مریم کی مرہم اور چراغوں کے گرد بڑھتا ہوا اندھیرا


پاکستان میں تعلیم کو قوم کی ترقی کا ستون کہتے ہوئے حکمران اور دانشور تھکتے نہیں مگر آج تک کسی حکمران نے صحیح طرح تعلیمی شعبے کی طرف توجہ نہیں دی صرف اشتہارات تک محدود ہیں ہاں وزیر اعظم پاکستان جب وزیر اعلیٰ پنجاب ہوا کرتے تھے تعلیمی شعبہ جات کے لیے متحرک دکھائی دیتے تھے میاں محمد شہباز شریف نے بطورِ وزیر اعلیٰ پنجاب دانش سکول سسٹم متعارف کرایا اب وہ دانش یونیورسٹی کے قیام کا اعلان کرچکے ہیں مگر بدقسمتی سے اس ستون کو مضبوط کرنے والے اساتذہ خود کمزور بے یار و مددگار اور استحصال کا مسلسل شکار ہیں خاص طور پر نجی تعلیمی اداروں میں۔

صوبہ پنجاب کے نجی کالجز اور اسکولوں میں کام کرنے والے اساتذہ کی حالت زار اس حقیقت کی عکاسی کرتی ہے کہ تعلیم کو کاروبار میں بدل دیا گیا ہے نجی کالجز مالکان کو کھلی چھٹی دے دی گئی ہے وہ سیاہ سفید کے مالک ہیں اور اساتذہ کو ”مشین“ سمجھ کر استعمال کر رہے ہیں اگر حکومت اور معاشرہ چاہتا ہے کہ ملک ترقی کرے ہماری نئی نسل باشعور اور ہنر مند بنے تو اساتذہ کو استحصال سے بچانا ہو گا کیونکہ بچہ روزانہ پانچ سے چھ گھنٹے اساتذہ کی تربیت میں رہتا ہے اساتذہ بچے کی ہر حوالے سے رہنمائی کر رہے ہوتے ہیں جب استاد خود استحصال کا شکار ہو گا تو وہ کیسے بچے کی تخلیقی صلاحیتوں کو اجاگر کرنے میں کامیاب ہو گا؟

چند روز پہلے کی بات ہے کہ ایک نجی تعلیمی ادارے میں پڑھانے والے استاد کی زندگی صرف چند سیکنڈ میں ختم ہو گئی اس کی لاش کو ورثاء نے کیسے وصول کیا ہو گا؟ وہ ماں کس حال میں ہوگی؟ بہنوں نے کیسے بھائی کی لاش پر بین کیے ہوں گے؟ دنیا کی اذیت سے راحت پانے والے شخص کی بیوہ کس حالت میں ہوں گی؟ ہم نے اور ہمارے بے رحم معاشرے نے کبھی یہ سوچا؟ کہ آج استاد کس حالت میں ہے یہ چند سیکنڈ حقیقتاً میں برسوں کی خاموش اذیت، ذہنی دباؤ، مالی عدم تحفظ اور معاشرتی بے حسی کا نچوڑ تھے۔

سوال یہ ہے کہ آخر ایسا کیا ہوا کہ ایک تعلیم یافتہ، مہذب اور قوم کا معمار چل بسا؟ اس کا جواب ہمیں اُس نظام کی بدنصیبی میں ملتا ہے جو ”نجی تعلیمی شعبہ“ کہلاتا ہے مگر عملی طور پر یہ نجی تعلیمی ادارے کاروبار کی شکل اختیار کر چکے ہیں۔

ایک اور تلخ حقیقت یہ ہے کہ جنوبی پنجاب کے نجی تعلیمی اداروں میں پڑھانے والے اساتذہ کی تنخواہیں شمالی پنجاب کے اساتذہ کے مقابلے میں نہ صرف کم ہیں بلکہ آدھی ہیں اس کے علاوہ اضافی کام کا معاوضہ بھی آدھا یا بالکل نہیں دیا جاتا یہ شکایات پڑھے لکھے طبقے کے اندر احساس محرومی پیدا کر رہی ہیں۔

