جب بھوک سوال چھین لے: تاریخ کا سبق


دنیا کی تاریخ ہمیں یہ سکھاتی ہے کہ طاقتور طبقے ہمیشہ عوام کو قابو میں رکھنے کے لیے دو بنیادی ہتھکنڈے استعمال کرتے رہے ہیں : ”بھوک“ اور ”خوف“ ۔ جب انسان بھوک کی شدت میں مبتلا ہو، تو وہ اپنی آزادی، حق، انصاف اور سوال کرنے کی صلاحیت کھو بیٹھتا ہے۔ اسی تناظر میں یہ بات صادق آتی ہے کہ: ”عوام کو صرف دو وقت کی روٹی میں الجھا دو، وہ کبھی تمہاری طاقت، چوری یا سازش پر سوال نہیں کریں گے۔“ یہ جملہ محض ایک سیاسی طنز نہیں، بلکہ ایک گہری سچائی ہے جو نہ صرف برصغیر بلکہ دنیا کے کئی خطوں میں دہرائی جاتی رہی ہے۔ تاریخی اور معاصر واقعات کی روشنی میں یہ حقیقت سامنے آتی ہے کہ کس طرح روٹی کی جنگ عوام کی فکری اور عملی آزادی کو دبا دیتی ہے۔

برصغیر کے عوام نے جب انگریز سامراج کے خلاف 1857 میں بغاوت کی، تو یہ صرف عسکری یا مذہبی بغاوت نہیں تھی، بلکہ اس کے پیچھے شدید معاشی دباؤ، بھوک، اور ظلم کا نظام تھا۔ کمپنی بہادر نے کسانوں سے زمینیں چھین کر اپنی مرضی کا نظام نافذ کیا، جس سے لاکھوں کسان فاقہ کشی کا شکار ہوئے۔ جب انسان کے پاس کھانے کو نہ ہو تو وہ یا تو بغاوت کرتا ہے، یا خاموش ہو جاتا ہے۔ 1857 میں جنہوں نے بغاوت کی، وہ بھوک سے آگے سوچنے کی ہمت رکھتے تھے۔ مگر اس کے بعد آنے والے سالوں میں عوام کو اتنا بدحال کر دیا گیا کہ وہ صرف زندہ رہنے کی جنگ میں مصروف ہو گئے۔ سوال کرنے کی ہمت چھن گئی۔

1947 کی تقسیم کے وقت لاکھوں لوگ اپنی جان، مال، زمینیں، اور روزگار کھو بیٹھے۔ ریلیف کیمپوں میں بھوک، بے گھر پن، اور بے روزگاری نے انہیں اس قدر مصروف کر دیا کہ آزادی کا مطلب فقط زندہ رہنا رہ گیا۔ جب انسان کا پہلا مقصد پیٹ بھرنا ہو، تو وہ حکومت کے جھوٹ، لیڈروں کے وعدوں، یا معاشرتی نا انصافی پر سوال کرنے کے قابل نہیں رہتا۔ یہ خاموشی حکمرانوں کے لیے سب سے بڑا ہتھیار بن جاتی ہے۔

1970 کی دہائی میں بھٹو نے عوام کے سامنے ”روٹی، کپڑا اور مکان“ کا نعرہ رکھا۔ اس نعرے نے اس دور کی تلخ حقیقت کو بیان کیا، کیونکہ اس وقت عوام کی اکثریت ان سہولیات سے محروم تھی۔ مگر اس نعرے نے بھی عوام کی توجہ ان کے وسیع تر سیاسی حقوق سے ہٹا کر صرف بنیادی ضروریات پر مرکوز کر دی۔ عوام کو وہی دیا گیا جس کے لیے وہ ترس رہے تھے، اور ان کے ہاتھوں سے طاقت اور سوال اٹھانے کا حوصلہ چھین لیا گیا۔

