بلوچ سرزمین اور پنجابی لہو


دس جولائی 2025ء کی رات ایک اور روح فرسا خبر آئی۔ کوئٹہ سے پنجاب جانے والی دو گاڑیوں کو بلوچستان کے شمالی اضلاع لورا لائی اور ژوب کی سرحد پر مسلح افراد نے روک لیا۔ مسافروں کے شناختی کارڈ ملاحظہ کر کے پنجاب سے تعلق رکھنے والے نو مسافروں کو اغوا کر کے کسی نامعلوم مقام پر فائرنگ کر کے شہید کر دیا گیا۔ کالعدم تنظیم بلوچستان لبریشن فرنٹ نے دہشت گردی کے اس واقعے کی ذمہ داری قبول کر لی ہے۔ اس کالعدم تنظیم کا 2004ء سے اللہ نذر بلوچ نامی شخص سربراہ ہے جو دہشت گردی کی ایسی لاتعداد وارداتوں کی ذمہ داری قبول کر چکا ہے۔ 2016ء میں یہ شخص کھلے عام بھارت سے مالی اور عسکری مدد پر آمادگی کا اظہار کر چکا ہے۔ اگرچہ یہ بیان بھی کوئی انکشاف نہیں تھا کیونکہ بھارتی صحافی اویناش پلیوال نے 2017ء میں شائع ہونے والی اپنی کتاب My Enemy ’s Enemy: India in Afghanistan from the Soviet Invasion to the US Withdrawal میں صاف صاف لکھا ہے کہ گزشتہ چالیس برس سے بھارتی خفیہ ادارے افغانستان کے راستے بلوچستان میں سرگرم رہے ہیں۔ اس دوران بلوچستان میں ہتھیار اٹھانے والے عناصر کو رقم، ہتھیار اور تربیت سمیت ہر طرح کی مدد فراہم کی گئی ہے۔ ریاست کے خلاف ہتھیار اٹھانے والوں کو ٹھکانوں کی ضرورت ہوتی ہے جہاں وہ اپنی مجرمانہ سرگرمیوں کے بعد پناہ لے سکیں۔ بلوچستان میں علیحدگی پسند عناصر کو یہ ٹھکانے بلوچستان کی مشرقی سرحد سے متصل افغانستان میں تب بھی میسر تھے جب افغانستان میں روسی افواج موجود تھیں۔ 90ء کی دہائی میں مجاہدین اور طالبان نے بھارت سے ناتے کبھی منقطع نہیں کیے۔ اکتوبر 2001ء میں امریکی افواج کے آنے کے بعد بھی بلوچ علیحدگی پسندوں کو افغانستان میں پناہ حاصل رہی۔

ہمارے فیصلہ سازوں نے افغانستان کی تاریخی اور ثقافتی نفسیات سمجھنے میں شدید غلطی کی۔ 1996ء سے 2001ء تک بظاہر پاکستان کی زیر دست طالبان حکومت نے بھی ڈیورنڈ لائن کو بین الاقوامی سرحد کے طور پر قبول نہیں کیا۔ اگست 2021ء میں طالبان نے دوحا معاہدہ روندتے ہوئے کابل پر چڑھائی کی تو ہمارے نام نہاد تزویراتی ماہرین کابل ہوٹل کی لذیذ چائے سے لطف اندوز ہوتے رہے۔ من مانے طریقے سے ہزاروں تربیت یافتہ دہشت گردوں کو پاکستان واپس لایا گیا۔ آج افغانستان پر قابض طالبان بھارت سمیت پاکستان مخالف علاقائی قوتوں سے قریبی تعلقات رکھتے ہیں۔ سی پیک کا منصوبہ ہماری داخلی کمزوریوں کے گدلے تالاب میں ڈوب چکا اور بھارت مٹھی بھر دہشت گردوں کی مدد سے پاکستان کی حساس وفاقی اکائی بلوچستان میں مداخلت کر رہا ہے۔ کبھی فرقہ ورانہ بنیادوں پر خون بہایا جاتا ہے تو کبھی صوبائی منافرت کو ہوا دی جاتی ہے۔

