جس کا کوئی نہیں


hassan ailya

صبح کی ورزش کا اپنا ہی مزہ ہے۔

، مگر میN اپنی غیر مستقل مزاجی کے باعث یہ لطف کبھی کبھار ہی اٹھا پاتا ہوں۔ ورزش کیا اسے صبح کی سیر کہہ لیں گھر سے دو کلو میٹر کے فاصلے پر کرکٹ کے میدان تک جانا اور پھر ٹہلتے ہوئے واپس آنا راستے میں فٹ پاتھوں پر بے گھر لوگ سوتے جاگتے نظر آتے۔ کوئی بیٹھا کنگھی کر رہا ہوتا کوئی کہیں جانے کی تیاری میں ہے تو کوئی خواب خرگوش کے مزے لے رہا ہوتا

آج نہ جانے کیوں میں نے سونے والوں کی گنتی شروع کردی یک دم میری سانس اوپر کی اوپر اور نیچے کی نیچے رہ گئی ایک شخص چادر اوڑھے بے سدھ پڑا ہوا تھا اور ٹانگ سے ٹپ ٹپ خون بہہ رہا تھا میں اس وقت کی اپنی کیفیت بیان نہیں کر سکتا، ابھی اس ہی شش و پنج میں تھا کہ کیا کروں کیا نہ کروں اچانک چادر میں حرکت ہوئی۔ اندر سے سے کرب و تکلیف میں مبتلا ایک پچیس چھبیس سال کا نوجوان کا چہرہ نظر آیا میں نے۔ سوچا اسے ہسپتال لے جانا چاہیے اس سے قبل کہ۔ میں ایمبولینس کو کال کرتا وہاں بھیڑ جمع ہو گئی ایک شخص اس نو جوان کو بائیک پر بیٹھا کر ہسپتال لے گیا میں نے بھی اپنی بھی اپنی راہ لی زندگی میں کتنے ہی ایسے واقعات ہوتے ہین جنہیں ہم کوئی اہمیت نہیں دیتے بلکہ یکسر بھلا دیتے ہیں میں بھی غم روزگار میں معروف ہو گیا

۔ ایک رات جب یخ بستہ ہوائیں چل رہی تھیں اور سردی اچانک بڑھ گئی تھی، میں سردی سے بچاؤ کا خاطر خواہ انتظام کر کے نہیں نکلا تھا اس لیے چاہتا تھا کہ جلد از جلد گھر پہنچ کر بستر میں دبک جاؤں۔ تیز تیز قدم اٹھاتا ہوا جیسے ہی میں گلی کے نکڑ پر پہنچا تو کیا دیکھتا ہوں ایک بند دکان کے تھڑے پر لیٹا ایک شخص سردی سے کانپ رہا تھا اندھیرے میں چہرہ صاف دکھائی نہیں دے رہا تھا مگر کپکپانے کی آواز ہی ایک حساس انسان کے رونگٹے کھڑے کردینے کے لیے کافی تھی۔ میں بھاگم بھاگ گھر سے رضائی اور کمبل لے آیا اور کانپتے ہوئے شخص پر ڈال دیے موبائل کی ٹارچ کی روشنی میں دیکھا تو یہ وہی نوجوان تھا جو چند روز قبل فٹ پاتھ پر زخمی حالت میں نظر آیا تھا

