جلنے والا کا منہ کالا۔ پاکستانی معاشرے کی نفسیات اور سماجی گتھیاں
ایک سادہ سی ریڑھی کے پیچھے لکھی ہوئی عبارت ”جلنے والے کا منہ کالا“ شاید ظاہری طور پر مذاق یا تفاخر لگے، لیکن اس جملے میں پاکستان کے معاشرتی رویے کی ایک تلخ حقیقت چھپی ہوئی ہے۔ یہ ظاہر کرتا ہے کہ اس معاشرے میں ایک عام ریڑھی بان کو بھی یہ خوف لاحق ہے کہ کچھ لوگ اس کی محنت اور چھوٹی سی ترقی سے بھی حسد کریں گے۔ یہ طرز فکر صرف فردِ واحد کا نہیں، بلکہ اجتماعی نفسیات کی عکاسی کرتا ہے جہاں دوسروں کی کامیابی برداشت کرنا مشکل ہوتا جا رہا ہے۔ ہمارے ہاں کامیابی سے زیادہ ناکامی پر خوش ہونے والے زیادہ مل جائیں گے۔ پاکستانی معاشرے میں دوسروں کی ترقی کو قدر کی نگاہ سے دیکھنے کا رواج کم اور اس پر شک کرنے یا تنقید کرنے کا چلن عام ہے۔ اگر کوئی شخص کسی میدان میں آگے بڑھتا ہے تو بجائے اس کے کہ لوگ اسے سراہیں، وہ اس کی راہ میں رکاوٹیں کھڑی کرتے ہیں یا اس پر الزامات لگاتے ہیں۔ کامیاب ہونے والوں کو یہ ثابت کرنا پڑتا ہے کہ وہ محض خوش نصیب یا ناجائز طریقوں کے ذریعے کامیاب نہیں ہوئے بلکہ ان کی محنت اور جدوجہد کا نتیجہ ہے۔
یہ سوچ اکثر ان لوگوں میں زیادہ پائی جاتی ہے جو معاشی طور پر دباؤ کا شکار ہوتے ہیں۔ ایک شخص جو دن رات محنت کرتا ہے لیکن نتیجہ نہیں پاتا، وہ کسی دوسرے کو ترقی کرتا دیکھ کر خوش ہونے کے بجائے خود کو محروم سمجھتا ہے اور یہ سوچتا ہے کہ دوسرا شاید کسی غلط راستے سے کامیاب ہوا ہے۔ یہ احساس کمتری رفتہ رفتہ حسد میں بدل جاتی ہے۔ دفاتر، اداروں، اور تعلیمی اداروں میں بھی یہی رویہ جڑ پکڑ چکا ہے۔ ایک طالب علم اگر اچھی کارکردگی دکھاتا ہے تو اس پر نقل یا خوشامد کے الزامات لگتے ہیں۔ ایک استاد اگر جدید طریقۂ تدریس اپناتا ہے تو اس پر خودنمائی کا لیبل چسپاں کر دیا جاتا ہے۔ دفاتر میں ساتھی ایک دوسرے کی ترقی کو شک کی نگاہ سے دیکھتے ہیں۔ ہمارا میڈیا بھی اس سوچ کو تقویت دیتا ہے۔ بجائے اس کے کہ کامیابی کی داستانوں کو سراہا جائے، ہم سکینڈلز اور الزامات پر زیادہ توجہ دیتے ہیں۔ سوشل میڈیا پر بھی حسد اور تنقید کا رجحان مزید بڑھ گیا ہے جہاں لوگ دوسروں کی زندگیوں کا موازنہ کرتے کرتے اپنے اندر بے چینی اور منفی سوچ بھر رہے ہیں اور دوسروں سے جلنے لگتے ہیں۔
اس رویے کی ایک بڑی وجہ معاشی ناہمواری، تعلیم کی کمی، اور اخلاقی تربیت کا فقدان ہے۔ جب لوگوں کو برابری کے مواقع نہیں ملتے، جب نظام انصاف سے محروم رہتا ہے، اور جب معاشرے میں سچائی اور محنت کو عزت نہیں دی جاتی تو ایسی منفی سوچیں جنم لیتی ہیں۔ یہ بات بھی قابل غور ہے کہ اسلام حسد کو سختی سے منع کرتا ہے۔ لیکن ہم نے مذہب کو محض رسوم تک محدود کر دیا ہے اور اس کی اصل روح، یعنی دوسروں کے لیے خیر خواہی، برداشت اور ایثار، کو نظر انداز کر دیا ہے۔ اس طرز فکر سے نکلنے کے لیے ضروری ہے کہ ہم بحیثیت قوم خود احتسابی کریں۔ ہمیں ایسے معاشی اور تعلیمی نظام کی ضرورت ہے جو ہر فرد کو ترقی کے مساوی مواقع دے۔ ہمیں مثبت سوچ، تعاون اور ایک دوسرے کو سراہنے کی روایت کو فروغ دینا ہو گا۔ اگر ہم اس سوچ سے باہر نکلنے میں کامیاب ہو گئے تو نہ صرف معاشرتی ہم آہنگی بڑھے گی بلکہ ترقی کی راہیں بھی ہموار ہوں گی۔
”جلنے والے کا منہ کالا“ صرف ایک طنزیہ جملہ نہیں بلکہ ایک آئینہ ہے جو ہمیں ہمارے رویے دکھا رہا ہے۔ اب فیصلہ ہمارے ہاتھ میں ہے کہ ہم اس آئینے سے منہ موڑتے ہیں یا اس میں خود کو پہچان کر بدلنے کی کوشش کرتے ہیں۔