درویش نے بلوچستان پر قلم اٹھانے میں ہمیشہ احتیاط برتی۔ اس کی وجہ یہ احساس ہے کہ پاکستان ایک نازک وفاق ہے۔ ہمارے قلم سے کوئی ایسا لفظ برآمد نہیں ہونا چاہیے جو ملکی سالمیت کے لیے نقصان دہ ہو۔ تاہم اب وقت آ گیا ہے کہ اس رستے ہوئے زخم پر کھل کے بات کی جائے۔ پاکستان میں بلوچستان کے معاملات ہمیشہ مخدوش رہے ہیں۔ قلات کے حکمران احمد یار خان نے 27 مارچ 1948ء کو پاکستان سے الحاق کا اعلان کیا۔ اس سے ایک رات قبل آل انڈیا ریڈیو نے اعلان کیا تھا کہ احمد یار خان نے بھارت سے الحاق کی پیشکش کی تھی جسے پنڈت نہرو نے مسترد کر دیا تھا۔ دوسری طرف بلوچستان میں مکران، لسبیلہ اور خاران کی ریاستوں کے پاکستان سے الحاق کے بعد قلات چاروں طرف سے پاکستانی حدود میں گھر چکا تھا۔ بلوچستان کے شاہی جرگے نیز کوئٹہ کے چیف کمشنر نے پاکستان سے الحاق کا اعلان کر دیا تھا۔ احمد یار خان نے قلات کے الحاق کا فیصلہ زمینی حقائق کے پیش نظر بے دست و پا ہونے کے بعد کیا تھا۔

اس تاریخی پس منظر میں بلوچستان میں بار بار عسکریت پسندی سر اٹھاتی رہی ہے۔ اس ضمن میں پاکستان کی مرکزی حکومت کا کردار کبھی بے داغ نہیں رہا۔ تاہم یہ سمجھنا ضروری ہے کہ بلوچستان کے سیاسی اور معاشی حقوق کا معاملہ پاکستان کا داخلی سیاسی مکالمہ ہے۔ پاکستان کی جمہوری قوتوں نے ہمیشہ بلوچستان کے حقوق کے لیے آواز اٹھائی ہے لیکن پاکستان سے علیحدگی کا مطالبہ سرے سے سیاسی یا معاشی حقوق کا معاملہ ہی نہیں۔ یہ جدید قومی ریاست کے بنیادی مفروضات سے انحراف ہے۔ بلوچستان میں مسلح دہشت گردی صوبائی حقوق کا معاملہ نہیں۔ جمہوری اور معاشی حقوق کی جدوجہد ہتھیار اٹھا کر نہیں کی جاتی۔ سابق مشرقی پاکستان کی علیحدگی سے نفسیاتی شہ پانے والوں کو معلوم ہونا چاہیے کہ بنگلہ دیش کی تخلیق میں اہم ترین کردار جغرافیائی حقائق کا تھا۔ بلوچستان کا معاملہ الگ ہے۔ اگر دہشت گرد ’ہزار سوئیاں‘ چبھو کر لہو کشید کرنا چاہیں گے تو ریاست کی طاقت انہیں حتمی تجزیے میں کچل کے رکھ دے گی۔ بیرونی قوتوں کے ساتھ گٹھ جوڑ کر کے دہشت گردی کرنے والوں کو کوئی ریاست معاف نہیں کرتی۔

ہمارے لیے حساس معاملہ یہ ہے کہ ریاستی قوت کے لیے ردعمل دیتے ہوئے دہشت گرد اور سیاسی قوتوں میں تمیز کرنا ممکن نہیں رہتا۔ بلوچستان کے نام نہاد حریت پسندوں کی بزدلانہ کارروائیوں کا خمیازہ حتمی تجزیے میں بلوچستان کے معصوم، غیر مسلح اور قابل احترام شہریوں کو بھگتنا پڑے گا۔ بلوچستان لبریشن فرنٹ جیسے گروہ محض پاکستان کے نہیں، بلوچستان کے بھی دشمن ہیں۔ پاکستان کے جمہوریت پسند جہاں ریاست سے یہ توقع کرتے ہیں کہ بلوچستان کو پاکستان کا لاینفک حصہ سمجھتے ہوئے اختر مینگل اور ڈاکٹر مالک جیسے سیاسی رہنماﺅں کے ساتھ اسی طور پر بات چیت کی جائے جیسے چوہدری شجاعت اور مشاہد حسین کے ذریعے کوشش کی گئی تھی یا پیپلز پارٹی حکومت نے حقوق بلوچستان پروگرام شروع کیا تھا۔ بلوچستان میں ہتھیار اٹھانے والے کسی نرمی کے مستحق نہیں لیکن ریاستی کارروائی کی حتمی کامیابی کے لیے سیاسی کھڑکی کھلی رکھنی چاہیے۔ بلوچ دہشت گرد کبھی جمہوری عمل کا حصہ نہیں رہے اور انہیں بلوچ عوام کی نمائندگی کا کوئی حق نہیں پہنچتا البتہ پاکستان کے دستور کو تسلیم کرنے والی سیاسی قوتوں کے ساتھ میز پر بیٹھ کر بات ضرور کرنی چاہیے تاکہ پاکستان کی سلامتی کو یقینی بنایا جا سکے۔