میں نے نام پوچھا تو گویا پھٹ پڑا کہنے لگا بھائی صاحب نام۔ میں کیا رکھا ہے؟ نام نور ہے، جبکہ ہوں بے نور لوگ بتاتے ہیں کہ شاید دو چار ماہ کا تھا کوئی ایدھی سینٹر کے جھولے مین پھینک گیا تھا وہیں پلا بڑھا انہوں نے ہی مجھے لکھنا پڑھنا سکھایا آج مجھے نہ صرف بہت اشعار یاد ہیں بلکہ خود بھی تھوڑی بہت شاعری کر لیتا ہوں اس نے۔ ایک دو اشعار بھی سنائے نور نے اپنی بات جاری رکھتے ہوئے کہا ”ایدھی سینٹر والے ایک دن مزار قائد کی سیر کرانے لے کر گئے میں وہاں سے بھاگ لیا شاید میں آزاد فضا میں سانس لینا چاہتا تھا یانہ جانے کیوں بھاگا؟ یہ کہہ کر نور خلا میں گھورنے لگا میں اس کے دل کے۔ بوجھ کو ہلکا کر کے لیے اس کی گفتگو دلچسپی سے سن رہا تھا چند سیکنڈ کی خاموشی کے بعد وہ گویا ہوا بھائی صاحب اپ کیا جانیں بے گھر لوگوں کے۔ دکھ کبھی کسی پل کے نیچے تو کبھی کسی فٹ پاتھ پر درد کی پیوند کاری کرتے رہتے ہیں وہ کسی شاعر نے کیا خوب کہا

زندگی کیا کسی مفلس کی قبا ہے جس میں
ہر گھڑی درد کے پیوند لگے جاتے ہیں۔

” اچانک بادلوں کی گھن گرج نے ماحول کو مزید سنجیدہ کر دیا۔ جیسے ہی بارش کی پہلی بوند گری تو میں نے نور کا ہاتھ بغل میں دبایا اور ایک جانب چل دیا نور بھی خاموشی سے میرے ساتھ ہو لیا جیسے جیسے بارش میں تیزی اتی میرے قدم بھی تیز تیز اٹھنا شروع ہو گئے۔ جلد ہی میں اللہ تعالی کی گھر کے سامنے کھڑا تھا جس کے دروازے پر چائنا کا تالا منہ چڑا رہا تھا مجھے علم تھا کہ مولوی صاحب مسجد کے پچھواڑے میں کواٹر میں رہائش پذیر ہیں میں جلدی سے اس جانب بڑھ گیا مولوی صاحب کے مکان میں کسی قسم کی گھنٹی نہیں تھی بادل نخواستہ دروازہ کھٹکھٹایا کئی بار کھٹکھٹانے کے بعد اندر سے ایک گرج دار آواز آئی کون کمبخت برستی رات میں اگیا

، دروازہ کھولتے۔ ہی مولوی صاحب اجنبی نظروں سے ہماری طرف دیکھتے ہوئے گویا ہوئے جی فرمائے

مولوی صاحب یہ نوجوان بارش میں بھیگ رہا تھا مین نے سوچا مسجد میں رات گزار لے سلام کرتے ہی جلدی سے میں نے اپنا مدعا بیان کر دیا

مولوی صاحب نے انکار میں سر ہلاتے ہوئے کہا کہ ابھی پچھلے ہفتہ ہی مسجد کا گھڑیال چوری ہوا ہے، اور مسجد عبادت کی جگہ ہے مسافر خانہ نہیں

حضور اگر اس طوفانی بارش میں اسے کچھ ہو گیا تو عذاب ہمارے سر آئے گا۔ اپ میرا اوریجنل شناختی کارڈ رکھ لیں میں نے خوشامدانہ اور جذباتی بلیک میلنگ والے انداز میں کہا اور شناختی۔ کارڈ ان کے ہاتھ میں تھما دیا مولوی صاحب چابی لے آئے اور مسجد کی جانب چل دیے راستے میں فرمانے لگے ”میاں کیا اپ کے گھر میں جگہ نہیں تھی“ ؟

میں۔ نے صرف اتنا کہا ”نہیں“ میرے دل میں تو آئی کہوں۔ چالیس اور اسی گز کے مکانات میں ہم ہی بمشکل گزرا کر پاتے ہیں اپ تو ایسے انجان بن رہے جیسے اس محلے میں نئے ہوں

نور مسجد کے ایک کونے میں دبک گیا اور میں خوشی۔ سے گنگنا دیا
جس کا کوئی نہیں اس کا تو خدا ہے یاروں
مولوی صاحب نے مجھے گھور کر دیکھا میں نے چپکے سے اپنے گھر کی راہ لی۔

