تنہا۔ سابق مشرقی پاکستان پر لکھا گیا اثر انگیز ناول:قسط نمبر 16
یہ میرے بابا ہیں۔
سرجیکل وارڈ کے اس کمرے میں جہاں تیز دواؤں کی بو پھیلی تھی۔ انہیں اُجلے بستر پر سفید پٹیوں میں جکڑے جکڑائے دیکھ کر ابھی اسے اپنی آنکھوں پر اعتبار نہ تھا۔
” کیا انہیں ایسی حالت میں دیکھنے کی مجھے توقع نہ تھی؟“
سوچتے ہوئے وہ ان پر جھکا، ان کے ہاتھ اس نے پکڑنے چاہے، پر وہ مجروح تھے۔ ان کے سینے پر اس نے سر رکھنا چاہا، پر وہ زخمی تھا۔ اس کا دل بھاری ہو رہا تھا، ایک نظر اس نے دادو پر ڈالی۔ وہ ان کے سرہانے کھڑے تھے۔ ان کی آنکھیں لال بوٹی ہوئی جار ہی تھیں۔ شاید یہ آنسوؤں کو روکنے کا نتیجہ تھا۔
” تم نے انہیں روک لیا ہے۔ بہنے کیوں نہیں دیتے۔ دادو! تاکہ تمہارے دل پر پڑا دکھ کا یہ بوجھ ہلکا ہو جائے۔“
وہ خود سے بولا اور اپنی ماں کو دیکھا جو زار و قطار رو رہی تھی۔
اس نے اپنے دانت سختی سے کاٹے۔ تب ملاقات ختم ہونے کی گھنٹی بجی اور وہ بوجھل قدموں سے اپنی ماں اور دادو کے ساتھ باہر آ گیا۔
وہ صرف چھ دن ہسپتال باقاعدگی سے گیا اور اس کے بعد اس باقاعدگی میں کمی شروع ہو گئی۔ لوہے کے بستروں پر پڑے بے بس انسانوں کو دیکھ کر اس کا دل بہت گھبراتا۔ ان کی موٹی موٹی آنکھوں میں لہریں مارتا یاس اسے تڑپا دیتا۔ جتنا وقت وہ وہاں رہتا، کڑھتا اور اپنا خون پیتا۔ یوں بابا اب پہلے سے بہت بہتر تھے۔ یہ اطمینان بھی دل کو تھا۔
پر ایک اور وجہ بھی تھی۔ وہ اپنے وقت کا بیشتر حصہ اب باہر گزارنے لگ گیا تھا۔ ڈھاکہ کی سیاسی فضا بہت کشیدہ تھی۔ بنگلہ کو قومی زبان بنانے کی تحریک خاصا زور پکڑ گئی تھی۔
اور چند دن بعد دادو چونکے۔ وہ دن بھر غائب رہتا۔ رات کو دیر سے آتا۔ دادو نے اس سے پوچھا۔
”اجتبیٰ الرحمن! تم اپنے بابا کو دیکھنے ہسپتال نہیں جاتے؟“
اور وہ بولا۔
”کیا جاؤں! بابا کو تو اب آرام ہی ہے۔ وہاں جاکر من بہت گھبراتا ہے۔“
اور باہر جو کچھ ہو رہا تھا دادو اس سے کچھ بے خبر نہ تھے۔ آئے دن جلوس نکلتے اور گولی چلتی، نوجوان طبقہ بہت سرکشی پر اترا ہوا تھا۔ ان حالات میں اس جوان خون کے یوں ہنگاموں میں الجھ جانے پر وہ بہت فکر میں پڑ گئے تھے۔
انہوں نے بہو اور بیٹے سے بات کی اور بیٹا جو ابھی بستر پر ہی پڑا تھا۔ پریشانی سے بولا۔
