پنجاب میں اقلیتوں کا مُقدمہ: ایک جائزہ


پنجاب اپنی بھرپور تاریخی ثقافت، ورثے اور صوفیانہ روایات کی تاریخ رکھتا ہے۔ یہ دھرتی صدیوں سے مختلف مذاہب اور تہذیبوں کا گہوارہ رہی ہے۔ سکھ مت کی جنم بھومی ہونے کے ساتھ ساتھ یہ خطہ ہندوؤں، مسیحیوں اور دیگر چھوٹی اقلیتی برادریوں کا مسکن بھی ہے۔ تاہم 1947 کی تقسیم نے اس خطے کے آبادیاتی اور مذہبی منظرنامے کو یکسر تبدیل کر دیا جس کے بعد اقلیتوں کی صورتحال ایک نئے تناظر میں سامنے آئی۔ پنجاب میں آج بھی مسیحی، ہندو، سکھ، اور دیگر چھوٹی اقلیتی برادریاں آباد ہیں۔ مسیحی صوبہ پنجاب کے تقریباً ہر شہر میں آباد ہیں اور ان کی تاریخی جڑیں اس خطے سے گہری وابستگی رکھتی ہیں۔

زیرِ نظر مضمون کا ماخذ سیمسن جاوید کی میزبانی میں کاسل کرسچن نیوز نیٹ ورک کی ایک فکری نشست ہے جس میں رکن صوبائی اسمبلی اعجاز عالم آگسٹین، ایڈووکیٹ اکمل بھٹی اور انسانی حقوق کے کارکن یوسف بینجمن نے اس اہم موضوع پر اظہارِ خیال کیا۔ نشست میں پنجاب میں اقلیتوں کو درپیش آئینی، قانونی، سماجی اور معاشی اور اندرونی مذہبی مسائل اور زمینی حقائق زیرِ بحث رہے۔

حالاتِ حاضرہ گواہی دے رہے ہیں کہ سیاسی میدان میں مسیحی اب حکومت کی ترجیح نہیں رہے، اب صاحبانِ اقتدار کی نظرِ کرم دیگر اقلیتوں پر ہے اور مسیحی نظامِ حکومت اور حکومتی عہدوں کے لائق نہیں سمجھے جانے لگے۔ مسندِ اقتدار پر بیٹھے فیصلہ ساز اس نتیجے پر کیوں پہنچے اس پر مکمل اظہاریہ درکار ہے۔ بہرحال مسیحیوں کے رد کیے جانے کی چند حالیہ مثالیں درجِ ذیل ہیں۔ (الف) ایک سوچی سمجھی منصوبہ بندی کے تحت قومی افراد شماری میں مسیحیوں کو اصل تعداد کی بجائے کم تعداد میں پیش کیا گیا۔ (ب) موجودہ صوبائی حکومت میں اقلیتوں کی صوبائی وزارت کے لئے ایک سکھ رکن اسمبلی کو ترجیح دے کر وزیر بنا دیا گیا۔ (ج) پوپ لیو کی تقریبِ حلف برداری میں کسی سیاسی مسیحی نمائندے کی بجائے چیئرمین سینٹ یوسف رضا گیلانی کی قیادت میں بھیجے گئے سرکاری وفد میں کسی مسیحی کو شامل نہیں کیا گیا۔ نیز سیاسی کارکنان سمیت مسیحی شہری دیگر شعبہ ہائے زندگی میں بھی حکومتی سطح پر ’رد‘ کیے جانے کے متعصبانہ رویے کا تجربہ کر رہے ہیں۔

اہانتِ دین کے الزامات پر مبنی پُرتشدد واقعات اور شہریوں کے قتل کے سانحات نے دہائیوں سے پنجاب کو اپنی لپیٹ میں لے رکھا ہے جیسا کہ شانتی نگر، سانگلہ ہل، کوریاں قصور، گوجرہ، جوزف کالونی لاہور اور کوٹ رادھا کشن میں شمع اور شہزاد اور سرگودھا میں نذیر مسیح کے قتل نے اقلیتی برادریوں میں عدم تحفظ کو جنم دیا ہے۔ یہ قوانین اکثر ذاتی دشمنیوں کو نمٹانے یا زمینوں پر قبضے یا دیگر سماجی معاملات کے ضمن میں ہتھیار کے طور پر استعمال ہوتے رہے ہیں جس کا خمیازہ بے گناہ افراد کو بھگتنا پڑتا ہے۔

