تنہائی کی موت: حمیرا کی خاموش پکار اور ہمارا بے حس سماج


کراچی کے ایک فلیٹ میں پڑی ایک گل سڑ چکی لاش نے پورے معاشرے کو جھنجھوڑ کر رکھ دیا۔ یہ لاش کسی گمنام شخص کی نہیں بلکہ پاکستان کی ایک جانی پہچانی ماڈل اور اداکارہ حمیرا اصغر علی کی تھی، جو شہرت، زیبائش اور سوشل میڈیا کی چمکتی دنیا کا ایک حصہ تھیں۔ لیکن موت نے ثابت کر دیا کہ دکھاوے کی چکاچوند، تنہائی کی تاریکی کو نہیں مٹا سکتی۔

حمیرا کی لاش کئی دن، بلکہ ممکنہ طور پر کئی ماہ تک فلیٹ میں پڑی رہی۔ ابتدائی طور پر پولیس کو شبہ ہوا کہ یہ پندرہ دن پرانی لاش ہے، لیکن بعد ازاں شواہد نے اشارہ دیا کہ موت چھ ماہ یا اس سے بھی پہلے واقع ہو چکی تھی۔ یہ تضاد صرف ایک میڈیکل رپورٹ کا نہیں بلکہ ہمارے سماجی رویے، انسانی بے حسی اور جذباتی تنہائی کا غماز ہے۔ ایک ایسا معاشرہ جو سوشل میڈیا پر زندہ افراد کو ہزاروں لائکس دیتا ہے، پھر وہی معاشرہ ایک لاش کی بدبو محسوس کیے بغیر چھ ماہ گزر جانے دیتا ہے۔

اس سے بھی زیادہ دل دہلا دینے والی حقیقت یہ ہے کہ حمیرا کے والد نے بیٹی کی لاش وصول کرنے سے انکار کر دیا۔ ان کا کہنا تھا کہ انہوں نے حمیرا سے دو سال قبل ہر رشتہ ختم کر لیا تھا اور اب جو کرنا ہے پولیس کرے۔ یہ بیان صرف ایک فرد کا نہیں بلکہ پورے سماج کی اخلاقی زبوں حالی کا عکس ہے۔ جس بیٹی نے ایک وقت میں اپنی شناخت، اپنی پہچان اور اپنی زندگی خود بنانے کی کوشش کی، اس کا اپنا باپ اس کی موت پر بھی خاندانی رشتہ تسلیم کرنے کو تیار نہیں۔

یہ صورتحال ہمیں کئی تلخ سوالوں کی طرف لے جاتی ہے۔ کیا کسی انسان کی زندگی کی قدر صرف اس وقت ہوتی ہے جب وہ ہمارے نظریات کے مطابق جی رہا ہو؟ کیا کوئی غلطی، اختلاف یا خودمختاری اس قدر ناقابل معافی ہو سکتی ہے کہ موت کے بعد بھی معافی کا دروازہ بند رہے؟ کیا ہم ایک ایسے سماج میں جی رہے ہیں جہاں انسان مرنے کے بعد بھی تنہا ہی دفن ہو جائے اور کوئی اسے اپنانے والا نہ ہو؟

یہ وہ سوالات ہیں جو صرف حمیرا کے حوالے سے نہیں، بلکہ ہم سب کے لیے ہیں۔ ہم میں سے ہر کوئی کسی نہ کسی شکل میں اس نظام کا حصہ ہے جہاں تعلقات صرف مفاد تک محدود ہو چکے ہیں اور رشتے صرف ظاہری روابط تک۔ جب کوئی بچھڑتا ہے، تو ہم اسے اللہ حافظ کہہ کر دل سے نکال دیتے ہیں، لیکن وہ شخص جب تنہائی میں مر جائے، تو ہم اس کی خبر بھی چھ دن، چھ ہفتے یا شاید چھ مہینے بعد سنتے ہیں۔

حمیرا کی زندگی اور موت ہمیں یہ سکھاتی ہے کہ شہرت کبھی بھی تنہائی کا نعم البدل نہیں بن سکتی۔ وہ لاکھوں لوگوں کی نظروں میں تھیں، لیکن موت کے وقت ان کے دروازے پر کوئی دستک دینے والا نہیں تھا۔ ان کی تصویریں، ان کی ویڈیوز، ان کا انداز، ان کا فن سب کچھ اس سسٹم کا حصہ تھا جو انسان کو صارف سمجھتا ہے، انسان نہیں۔ جیسے ہی وہ خبریں دینا بند کرتی ہیں، وہ ہماری نظر سے گر جاتی ہیں۔

یہ واقعہ صرف ایک خاندان کی ناکامی نہیں، یہ ایک اجتماعی اخلاقی شکست ہے۔ ریاست، ادارے، دوست، ہمسائے، حتیٰ کہ فالوورز تک سب کی خاموشی اس بات کی دلیل ہے کہ ہم صرف تماشائی رہ گئے ہیں۔ وہ تماشائی جو صرف اس وقت حرکت میں آتے ہیں جب سانحہ خبر بن جائے اور پھر چند لمحوں کے افسوس کے بعد اگلی سرخی کی طرف بڑھ جاتے ہیں۔

کیا یہ وہ معاشرہ ہے جو ہم نے اپنے لیے چنا ہے؟ کیا ہمیں صرف شہرت کی بلندیوں سے دلچسپی ہے اور جب کوئی نیچے گرتا ہے تو ہم نظریں چرا لیتے ہیں؟ حمیرا کی موت نے یہ ثابت کیا کہ تنہائی صرف عمر رسیدہ افراد کی بیماری نہیں، بلکہ نوجوان، خوبصورت، کامیاب لوگ بھی اس کا شکار ہو سکتے ہیں۔ یہ ایک خاموش بیماری ہے جو کسی تصویر میں نہیں آتی، اور نہ ہی کسی پوسٹ سے ظاہر ہوتی ہے۔

