صدر مملکت کے خلاف افواہیں، کیا یہ صحافت کے زوال کی نشانی نہیں؟
پچھلے دنوں اسلام آباد کے دو صحافیوں نے اپنے یوٹیوب چینل پہ اپنے تئیں بڑا تہلکہ خیز انکشاف کیا کہ صدر مملکت محترم آصف علی زرداری کو ہٹا کر فیلڈ مارشل جنرل عاصم منیر صاحب کو ملک کا صدر مملکت بنایا جا رہا ہے اور اس سلسلے میں ضروری کارروائی کا آغاز کر لیا گیا ہے۔
یہ خبر انتہائی لغو اور بے تُکی افواہ کی حیثیت رکھتی ہے اور صحافت کے زوال کی نشانی ہے۔ اس کے بعد اس بکواس پہ ہونے والی سیاسی بحث کو بھی اگر سیاست کا زوال کہا جائے تو بے جا نہ ہو گا۔
صدر مملکت وفاق کی علامت ہیں اور پاک فوج کے سپریم کمانڈر بھی۔ آصف علی زرداری کا بطور صدر مملکت منتخب ہونا اس وقت پارلیمان کو متحد رکھنے کی سب سے بڑی وجہ ہے۔
صدر مملکت محترم آصف علی زرداری وہ شخص ہیں کہ جب 2008 کے انتخابات کے بعد پہلی بار صدر مملکت منتخب ہوئے تو ان کے پاس آئین کے تحت وہ تمام اختیارات تھے جو کسی ملک کے مختار کُل کے پاس ہوتے ہیں۔ بدنامِ زمانہ 58 / 2 بی کے سپر اختیار کے ساتھ وہ صدر مملکت منتخب ہوئے۔
مفاہمت کے بادشاہ آصف علی زرداری نے اسمبلی توڑنے کے اختیار سمیت اپنے تمام لامحدود اختیارات عوام کی منتخب کردہ پارلیمان کو سونپنے کا انقلابی فیصلہ کیا۔ آئین میں اٹھارہویں آئینی ترمیم کے ذریعے فوجی آمروں کی جانب سے آئین میں اپنی مرضی و منشاء سے، اپنے ذاتی مفادات اور اختیارات کو دوام بخشنے کے لیے کی گئی تمام قباحتیں، غیر جمہوری ترامیم کو ختم کر کے آئین کو نئی جہتوں کے ساتھ بحال کرنے کا انقلابی اقدام اٹھایا۔
اس دوران انہیں کہا گیا کہ آپ اسمبلی توڑنے کے اپنے اختیارات کیوں پارلیمنٹ کو منتقل کر رہے ہیں، اس طرح تو آپ بے اختیار صدر بن جائیں گے تو انہوں نے آئین اور جمہوریت سے اپنی کمٹمنٹ اور اپنی شہید شریک حیات کی جانب سے کیے گئے میثاق جمہوریت کا حوالہ دیتے ہوئے کہا کہ یہ میری قائد محترمہ بینظیر بھٹو کا عوام سے وعدہ تھا اور سیاسی جماعتوں کے ساتھ معاہدہ جس کی پاسداری میرا فرض ہے۔
اٹھارہویں آئینی ترمیم کے موقع پر ان کے کئی اتحادیوں نے ساتھ دینے سے انکار کیا مگر انہوں نے ذہانت کے ساتھ تحمل بردباری کے ساتھ نہ صرف چھوٹے صوبوں کو صوبائی خودمختاری دینے کے وعدے پہ اکٹھا کیا بلکہ اپنے اتحادیوں کو بھی اس ترمیم کے فوائد پہ قائل کر کے تاریخی اٹھارہویں آئینی ترمیم پاس کروائی۔
مشہور صحافی حامد میر کے مطابق اس وقت کے ایک سابق آرمی چیف نے تو یہاں تک کہا کہ یہ ترمیم شیخ مجیب الرحمٰن کے چھ نکات سے بھی زیادہ خطرناک ہے، مگر اس کے باوجود دنیا نے دیکھا کہ ایک منتخب عوامی صدر نے نہ صرف مسخ شدہ آئین کو اپنی اصل شکل میں بحال کیا، بلکہ اپنے سارے اختیارات عوام کے ووٹوں سے منتخب پارلیمان اور وزیراعظم کے حوالے کر دیے، اس سے بڑی جمہوری اور آئینی خدمت اور کیا ہو سکتی ہے۔
صدر مملکت آصف علی زرداری کا کردار ہمیشہ مفاہمانہ رہا، انہوں نے ہمیشہ کوشش کی کہ تصادم کے بجائے ڈائلاگ کے ذریعے ملک کے سیاسی اور معاشی معاملات چلائے جائیں۔ انہوں نے میثاق جمہوریت کے بعد میثاق معیشت کی تجویز دی۔ حالانکہ ان کے خلاف ہر دور میں سازشیں ہوئیں، میمو گیٹ اسکینڈل کے ذریعے انہیں پاکستان کے سیاسی منظرنامے سے ہی باہر کرنے کی سازش رچی گئی۔ وزیراعظم یوسف رضا گیلانی کو نا اہل کر کے صدر مملکت کو اشارہ دیا گیا کہ اب تمہاری باری ہے، مگر جسے اللہ رکھے اسے کون چکھے، آصف علی زرداری اپنے عزم، ہمت، حوصلے اور سیاسی دانشمندی و ذہانت کے بل بوتے پر آج بھی پاکستان کی سیاست میں مفاہمت اور رواداری کا سمبل ہیں۔
