ستر لاکھ مردہ فالورز کے بیچ ایک زندہ تنہا لاش


میں اور منٹو ایک سائے دار گلی میں کھڑے تھے، جہاں شام کا غبار دھیرے دھیرے مدھم ہو رہا تھا۔ وہ شہر، جو کبھی زندگی کی گہما گہمی سے گونجتا تھا، آج ایک ایسے واقعے کی گونج سے بھرا تھا جو دل کو خون کے آنسو رلاتا ہے۔ ہم سامنے ایک خاموش فلیٹ کی طرف دیکھ رہے تھے جہاں ایک عورت کی لاش پڑی تھی، حمیرا اصغر کی۔ یہ وہی حمیرا تھی جسے ستر لاکھ لوگ سوشل میڈیا پر فالو کرتے تھے، جس کی ہر تصویر ہزاروں بار لائک کی جاتی تھی، جس کی ہر ادا کو تعریف کی جاتی تھی، لیکن اب وہ ایک ایسی لاش تھی جسے کوئی زندہ نہ سمجھا، جسے کوئی زندہ نہ محسوس کر سکا۔ منٹو کی آنکھوں میں غم کے سوا کچھ نہیں تھا، اور اس کی سسکی سی محسوس ہو رہی تھی جیسے کہ یہ منظر اس کے اندر ایک دیرینہ زخم کو پھر سے چیر رہا ہو۔

منٹو نے میری طرف دیکھا اور دھیمی مگر گہری آواز میں کہا، ”یہی ہے ہماری حقیقت، یہاں ستر لاکھ  مردہ دلوں کے بیچ ایک زندہ تنہا لاش پڑی ہے۔ ستر لاکھ فالورز، ہزاروں تبصرے، مگر کسی کی ہمدردی کا سایہ نہیں۔ یہ وہ عورت تھی جس نے اپنی زندگی اپنی مرضی سے جینے کی کوشش کی، مگر آخر کار اس کی تنہائی نے اسے موت کے قریب پہنچا دیا۔ کیا یہ معاشرہ اس کا قصوروار نہیں کہ اس نے ایک انسان کو اتنی تنہائی میں چھوڑ دیا؟“

میں چپ رہا، منٹو کی باتوں نے میرے دل کی تہہ تک گھیر لیا تھا۔ میں نے سوچا، کیسے ممکن ہے کہ ستر لاکھ لوگ کسی کی تصویر دیکھیں، اسے پسند کریں، اسے فالو کریں، مگر کسی کو اس کی تنہائی، اس کے دکھ کا احساس نہ ہو؟ یہ لاش، یہ تنہا جسم، یہ انسان کا سب سے بڑا المیہ تھا کہ اس کی موت کے بعد بھی اس کی کوئی نہیں، کوئی ایسا نہیں جو اس کے غم میں شریک ہو، جو اس کے لیے آواز بلند کرے۔ دنیا کے اس جدید دور میں جہاں روابط آن لائن ہوتے ہیں، جہاں ہر احساس ایک کلک میں پھیل جاتا ہے، وہاں کیسے ممکن ہے کہ کوئی زندہ انسان اکیلا پڑ جائے، اور اس کے ساتھ لوگ صرف اس کے وجود کا ایک سطحی تماشا بنائیں؟

منٹو نے کہا، ”ہم ہر وقت آزادی کی بات کرتے ہیں، عورت کی آزادی، خودمختاری، اپنے فیصلے کرنے کی بات کرتے ہیں، مگر حقیقت میں ہم اس عورت کو اس کے خوابوں کے لیے تنہا چھوڑ دیتے ہیں۔ جب وہ زندہ تھی، اس کی آواز کو دبا دیا گیا، اس کی آنکھوں میں چھپے درد کو نظرانداز کیا گیا، اور اب جب وہ مر گئی، تب بھی اسے لاوارث لاش سمجھ کر گلیوں اور سوشل میڈیا کے گھناؤنے کھیل کا حصہ بنایا جا رہا ہے۔ یہ معاشرہ اس عورت کا قاتل ہے، جو اس کی زندگی میں اسے سہارا نہ دے سکا، اور آج اس کی لاش کو بھی اکیلا چھوڑ دیا۔“

میں نے پوچھا، ”منٹو بھائی، کیا یہ صرف حمیرا کی کہانی ہے؟ کیا یہ صرف ایک عورت کا المیہ ہے؟ یا یہ ہم سب کی کہانی ہے؟“

منٹو نے جھک کر مجھے قریب بلایا اور کہا، ”یہ ہر اس انسان کی کہانی ہے جو تنہائی، بے بسی اور سماجی بے حسی میں دم توڑ دیتا ہے۔ یہ وہ لوگ ہیں جو بول نہیں سکتے، یا بولنے کی ہمت نہیں رکھتے۔ اور ہم سب، جو صرف نظارے دیکھتے ہیں، جنہوں نے محبت کو صرف دکھاوے تک محدود کر رکھا ہے، ہم سب اس المیے کے شریک ہیں۔“

میں نے آنکھیں بند کیں اور ایک منظر ذہن میں آیا۔ وہ یونیورسٹی کی وہ دہلیز جہاں حمیرا نے اپنے خواب سجائے تھے۔ وہاں ایک نوجوان لڑکی، جو خاموش تھی مگر دل میں آگ لیے پھرتی تھی۔ تھیٹر کے فن میں اپنی جگہ بنانے کی جستجو میں وہ دل لگا رہی تھی۔ اُس نے اپنے فن کو اپنی پہچان بنایا، مگر اپنی پہچان کو اپنے گھر والوں تک پہنچا نہیں سکی۔ وہ ایک ایسی دنیا میں زندہ تھی جہاں عورت کی آزادی پر سوال اٹھائے جاتے تھے، جہاں اس کے فیصلوں کو تسلیم نہیں کیا جاتا تھا۔ میں نے سوچا، شاید وہی تنہائی کا پہلا بیج وہیں بویا گیا تھا، جہاں اس کی خودی کو پہچانا نہیں گیا۔