مسیحیوں کو درپیش ایک سنگین مسئلہ کم عمر لڑکیوں کے اغوا اور جبری مذہب کی تبدیلی کا ہے۔ انسانی حقوق کی تنظیموں اور میڈیا رپورٹس کے مطابق، خاص طور پر پنجاب اور سندھ کے دیہی علاقوں میں، مسیحی لڑکیوں (اکثر نوعمر) کو جبراً اغوا کیا جاتا ہے، ان کا مذہب تبدیل کرایا جاتا ہے، اور پھر زبردستی بڑی عمر کے مردوں سے شادی کر دی جاتی ہے۔ یہ واقعات نہ صرف لڑکیوں بلکہ اُن کے خاندانوں کے لیے بھی شدید ذہنی اذیت اور معاشرتی عدم تحفظ کا باعث بنتے ہیں۔ اس سنگین مسئلے سے نمٹنے کے لیے موثر اقدامات کی ضرورت ہے۔

سماجی و معاشی سطح پر، اقلیتوں کو ملازمتوں میں تعصبات، تعلیم اور رہائش کے حصول میں امتیازی سلوک کا سامنا کرنا ہے۔ ان کی جائیدادوں اور عبادت گاہوں پر قبضے کے واقعات بھی عام ہیں۔ اس صورتحال کے باعث صوبے میں رہائش پذیر اقلیتیں عموماً بے چینی اور عدم تحفظ کا شکار رہتی ہیں۔

اسمبلیوں میں اقلیتوں کو نمائندگی مخصوص نشستوں کی بنیاد پر حاصل ہے، جن پر براہ راست عام انتخابات نہیں ہوتے بلکہ یہ نشستیں عام انتخابات میں بڑی سیاسی جماعتوں کی حاصل کردہ جنرل نشستوں کے تناسب سے ان جماعتوں کو الاٹ کی جاتی ہیں۔ اور پھر وہ جماعتیں اپنے امیدواروں کو نامزد کرتی ہیں۔ اس عمل کو بسا اوقات ”سلیکشن سسٹم“ بھی کہا جاتا ہے، جس پر اقلیتوں کو شدید تحفظات ہیں اور وہ اس نظام میں بہتری کے لئے کوشاں ہیں۔

صوبے کے تعلیمی اداروں میں استعمال ہونے والا نصابِ تعلیم اور مجموعی طور پر تعلیمی پالیسی اقلیتوں کے حوالے سے تعصبات سے بھری پڑی ہے جو طویل عرصے سے انسانی حقوق کی تنظیموں اور تعلیمی ماہرین کی تشویش کا باعث ہیں۔ یہ مسائل نہ صرف اقلیتی طلبا کے لیے چیلنجز پیدا کرتے ہیں بلکہ معاشرے میں عدم رواداری اور تقسیم کو بھی فروغ دیتے ہیں۔

آئینِ پاکستان میں اقلیتوں کو حاصل حقوق کے باوجود ان کے نفاذ میں حائل رکاوٹیں ایک بڑا چیلنج ہیں۔ آئینِ پاکستان اقلیتوں کو مذہبی آزادی، مساوات اور امتیازی سلوک سے تحفظ سمیت بنیادی حقوق کی ضمانت دیتا ہے، بہرحال زمینی صورتحال اس کے بر عکس ہے۔

نشست کے شرکا مجموعی طور پر اس نقطہ پر متفق نظر آئے کہ پاکستان کا آئین اقلیتوں کو جو بنیادی حقوق فراہم کرتا ہے ان کا حقیقی نفاذ ہی ایک منصفانہ اور پرامن معاشرے کی بنیاد رکھ سکتا ہے۔ اس کے لیے ضروری ہے کہ قانون سازی میں اصلاحات لائی جائیں تاکہ متنازعہ قوانین میں مشاورت سے ترمیم لائی جا سکے اور جبری تبدیلی مذہب پر موثر قانون سازی کی جائے۔ سیاسی نمائندگی کے نظام کو زیادہ جمہوری اور جواب دہ بنایا جائے۔ تاکہ اقلیتی برادریوں کو ان کے حقیقی نمائندے چننے کا حق حاصل ہو نیز تعلیمی نصاب سے تمام متعصبانہ مواد کو خارج کر کے رواداری اور بین المذاہب ہم آہنگی کو فروغ دیا جائے۔ پنجاب کی ترقی اور خوشحالی میں تمام برادریوں کا کردار ناقابلِ فراموش ہے۔ ہمارا خواب ایک ایسا پنجاب ہے جہاں ہر شہری، اس کے مذہب، عقیدے یا پس منظر سے قطع نظر، مساوی حقوق اور مکمل تحفظ سے لطف اندوز ہو سکے۔ یہ نہ صرف آئینی تقاضا ہے بلکہ ایک انسانی اور اخلاقی ضرورت بھی تاکہ ہم مل کر ایک مضبوط، متحد اور خوشحال پاکستان کی بنیاد رکھ سکیں۔

Facebook Comments HS