میں نے انسانیت کو سرحدوں سے آزاد پایا
ہم سیاست کر کر کے تھک چکے ہیں جس کو سنو۔ اصل میں، حقیقت میں۔ میں سمجھتا ہوں سارے فساد کی جڑ فلاں شخص ہے۔ اور میں ان سب کو اس طرح سمجھتا ہوں کہ جو ملک یا افراد یہ زہر کی گولیاں دوسروں کو مارنے کی توقع پہ دیے جا رہے ہیں یا چلائے جا رہے ہیں تو خاطر جمع رکھیں یہ دوسروں کو مارنے کی سوچ والا نسخہ سب سے پہلے آپ پہ اثر کرے گا۔ جو دوسروں کو زہر دیتے ہیں اپنی زہریلی سوچ سے خود پہلے مرتے ہیں۔ پاکستان کے وجود کے خلاف جو بغض رکھے ہوئے ہیں، سن لیں۔ الٹی پڑ جائیں گی سب تدبیریں۔ ہندوستان اور پاکستان اس برصغیر کے دو وجود ہیں، کوئی شک؟
یہ نفرت میزائل، یہ جنگی جنون کب تک چلے گا۔ انسانیت سکڑتی جا رہی ہے۔ میں ناروے میں بازار یا واک پہ جاتے ہوئے پاس سے گزرتی بلی یا کسی پالتو کتے کو بھی پورا پروٹوکول دے کر گزرتا ہوں تاکہ اس جاندار کو یہ احساس نہ ہو کہ میرے وجود کو تسلیم نہیں کیا گیا۔ اور یقین کیجئے وہ جاندار اس کی بھر پور توقع بھی کرتا ہے ورنہ دل ہی دل میں یہ گمان کرتا ہو گا کہ یہ کیسا جانور ہے۔
آگے بڑھتے ہیں اس شعور کے ساتھ کہ تاریخ نے اپنے شعوری وجود سے دنیا کو اس مقام پر پہنچا دیا ہے کہ اب تاریخ بھی ہم سے شعور کی توقع کرتی ہے۔ میں نہ مانوں والی سوچ کے حامل آج بھی ایک ایسے ماضی میں الجھے ہوئے ہیں جسے نہ مکمل طور پر اپنایا جا سکتا ہے نہ مکمل طور پر سمجھا جا سکتا ہے صرف اس لئے کہ ہاتھ میں میزائل ہے اور ایک گھمنڈ ہے۔ اور تاریخ جو شعور کی خوش فہمی اور توقع لئے بیٹھی تھی وہ بھی حیران ہے کہ اخلاقی زوال نے اس حد تک گرنا تھا۔
آنکھ جو کچھ دیکھتی ہے، لب پہ آ سکتا نہیں
محو حیرت ہوں کہ دنیا کیا سے کیا ہو جائے گی
اس تاریخی تقسیم سے زیادہ افسوسناک بات یہ ہے کہ آج بھی ہندوستانی حلقوں میں ایک ذہنیت پائی جاتی ہے جو پاکستان کے وجود کو تسلیم کرنے سے انکاری ہے۔ روزانہ میڈیا اور سوشل پلیٹ فارمز پر حملوں، سرجیکل اسٹرائیکس، اور جوہری دھمکیوں کا شور سنائی دیتا ہے۔ یہ صرف سیاسی بیانات نہیں، یہ نسلِ انسانیت پر نفسیاتی حملے ہیں جو پہلے ہی غیر یقینی، معاشرتی دباؤ اور خوف میں جکڑی ہوئی نسل ہے۔ انسانیت عدم تحفظ کا شکار ہو چکی ہے، اور امن عام لوگوں کے لیے ایک خواب بنتا جا رہا ہے۔
پاکستان، ایک کمزور اور ناہموار آغاز کے باوجود، نہ صرف قائم رہا بلکہ ترقی کی راہ پر بھی گامزن ہوا۔ اس نے جنگ، دباؤ، اور پروپیگنڈا کا سامنا کیا۔ اور امن کی خواہش کو اپنا شعار بنایا۔ مگر امن کبھی یک طرفہ نہیں ہوتا۔ اگر ہم واقعی برصغیر کو نفرت سے نجات دلانا چاہتے ہیں تو ہمیں سب سے پہلے اپنا رویّہ بدلنا ہو گا اور اس کی پہلی سیڑھی ہے وجود کی قبولیت