صوبہ پنجاب کا ایک بڑا تعلیمی گروپ اگر لاہور میں ایک لیکچر کا اضافی معاوضہ 800 روپے دے رہا ہے تو وہ گروپ جنوبی پنجاب کے اضلاع میں 400 روپے اضافی لیکچر کے دے رہا ہے۔

اس کے علاوہ اکثر اداروں میں کنٹریکٹ لیٹر یا ملازمت کی کوئی گارنٹی نہیں دی جاتی جب چاہیں نکال دیتے ہیں جب چاہتے ہیں تنخواہ روک لیتے ہیں یا کام کا دائرہ بڑھا دیتے ہیں۔

نجی کالجز میں اکثر اساتذہ 30000 سے 40,000 ہزار روپے ماہانہ تنخواہ پر کام کرنے پر مجبور ہیں چاہے ان کے پاس ایم فل یا پی ایچ ڈی جیسی اعلیٰ تعلیمی اسناد ہوں ان کے لیے نہ سوشل سیکیورٹی ہے نہ ہی میڈیکل نہ ہی کسی قسم کی پروفیشنل تربیت چھٹی مانگنا جرم بن جاتا ہے اور آواز بلند کرنا نوکری سے ہاتھ دھو بیٹھنے کے مترادف ہے جنوبی پنجاب کے ایک بڑے نجی تعلیمی ادارے میں ایک فرد نے گزشتہ 8 سال سے مکمل اجارہ داری قائم کیے ہوئے ہے نہ کوئی پوچھنے والا، نہ کوئی نگرانی کرنے والا اور نہ کوئی آواز سننے والا ہے تعلیمی شعبے کے سرکاری ذمہ دار صرف فوٹو سیشن تک محدود ہیں حتی کہ ان اداروں کے مالکان کو بورڈ انتظامیہ میٹرک کے داخلے کے فارم پر درج امید وار کے فون نمبر تک دے دیتی ہے نجی تعلیمی اداروں کی انتظامیہ اساتذہ کو حکم دیتی ہے ان فون نمبر پر کال کر کے اپنے کالج میں داخلے کی دعوت دیں یہ بھی کام اساتذہ سے لیا جاتا ہے کہ آپ فون کر کے انہیں داخلہ کا کہیں انہیں داخلے کے لیے کسی نہ کسی طرح راضی کریں۔

وزیر اعلیٰ پنجاب اور وزیر تعلیم پنجاب سے درخواست ہے کہ اس صورت حال کا فوری نوٹس لیں اور درج ذیل اقدامات پر سنجیدگی سے غور کریں نجی تعلیمی اداروں میں پڑھانے والے اساتذہ کے لیے چیک اینڈ بیلنس کا نظام متعارف کروائیں تمام نجی تعلیمی اداروں کے لیے ایک باقاعدہ میکانزم بنایا جائے جس میں تنخواہوں، کام کے اوقات، اضافی لیکچرز کا معاوضہ اور ملازمت کے تحفظ کے واضح قوانین ہوں اساتذہ کے تحفظ کے لیے ایک شکایت ایپ لانچ کی جائے جس کے ذریعے اساتذہ اپنی شکایات درج کرا سکیں حکومت ایک ”اساتذہ شکایت ایپ“ لانچ کرے جس پر اساتذہ خفیہ طور پر اپنے ادارے کی شکایات درج کرا سکیں اس ایپ سے ڈیٹا حاصل کر کے کارروائی ممکن ہو سکے گی۔

ریجنل سروے اور رپورٹنگ شمالی و جنوبی پنجاب میں اداروں کا تنخواہوں اور ورک لوڈ کے حوالے سے سالانہ سروے کیا جائے تاکہ غیر مساوی سلوک کو ختم کیا جا سکے۔

اگر ہم چاہتے ہیں کہ ہمارے طلبہ بہتر تعلیم حاصل کریں تو ہمیں پہلے اساتذہ کی فلاح و بہبود کو یقینی بنانا ہو گا حکومت کی یہ ذمہ داری ہے کہ وہ صرف سرکاری اداروں میں نہیں بلکہ نجی اداروں میں بھی اساتذہ کے حقوق کی حفاظت کرے اگر آج اساتذہ کی فریاد نہ سنی گئی تو کل علم کے یہ چراغ بجھ جائیں گے۔

Facebook Comments HS