Facebook Comments HS

6 thoughts on “بلوچ سرزمین اور پنجابی لہو

  • 11/07/2025 at 11:45 شام
    Permalink

    ایک حساس مسئلہ پر اتنی ہی احتیاط سے لکھی گئی تحریر۔

    اس مضمون میں اس غیر ضروری جملے نہ کوفت ضرور پیدا کی۔
    "اگست 2019ء میں طالبان نے دوحا معاہدہ روندتے ہوئے کابل پر چڑھائی کی تو ہمارے نام نہاد تزویراتی ماہرین کابل ہوٹل کی لذیذ چائے سے لطف اندوز ہوتے رہے۔”

    طالبان نے کابل پر قبضہ اگست 2021 میں کیا تھا۔ اور اس کے ایک دو ہفتے بعد اوائل ستمبر میں فیض حمید سیرینا میں چائے پیتے پائے گئے تھے۔ کسی ایجنسی کا سربراہ جب کسی ایسے کام کے لئے کہیں جائے جس کا ساری دنیا کو علم ہو تو وہ ہوٹل میں قیام کرتا ہے۔ اگر کسی خفیہ مشن پر یا ملاقات ہو تو وہ بمشکل کہیں نظر آتا ہے۔

    سیرینا میں نظر آنے اور غیر ملکی میڈیا نے چلتے پھرتے ایک تصویر کی اجازت مانگی اور سوال پوچھ لیا تو انہوں نے خوش دلی سے اجازت بھی دی اور جواب بھی دیا۔ ظاہر ہے دنیا کے علم میں تھا کہ وہ وہاں کیوں تھے اور یہ غیر ملکی اداروں اور اخبارات کو بھی پتہ تھا لیکن ہمارے یہاں اس تصویر اور جملے کو ایک مذاق بنالیا گیا ہے۔ امید ہے آپ کو پتہ ہوگا کہ وہ اصل میں وہاں یعنی ستمبر 2021 میں کس لئے گئے تھے۔

    فیض حمید نے اپریل 2019 میں آب پارہ سنبھالا تھا میرے علم میں نہیں کہ اگست 2019 سے آپ کی کیا مراد ہے۔ شاید سہواً تاریخ غلط لگ گئی ہے۔ اس تاریخی چائے کہ مہینے بعد ہی فیض حمید کی پوسٹنگ کا مسئلہ ہوگیا تھا جو بالآخر خان صاحب کی چھٹی پر موقوف ہوا تھا۔

    یہ مارا ماری صرف بلوچستان پپر ہی موقوف نہیں۔ غیر ملکی ظاقتیں (انڈیا کے علاوہ) بھی ہم میں پیسے دےکر قتل و غارت کراتی رہی ہیں۔ کبھی شیعہ سنی کے نام پر کبھی مہاجر (اردو بولنے والے بمقابلہ پنجابی پشتون اتحاد)۔
    دیوبندی بمقابلہ بریلوی کے بم دھماکے بھی میں نے دیکھے ہیں۔

    اپنی فوج یا کسی بھی وردی والے کو 1994 : کراچی میں مارنے پر پیسے مقرر تھے۔ اور امریکہ کے افغانستان میں آنے کے بعد تو ایک ورائٹی تھی کہ کوئی بھی کسی کو ماردے ۔

    مشرف دور میں ہم جملہ استعمال کرتے تھے کہ ایک وقت تھا جب ہر گولی پر اس کے مقتول کا نام لکھا ہوتا تھا۔ اور اب لکھا ہوتا ہے TO WHOM IT MAY CONCERN

    میں اپنے دشمن کو مطعون کرنے کئ بجائے اپنی خامیوں اور غلطیوں کی اصلا ح کرنا بہتر سمجھتا ہوں۔ غیر ملکی سفارت خانے اور اداروں کو بتانا ضروری ہوگا لیکن Beggars are not Choosers
    سو ہم مر بھکوں کی چیخ ۔ نقار خانے میں طوطی کی آواز سے بھی آہستہ ہوتی ہے۔