منٹو نے کہا، ”آج بھی ہم اکثر ایسے لوگوں کو تنہا چھوڑ دیتے ہیں جو ہماری دنیا میں زندہ ہیں مگر ان کی روح تنہائی کے سمندر میں غرق ہے۔ وہ لوگ جو اپنی زندگی کے چہرے سوشل میڈیا پر سجاتے ہیں، مگر دل کے زخم چھپاتے ہیں۔ کیا ہم نے کبھی سوچا کہ ان ستر لاکھ فالورز میں سے کتنے واقعی اس کی فریاد سن پاتے؟ کتنے اس کے دکھ میں شریک ہوتے؟“

میں نے دل ہی دل میں سوچا کہ کتنے انسان ایسے ہوتے ہیں جنہیں ہم جانتے بھی نہیں، مگر انہیں ایک تصویر یا لفظ کی بنیاد پر اپنی رائے دے کر ٹکڑے کر دیتے ہیں۔ حمیرا کی زندگی کا یہ حال تھا کہ وہ سب کے سامنے تھی، مگر حقیقت میں اکیلی تھی۔ یہ ہمارا سماج ہے جو ظاہری رنگ دیکھ کر فیصلے کرتا ہے، اور اندر چھپے درد کو نظرانداز کر دیتا ہے۔

منٹو نے پھر کہا، ”یہاں سب سے بڑا ظلم یہ ہے کہ مرنے کے بعد بھی کوئی اس عورت کی عزت کے لیے کھڑا نہیں ہوتا۔ اس کے گھر والے بھی اس کی لاش وصول کرنے سے انکار کرتے ہیں، کیونکہ یہ ان کے لیے ایک مسئلہ بن گئی تھی۔ یہ کہاں کی محبت ہے؟ کہاں کی انسانیت ہے؟ اور ہم نے یہ سچ اپنے دلوں سے کب نکال دیا؟“

میں نے کہا، ”ہم سب کچھ جانتے ہیں، مگر کوئی کچھ نہیں کرتا۔ ہم سب میں خوف، جھجک، اور بے حسی چھپی ہوئی ہے۔ یہی وجہ ہے کہ ایک عورت ستر لاکھ مردہ فالورز کے درمیان بھی زندہ لاش بن کر پڑی رہتی ہے۔“

منٹو نے سر ہلاتے ہوئے کہا، ”یہ وہ معاشرہ ہے جہاں لوگ دکھاوے کے سوا کچھ نہیں کرتے۔ جہاں لوگ لائیکس اور شیئرز کے لیے دوسروں کی درد بھری کہانیاں سننے کو تیار نہیں ہوتے۔ یہاں محبت نہیں، صرف دلچسپی ہے، اور دلچسپی ختم ہوتے ہی انسانیت بھی ختم ہو جاتی ہے۔“

میں نے کہا، ”تو پھر ہم کیا کریں؟ کیا کوئی راستہ ہے؟ کیا کوئی امید ہے؟“

منٹو نے دھیمی مسکراہٹ کے ساتھ کہا، ”ہر امید کا آغاز خود سے ہوتا ہے۔ جب ہم دوسروں کے درد کو سمجھنا شروع کریں گے، جب ہم سچ کو چھپانے کے بجائے کھولیں گے، تب کہیں جا کے ایسے مناظر کم ہوں گے۔ یہ عورتوں کی، انسانوں کی کہانی ہے۔ اگر ہم اسے سنیں گے تو شاید ہماری دنیا بدل جائے۔“

میں اور منٹو وہاں کھڑے تھے، ایک ایسے وقت اور جگہ پر جہاں دنیا کی روشنیاں مدھم پڑ گئی تھیں، لیکن دلوں میں کچھ سچائی کی چمک باقی تھی۔ ہم نے دیکھا کہ ستر لاکھ مردہ فالورز کے بیچ، ایک زندہ تنہا لاش پڑی ہے، جس کی آواز کو کوئی نہیں سن رہا۔ مگر ہمیں یقین تھا کہ جب تک ہم اس سچائی کو چُھپائیں گے، ایسے مناظر دھوپ کی طرح بار بار آئیں گے۔ اور جب تک ہم اس تنہائی کو توڑنے کا عزم نہیں کریں گے، یہ زندہ لاشیں ہمارے درمیان موجود رہیں گی۔

Facebook Comments HS

One thought on “ستر لاکھ مردہ فالورز کے بیچ ایک زندہ تنہا لاش

  • 11/07/2025 at 11:27 صبح
    Permalink

    کیا بندروں کے ہاتھ میں قلم کے نام پر استرے دے دیئے گئے ہیں۔
    انسٹا گرام پر اس کے سب سے زیادہ سات لاکھ فالوورز تھے ستر لاکھ نہیں۔
    اور ان ہی میں سے کچھ لوگ فیس بک یا دوسرے پلیٹ فارم پر لوگ کنٹینٹ کریٹر کو فالو کرتے ہیں۔
    ستر لاکھ کہیں سے ممکن نہیں۔
    ایک شخص جو دنیا سے رابطے میں نہ رہتا ہو اور تنہا رہتا ہو۔ اس کی موت کے بعد ایسا ہی حشر ہوتا ہے۔
    باقی سوشل میڈیا پر فلاحی کام وغیرہ یا انٹرویو ۔۔۔ ان میں لفاظی اور دکھاوا زیادہ ہوتا ہے حقیقت کم۔

Comments are closed.