فرانس کے عوام بھی اسی بحران سے گزرے۔ ”روٹی نہیں ہے تو کیک کھا لیں“ کا طعنہ جب ملکہ میری انتونیٹ کی طرف منسوب کیا گیا، تو یہ عوام کے زخموں پر نمک چھڑکنے کے مترادف تھا۔ فرانسیسی کسان بھوک، ٹیکسوں، اور بے روزگاری کا شکار تھے۔ بالآخر وہ سڑکوں پر نکلے اور ایک پورے نظام کو الٹ کر رکھ دیا۔ یہ اس وقت ممکن ہوا جب بھوک نے انہیں اس حد تک پہنچا دیا کہ یا تو مرنا ہے یا انقلاب لانا ہے۔

19 ویں صدی میں برطانیہ کے صنعتی مراکز میں مزدور دن میں 14 سے 16 گھنٹے کام کرتے تھے، پھر بھی روٹی پوری نہیں ہوتی تھی۔ جب مزدوروں کو یونین سازی، اجتماعی سودے بازی، اور ہڑتالوں کی اجازت ملی، تب جا کر وہ اپنے حقوق کے لیے آواز اٹھا سکے۔ اس سے پہلے وہ صرف زندہ رہنے کی جنگ لڑ رہے تھے۔

1980 کی دہائی میں سوویت یونین کے عوام اشیاء خورد و نوش کی قلت، مہنگائی، اور ریاستی جبر سے تنگ آ چکے تھے۔ جب حکومت عوام کو بنیادی سہولتیں فراہم نہ کر سکی تو عوام نے نظام کو ہی مسترد کر دیا۔ یہ سب اُس وقت ممکن ہوا جب وہ صرف زندہ رہنے سے آگے بڑھ کر ”کیوں“ سوچنے لگے۔

آج بھی دنیا میں کئی ممالک ایسے ہیں جہاں عوام کو غربت، مہنگائی، قرضوں اور نوکریوں کے چکر میں اس قدر الجھا دیا گیا ہے کہ وہ نہ صرف اپنے سیاسی شعور سے محروم ہو چکے ہیں بلکہ اپنی زندگیوں کا کنٹرول بھی دوسروں کے ہاتھوں دے بیٹھے ہیں۔ پاکستان، بھارت، بنگلہ دیش جیسے ممالک میں غریب طبقات روز مرہ ضروریات کی تکمیل میں اتنے الجھے ہوتے ہیں کہ وہ بدعنوانی، ادارہ جاتی نا اہلی، یا اشرافیہ کے استحصال پر سوال نہیں اٹھاتے۔ یہی وجہ ہے کہ سیاسی وعدے ہمیشہ ”روٹی، پانی، بجلی“ تک محدود رہتے ہیں۔ کئی افریقی ریاستوں میں استعماری قوتوں کے بعد بھی عوام کو غربت کے شکنجے میں قید رکھا گیا۔ تعلیم، صحت اور روزگار کی کمی نے انہیں سوال کرنے کے لائق ہی نہیں چھوڑا۔

تاریخ ہو یا حال، ہر دور کے حکمران جانتے ہیں کہ اگر عوام کے پیٹ خالی ہوں، تو اُن کے ذہن میں سوال نہیں جنم لیتے۔ لہٰذا انہیں زندہ رہنے کی کشمکش میں اتنا مصروف رکھو کہ وہ سوچ نہ سکیں، سوال نہ کریں، اور احتجاج نہ کریں۔ ہمیں اس جال کو پہچاننا ہو گا۔ صرف دو وقت کی روٹی کو زندگی کی معراج نہ سمجھیں۔ جب انسان اپنے سوالوں سے محروم ہو جائے تو وہ غلامی کی طرف بڑھتا ہے۔ جب انسان زندہ رہنے کی جنگ لڑ رہا ہو، تو وہ آزاد ہونے کی جنگ لڑنے کے قابل نہیں رہتا۔ اب وقت آ گیا ہے کہ ہم بھوک کے دائرے سے نکل کر شعور کے دائرے میں قدم رکھیں۔ سوال کریں، نظام کو سمجھیں، اور اس کو بہتر بنانے کی کوشش کریں۔ یہی حقیقی آزادی کی پہلی شرط ہے۔

Facebook Comments HS