نیم حکیم، کامل شاعر


حلقہ اربابِ ذوق فیصل آباد کے تنقیدی اجلاس میں اشرف یوسفی کی غزل پر تند و تیز گفتگو ہو رہی تھی۔ قواعد کے مطابق صاحب تخلیق کو خاموش رہنا پڑتا ہے۔ اشرف یوسفی پہلو بدلتے رہے۔ کسی نے کہا کہ فلاں شاعر کا رنگ جھلکتا ہے، ایک اور صاحب بولے ”فلاں شاعر کو بھی شامل تصور کیا جائے“ اجلاس ختم ہوا تو کہنے لگے ”جن دو شعرا کا رنگ دکھایا جا رہا ہے ان کا اپنا کوئی رنگ نہیں ہے، ان نقادوں کی ایسی کی تیسی“ میں حلقہ اربابِ ذوق کے اجلاس میں میں نووارد تھا اور ابھی زیادہ لوگوں سے تعارف حاصل نہیں تھا۔

ان دنوں حلقے کے اجلاس کیری ہوم ریسٹورنٹ میں ہوتے تھے۔ یہاں صبح سے شام تک ادبا بیٹھے رہتے تھے۔ کچھ آرٹسٹ بھی آتے تھے۔ خوب گہما گہمی رہتی تھی۔ یہاں مستقل بیٹھنے والوں میں افضل احسن رندھاوا، ریاض مجید، ظہیر سلیمی، اشفاق بخاری، مختار کھرل، انجم سلیمی، مقصود وفا، ناصر مجید، فضل حسین راہی، ارشد جاوید اور قیوم ناصر شامل ہیں۔ اندرون ملک اور بیرون ملک سے ادبا بھی یہاں آتے تھے۔ ضیاء الحق کے مارشل کا زمانہ تھا۔

کیری ہوم میں ٹیلی ویژن کی سہولت میسر تھی۔ جہاں زیادہ تر خبریں، ڈرامے اور کرکٹ میچ دیکھے جاتے تھے۔ افغانستان پر روسی حملے کی خبر یہاں بیٹھ کر سنی تھی۔ کسی نے خبر سنتے ہی کہا کہ اب اگلے دس برس تک صدر ضیا الحق کی حکومت کو کوئی ختم نہیں کر سکتا ہے اور ایسا ہی ہوا۔ مجھے یاد آیا کہ ضیا الحق کی حادثے کی خبر پر ظہیر سلیمی نے تبصرہ کرتے ہوئے کہا ”اگر ضیا الحق کچھ عرصہ اور پاکستان میں برسر اقتدار رہتا تو ملک میں مسلمانوں اور ارائیوں کے درمیان خانہ جنگی ہو جانی تھی۔“ یاد رہے کہ ظہیر سلیمی خود بھی ارائیں تھے۔

اشرف یوسفی عموماً افضال نوید کے ساتھ کیری ہوم آتے تھے۔ دونوں کے درمیان گہری دوستی تھی۔ افضال نوید کا تعلق چنیوٹ سے تھا اور وہ فیصل آباد کی ایک مل میں ملازمت کرتے تھے۔ اشرف یوسفی الائیڈ بینک میں ملازم تھے۔ شام کو شہر کے اکثر ادبا کیری ہوم پہنچ جاتے تھے۔ چوں کہ حلقہ اربابِ ذوق کے اجلاس یہاں ہوتے تھے اس لیے اسے پاک ٹی ہاؤس لاہور کا درجہ حاصل تھا۔

کشور ناہید سمیت لاہور کے کئی ادیبوں کو پہلی بار کیرم ہوم میں دیکھنے اور سننے کا موقع ملا۔ ضیاء الحق کے مارشل لاء کا عروج تھا اور شعراء مزاحمتی شاعری کر رہے تھے۔ حلقہ کے ایک اجلاس میں ڈاکٹر وحید احمد نے نظم ”کھلونے“ پڑھی اور بے پناہ داد حاصل کی تھی۔

