یہ ہم نے کس کو کھو دیا لوگو!


(مشہور عالم، محقق اور استاد سی ایم نعیم کی یاد میں)

ابھی ابھی فیس بک پہ رضا رومی کی ایک بہت افسوسناک پوسٹ، شکاگو کی اہم ادبی علمی شخصیت پروفیسر سی ایم نعیم کے انتقال کے حوالے سے پڑھی۔ موت برحق ہے لیکن یقین سا نہیں آ رہا۔ ابھی جولائی کی چھ تاریخ کو ہی تو ان کی مختصر مگر بہت حوصلہ افزا میل موصول ہوئی جو انہوں نے میری بیٹی کی ہارورڈ سے گریجویشن کے وقت فلسطین کے حق میں تقریر سننے کے بعد لکھی تھی۔ انہوں نے لکھا کہ

‏Thanks۔ God bless her and her peers۔ They have a big fight to fight۔ You and your husband should rightly be proud۔

ان کی چند سطریں ایک طویل مضمون کی حیثیت رکھتی تھیں۔ کیونکہ وہ لمبی تقریر کے بجائے دو ٹوک، بے لاگ، سچی اور مختصر رائے دینے کے قائل تھے۔ اس کا اندازہ مجھے تقریباً پندرہ سال کے عرصے کی جان پہچان سے ہوا۔ میں ان کو بے تکلف دوست نہیں لیکن اپنا ایک ایسا قابل احترام استاد سمجھتی تھی۔ جو صحیح معنوں میں سچے دوستوں کی طرح ہمیشہ آپ کا بھلا چاہتا ہو۔ کبھی کبھی ان کے لہجے میں استادوں والی سختی بھی آجاتی مگر میں تو اس کو بھی اپنا انعام ہی جانتی ہوں۔

پہلی بار میرا رابطہ نعیم صاحب سے ایک پروگریسو رائیٹرز گروپ کے توسط سے ہوا، جو کینیڈا کے جانے پہچانے ادیب منیر سامی نے شروع کیا تھا۔ یہ گروپ ادبی سماجی اور سیاسی موضوعات پہ بحث و مباحثہ اور عمدہ مضامین شئیر کرنے میں بہت متحرک تھا۔ اس وقت میں اپنی کم علمی کی وجہ سے نعیم صاحب کی ادبی حیثیت سے واقف نہ تھی۔ لیکن گروپ میں ان کی پوسٹ پڑھ کے یہ اندازہ لگانا مشکل نہ تھا کہ نعیم صاحب کس قدر بلند علمی قامت کے مالک ہیں۔ ان کی پوسٹس پڑھ کر میں خاموشی سے کچھ نہ کچھ سیکھتی رہتی۔ ان کی تحریروں میں ایک رعب سا تھا۔ بہت علمی، بصیرت افروز، دو ٹوک اور حوالہ جات کے ساتھ۔ بالکل ایک قابل اور مستند استاد کی طرح۔

جب اپنے طور پر انٹرنیٹ کے ذریعے ان کے متعلق جاننا چاہا تو پتہ چلا کہ وہ شکاگو یونیورسٹی میں پروفیسر ایمریٹس ہیں۔ جہاں انہوں نے کئی دہائیوں تک اردو زبان اور ادب پڑھایا۔ تحقیق سے خاص دلچسپی ہے۔ امریکہ سے شائع ہونے والے سالانہ اردو اسٹڈیز کے بانی ایڈیٹر ہونے کے علاوہ کئی اہم کتابوں کے مصنف ہیں۔ ان کی کتابیں ہی نہیں، تراجم بھی اردو ادب میں سرمائے کی حیثیت رکھتے ہیں۔ اپنی گرانقدر علمی اور ادبی خدمات کی وجہ انہوں نے شکاگو یونیورسٹی میں اپنے شعبہ کو مستند حیثیت کے طور پہ منوایا۔

نعیم صاحب 1936ء میں بارہ بنکی میں پیدا ہوئے۔ تعلیم لکھنؤ یونیورسٹی اور یونیورسٹی آف کیلیفورنیا، برکلے سے تعلیم حاصل کی، جہاں سے بالترتیب اردو اور لسانیات میں ماسٹرز کی ڈگریاں حاصل کیں۔ 1961 میں شکاگو یونیورسٹی کے شعبہ جنوبی ایشیائی زبانوں اور تہذیبوں میں شمولیت اور تدریسی خدمات انجام دیں۔ 2001، وہ انڈین انسٹی ٹیوٹ آف ایڈوانسڈ اسٹڈی، شملہ میں نیشنل فیلو اور جامعہ ملیہ اسلامیہ، نئی دہلی میں وزیٹنگ پروفیسر بھی رہے تھے۔

(1936ء ۔ 10 جولائی 2025ء)