    • 12/07/2025 at 12:41 شام
      Permalink

      شکریہ برائے تصصیح اگست 2019
      لیکن جنگ اخبار کی ویب سائٹ پر ۔۔۔
      فیض حمید وہاں طالبان کو سبق پڑھانے یا چائے پینے نہیں گئے تھے
      افغانستان میں چونکہ کوئی باقاعدہ حکومت ایسی موجود نہیں تھی جسے کوئی بھی ملک تسلیم کرتا ہو اور ملا برادر اور ان کے مخالف گروہ میں اقتدار کی رسہ کشی شروع ہوچکی تھی جس کے نتیجے میں افغانستان کے پڑوسی ممالک کو شدید تشویش تھی کہ مہاجرین کا ایک نیا انخلا ان پڑوسی ممالک کی طرف نہ شروع ہوجائے یوں ان تمام ممالک جن کا اسٹیک افغانستان میں موجود تھا ان کے اینٹلی جنس اداروں کے سربراہان کی ایک میٹنگ کابل میں ہوئی۔
      دل چسپ بات یہ بھی ہے کہ لگ بھگ زیادہ تر چیف سیرینا میں ہی قیام پذیر تھے لیکن چونکہ دوسرے ممالک کے اسپائی ماسٹرز کا چہرہ اتنا مشہور نہیں تھا تو کسی اور سے کسی صحافی نے کوئی بات نہیں کی۔

      پاکستان کے علاوہ غالباً چین، ایران، ازبکستان، تاجکستان، ترکمانستان اور دور پار کے پڑوسی روس کے اسپائی ماسٹرز وہاں موجود تھے۔ سی آئی اے سربراہ کی موجودگی مجھے یاد نہیں۔
      اس میٹنگ کا دوسرا دور جب کابل میں ہونا تھا تو حالات مزید خراب ہوچکے تھے اس لئے وہ میٹنگ یعنی دوسرا دور 12 ستمبر 2021 کو اسلام آباد میں ہوا تھا۔
      یہ نہیں کہ فیض حمید نے طالبان کے کسی نمائندے سے اس دوران ملاقات نہیں کی لیکن جو ملاقاتیں ہوئیں وہ سب کے سامنے تھیں۔ سرکاری طور پر عمران حکومت کا کوئی وزیر کسی طالبان لیڈر سے ملاقات نہیں کرسکتا تھا وجہ یہی کہ اس وقت بھی ہم کسی بھی طالبان دھڑے کو قبول نہیں کررہے تھے۔

  • 13/07/2025 at 5:19 شام
    Permalink

    بلوچستان میں دہشت گردی ایک وسیع نیٹ ورک کا نتیجہ ہے جسے افغانستان اور بھارت کی جانب سے مالی، عسکری اور سیاسی مدد حاصل ہوتی ہے۔ بلوچستان کے اندر سرگرم دہشت گرد عناصر جیسے بلوچ لبریشن فرنٹ (BLF)، بلوچ لبریشن آرمی (BLA) وغیرہ کو بیرونی ممالک سے پناہ اور وسائل فراہم کیے جاتے ہیں۔ کلبھوشن یادیو کی گرفتاری اس نیٹ ورک کا واضح ثبوت ہے۔
    دہشت گردی کے خاتمے کے لیے صرف اندرونی فوجی کارروائی کافی نہیں۔ ہمیں ان دہشت گردوں کے فنانسرز، سہولت کاروں اور ان کے علاقائی سرپرستوں کے خلاف سفارتی، سیاسی اور انٹیلی جنس کی سطح پر سنجیدہ حکمت عملی اپنانی ہوگی۔ اس حوالے سے پاکستان کو بھارت کے ساتھ دوطرفہ مذاکرات کا آغاز کرنا چاہیے تاکہ دونوں ممالک مشترکہ مفادات کی بنیاد پر دہشت گردی کے خاتمے کے لیے تعاون کر سکیں۔
    اس کے علاوہ، ایک تین ملکی اتحاد (پاکستان، بھارت، افغانستان) بھی قائم کیا جا سکتا ہے جہاں ضروری معلومات کا تبادلہ کیا جائے، مشترکہ کارروائیاں کی جائیں، اور دہشت گردوں کے خلاف موثر حکمت عملی ترتیب دی جائے۔ اگرچہ (حال ہی میں) مودی سرکار کی حکومت کے ہوتے ہوئے سیاسی عمل میں رکاوٹیں ہیں، مگر امن قائم کرنے کے لیے دوطرفہ اور کثیرالجہتی مذاکرات کی راہیں بند نہیں کرنی چاہیے۔
    ہم نے مقبوضہ کشمیر میں دیکھا کہ جب ہم نے دہشت گردوں کی مالی معاونت روکی، تو وہاں دہشت گردی میں نمایاں کمی آئی۔ یہی فارمولا بلوچستان کے لیے بھی لاگو ہونا چاہیے۔ فنڈنگ کی بندش دہشت گردی کی جڑ کا خاتمہ ہے۔