اشرف یوسفی کچھ عرصہ بسلسلہ ملازمت سکھر چلے گئے اور جلد ہی لوٹ آئے۔ اس دوران میں انھوں نے بہت کچھ تازہ کہا۔ ایک غزل کا شعر ملک کے طول و عرض میں ان کی پہچان بن گیا تھا۔

یہ شہر چھوڑنا ہے مگر اس سے پیشتر
اس بے وفا کو ایک نظر دیکھنا بھی ہے

ان کا پہلا مجموعہ ”ایک پیالہ پانی“ شائع ہوا اور اس کی تقریب رونمائی سیرینا میں منعقد ہوئی۔ میں نے ان پر نظم لکھی۔ کئی دوستوں نے مضامین پڑھے۔ فن و شخصیت پر سیر حاصل گفتگو ہوئی۔

ریڈیو فیصل آباد پر ادبی پروگرام اور مشاعرے میں شعرا کو مدعو کیا جاتا تھا۔ معمولی اعزازیہ ملتا تھا اس لیے شعرا پروگرام میں شرکت کے لیے خاصی تگ و دو کرتے تھے۔ مجھے یاد ہے کہ ایک مشاعرے کی نظامت میرے ذمے تھی۔ ایک شاعر نے مجھے کہا کہ اشرف یوسفی میرا شاگرد ہے، اسے مجھ سے پہلے پڑھانا ہے۔ میری لسٹ میں اشرف یوسفی کا نام استاد شاعر کے بعد درج تھا۔ میں نے اشرف یوسفی سے استفسار کیا تو کہنے لگے ”زندگی بھر اس کمزور لمحے کو بھگتنا پڑے گا جب میں نے اس شاعر کی شاگردی کی تھی۔ “ امر واقع یہ ہے کہ شاگرد اپنے فنی سفر میں استاد سے بہت آگے دکھائی دیتا تھا۔

ہمیں ریڈیو سے دو چار سو کا کراس چیک ملتا تھا۔ قریبی دوستوں نے اس کا آسان حل یہ نکالا کہ اشرف یوسفی کو چیک دے کر پیسے لے لیتے تھے۔ اشرف یوسفی اسے اپنے اکاؤنٹ میں جمع کروا لیتے تھے۔ مجھے یہ سہولت حاصل کرنے کا کئی بار موقع ملا۔

اشرف یوسفی دوستوں پر بے دریغ خرچ کرتے تھے۔ کڑاہی گوشت ان کی پسندیدہ ڈش تھی اور شاید اسی وجہ سے دل کے عارضے میں مبتلا ہوئے۔ انھیں دیسی ادویات سے خاص رغبت تھی۔ ادویات خود تیار کرتے تھے اور دوستوں کو گفٹ بھی کرتے تھے۔ استفادہ کرنے والوں کی فہرست میں کئی بزرگ معززین بھی شامل ہیں۔ اس نیم حکمت کے اعجاز سے متعلق تفصیلات معلوم نہیں ہیں۔

ایک دن میں اشرف یوسفی صاحب کے گھر گیا تو مسز یوسفی کہنے لگی ”میں ان پانچوں بچوں کے ہاتھوں بے حد تنگ ہوں“ میں نے گننے کے بعد کہا کہ آپ کے تو چار بچے ہیں۔ فوراً جواب دیا ”ایک میری ساس کا بچہ ہے“

پیپلز پارٹی کے رہنماؤں سے تعلق خاطر کی بنا پر گلی محلے میں انھیں عزت و احترام کی نظر سے دیکھا جاتا تھا۔ ایک پنچایت میں انھیں مدعو کیا گیا۔ وہ ایک فریق کے حامی تھے۔ پنچایت کے دوران تلخ کلامی ہوئی اور لڑائی شروع ہو گئی۔ فریق بھاگ نکلا اور اشرف یوسفی قابو میں آ گئے۔ سخت چوٹیں آئیں اور انھیں ہاسپٹل جانا پڑا۔ میں تیمارداری کے لیے گیا تو پوچھا کہ آپ کیوں نہیں بھاگے؟ کہنے لگے ”میں شاعر ہوں، میں کیسے بھاگ سکتا تھا۔“