آصف علی زرداری کے خلاف ایسی من گھڑت اور بے بنیاد افواہیں اور سازشیں کوئی نئی بات نہیں ہے۔ حامد میر بتاتے ہیں کہ آصف علی زرداری کی صدارت کے پہلے دور میں ایک روز انہیں رات کو فوری طور پر ایوان صدر پہنچنے کا کہا گیا، میں بھاگا بھاگا ایوانِ صدر پہنچا تو کئی کمروں اور برآمدوں سے گزرنے کے بعد مجھے بتایا گیا کہ صدرِ مملکت اپنے بیڈ روم میں ہیں، میں وہاں پہنچا تو صدر آصف زرداری ایک اسٹیل کے بنکر میں بندوق ہاتھ میں پکڑے بیٹھے تھے، میں نے پوچھا کہ ”کیا بات ہے سر خیر تو ہے“ تب انہوں نے کہا کہ ”وہ تھوڑی دیر میں یہاں آئیں گے اور مجھے گولی مار کر یہ خبر چلوائیں گے کہ آصف زرداری نے خود کو گولی مار کر خودکشی کرلی، تمہیں یہاں اس لیے بلایا کہ تم جا کر سچ بتانا کہ آصف زرداری آخری گولی تک لڑ کر مارا گیا“
یہ ان کی صدارت کے پہلے دور میں اس وقت کی بات ہے جب ان کے خلاف الیکٹرانک میڈیا پہ کئی نامی گرامی صحافی بیٹھ کر افواہیں پھیلاتے تھے کہ آصف زرداری کئی روز سے سوئے نہیں ہیں، ان کی حالت ٹھیک نہیں ہے، وہ اپنے ہوش و حواس میں نہیں ہیں وغیرہ وغیرہ۔
آج پھر ایک بار وہی کہانی دہرائی جا رہی ہے۔ آصف علی زرداری کو مردِ حُر کا خطاب ان کے ناقدین نے دیا، اور یہ لقب ان کے لیے ہی تخلیق ہوا کیونکہ اس وقت بھی مردِ حُر اپنی ذاتی کے خلاف ہونے والی بے ربط، مفروضات پہ مبنی غیر اخلاقی اور غیر سیاسی مہم کا مقابلہ بڑی خندہ پیشانی اور مسکراہٹ سے کر رہے ہیں۔ آصف علی زرداری کی سیاست سے ان کے طرزِ حکمرانی سے اختلاف کیا جا سکتا ہے، ان پہ تنقید بھی ہو سکتی ہے مگر ان کی ذات پہ بار بار حملے اور وہ بھی گھٹیا رقیق حملے جھوٹ منافقت اور مفروضات پہ مبنی غیر اخلاقی حملے کسی طور درست عمل نہیں کہلائے جا سکتے۔
آصف علی زرداری اس ملک کے صدر ہیں اور جب تک ان کے پاس صدارت کا مینڈیٹ ہے وہ اپنے عہدے پہ براجمان رہیں گے۔
وزیر دفاع اور سینیئر مسلم لیگی رہنما خواجہ آصف نے صدر مملکت کے خلاف اس غیر اخلاقی مہم کی نہ صرف سخت مذمت کی بلکہ انہوں نے ایسی کسی بھی واہیات تجویز تردید کی اور صدر مملکت کے سیاسی کردار کو خراج تحسین پیش کرتے ہوئے کہا کہ آصف زرداری صاحب نے بڑے فہم و فراست اور دانشمندی سے پاکستان کی مختلف الخیال اور نظریات رکھنے والی جماعتوں کو ایک لڑی میں پرونے میں اہم کردار ادا کیا ہے اور ان کے اس مفاہمانہ کردار کو پاکستان کی سیاست میں ہمیشہ اچھے لفظوں میں یاد رکھا جائے گا۔
پاکستانی صحافت جو پچھلی ڈیڑھ دہائی سے تنزلی کا شکار رہی ہے اس وقت اخلاقی اور پیشہ ورانہ طور پہ تنزلی کی انتہا کو پہنچی ہوئی ہے۔
اس وقت پاکستان کو مثبت، سنجیدہ اور حق و سچ پہ مبنی صحافت کی ضرورت ہے جو ملک کو معاشی، سیاسی اور بین الاقوامی چیلنجوں سے نمٹنے میں مدد فراہم کرے غیر سنجیدہ اور افواہ سازی اور ریٹنگ بڑھانے کے لیے کی گئی صحافت نہ صرف ملک و قوم سے دشمنی ہوگی بلکہ صحافت جیسی عبادت سے بھی عداوت ہوگی۔


