تحریک انصاف خیبرپختونخوا
تحریک انصاف خیبرپختونخوا اس وقت جس داخلی صورتحال سے گزر رہی ہے وہ کسی حد تک معمول کی سیاسی سرگرمیوں کا حصہ سمجھی جا سکتی ہے۔ ہر بڑی جماعت میں قیادت سے متعلق اختلافات، گروپنگ یا مشورہ طلب آوازیں وقتاً فوقتاً بلند ہوتی رہتی ہیں مگر یہ بات روزِ روشن کی طرح عیاں ہے کہ علی امین خان گنڈاپور پر عمران خان کا اعتماد غیر متزلزل ہے اور وہ خیبرپختونخوا کے موجودہ سیاسی منظرنامے میں خود کو ایک مضبوط، با اختیار اور باوقار لیڈر کے طور پر منوا چکے ہیں۔
علی امین گنڈاپور کا اندازِ حکمرانی دیگر وزرائے اعلیٰ سے مختلف ہے۔ وہ جارحانہ ضرور ہیں لیکن فیصلوں میں تاخیر نہیں کرتے۔ انتظامی مشینری کو متحرک کرنا، اضلاع کے دورے اور بدعنوانی کے خلاف دو ٹوک موقف ان کی قیادت کے نمایاں پہلو ہیں۔ یہی وجہ ہے کہ عوامی حلقوں میں بھی ان کی کارکردگی کو سراہا جا رہا ہے۔
یہ تاثر کہ پارٹی میں کچھ عناصر ان کی پالیسیوں سے ناخوش ہیں مکمل طور پر غلط نہیں لیکن اس کا دائرہ محدود ہے۔ اکثریتی اراکین اسمبلی، ضلعی رہنما اور بنیادی کارکن آج بھی ان کے ساتھ کھڑے ہیں۔ وہ جانتے ہیں کہ موجودہ سیاسی حالات میں علی امین جیسا دبنگ لیڈر ہی پارٹی کو استحکام دے سکتا ہے۔
جو لوگ اختلاف رکھتے ہیں انہیں چاہیے کہ اپنی بات بند کمروں میں رکھیں، قیادت کے ساتھ بیٹھیں اور حل تلاش کریں۔ سیاسی جماعتیں ذاتی مفادات سے نہیں، اجتماعی فیصلوں اور اعتماد سے چلتی ہیں۔ علی امین خان بارہا یہ واضح کر چکے ہیں کہ وہ ہر اختلاف سننے کے لیے تیار ہیں مگر بلیک میلنگ اور گروپنگ کی سیاست کا حصہ نہیں بنیں گے۔
یہ لمحہ تحریک انصاف کے لیے فیصلہ کن ہے۔ پارٹی کے اندر اتحاد اور یکجہتی کی ضرورت پہلے سے کہیں زیادہ ہے۔ علی امین خان کے خلاف سازشی تھیوریاں یا اندرونی محاذ آرائی دراصل ان قوتوں کو خوش کر رہی ہیں جو عمران خان کے وژن کو ناکام دیکھنا چاہتی ہیں۔ پارٹی میں اختلاف رائے رکھنا غلط نہیں لیکن اس اختلاف کو جلتی آگ میں تیل ڈالنے کی شکل دینا سراسر نقصان دہ ہے۔ اگر کوئی شکوہ ہے، تحفظات ہیں تو حل مذاکرات میں ہے نہ کہ میڈیا کی شہ سرخیوں میں۔
جو لوگ یہ سمجھتے ہیں کہ علی امین دباؤ میں آ جائیں گے یا پسپا ہو جائیں گے وہ غلط فہمی کا شکار ہیں۔ وہ نہ صرف اعتماد سے کھڑے ہیں بلکہ تمام تر دباؤ کے باوجود خیبرپختونخوا کو بہتر انداز میں چلا رہے ہیں۔ ان کا طرز حکمرانی بہتر ہو رہا ہے، انتظامی فیصلے بروقت ہو رہے ہیں، اور ترقیاتی ایجنڈا واضح ہے۔
یہ وقت ایک دوسرے پر تنقید کا نہیں، بلکہ ہاتھ میں ہاتھ دے کر آگے بڑھنے کا ہے۔ اگر پارٹی اپنے اندر اختلافات کا حل نہ نکال سکی تو بیرونی مخالفین اس خلا سے فائدہ اٹھا سکتے ہیں۔ یہ صرف علی امین کا نہیں، تحریک انصاف کے ہر کارکن کا امتحان ہے۔