حلقہ اربابِ ذوق کیری ہوم بند ہونے کے بعد محفل ہوٹل منتقل ہو گیا اور ازاں بعد تھری سٹار ہوٹل میں اجلاس ہونے لگے۔ اشرف یوسفی اکثر اجلاس میں شریک ہوتے تھے۔ اجلاس کے بعد تھری سٹار ہوٹل کی چھت پر الگ نشست ہوتی تھی۔ اس نشست کے روح و رواں فضل حسین راہی ایم پی اے تھے۔ وہ سیاست میں فتح و شکست کے بعد مستقل تھری سٹار میں نشست کرتے تھے۔

یوسفی تصوف سے خاص رغبت رکھتے تھے۔ میں نے تصوف کے موضوع پر ان سے نہایت خوبصورت گفتگو سنی ہے۔ وہ بیعت بھی تھے اور اپنے پیر صاحب کا بے حد احترام کرتے تھے مگر وہ عملی تصوف سے مبرّا تھے۔ پیر صاحب غالباً ان کے آبائی علاقے گوگیرہ میں مقیم تھے۔ اکثر و بیشتر ان کے بارے میں باتیں سنایا کرتے تھے۔ مجھے اعتراف ہے کہ میں نے ان سے تصوف کے حوالے سے بہت کچھ سیکھا اور جانا ہے۔

ان دنوں میں یونیورسٹی آف سرگودھا لائل پور کیمپس میں صدر شعبہ اردو کی حیثیت سے خدمات انجام دے رہا تھا۔ یونیورسٹی کے سالانہ مشاعرہ میں اپنے ایک شاگرد کو مدعو نہ کرنے پر سخت ناراض ہوئے۔ میں نے شاگرد کو بھی بلا لیا۔ اگلے سال شاگرد کو سالانہ مشاعرے پر بلایا تو دوبارہ ناراض ہوئے کہ اسے کیوں بلایا ہے؟ اس دوران میں انھوں نے شاگرد سے لاتعلقی اختیار کر لی تھی۔ جب میں نے شاگرد کی زبان سے یوسفی صاحب کے خلاف گفتگو اور شعر سنے تو مجھے اندازہ ہوا کہ یوسفی صاحب چاک پر کوزہ بنانا چاہتے تھے مگر مٹی کی تاثیر میں لوٹا بننا لکھا تھا۔

ان کی ایک غزل ”ردیف دروازے سے“ بے حد مقبول ہوئی۔ بعض لوگوں نے اس زمین میں غزل کہنے کی کوشش کی جس پر یوسفی صاحب سخت ناراض ہوئے۔ میں نے کہا زمین کسی کی ملکیت نہیں ہوتی ہے۔ لکھنے دیں، ان کی اپنی غزل ہے۔ کہنے لگے ”مسئلہ زمین کا نہیں ہے، دروازے کا بے، میں نے گھر کا دروازہ بنایا تھا انھوں نے باتھ روم کا دروازہ بنا دیا ہے“

وہ بے پناہ تخلیقی صلاحیتوں کے مالک تھے۔ میں نے انھیں ہر گھڑی شعر کی جستجو میں دیکھا ہے۔ وہ مکمل شاعر تھے۔ چند اشعار ملاحظہ کیجیے۔