رائیٹرز فورم گروپ پہ میں ان کی پوسٹوں سے مستفید ہوتی تھی۔ لیکن بتدریج میری اپنی سوشل ورک میں تعلیم اور ملازمت کی مصروفیات اور شاید ان کی علمی مصروفیات نے بھی گروپ سے غیر علانیہ رخصت لے لی۔ گو اس گروپ کو چھوڑنے سے پہلے میری جان پہچان بہت سی علمی، وسیع النظر اور صاحب مطالعہ شخصیات سے ہو گئی تھی۔ لیکن جن کی دوستی کو میں نے ہمیشہ کے لیے منتخب کیا وہ صرف نعیم صاحب تھے۔ عمر، علمیت اور مزاج میں تفاوت کے باوجود مجھے وہ قابل اعتماد، باوقار اور استاد نما دوست لگے۔ اور شاید انہیں بھی میں کچھ بری نہیں لگی تھی۔ جبھی ہم نے رابطے کے لیے اکثر ذاتی ای میل کے استعمال کو ترجیح دی۔

اس زمانے میں، میں اردو ٹائمز، امریکہ کے لیے باقاعدگی سے ہفت وار کالم لکھتی اور نعیم صاحب سے اپنے تمام مضامین شیئر کیا کرتی تھی۔ وہ توجہ سے پڑھتے اور مختصراً سہی، باقاعدگی سے اپنی رائے بھی دیتے۔ حالانکہ میرے مضامین کے موضوعات سماجی مسائل کا احاطہ کرتے تھے اور نعیم صاحب کا شعبہ ادب اور تحقیق تھا۔

جب میں نے اپنے مضامین کو جمع کر کے کتاب چھپوانے کا ارادہ کیا تو پورے شمالی امریکہ میں نعیم صاحب کے علاوہ کسی اور شخصیت پہ میری نظر ہی نہیں جاتی تھی۔ ایک دن ڈرتے ڈرتے ان سے ای میل پہ پوچھا کہ کیا آپ میرے لیے کچھ لکھ سکیں گے۔ ان کا بلا تاخیر جواب آیا کہ یہ میرا اعزاز ہو گا۔ وہ لمحہ میرے لیے از حد مسرت کا تھا۔ اور یوں میری کتاب ”کوئی خواب ڈھونڈیں“ کے لیے بہت عمدہ مضمون دو دنوں میں ”حرف چند“ کے عنوان سے مجھے مل گیا۔ جو انہوں نے اس طرح شروع کیا

”گوہر تاج صاحبہ نے جب مجھے اطلاع دی کہ ان کے مضامین جلد ہی کتابی شکل میں شائع ہوں گے تو مجھے واقعی بہت خوشی ہوئی۔ اسی لیے جب انہوں نے اس کتاب کے لیے لکھنے کو کہا تو میں بلاتذبذب راضی ہو گیا۔ میں ذاتی طور پہ ان سے واقف نہیں لیکن ان کی تحریروں سے شناسا ہوں اور ان تحریروں کی اہمیت کا قائل بھی۔“ (جنوری 2014ء)

کراچی میں عورتوں کے مفت کوہی گوٹھ ہسپتال کے لیے ہر سطح پہ تعاون کرنے کی خواہش کی وجہ سے ڈاکٹر شیرشاہ سید سے میرا ہمیشہ رابطہ رہا کیونکہ اس ہسپتال کی تعمیر کا خواب ان کا ہی تھا کہ عورتوں کے لیے نہ صرف مفت ہسپتال ہو بلکہ لڑکیوں کے لیے مفت مڈوائفری کی تعلیم کا سلسلہ بھی ہو۔ اس کی فنڈ ریزنگ کی غرض سے ہماری مشترکہ دوست اور عمدہ اور قابل قدر فنکارہ شیما کرمانی نے امریکہ میں اپنے پورے گروپ کے ساتھ امریکہ کے مختلف شہروں میں بالکل مفت پروگرام کی پیشکش کر دی تھی۔ میرے شہر ڈیٹرائیٹ میں کامیاب پروگرام کے بعد اگلا پروگرام شکاگو میں تھا۔ میں نے شیر شاہ سے نعیم صاحب کو پہلے ہی متعارف کروا دیا تھا۔ پتا چلا کہ وہ شیما کرمانی کے رشتے دار (شاید رشتہ کے چچا) بھی ہیں۔ نعیم صاحب نے بھرپور انداز میں اس پروگرام میں شرکت کی اور ہر طرح سے سپورٹ کیا۔ انہوں نے ہم سب کے ساتھ بہت خوش دلی سے کھانا کھایا اور خاص کر میرے بیٹے سے گفتگو میں خاصی دلچسپی لی۔ اس سے مجھے اندازہ ہوا کہ وہ نوجوانوں کی تعلیم اور سماجی سرگرمیوں میں کتنی دلچسپی رکھتے ہیں۔