دوسرے دن جب میں آفس سے گھر پہنچا تو بیگم نے اطلاع دی کہ کئی مرتبہ کچھ لوگ اپ کو پوچھنے اچکے ہیں بیگم کی بات مکمل بھی نہیں ہوئی تھی کہ کال بیل نے مسلسل چنگھاڑنا شروع کر دیا ایسا لگا کوی بٹن پر انگلی رکھ کر بھول گیا ہے میں نے۔ جلدی سے دروازہ کھولا تو تو سامنے۔ تین مولوی حضرات کھڑے ہوئے تھے سلام دعا کے بعد فرمایا کہ اپ کو امام صاحب نے یاد کیا ہے۔ میں نے لاکھ کہا کہ بھائی کہ ابھی ابھی آفس سے آیا ہوں تھوڑی سے تھکان اترانے دیں پھر آ جاؤں گا مگر وہ بضد تھے کہ ابھی ہمارے ساتھ چلیں مرتا کیا نہ کرتا ان کے ساتھ ہو لیا۔

مسجد میں جاکر کیا دیکھتا ہوں کچھ لوگ نور کو گھیرے کھڑے ہیں اور اس سے پوچھ گچھ کر رہے ہیں ”تم کون سے فرقے سے ہو؟ کلمہ سناؤ وغیرہ وغیرہ مجھے دیکھتے ہی سب لوگ خاموش ہو گئے ایک نمازی نے امام صاحب کے کان مین کچھ کہا تو پھر وہ گویا ہوئے آپ اس کو اپنی مسجد مین کیوں نہیں لے گئے؟

میرا تو اپنا گھر نہیں ہے باپ کے گھر میں رہتا ہوں تو مسجد کہاں سے بنا لوں گا، میں نے انتہائی ادب سے جان بوجھ کر گول مول جواب دیا

مولوی صاحب کے چمچے نے غصے سے کہا ”امام؟ صاحب کا کہنے کا مطلب ہے اپ اپنے فرقے کی مسجد میں کیوں نہیں لے گئے؟

مجھے علم ہی نہیں ہے کہ میرا فرقہ کون سا ہے؟ میں سمجھتا ہوں خدا سب کا ہے تو اس کا گھر بھی سب کا ہو گا میں نے بڑی معصومیت سے جواب دیا

بس میاں ہم اپ سے زیادہ بحث نہیں کرنا چاہتے یہ کہتے ہوئے انہوں نے جیب سے میرا شناختی کارڈ نکالا اور میرے ہاتھ میں میں تھماتے ہوئے کہا برائے مہربانی۔ اپ اس کو یہاں سے لے جائیں میں کچھ کہنا چاہتا تھا کہ نور نے۔ میرا ہاتھ دبا دیا اور خدا کے گھر کی چوکسی کرنے والے دروغہ نے ہمیں بے دخل کر دیا

کچھ دور ہم خاموشی سے چلتے رہے پھر نور نے مجھے مخاطب کرتے ہوئے کہا بھائی صاحب یہ بس کتابوں میں ہی لکھا ہوتا ہے حقیقت یہ ہے کہ ”جس کا کوئی نہیں ہوتا تو اس کا کوئی بھی نہیں ہوتا“

یہ کہہ کر ٹھٹھرتا ہوا فٹ پاتھ پر لیٹ گیا میں نے بہت کہا ایدھی سینٹر چلے جاؤ میں کال کر دیتا ہوں مگر اس نے انکار کرتے ہوئے کمبل سے منہ ڈھانپ لیا

اگلی صبح جب میں صبح کی سیر سے واپس آ رہا تھا تو اس ہی فٹ باتھ کے قریب ایدھی ایمبولینس کو دیکھا میں نے سوچا چلو شکر ہے نور ایدھی سینٹر جانے پر راضی ہو گیا قریب پہنچا تو اسٹریچر پر پڑے نور کی بے نور آنکھیں چیخ چیخ کر کہہ رہی تھی جس کا کوئی نہیں ہوتا اس کا کوئی بی نہیں ہوتا

Facebook Comments HS