پاکستان آمریت، عسکری قوم پرستی اور عمران خان


پاکستان کی سیاسی تاریخ میں ریاستی طاقت کو برقرار رکھنے اور مخالف آوازوں کو دبانے کے لیے مختلف حربے استعمال کیے جاتے رہے ہیں۔ حالیہ برسوں میں، بالخصوص عمران خان کی عوامی مقبولیت اور ان کے سیاسی بیانیے کو دبانے کے تناظر میں، ریاستی اداروں نے دو اہم نظریاتی ہتھیاروں عسکری قوم پرستی اور مذہبی بیانیے کا بھرپور استعمال کیا ہے تاکہ آمرانہ کنٹرول کو عوام میں جائز قرار دیا جا سکے اور کسی بھی قسم کی سیاسی مزاحمت کو غیر محب وطن یا مذہب دشمن قرار دے کر خاموش کروایا جا سکے۔ حب الوطنی کی نئی تعبیر اور نئی تعریف بنائی گئی پاکستان میں ریاستی ادارے، خاص طور پر فوج، عرصہ دراز سے خود کو ریاست کی نظریاتی سرحدوں کا محافظ تصور کرواتے ہیں۔ لیکن حالیہ برسوں میں ”محب وطن“ ہونے کی تعریف کو اس طرح سے دوبارہ ترتیب دیا گیا ہے کہ جو بھی ریاستی پالیسیوں پر تنقید کرے، وہ ”غدار“ یا ”دشمن کا ایجنٹ“ قرار پاتا ہے۔ اس بیانیے کے تحت عمران خان، جو ایک وقت میں خود اسٹیبلشمنٹ کے قریب سمجھے جاتے تھے، جب ایک آزاد سیاسی بیانیہ اپنانے لگے تو انہیں ریاست مخالف، اداروں کے دشمن، اور یہاں تک کہ بیرونی سازش کا آلہ قرار دیا گیا۔ میڈیا پر کنٹرول، سوشل میڈیا پر کریک ڈاؤن، اور محب وطن ہونے کی مخصوص تعریف نے ایک ایسا ماحول پیدا کیا ہے جہاں اختلاف رائے کو قومی سلامتی کے خلاف جرم کے طور پر پیش کیا جا رہا ہے۔ دین کی سیاست میں شمولیت کو پاکستان میں شروع سے کیا جا رہا ہے اور یہ دوسرا اہم حربہ مذہبی بیانیے کا استعمال ہے۔ پاکستان جیسے مذہبی جذبات سے بھرپور معاشرے میں مذہب کو سیاسی ہتھیار بنانا انتہائی موثر طریقہ ہے۔ مختلف مذہبی گروہوں اور بیانات کے ذریعے یہ تاثر دیا گیا کہ ریاست کی مخالفت دراصل اسلامی اقدار کی مخالفت ہے۔ عمران خان کے خلاف مذہبی فتوے، ان کے بیانیے کو دین مخالف قرار دینا، یا ان کے کارکنوں کو ”فتنے“ سے تعبیر کرنا اسی حکمت عملی کا حصہ ہے۔ ایسی حکمت عملی سے ایک طرف ریاست اپنے اقدامات کو ”اسلامی فریضہ“ ظاہر کرتی ہے، اور دوسری طرف مخالف سیاسی رہنماؤں کو ”دین دشمن“ بنا کر عوام میں ان کے خلاف نفرت پیدا کرتی ہے۔

عمران خان کی مقبولیت کم کرنے کے لیے سیاسی انجنیئرنگ کی ایک نئی مثال بنایا گیا عمران خان کی سیاسی مقبولیت نے ریاستی اداروں کو ایک چیلنج کی صورت میں متاثر کیا۔ 2022 کے بعد ، جب وہ اسٹیبلشمنٹ سے علانیہ ٹکراؤ کی پالیسی پر آ گئے، تو ان کے خلاف کئی سطحوں پر کارروائیاں کی گئیں :

توشہ خانہ کیس سمیت درجنوں مقدمات
میڈیا بلیک آؤٹ
پی ٹی آئی کی قیادت کو گرفتار کرنا
پارٹی توڑنے کی کوششیں
مذہبی شدت پسند عناصر کی حمایت سے ان کے خلاف بیانیے کی تشکیل
الیکشن میں پارٹی پر پابندی
8 فروری کو تحریک انصاف کی سیٹوں کی چوری
خواتین کی مخصوص نشستوں پر قبضہ