    ساتھ ہی، ریاستی اداروں کو بلوچستان میں سیاسی انجینئرنگ سے گریز کرنا ہوگا۔ بلوچستان عوامی پارٹی (BAP) جیسے مصنوعی سیاسی منصوبے عوامی اعتماد کو نقصان پہنچاتے ہیں۔ اصل سیاسی قیادت، جیسے اختر مینگل یا ڈاکٹر مالک بلوچ، جو آئین پاکستان کے دائرے میں رہتے ہوئے بات چیت پر آمادہ ہوں، ان کے ساتھ سنجیدہ مذاکرات ہونے چاہییں۔ ریاستی طاقت اُس وقت مؤثر ہوتی ہے جب اس کے ساتھ سیاسی دروازے بھی کھلے ہوں۔

    دہشت گردوں کے خلاف مکمل قوت کے ساتھ کارروائی ہونی چاہیے، لیکن اصل اثر تب ہو گا جب ان کے وسائل، نیٹ ورک اور بیرونی روابط کا سفارتی سطح پر خاتمہ کیا جائے۔ علاقائی فورمز جیسے SAARC، UN، WTO، SCO، اور OIC کو متحرک کرنا، اور افغانستان و بھارت سے کھلے، دوٹوک مذاکرات — یہ اب ناگزیر ہیں۔
    بلوچستان کا مسئلہ نہ صرف داخلی امن کا چیلنج ہے بلکہ یہ پاکستان کی خارجہ پالیسی، وفاقی ڈھانچے اور جمہوریت کا امتحان بھی ہے۔ دیرپا حل صرف اس وقت ممکن ہے جب دہشت گردوں کے خلاف سیکیورٹی، سیاسی اور سفارتی تینوں سطحوں پر متوازی حکمت عملی اپنائی جائے

  • 13/07/2025 at 5:43 شام
    Permalink

    بلوچستان کے مسائل کا اصل حل آزاد اور شفاف انتخابات میں پوشیدہ ہے۔ موجودہ سیاسی قیادت، جیسے اختر مینگل اور ڈاکٹر مالک بلوچ، کو حقیقی قیادت تسلیم کرنے سے پہلے ہمیں اس بات کا یقین کرنا ہوگا کہ انتخابات مکمل طور پر آزاد اور غیر جانبدار ہوں۔ بلوچستان میں اب تک شفاف انتخابات کا فقدان رہا ہے، جس کی وجہ سے عوام کی حقیقی ترجمانی نہیں ہو پائی اور سیاسی قیادت کا اصل چہرہ سامنے نہیں آ سکا۔
    مثال کے طور پر، گوادر شہر میں ہم نے کچھ سیاسی شخصیات کو دیکھا ہے جو مختلف موقف کے حامل ہیں، لیکن ان میں سے کون عوام کی حقیقی نمائندگی کرتا ہے یہ تب ہی واضح ہوگا جب آزاد انتخابات ہوں گے۔ بلوچستان کی پیچیدہ سیاست میں سیاسی انجینئرنگ، دھونس، اور اثرورسوخ کے بغیر انتخابات کا انعقاد ناگزیر ہے تاکہ عوام اپنی مرضی سے اپنی قیادت چن سکیں۔
    یہ بھی یاد رکھنا چاہیے کہ جب تک بلوچستان میں سیاسی نظام شفاف نہیں ہوگا، ہم یہ نہیں جان سکیں گے کہ کون حقیقی سیاسی رہنما ہیں اور کون محض نقال۔ اس لیے سیاسی انجینئرنگ بند کرنا اور مقامی، صوبائی سطح پر آزاد انتخابات کروانا بلوچستان کے مسئلے کا واحد پائیدار حل ہے۔
    آخر میں، اصل طاقت ہمیشہ اسٹیبلشمنٹ کے قبضے میں رہتی ہے، اور عام شہری محض سیاسی کھیل کے بے بس کھلونے ہوتے ہیں۔ بلوچستان آج بھی خون کی ندیاں بہا رہا ہے۔ اگر یہی صورتحال قائم رہی تو پورا پاکستان خون میں نہا جائے گا، اور ہمیں یہ بھی پتہ نہ چلے گا کہ یہ ایٹم بم کا استعمال تھا یا خودکشی کا عمل

    • 13/07/2025 at 9:52 شام
      Permalink

      AOA
      Pls share your email at
      xarifyarif@gmail.com

      You certainly have good knowledge of whole world and Pakistan, will love to share my notes, if interested

      Regards

Comments are closed.