تسلیم کریں کہ پاکستان ایک آزاد، خودمختار حقیقت ہے۔
تسلیم کریں کہ پاکستان کے لوگ پرامن ہیں ترقی اور عزت کے ساتھ زندہ رہنا جانتے ہیں۔
جب ہمیں ہر سانحے کا مجرم کہو،
ہر دکھ کا ذمہ دار پاکستان ٹھہرایا جائے
ہمارے وجود کو ہی شک کی نظر سے دیکھو،
میڈیا کی زبان لفظ پی سننے پہ زہر اگلنا شروع کر دے تو پھر بتائیں بوٹا گالی نہ دے تو کیا کرے۔
تسلیم کریں کہ بات چیت کمزوری نہیں، حوصلے کی علامت ہے پاکستان نے، میری اس مٹی نے وہ زخم کھائے ہیں وہ خون بہایا ہے جس جوان خون نے اس ملک کی تعمیر و ترقی میں اپنا کردار ادا کرنا تھا کتنے پھول کھلنے سے پہلے مرجھا گئے۔
جب آپ کسی قوم کے نوجوان کو دیوار سے لگا دیں تو وہ توپ تو کیا موت سے لڑ جائے گا غیرت سے جواب دے گا۔ کیا اپنے نشان حیدر پانے والے شیر دل کرنل شیر خان کو ایک عاشقِ وطن نہیں پایا۔ ایک افسر کی تعریف بتاتی ہے کہ اس شیر دل نے دھرتی ماں کے لئے کس طرح جان دی۔ ہاں، وہ جینا چاہتا تھا وہ بھی محبت، خواب اور زندگی کا حقدار تھا مگر خون کے آخری قطرے تک لڑنے پہ مجبور کر دیا گیا، اپنی سرحد، اپنی پہچان اور اپنے ہونے کا حق، کیا سب کا حق نہیں ہوتا؟
اسکینڈے نیویا دنیا کے پرامن اور فلاحی نظام رکھنے والے خطوں میں شمار ہوتا ہے۔ کتنے سادہ، پرامن اور انصاف پسند طرز زندگی کو اپنائے ہوئے ہیں لمبی عمریں پاتے ہیں۔ ایک بھیڑ کو بھیڑیا مار جائے تو میڈیا کئی دنوں تک سوگ مناتا ہے لوگ غمزدہ ہوتے ہیں۔ اگر کسی پیچیدہ مقام پر کوئی جان لیوا حادثہ ہو جائے تو وہاں ایک خاص نشانی لگا دی جاتی ہے تاکہ آئندہ کوئی وہاں جان نہ گنوائے۔ اور ہم نشان چھوڑنے کی بجائے نشان مٹانے کی دوڑ میں لگے ہیں۔ تسلیم کریں کہ جوہری دھمکیاں صرف تباہی لاتی ہیں اور یہ جسمانی، ذہنی اور نسلی تباہیاں ہیں۔
اوسلو کی سرزمین سے، جہاں امن کے نوبل انعامات کی بازگشت ہمیشہ گونجتی ہے میں بھی ایک پُرزور صدا کے ساتھ اپنا دیا جلائے بیٹھا ہوں اور پر امید ہوں۔ ذہنی جنگ ختم کریں میں نہ مانوں کی جگہ امن پسند لوگ سامنے آئیں، شکوک کی جگہ شعور پیدا کریں۔
تقسیم برصغیر عوام کا فیصلہ نہیں تھا، بلکہ ایک سیاسی ناگزیر نتیجہ تھا۔ مگر پاکستان کو اس کے وجود کی سزا دینا، آٹھ دہائیاں گزرنے کے بعد بھی، اب یہ سیاست نہیں، انسان دشمنی ہے۔ آج کی نوجوان نسل کو امن چاہیے۔ حقیقی دشمن آج جہالت ہے اور ہماری سب سے بڑی طاقت شعور اور ایک دوسرے کے وجود کی قبولیت ہے۔ ایک دوسرے کے وجود کو تسلیم کریں۔ ورنہ اپنا سکون ہمیشہ کے لیے کھو بیٹھیں گے۔


