نسلوں کا پھل
بازار کی گہماگہمی میں آج کچھ عجب سا سکوت گھل گیا تھا۔ چھٹی کا دن عموماً گھر کے سودا سلف کی خریداری کا ہی ہوتا ہے۔ گرمی کی تپش اور حبس میں سبزی والے کے ٹھیلے پر رش لگا تھا اور میں جو ہمیشہ کی طرح جلدی میں تھا، اُسی عجلت سے اپنی سبزی کا تھیلا پکڑ کر پلٹا ہی تھا کہ پیچھے سے ایک غیر مانوس مگر پراعتماد سی نسوانی آواز نے مجھے رکنے پر مجبور کر دیا۔
”سر! ایک منٹ۔ بات سنیں!“ میں رُک گیا۔ میری نظر ایک پچیس چھبیس برس کی باوقار، خوش لباس لڑکی پر جا ٹھہری۔ اُس کے ساتھ ایک ادھیڑ عمر خاتون بھی تھیں شاید ماں ہوں گی۔ لڑکی نے ذرا جھجکتے ہوئے پوچھا ”سر! آپ کا نام عامر عباس ہے؟“ میں نے ہلکے سے اثبات میں سر ہلایا۔ وہ جیسے کسی خزانے کا سراغ پا گئی ہو۔ چہرے پر بچپن کی شرارت اور میچورٹی کا حوصلہ دونوں اکٹھے رقص کرنے لگے۔ ”سر! کوشش کریں مجھے پہچاننے کی۔“ میں نے اپنی یادداشت کو کرید ڈالا، کتنے ہی چہرے، آفس، کلاس رومز، گرد آلود رجسٹر، اسکول کی ٹوٹی دیواریں۔ سب آنکھوں کے سامنے سے گزرے مگر یہ چہرہ جیسے وقت کی دھند میں اوجھل تھا۔ میں نے ہلکی مسکراہٹ سے معذرت کی تو اُس نے اپنا تعارف کروا دیا ”سر! میں رضوانہ ہوں۔ آپ اُس وقت ہمارے سکول آیا کرتے تھے۔ آپ کے پہلے وزٹ سے ہی ہمارا سکول بدل گیا تھا۔
مجھے یاد ہے آپ نے ٹیچر کو انگریزی اور اردو گرامر بھی لازمی پڑھانے کا کہا تھا۔ پھر اگلے وزٹ میں آپ نے مجھ سے ’My School‘ کا مضمون سنا تھا۔ اور سر! آپ نے مجھے ایک سو روپیہ انعام دیا تھا! ”
مجھے لگا جیسے وقت تھم گیا ہو۔ اُسی چھوٹی سی بچی کی معصوم آواز کانوں میں گونجنے لگی۔ یاد آیا۔ سنہ 2010 کی بات ہے۔ وہ دو سال جب میں بیسک ایجوکیشن کمیونٹی سکول پراجیکٹ میں بطور ڈسٹرکٹ افسر تعینات تھا۔ پورے ضلع کے اسکول، کچے پکے گاؤں، چٹائیوں پر بیٹھے بچے، پرائمری کتابوں میں چھپے خواب۔ کتنی ہی رضوانائیں ہوں گی جنہیں لفظوں کی روشنی تھمائی تھی۔ کتنے ہی سو روپے کے انعام جو آج نسلوں کا خزانہ بن گئے ہوں گے۔
میں نے اُس لڑکی کو شفقت سے دیکھتے ہوئے پوچھا ”بیٹا! آج کل کیا کرتی ہو؟“ اُس کی نظریں جھک گئیں جیسے زمین کو اپنی محنت کا احوال سنا رہی ہوں ”سر! حال ہی میں پبلک سروس کمیشن کے ذریعے میرے آرڈر ہوئے ہیں بطور لیکچرار انگلش“ میرے ہونٹوں پر بے اختیار مسکراہٹ کھل اُٹھی۔ دل کے کسی کونے میں خود سے کہا ”اے عامر عباس! تم نے دو سال درخت نہیں، خواب بوئے تھے۔ وہ خواب اب سایہ بھی دیتے ہیں، پھل بھی بانٹتے ہیں۔ “ بازار کے وہ چند لمحات میرے لئے ایک گواہی بن گئے کہ استاد کا بویا ہوا لفظ وقت کی زمین پر کبھی رائیگاں نہیں جاتا۔ اید اسی لیے کہتے ہیں کہ تعلیم کا اجر نسلوں کو پالنے کی مثل ہے۔ کون جانتا تھا اُس چٹائی پر بیٹھ کر انگریزی کے دو بول رٹنے والی بچی آج انگریزی پڑھانے والی لیکچرار بن جائے گی؟ کون جانتا ہے کہ اُس دن دیے گئے سو روپے آج بھی اُس کے حوصلے میں جمع ہیں؟
سبق یہی ہے کہ اگر آپ تعلیم کی خوشبو بانٹیں گے تو یہ خوشبو لوٹ کر ضرور آئے گی۔ کبھی کسی بازار میں، کبھی کسی سڑک پر، کبھی کسی عدالت میں یا کلاس روم میں۔ کہ اُستاد کا کام درخت لگانا نہیں، بیج بونا ہے اور بیج اپنے موسم ڈھونڈ ہی لیتے ہیں۔


