ٹاکسک پیرنٹنگ : کاش ماں باپ نئے سانچوں میں ڈھالے جائیں


 

ہر نئی نسل کے بچوں کی تمنا خالد
کاش ماں باپ نئے سانچوں میں ڈھالے جائیں
(ڈاکٹر خالد سہیل)

”والدین“ ہمیشہ اولاد کا بھلا چاہتے ہیں۔ یہ معاشرے کا وہ جنرلائزڈ جملہ ہے جس سے والدین کی ہر طرح کی نا انصافی اور رویوں کی بدصورتی کو چھپانے کی کوشش کی جاتی ہے۔ ماں باپ کے اتنے فضائل بیان کیے جاتے ہیں کہ اگر وہ اولاد کو تباہ کر دیں، ڈپریشن کا مریض بنا دیں تب بھی ان سے شکوہ نہ کیا جائے۔
ماں باپ کے مراتب سے کسی کو انکار نہیں لیکن اس کا متوازی سچ یہ بھی ہے کہ ہماری جنریشن کے آدھے سے زیادہ مسائل کے بیج ان کے والدین اور پیشتر نسل نے بوئے ہیں۔ ان کے غیر انسانی اور ظالمانہ رویوں نے ان کی اولاد کی زندگی سے خوشی کا رس نچوڑ لیا۔ انہیں جنریشنل ٹراما دیا۔

یہ مسئلہ جتنا سنگین ہے اتنا نظر انداز شدہ۔ ہماری نسل کے ماں باپ یہ سمجھنے کو تیار ہی نہیں ہیں کہ ان کے بچوں نے ایک بدلی ہوئی دنیا میں آنکھ کھولی ہے۔ ماں باپ اولاد کو جن اقدار کی پیروکار بنانا چاہتے ہیں وہ اس نسل کے لیے متروک اور غیر متعلقہ ہیں۔ اس نسل کو اسی طرز پرورش کے ساتھ بڑا کرنا ان کو زخمی بھی کرتا ہے اور مفلوج بھی۔

اولاد جوان ہو جاتی ہے مگر اس معاشرے کے ماں باپ ذہنی طور پر اس پوزیشن سے نکل ہی نہیں پاتے جو ایک بچے کے والدین بن کر انہیں ملی، جب اس بچے کی زندگی کی ہر چیز وہ طے کرتے تھے۔ جیسے کسی فوجی ڈکٹیٹر کا اقتدار چھوڑنے کا دل نہیں چاہتا بالکل ویسے ہی ابا حضور چاہتے ہیں کہ وہ بچے جن کی اپنی کنپٹیاں سفید ہو رہی ہیں، ان کو ہمیشہ اپنے احکامات کی لاٹھی سے ہانکتے رہیں۔ وہ زندگی کی کسی سٹیج پر بھی اس منصب سے ریٹائرمنٹ نہیں لینا چاہتے۔ ان کے نزدیک ان کی اولاد ان کی ملکیت میں آئی چیز ہے۔ ان کی بیٹی یا بیٹا ان کے لیے ایک برابر کا انسان کبھی نہیں بنتا۔ ایسا انسان جو ان سے مختلف ہو سکتا ہے۔ جس کا دنیا کو دیکھنے، پرکھنے اور برتنے کا طریقہ الگ ہو سکتا ہے۔ جس کی اپنی پسند اور ناپسند ہو سکتی ہے۔

والدین کو احساس کرنا چاہیے کہ ان کا کام بچوں کو تربیت دینا، سائبان دینا، خیال رکھنا ہے۔ قید کرنا نہیں۔ انسان آزاد ہی پیدا کیا گیا ہے، اسے آزاد ہی رہنا چاہیے۔ والدین سرپرست ہیں، محافظ ہیں، آقا نہیں۔ اولاد اولاد ہے غلام نہیں، منڈی سے لایا جانور نہیں جس کی بلی دینی ہے۔

