ہیں۔
فلسفیانہ نقطہ نظر سے دیکھیں تو مسئلہ ٹیکنالوجی میں نہیں بلکہ انسانی ارادے اور اس کے اطلاق میں ہے۔ ٹیکنالوجی بذاتِ خود نہ اچھی ہے نہ بری؛ یہ ایک نیوٹرل آلہ ہے۔ اس کا استعمال اس کے نتائج کا تعین کرتا ہے۔ اگر ایک چاقو کسی سرجن کے ہاتھ میں ہے تو وہ زندگی بچاتا ہے، اور اگر کسی قاتل کے ہاتھ میں ہے تو وہ جان لیتا ہے۔ اسی طرح انٹرنیٹ یا سوشل میڈیا بھی ایک چاقو کی مانند ہیں۔ ان کا مثبت استعمال تحقیق، تعلیم، کاروبار اور سماجی روابط کو مضبوط بنا سکتا ہے، جبکہ ان کا منفی استعمال اخلاقی گراوٹ، جرائم اور فکری انتشار کا باعث بن سکتا ہے۔ یہ انتخاب فرد کی تربیت، اس کے اخلاقی ضابطوں اور سماجی حدود کے ادراک پر منحصر ہے۔
عقائد، ثقافت اور روایات کے معاملے میں ذہنی الجھنیں صرف ٹیکنالوجی کے مسئلے تک محدود نہیں ہیں۔ یہ ہماری دوہری شخصیت کا بھی آئینہ ہیں۔ ہم ایک ہی وقت میں مذہبی اقدار کی بات کرتے ہیں اور عملی زندگی میں ان کی خلاف ورزی کرتے ہیں۔ ہم غیرت اور حیا کی دہائیاں دیتے ہیں لیکن اپنے معاشرتی ڈھانچے میں صنفی ناہمواری اور استحصال کو برداشت کرتے ہیں۔ یہ ذہنی تقسیم افراد کو ایک مستحکم اخلاقی بنیاد فراہم کرنے میں ناکام رہتی ہے، جس کے نتیجے میں جب کوئی نیا چیلنج یا بیرونی اثر سامنے آتا ہے تو ہم اس سے نمٹنے کی بجائے اس پر آسانی سے الزام تراشی شروع کر دیتے ہیں۔
اس تمام بحث کا نچوڑ یہ ہے کہ پاکستانی معاشرہ جس ”ذہنی الجھن“ کا شکار ہے وہ کسی بیرونی آلے کا نتیجہ نہیں بلکہ ہماری اندرونی کمزوریوں اور فکری خامیوں کا عکس ہے۔ ہمیں ٹی وی، وی سی آر، انٹرنیٹ یا ٹک ٹاک پر پابندیاں لگانے کی بجائے اپنی تربیت کے نظام کو بہتر بنانا ہو گا، قانون کی حکمرانی کو یقینی بنانا ہو گا اور اپنے سماجی ضابطوں کو اس قدر مضبوط کرنا ہو گا کہ وہ ہر فرد کو اپنی حدود میں رہنے پر مجبور کر سکیں۔
یہ ایک مشکل سفر ہے، جس کے لیے انفرادی اور اجتماعی سطح پر گہری خود احتسابی، فکری بیداری اور عملی اقدامات کی ضرورت ہے۔ جب تک ہم اپنی ذہنی کسمپرسیوں کو بیرونی عوامل پر تھوپتے رہیں گے، اس وقت تک ہم حقیقی معنوں میں ایک ترقی یافتہ اور باوقار معاشرہ نہیں بن پائیں گے۔ حقیقی تبدیلی باہر سے نہیں، بلکہ ہمارے اپنے اندر سے آئے گی، جب ہم اپنی بنیادی ذمہ داریوں کو سمجھیں گے اور ان کو پورا کرنے کی ہمت پیدا کریں گے۔