” بابا! آپ اسے فوراً لے جائیے۔ یہاں جانے کیا ہو؟ میری اب اتنی فکر نہ کریں۔ قدرت نے بچا لیا ہے ویسے بھی دھان کی بوائی کا وقت بہت قریب ہے اور اس کی پڑھائی کا حرج بھی ہو رہا ہے۔“
او رجب انہوں نے اسے ساتھ چلنے کے لئے کہا تو اس نے تعجب سے انہیں دیکھا۔
”لیجیے ابھی سے دادو، آپ بھی کمال کرتے ہیں بابا کو آرام تو آنے دیں۔“
”وہ اب ٹھیک ہے۔ پیچھے تمہاری دادی ماں اکیلی ہے۔“
پر وہ جانے کے لئے ہر گز تیار نہ تھا۔ تیار ہوتا بھی تو کیسے۔
اس کی تو یہاں آ کر آنکھیں کھل گئی تھیں۔ کام کرنے کا اتنا وسیع میدان، چند دنوں میں ہی اس نے سینکڑوں لوگوں سے راہ رسم پیدا کر لی تھی۔ وہ ان سب لڑکوں سے بھی مل چکا تھا۔ جو باری سال آئے تھے۔ ان کے ہمراہ چار پانچ بار اس نے ڈھاکہ کی مختلف جگہوں پر تقریریں بھی کیں اور اُن کا اصرار تھا کہ اسے اب ہرگز واپس نہیں جانا چاہیے کیونکہ ان کٹھن لمحات میں جنتا کو اس کی ضرورت ہے۔
اور جب دادو نے اسے سمجھانا چاہا تو وہ تلملاتے ہوئے بولا۔
” میرا خیال ہے دادو! بنگلہ کو قومی زبان بنانا آپ کی بھی تمنا ہے۔“
”تم ٹھیک کہتے ہو پر میں تعمیری جدوجہد پر یقین رکھتا ہوں۔“
”تو یہ کیا تخریبی ہے؟“ وہ قدرے غصے سے بولا۔
”اتنی تباہی جو مچ رہی ہے۔“ انہوں نے رسان سے کہا۔
”وہ تو مچے گی۔ ڈھاکہ کی ارسٹو کریسی اور حکمران کلاس کو بنگلا سے کوئی واسطہ نہیں۔ ویسٹ پاکستانی اس کی جون اور ہیئت (رسم الخط) بدل دینے کی بات کریں یا اسے کھڈے لائن لگا دینے کا سوچیں، انہیں صرف اپنی کرسیوں کی فکر ہے۔ یاد رکھیے دادو! تباہی کے بغیر حصول مقصد میں کبھی کامیابی نہیں ہوئی۔
اور وہ بوڑھا وجود اس کی گفتگو سن کر دنگ رہ گیا تھا۔ دیر بعد صرف اتنا ہی کہہ سکے۔
” مجھے تمہاری رائے سے اتفاق نہیں۔ یہ ہمارا اپنا ملک ہے۔ یہ حکومت ہماری اپنی ہے۔ ہم پُر سکون طریقے سے بھی اپنا مطالبہ منوا سکتے ہیں۔“
”میں پوچھتا ہوں تو اس مطالبہ کو مان کیوں نہیں لیا گیا؟ کتنے سال ہو گئے ہیں تحریک کو چلتے ہوئے۔ یہ پکڑ دھکڑ، سنسناتی گولیاں، یہ سب کس لئے ہیں؟ دادو! میں حیران ہوں آپ کتنی معصوم باتیں کرتے ہیں!“
اس معمر وجود نے اس پر گہری نظر ڈالی، ان کے سامنے کھڑا پانچ فٹ گیارہ انچ کا لڑکا انہیں بے وقوف سمجھ رہا تھا اور سمجھانے کی کوشش کر رہا تھا۔
وہ خفیف سا مسکرائے اور خاموش ہو گئے کہ اس کے سوا اب کوئی اور چارۂ کار نہ تھا۔
جاری ہے۔