آپ کو اس ملک کا سیاسی نظام برا لگتا ہے۔ برا ہے بھی، لگنا چاہیے۔ اس کی دیگر کئی وجوہات میں سے ایک بڑی وجہ یہ ہے کہ آپ کے ملک میں خاندانی نظام برا ہے۔ جب ایک گھر کے اندر صنف، عمر اور رتبوں کی بنیاد پر امتیاز برتنا نارمل ہو گا، مقدس اور روایتی ہو گا تو آپ کی پولیٹیکل ہائرارکی کیسے بہتر ہو سکتی ہے؟ نہیں سمجھے؟ اگر آپ کے گھر میں سات آٹھ بالغ افراد ہیں لیکن فیصلوں کا اختیار صرف ابا، تایا یا دادا کے ہاتھ میں ہے تو ایسے ماحول میں پلنے بڑھنے والا انسان برابری، انصاف، مساوات اور جمہوریت کو کیسے سمجھے گا؟ اس گھر کے لوگ ڈکٹیٹرشپ کو نارمل لیں گے، انہیں کبھی احساس نہیں ہو گا کہ یہ بطور شہری ان کے حقوق پر ڈاکا ہے کہ ان پر ایک ایسا شخص حکومت کرے جسے انہوں نے منتخب نہیں کیا۔ ان کو سیاسی سطح پر بھی ڈکٹیٹرشپ قبول ہو جائے گی۔ ماضی گواہ ہے کہ ہوتی رہی ہے۔

ہمارے معاشرے میں لوگ یہ حقیقت بھی نظر انداز کرتے ہیں کہ کوئی بچہ ہو، والد ہو یا والدہ ہو، بطور انسان ان سب کے حقوق برابر ہیں۔ یہاں والدین کے لیے بچہ پالتو جانور ہے جس کا سر صرف اور صرف ہاں کی شکل میں ہلنا چاہیے۔ وہ اچھی اور نیک اولاد ہونے کا تمغہ اسی صورت جیتے گا جب ہر درست اور غلط پر آمین کہے گا۔

عہد الست پچھلی دہائی میں شائع ہونے والا بہت مشہور ناول ہے۔ ناول میں بہت سے کردار ہیں اور ان کرداروں میں ایک کردار نور محمد کا ہے۔ نور محمد کی کہانی بتاتی ہے کہ والدین کے ہاتھ سے ملا ٹارچر کس طرح زندگی کو جہنم میں تبدیل کر دیتا ہے۔ اس کے متشدد باپ کے بے انتہا ٹارچر نے نور محمد کی نفسیات تباہ کر دی۔ تناسب کے تھوڑے سے فرق کے ساتھ ہم سب کہیں نہ کہیں نور محمد ہیں۔ اس میں مرد یا عورت کی کوئی تخصیص نہیں ہے۔

مشرقی والدین کی اولاد کے لیے قربانیوں کا بڑا شور سنائی دیتا ہے۔ ان کے بچوں سے محبت کو بے مثال اور غیر متوازی کہا جاتا ہے۔ اگر اس بیان میں سچائی ہوتی تو ماں باپ کے ہاتھوں بیٹیاں قتل نہ ہوتیں۔ والدین کی محبت کا بڑا حصہ بچّوں کی اطاعت سے مشروط ہے۔ جیسے ہی بیٹا یا بیٹی اپنی زندگی کا کوئی بڑا فیصلہ (تعلیم، جاب یا شادی) ان کی مرضی کے خلاف جا کر لیتا ہے تو ساری محبت اڑن چھو ہو جاتی ہے۔ دودھ نہ بخشنے سے کاٹ کر زمین میں گاڑنے اور عاق نامے کی اشاعت تک کی دھمکیاں ایک سانس اور ایک جملے میں ادا کی جاتی ہیں۔ اور نوبت آنے پر ان پر عمل بھی کیا جاتا ہے۔ میں یہ سب کسی واقعے کے نتیجے میں آنے والے وقتی جذباتی ابال کی بنیاد پر نہیں کہہ رہی۔ یہ بچپن سے اب تک کے بہت سے واقعات کے مشاہدے کے بعد کے خیالات ہیں۔