اب میں ”ہم سب“ کے لیے لکھتی ہوں اور اس میں چھپنے والے تمام مضامین وہ شوق سے پڑھتے اور اکثر شکریہ کے ساتھ پسندیدگی کا اظہار بھی کرتے۔ مثلاً بھگت سنگھ، بیگم اختر، اور میرے کئی مضامین کے موضوعات کے انتخاب پہ اپنی مسرت کا اظہار کرتے اور کبھی اپنے قیمتی مشورے بھی دیتے۔ مثلاً یہ کہ جب مسائل پہ لکھو تو جذباتیت سے کام مت لو۔

قائد اعظم اور رتی بائی پہ میرے مضمون کو خاص کر بہت شوق سے پڑھا اور ایک مہربان استاد کی طرح تصحیح کرتے ہوئے ایمیل بھیجی۔ ”نیچے میں نے پانچ لفظ بڑھائے ہیں، اور ایک لفظ خارج کیا ہے۔ اس چھوٹی سی ترمیم سے مصنف کا نقطہ نظر پہلے سے قطعی مختلف اور واضح ہوجاتا ہے، اس پر حقیقت کو اساطیری بنانے کا الزام نہیں عاید ہوتا ہے۔ الفاظ محض اس لئے نہیں استعمال ہوتے کہ کانوں کو اچھے لگیں۔“

میری تحریروں کے موضوعات کو اہم جانتے لیکن مجھ سے ہونے والی ایک غلطی پہ ہمیشہ خفگی کا اظہار کرتے جو دو تین بار میں نے کی۔ یعنی بے دھیانی میں ان کی میل سی سی کے بجائے اوروں کے ساتھ بغیر سی سی کے بھیج دی۔ ”اب آپ نے میرے ایڈریس کو دوسروں پہ آشکار کر دیا۔“ میں فوراً اپنی غلطی مان کے معافی مانگ لیتی۔ اور وقت کے ساتھ ان کا غصہ کم بلکہ ختم ہوجاتا۔ کبھی موڈ میں نہیں ہوتے تو بہت روکھے انداز میں جواب دیتے۔ کچھ لوگوں نے ان کے موڈی ہونے کو ذاتی انا کا مسئلہ بھی بنایا۔ لیکن میں نے نہیں۔ ان کے ساتھ برسوں کے تجربے کے بعد مجھے ان میں ایک بہت مخلص اور نرم دل انسان ہی نظر آیا جو انسانیت کی بھلائی کے لیے کوشاں ہمیشہ کوشاں رہا۔

ان کا ادبی کام کئی نہج پہ ہے۔ ان کے موضوعات میں تنوع اور گہرا مشاہدہ اور تحقیق ہے۔ انہوں نے اپنی دو کتابیں مجھے بہت محبت سے بھیجیں۔ ایک بہت سال قبل جو انگریزی میں تھی اور نام یاد نہیں۔ دوسری کچھ سال قبل چھپی تھی جو محمدی بیگم کی اشرف النسا کی زندگی پہ لکھی اردو میں لکھی کتاب کا انگریزی ترجمہ ہے۔ یہ بہت اہم کتاب ہے لیکن افسوس کہ میں نے ابھی تک اس پہ کوئی مضمون نہیں لکھا۔ کاش ان کی زندگی میں لکھ لیتی۔ وہ خامشی سے ہم جیسے طالب علموں کو بغیر کسی علمی شور و شین کے سکھاتے ہی رہے۔ گو میں نے ان کے سامنے دو زانو بیٹھ کے باقاعدہ کوئی سبق نہیں لیا۔ لیکن مجھے شدید احساس ہو رہا ہے کہ میں نے ایک بہت قابل استاد کو کھو دیا جو بغیر جتائے محض ای میلز سے مجھے سکھاتے ہی رہے۔ اب سوچتی ہوں کہ میری معمولی سی تحریر کو بھی اتنی توجہ سے پڑھنے کے بعد حوصلہ افزائی اور قیمتی مشورے دینے والا اب کون ہو گا؟ مجھے یقین ہے کہ میری طرح اور بھی بہت سے لوگوں کے دل ان کی جدائی کے زخم پہ تار تار ہوں گے ۔ کیونکہ ہمیں پتہ ہے کہ نعیم صاحب جیسے لوگ بار بار نہیں پیدا ہوتے۔

Facebook Comments HS

One thought on “یہ ہم نے کس کو کھو دیا لوگو!

  • 12/07/2025 at 3:01 صبح
    Permalink

    اللہ تعالی ان کی مغفرت فرمائے اور جنت الفردوس میں اعلی ترین درجات میں جگہ دے۔
    ایک عالم کی موت ۔۔۔۔ دنیا کی موت سے کم نہیں

Comments are closed.