یہ تمام اقدامات نہ صرف عمران خان بلکہ جمہوریت اور عوامی رائے کی آزادی پر حملہ ہے۔ آمرانہ ریاست کی نظریاتی مشینری پاکستان میں آمرانہ کنٹرول صرف فوجی طاقت یا عدالتی احکامات سے قائم نہیں ہوتی اس کے پیچھے ایک مضبوط نظریاتی مشینری ہوتی ہے جو قوم پرستی اور مذہب کو عوامی ذہن سازی کے لیے استعمال کرتی ہے۔ عمران خان کی مثال اس بات کا ثبوت ہے کہ جب کوئی رہنما ریاستی بیانیے سے ہٹ کر بات کرے، تو اس کے خلاف کس طرح ایک مربوط نظریاتی، سیاسی اور قانونی مہم چلائی جاتی ہے۔ اگر پاکستان کو واقعی ایک جمہوری اور آئینی ریاست بنانا ہے تو ان نظریاتی ہتھیاروں کے غیر آئینی استعمال کو روکنا ہو گا اور مذہب و حب الوطنی کو سیاسی مخالفین کے خلاف استعمال کرنے کی روایت کو ختم کرنا ہو گا۔

Facebook Comments HS

One thought on “پاکستان آمریت، عسکری قوم پرستی اور عمران خان

  • 13/07/2025 at 6:49 شام
    Permalink

    عمران خان کو جمہوری رہنما کہنا حقیقت سے دور بات ہے۔ ان کا سیاسی انداز جمہوریت کے بجائے ذاتی اقتدار اور طاقت کے حصول کے گرد گھومتا ہے۔ ان کا "آزادی” کا بیانیہ اُس وقت ابھرا جب وہ 2022 میں اقتدار سے علیحدہ کیے گئے۔ سوال یہ ہے کہ اگر یہ بیانیہ واقعی عوام کی آزادی کے لیے تھا، تو یہ پہلے کیوں سامنے نہ آیا؟

    اسی سال عمران خان نے خود تسلیم کیا کہ وہ جنرل قمر جاوید باجوہ سے تین اہم ملاقاتیں کر چکے ہیں، جن میں اقتدار میں واپسی کے لیے ڈیل یا سمجھوتے کی کوششیں کی گئیں۔ اگر کوئی سیاستدان واقعی جمہوریت پر یقین رکھتا ہے تو وہ اسٹیبلشمنٹ سے سیاسی مدد کی بجائے یہ مطالبہ کرتا ہے کہ فوج اور تمام ریاستی ادارے سیاست سے مکمل طور پر دور رہیں۔
    مگر عمران خان کا مطالبہ صرف اتنا رہا کہ فوج ان کے خلاف مداخلت نہ کرے یا کم از کم "نیوٹرل” رہے۔ لیکن جب جنرل باجوہ نے خود کو نیوٹرل قرار دیا تو عمران خان نے طنزیہ انداز میں کہا:

    "صرف جانور نیوٹرل ہوتے ہیں۔”

    یہ جملہ محض ایک سیاسی طنز نہیں، بلکہ ان کے سیاسی وژن کی اصل عکاسی کرتا ہے: وہ ایسی اسٹیبلشمنٹ چاہتے تھے جو ان کے سیاسی عزائم کی حمایت کرے — نہ کہ واقعی غیر جانبدار ہو۔

    جب وہ اقتدار میں تھے تو انہیں اسٹیبلشمنٹ کی مداخلت پر کوئی اعتراض نہ تھا؛ بلکہ وہ اس کا سہارا لیتے رہے۔ لیکن جب یہی طاقتیں ان کے خلاف ہو گئیں، تو وہی مداخلت اُن کے بیانیے میں "غیر آئینی” اور "غیر جمہوری” بن گئی۔
    گویا عمران خان کی سیاست اقتدار سے مشروط ہے، اصول سے نہیں۔ اُن کا بیانیہ اور مزاحمت صرف اس وقت تک ہے جب تک وہ اقتدار سے باہر ہوں۔ جیسے ہی ان کے اقتدار میں واپسی کے امکانات روشن ہوتے ہیں، وہی اسٹیبلشمنٹ جس پر وہ تنقید کرتے ہیں، ان کے لیے ایک "قابلِ قبول پارٹنر” بن جاتی ہے۔
    نتیجتاً، یہ کہنا بالکل بجا ہوگا کہ:
    "عمران خان کی سیاست جمہوریت نہیں، بلکہ اقتدار کے گرد گھومتی ہے

Comments are closed.