اس بحث کا یہ مطلب نہیں ہے کہ والدین بچوں کو خطرات میں مبتلا دیکھیں اور ہاتھ اٹھا لیں۔ ان کو ہر سرد و گرم کے آگے کر دیں۔ بات در اصل یہ ہے کہ انہیں یہ حقیقت سمجھنے کی ضرورت ہے کہ ہر نسل کے اپنے بحران ہوتے ہیں، ان کے حل کی کلید ان کے اپنے زمانے میں ہوتی ہے۔ اللہ جب نئے انسان کو دنیا میں لاتا ہے تو اس نے کائنات کو، اس نظام کو کچھ نیا دینا ہوتا ہے۔ کچھ ایسا جو اس سے پہلی نسل کے لوگ اس دنیا کو نہیں دے سکے۔ یہ کائناتی راز ہے کہ تمام لوگ ایک ساتھ دنیا میں نہیں بھیجے گئے۔ بھلے تمام روحیں ایک ساتھ تخلیق ہوئیں۔ اللّٰہ نئی نسل کو نئے وقت میں بھیجتا ہے۔ اس لیے اسے وہ کرنے دیں جو کرنے کو وہ پیدا کی گئی ہے۔ ایسا ہو ہی نہیں سکتا کہ اللہ نئے لوگوں کو پرانی مشینوں کے پرزے بننے کے لیے تخلیق کرے۔ تبدیلی کائنات کے خمیر میں ہے۔ اس لیے تبدیلیوں کے دشمن نہ بنیں۔ ان کو قبول کر لیں۔

ہمارا خاندانی نظام گل سڑ چکا ہے، یہ بات ہمیں تسلیم کر لینی چاہیے۔ اس نظام کے ساتھ ہم ذہنی، سماجی، اور سیاسی تبدیلیاں نہیں لا سکتے۔

اور اگر آپ مجھ سے پوچھیں کہ تبدیلیاں کیسے آتی ہیں، تو اس کا یک لفظی جواب ہے ”مکالمہ“ ، ڈائیلاگ، بات چیت۔ گھر میں مکالمہ۔ سب کی سنی جائے۔ سب کی رائے کو بلا تفریق اہمیت دی جائے۔

پیرنٹ چائلڈ تنازعہ میں میرا ایک موقف ہے۔ وہ یہ کہ والدین کا کوئی ایک بچہ ان کے کاغذات میں نافرمان نکل آئے تو کوئی دوسرا بیٹا یا بیٹی ماں باپ کی محبت سے مغلوب، اپنی نیورل ہیبٹ یا کسی بھی وجہ سے ماں باپ کو پوری طرح نہ سہی ایک حد تک خوش کرنے کی کوشش کرتا ہے۔ وہ ان کا خیال رکھتا ہے، ضروریات پوری کرتا ہے۔ ماں باپ کے نقصانات کا ازالہ ہو جاتا ہے ان کا deficit کم ہو جاتا ہے۔ مگر وہ ایک بچہ جس کے ساتھ ماں باپ زیادتی کر دیتے ہیں اس کا کوئی مداوا نہیں ہوتا۔ یہ غم اور کمی اس کی شخصیت کے ساتھ ساتھ بڑی ہوتی ہے۔ ماں باپ کے پاس اور بچے ہوتے ہیں، بچے کے پاس دوسرے ماں باپ نہیں ہوتے۔ اس لیے والدین کو بولنے کے ساتھ ساتھ سننے اور سمجھنے کی عادت ڈالنی چاہیے۔

آخری بات؛ آپ ماں یا باپ بنیں تو ایسے مت بنیں۔ اور دعا کیا کریں کہ اس اور آئندہ نسل کے لوگوں کو نیک صالح والدین نصیب ہوں۔

Facebook Comments HS