ہزار حیلہ و تدبیر ہو قبائے حیات
کہیں کہیں سے تو پھر بھی رفو نہیں ہوتی
ہم لوگ شہر۔ حرف و معانی کے لوگ تھے۔
چوپال کے نہیں تھے، کہانی کے لوگ تھے
چھن کے آتی ہے جو یہ روشنی دروازے سے
کیا مجھے دیکھ رہا ہے کوئی دروازے سے
ایک روزن میں پڑی آنکھ سے کھلنے لگے ہیں
ایک دیوار کے اندر کئی دروازے سے
رات بھر سسکیاں لیتا ہے کوئی شخص یہاں
کبھی دیوار سے لگ کر کبھی دروازے سے
موج خوشبو کو گزرنے کی اجازت نہ ملی
پھول ٹکرا گئے اک آہنی دروازے سے
تو نے مہتاب نکلتے ہؤئے دیکھا ہے کبھی
اور مہتاب بھی ایسے، کسی دروازے سے
چراغوں کو غلط فہمی ہوئی ہے
ہوا ساکت نہیں سہمی ہوئی ہے
کل رات میں تنہائی میں دل کھول کے رویا
پھر یوں ہوا دیوار سے بازو نکل آئے
پتھر کے شب و روز میں رکھا گیا ہم کو
شیشے کے بنائے گئے اجسام ہمارے
اب ترا نام بتانا نہیں پڑتا سب کو
لوگ کہتے ہیں کہ ہاں ہاں! وہی اچھا! اچھا!
یہ کن کے ساتھ چلی تھی ہوا اداسی کی
ازل کے دن سے ہوئی ابتدا اداسی کی
پھر ایک صبح پرندوں کی چپ نہ دیکھی گئی
قفس کو کھول کے میں نے رہا اداسی کی
اپنے باہر سے لپٹ کر کبھی رو لیتا ہوں
تنگ آیا ہوا اندر کی پریشانی سے
موج دریا تو نہیں دل ہے مرے دوست یہاں
جو اترتا ہے نکلتا نہیں آسانی سے
کس قرینے سے اترتا ہے مری خلوت میں
گل کسی لب سے، ستارہ کسی پیشانی سے
آغاز صبح ٹوٹے ہوئے خواب سے کیا
اور شام ایک بجھتے ستارے پہ چھوڑ دی
موج اٹھ اٹھ کے کنارے کی طرف آتی تھی
میں جو ڈوبا ہوں تو دریا میں سکوں ہے، یوں ہے

میں ان کی سالگرہ کا خاص خیال رکھتا تھا۔ ایک برس اشرف یوسفی صاحب کو سالگرہ کی مبارک باد دینے کے لیے پوسٹ لکھ رہا تھا۔ پوسٹ نظم میں ڈھل گئی، ”ایک پیالہ پانی“ یوسفی صاحب کا پہلا شعری مجموعہ ہے۔ نظم ملاحظہ کیجیے۔

صبح کی کرنوں جیسا پانی
دریا میں ہے اُجلا پانی
اک چڑیا نے چونچ کو رگڑا
اور چٹان سے نکلا پانی
۔
اک صحرا ہے، پیاسا دل کا
ہاتھ میں ”ایک پیالہ پانی“ *
۔
نیند کی گولیاں، نظم اُدھوری
اور تپائی پر تھا پانی
۔
دل میں ہی موجود کہیں ہیں
جنگل، بادل، صحرا، پانی
۔
جانے والا دیکھتا کب ہے
کن آنکھوں میں ٹھہرا پانی
۔
راگ الاپ کے یوسفی صاحب!
روک دیا ہے بہتا پانی
۔
شاہد اشرف، اللہ رکھے
جب تک بھی ہے دانا پانی
۔

اشرف یوسفی جناب ظفر اقبال سے گہرا لگاؤ رکھتے تھے۔ ان کا نام احترام سے لیتے تھے اور انھیں جدید اردو غزل میں سنگ میل کی حیثیت دیتے تھے۔ اکثر اوقات ظفر اقبال سے ملاقاتوں کا احوال بھی بیان کرتے تھے۔ جناب ظفر اقبال نے ان کی شاعری پر اپنے مزاج کے مطابق تنقید و تحسین سے بھرپور کالم بھی لکھے۔

ایک سال مجھے ان کے ساتھ بحیثیت جوائنٹ سیکرٹری کام کرنے کا موقع بھی ملا۔ انھوں نے بحیثیت سیکرٹری مثالی کردار ادا کیا۔ یعنی بہت کم اجلاس میں شریک ہوئے اور میں اطمینان سے سارا سال اجلاس کرتا رہا۔ ان دنوں وہ ریٹائرمنٹ کے بعد ایک ہوٹل بنا رہے تھے۔ مجھے یاد ہے کہ پہلی بار تھری سٹار میں نوٹس بورڈ بھی یوسفی صاحب بنا کر لائے تھے جس پر پروگراموں کی تفصیل اور اطلاعات آویزاں کی جاتی تھی۔

