نینو کار۔ پہیوں پر ایک خواب جو بکھر گیا

ایک دن ہندوستان کے سب سے بڑے صنعتی اور تجارتی ادارے کے روح رواں، رتن ٹاٹا بارش میں بھیگتے ہوئے ایک خاندان کو موٹر سائیکل پر سفر کرتا دیکھتے ہیں۔ باپ کے سامنے ایک بچہ، پیچھے ماں اور دوسرا بچہ۔ ان کا دل بے چین ہو جاتا ہے۔ یہی منظر ٹاٹا کے دل میں ایک سوال ابھارتا ہے : ”کیا کار صرف امیروں کا حق ہے؟“
اس سوال کا جواب دینے کے لیے جو سفر شروع ہوتا ہے، اس نے تاریخ میں ایک انوکھا باب رقم کیا۔ 2008 میں جنم لیے اس خواب کا نام رکھا گیا: ٹاٹا نینو (Tata Nano) ۔ دنیا کی سب سے سستی کار۔ اس خواب کو حقیقت میں ڈھالنے کے لیے ٹاٹا موٹرز کے پونا میں واقع ریسرچ سینٹر میں خاص ٹیم تشکیل دی گئی۔ اس ٹیم کی سربراہی ایک نوجوان انجینئر گریش واگ کے سپرد کی گئی۔ اس ٹیم میں درجنوں انجینئر اور ڈیزائنر شامل تھے۔ ڈیزائن کے حسن میں چار چاند لگانے کے لیے ٹاٹا موٹرز نے اٹلی کی مشہور آٹو موبائل ڈیزائن کمپنی آئیڈیا انسٹیٹیوٹ ٹورین Idea institute Turin کی مدد بھی لی گئی اس کے عالمی شہرت یافتہ ڈیزائینر جسٹن نوراک نے نینو کا بنیادی خارجی خاکہ تیار کر لیا۔ تمام پروٹو ٹائپ اور کریش ٹیسٹ پونا میں کیے گئے۔
ابتدائی طور پر ٹاٹا نینو کی پیداوار اتراکھنڈ کے پنت نگر کے پلانٹ سے شروع ہوئی۔ مگر اصل پیداواری مرکز سانند گجرات میں بنایا گیا۔ اس جدید فیکٹری کی سالانہ صلاحیت ڈھائی لاکھ گاڑیاں بنانے کی تھی۔
مارچ 2009 میں جب نئی دہلی کے پر گتی میدان میں منعقد ہونے والی آٹو ایکسپو میں ٹاٹا نینو کی رونمائی ہوئی تو جیسے ایک ہلچل سی مچ گئی۔ صرف ایک لاکھ روپے کی کار۔ یہ کوئی جادو تھا یا انقلاب؟ چھوٹی، شوخ، اور دلکش۔ یہ صرف ایک گاڑی نہیں تھی، غریب متوسط طبقے کے خواب کی تعبیر تھی۔ اس کا دو سلنڈر انجن چھ سو چوبیس سی سی کی طاقت رکھتا تھا۔ یہ گاڑی ایک لیٹر میں پچیس کلومیٹر چل سکتی تھی۔ غیر روایتی طور پر انجن کو گاڑی کے پچھلے حصے میں نصب کیا گیا تھا اور اس کی قیمت اس وقت ایک لاکھ بھارتی روپے رکھی گئی تھی۔ یہ ایک دو دروازوں والی مگر کشادہ کار تھی۔ نینو کو بھارت کی ”People ’s Car“ یعنی ”عوامی کار“ کہا جانے لگا۔ بالکل ویسے ہی جیسے جرمنی کی فوکس ویگن بیٹل کو ایک دور میں سمجھا جاتا تھا۔ نینو کی ابتداء دھوم دھام سے ہوئی۔ ہر کوئی اسے دیکھنے، خریدنے، اور چلانے کو بے تاب تھا۔ لیکن جلد ہی یہ خواب دھندلانے لگا۔ کچھ وجوہات نے اس عظیم منصوبے کو بحران میں دھکیل دیا۔
نینو عوام میں غیر مقبول ہونے لگی۔ ناکامی کی جانب پیش قدمی میں بنیادی وجوہات میں اس کے کمزور حفاظتی پہلو تھے جس میں ائر بیگ، پاور اسٹیئرنگ اور اے بی ایس بریک کا نہ ہونا سر فہرست تھا۔ ہائی وے پر کمزور رفتار، کارکردگی اور ہلکا ڈھانچہ بھی صارفین کو مطمئن نہ کر سکا۔ رہی سہی کسر مارکیٹنگ ٹیم نے پوری کر دی اس نے نینو کو ”غریبوں کی کار“ کا نام دے دیا اس نام سے اس کا تاثر ایسا بن گیا جیسے یہ صرف غریبوں کی کار ہو۔ جو مڈل کلاس کے لیے ناپسندیدہ ٹھہرا۔ کچھ ماڈلز میں آگ لگنے جیسے واقعات بھی رپورٹ ہوئے، جس نے جلتی پر تیل کا کام کیا اور عوام میں نینو کی ساکھ کو مزید متاثر کیا اور میڈیا میں بھی نینو کے متعلق منفی رجحان پیدا ہو گیا۔
مجموعی طور پر نینو کے دو لاکھ ستانوے ہزار یونٹ بنائے گئے اور 2018 آتے آتے نینو کی پیداوار تقریباً بند ہو چکی تھی۔ جون 2018 میں صرف ایک نینو کار بنائی گئی۔ کمپنی نے خاموشی سے پروڈکشن روک دی۔ ایک خواب جو چمک کے ساتھ ابھرا تھا، رفتہ رفتہ ناکامیوں کی دھند میں گم ہو گیا۔ یہ سچ ہے کہ یہ تجربہ پوری طرح کامیاب نہ ہوا، لیکن یہ بھی حقیقت ہے کہ ایسے خواب ہی مستقبل کے راستے دکھاتے ہیں۔ آج نینو مارکیٹ سے غائب ہو چکی ہے، لیکن کچھ شوقین افراد نے اسے الیکٹرک کار میں بدلنا شروع کر دیا ہے۔ کچھ اسے ایک نایاب ”یادگار“ سمجھ کر سنبھال کر رکھتے ہیں۔ اور کچھ کے لیے یہ صرف ایک کار نہیں، بلکہ رتن ٹاٹا کا وہ خواب ہے جو ایک دن بھیگا ہوا، مگر روشن تھا۔ نینو چلی گئی، لیکن وہ لاکھوں لوگوں کے لیے پہلا خواب تھی۔ کئی دیہی اور شہری خاندانوں نے پہلی بار ”اپنی کار“ کا ذائقہ چکھا۔ وہ خواب جو اس کے پہیوں پر سوار ہوا تھا۔ وہ اب بھی زندہ ہے۔