اس کالم کا مقصد صرف ماتم کرنا نہیں بلکہ جھنجھوڑنا ہے۔ ہمیں اپنے خاندانی نظام، اپنی سماجی ترجیحات اور اپنی انسانی ہمدردی پر دوبارہ غور کرنے کی ضرورت ہے۔ ہمیں یہ سیکھنا ہو گا کہ رشتے اختلاف سے ختم نہیں ہوتے، اور اگر ہو بھی جائیں تو موت پر صلح کی گنجائش ضرور ہونی چاہیے۔ ہمیں ایک ایسا معاشرہ بنانا ہو گا جہاں تنہائی کو تنقید نہیں، توجہ ملے۔ جہاں لوگ صرف تب یاد نہ آئیں جب وہ مر چکے ہوں۔

ہمیں ایک ایسا نظام درکار ہے جہاں اکیلا پن جرم نہ ہو اور جہاں کسی فرد کی غیر حاضری کو محض عدالتی نوٹس کے بجائے انسانیت کا مسئلہ سمجھا جائے۔ ہمیں اپنے ہمسایوں سے، اپنے دوستوں سے، اپنے رشتہ داروں سے جڑنا ہو گا، اصل دل سے، صرف ڈیجیٹل لائکس سے نہیں۔

حمیرا کی لاش، اس کا اکیلا فلیٹ، اس کے والد کا انکار، اور ریاست کا قانونی انتظار یہ سب کچھ ہمارے لیے ایک نوشتہ دیوار ہے۔ اگر ہم نے اب بھی نہ سوچا تو شاید کل کو کوئی اور حمیرا، کسی اور خاموشی میں، ہمارے ضمیر کے دروازے پر دستک دے گی اور ہم پھر اسی طرح خاموش ہوں گے۔

یہ خاموشی توڑنے کا وقت ہے، یہ انسانیت جگانے کا وقت ہے، یہ سوچنے کا وقت ہے کہ ہم ایک زندگی کو کیسے جیتے اور ایک موت کو کیسے اپناتے ہیں۔ کیونکہ تنہائی کی موت صرف ایک فرد کی نہیں ہوتی، وہ پورے سماج کی ہار ہوتی ہے۔

Facebook Comments HS

One thought on “تنہائی کی موت: حمیرا کی خاموش پکار اور ہمارا بے حس سماج

  • 10/07/2025 at 5:42 شام
    Permalink

    مرحومہ خود بھی اسی بے حس سماج کا حصہ تھیں۔
    یہ ان کی مرضی تھی کہ فیشن اور شہرت کی چکا چوند سے متاثر ہوکر اپنے باپ سے تعلق توڑ بیٹھیں۔ یہ ان کی اپنی مرضی تھی کہ باپ کی ناراضگی مول کر اپنی شہرت کو مقدم رکھا اور دوسرے شہر میں جاکر زندگی بسر کرنی شروع۔
    لاش کے سڑنے کا سماج سے کوئی تعلق نہیں ۔ اس کا فلیٹ چوتھی اور آخری منزل پر تھا۔ پیچھے کی طرف جہاں اجاڑ اور غیر آباد علاقہ تھا وہاں کی کھڑکیاں کھلی ہوئی تھیں۔
    خاتون کے فلیٹ کے سامنے وہنے والی فیملی ستمبر سے ملک سے باہر تھی۔
    امکان یہی ہے کہ اکتوبر میں دل کا دورہ یا کسی دوائی کے اثر سے انتقال ہوا۔ زمین پر پائے جانے کا مطلب بھی یہی ہے کہ یکدم طبیعت خراب ہوئی۔ یہ خود کشی بھی ممکن نہیں۔
    اگر بنک کے اکؤنٹ میں پیسے موجود ہیں تو اس کا مطلب بھوک اور کام نہ ملنا بھی نہیں۔
    جہاں تک لاش کے تعفن کا سواال ہے اکتوبر میں انتقال کے دس پندرہ دن بعد شدید بو اٹھی ہوگی چوں کہ سامنے والے پڑوسی ملک سے باہر تھے کسی نے نوٹ نہیں کیا ہوگا۔ عام طور پر دودھ اخبار اور گھر کام کرنے والی آتی ہیں لیکن اکیلی خاتون ممکن ہے ان میں سے کسی کی بھی محتاج نہ ہو اور سب کام خود کررہی ہو۔
    گلنے سڑنے کی بو کی مدت بمشکل ہفتہ ہوتی ہے اس کے بعد یہ ختم ہوجاتی ہے۔
    پڑوسی فروری میں واپس آئے تھے اور اس وقت تک تعفن ختم ہوچکا ہوگا۔
    مالک مکان کا رویہ سب سے نامناسب اور مشکوک ترین ہے۔ اور ممکن ہے اس کے پاس دوسری چابی ہو۔ لوہے کی گرل کو آگے پیچھے کرنا کوئی مسئلہ ہی نہیں۔
    یہ کہانی ان تمام لوگوں کی ہے جو اکیلے رہتے ہیں۔ ہم پاکستان میں پاگل ہوئے جارہے ہیں۔ مغربی ممالک میں تو بعض اوقات سال بعد لاش کے سڑنے کا پتہ چلتا ہے۔

Comments are closed.