شاید اسی برس انھوں نے اپنی شہرہ آفاق نظم ”سحر زادی“ لکھ کر نظم گو شعراء کی توجہ حاصل کی تھی۔ یہ نظم زبان و بیان اور اسلوب و اظہار کی بنا پر جدید اردو نظموں میں فخر سے پیش کی جا سکتی ہے۔ اس نظم پر حلقہ اربابِ ذوق کا خصوصی پروگرام بھی منعقد ہوا۔ ”بیل اس دریچے کی“ اشاعت سے اشرف یوسفی کا سفر مزید آگے بڑھا۔ ”خواب تہ آب“ اس سفر کا نقطۂ عروج قرار دیا جا سکتا ہے۔ ”خواب تہ آب“ کا مسودہ مجھے دیکھنے کا موقع ملا۔

کہنے لگے ”جہاں شعری مسائل نظر آئیں، بے دریغ کاٹ دینا۔ میں ہر صفحے پر قطع و برید کرتا رہا۔ ایک غزل کو کتاب سے نکالنے کا مشورہ بھی دیا۔ مسودہ واپس کیا تو اس کو دیکھ کر ان کے چہرے کا رنگ بدلنے لگا۔ غزل کے بارے میں پوچھا کہ اسے کیوں نکال دوں؟ میں نے جواب دیا“ کمزور سی غزل ہے، نکال دینے میں کیا حرج ہے؟ کہنے لگے ”نہیں نکالوں گا“ میں نے استفسار کیا تو غصے میں گویا ہوئے ”میری یہ کمزور غزل بھی تمھاری ساری شاعری پر بھاری ہے“

جب انھوں نے بنک کی ملازمت کو گولڈن ہینڈ شیک کے ذریعے خیر باد کہ دیا تو میں نے ان سے پوچھا ”اب کیا کریں گے؟ انھوں نے فورا جواب دیا۔“ ملازمت کی وجہ سے شاعری کو زیادہ وقت نہیں دے سکتا تھا۔ اب صرف شاعری کروں گا ”وہ سراپا شاعر تھے۔ کم و بیش ہر ہفتے ملاقات رہتی تھی۔ چند برسوں سے وہ دل کی بیماری میں مبتلا تھے۔ علاج مسلسل جاری تھا۔ میرا خیال ہے وہ زیادہ پرہیز نہیں کرتے تھے۔ دوستوں کی مجلس میں خوش رہتے تھے۔

میں ان کی کئی تخلیقات کا پہلا سامع بھی ہوں۔ ناراض ہوتے تھے اور گویا ہمیشہ کے لیے تعلقات ختم کر لیتے تھے۔ مقصود وفا سے ناراضی کی تفصیل سے قطع نظر انھوں نے اپنے بیٹے پھول کے سپین جانے کے بعد مقصود وفا کے گھر کے قریب ایک کوٹھی خرید لی تھی۔ میں نے کہا کہ اچھا ہوا، اک گھر بنا لیا ہے ترے گھر کے سامنے، وہ مسکرا کر خاموش ہو گئے۔ گزشتہ کئی دہائیوں میں مجھ سے صرف ایک بار ناراض ہوئے اور مجھے منانے کے لیے سخت تگ و دو کرنا پڑی۔

بے انتہا زود رنج تھے۔ فیس بک پر اکثر تخلیقات پر گفتگو کرتے ہوئے الجھ پڑتے تھے۔ جب بات بگڑ جاتی تو مجھے فون کر کے کہتے“ ذرا فلاں پیج پر آنا، میرا پھڈا پڑ گیا ہے ”طبیعت خراب ہوئی تو فون اٹینڈ نہ ہوا۔ سخت تشویش میں علی امام سے بات کی تو اس نے انتہائی سیریس صورت حال سے آگاہ کیا۔ سیریس تو وہ کئی برس تھے مگر خاطر میں نہ لاتے تھے۔ اکثر چھوٹی چھوٹی باتوں پر ناراض ہو جاتے تھے۔ یوں ایک قد آور شاعر اور مخلص دوست شہر کے ادباء سے ہمیشہ کے لیے ناراض ہو گیا۔

 

Facebook Comments HS