اُف توبہ! یہ تختی سیاست
جس معاشرے میں ہم آج سانس لے رہے ہیں، وہاں سیاست محض عوامی خدمت کا ذریعہ نہیں رہی بلکہ یہ ذاتی تشہیر کا ایک مستقل ذریعہ بن چکی ہے۔ سیاستدانوں کے لیے اب ترقیاتی منصوبے اس وقت تک مکمل نہیں ہوتے جب تک ان پر، اُن کا یا اُن کے خاندان کے کسی فرد کا نام نہ لکھا جائے۔ اس رجحان کو ہم تختی سیاست کہہ سکتے ہیں یعنی ایک ایسا مرض جو پورے ملک کی اجتماعی سوچ کو آلودہ کر رہا ہے۔
اس مرض کی خاص بات یہ ہے کہ یہ جسمانی نہیں بلکہ ذہنی ہے اور سب سے بڑھ کر یہ کہ یہ صرف فرد واحد کو نہیں بلکہ پورے سیاسی نظام کو اپنی لپیٹ میں لے چکی ہے۔ تختی سیاست ایک ایسا عمل ہے جو اس تاثر کو جنم دیتا ہے کہ سرکاری ادارے، جو عوام کے ٹیکس کے پیسوں سے بنائے گئے ہوں، اب وہ کسی مخصوص خاندانوں کی جاگیر ہیں۔
معروف کالم نگار آصف محمود صاحب نے اپنے ایک تحریر میں اس رجحان کی نشاندہی کی اور اُنہوں نے تفصیل سے اُن اداروں کی فہرست دی جن پر دو سیاسی خاندانوں نے اپنی تختیاں چسپاں کر رکھی ہیں۔ میں بھی انہی کی فراہم کردہ تفصیلات کو یہاں شامل کر رہا ہوں تاکہ ہم بطور قوم یہ طے کر سکیں کہ کیا ہم واقعی ایک جمہوری ملک میں رہ رہے ہیں یا کسی خاندانی بادشاہت میں؟
ملک بھر میں درج ذیل سرکاری ادارے اور منصوبے ایسے ہیں جن پر شریف خاندان یا بھٹو خاندان کے افراد کے نام رکھے گئے :
ملتان میں انجینئرنگ اینڈ ٹیکنالوجی کی ایک یونیورسٹی قائم کی گئی اس کا نام نواز شریف یونیورسٹی آف انجینئرنگ اینڈ ٹیکنالوجی ہے۔ ملتان ہی میں ایک زرعی یونیورسٹی قائم ہوئی یہ نواز شریف زرعی یونیورسٹی کہلاتی ہے۔ ملتان ہی میں ایک سرکاری ہسپتال ہے اس کا نام شہباز شریف ہسپتال رکھ لیا۔
سیالکوٹ میں ایک ڈگری کالج قائم کیا گیا۔ یہ لڑکیوں کا کالج تھا لیکن اس کا نام میاں نواز شریف گرلز ڈگری کالج سیالکوٹ رکھ دیا گیا۔ حضرو میں لڑکیوں کے ایک سکول کا نام میاں نواز شریف گرلز ہائی سکول نمبر 2 ہے۔ منڈی بہاؤالدین میں بھی ایک گرلز کالج کا نام نواز شریف گرلز کالج ہے۔
سیالکوٹ ہی میں ایک کالج کا نام گورنمنٹ شہباز شریف ڈگری کالج ہے۔ اسی شہر میں ایک میڈیکل کالج بھی ہے۔ اس کا نام خواجہ صفدر میڈیکل کالج ہے۔
چونا منڈی میں ایک کالج کا نام نواز شریف ڈگری کالج ہے۔ سرگودھا میں بھی ایک نواز شریف ڈگری کالج ہے۔ گجرات میں ایک میڈیکل کالج بنایا گیا۔ اس کالج کو اب نواز شریف میڈیکل کالج گجرات کہا جاتا ہے۔
راولپنڈی میں خیابان سرسید میں ایک ڈگری کالج بنایا گیا۔ اٹھارہ کنال زمین حکومت پنجاب نے دی، لیکن نام ہے شہباز شریف ڈگری کالج خیابان سرسید۔ راولپنڈی ہی میں مری روڈ پر ایک پارک ہے، اسے نواز شریف پارک کہتے ہیں۔
راولپنڈی روڈ پر ایک کمپلیکس بنایا گیا ہے۔ حکومت پنجاب نے اس کے لیے 90 کنال زمین مختص کی اور اس پر 87 ملین کی لاگت کا تخمینہ ہے۔ اسے شہباز شریف سپورٹس کمپلیکس کہا جاتا ہے۔
قصور میں بھی ایک سپورٹس کمپلیکس قائم کیا گیا ہے۔ اس کا نام بھی شہباز شریف سپورٹس کمپلیکس رکھ دیا گیا۔ سرگودھا میں سول ہسپتال کے اندر ایک کارڈیالوجی سینٹر بن رہا ہے، اس کا نام نواز شریف کارڈیالوجی ہسپتال ہے۔
ایک عدد نواز شریف ہسپتال یکی گیٹ لاہور میں ہے۔ لاہور میں ہی ایک نواز شریف سوشل سیکورٹی ہسپتال ہے۔
ملتان کا جنرل ہسپتال اب شہباز شریف ہسپتال کہلاتا ہے۔ سرگودھا میں یونیورسٹی روڈ پر ایک پل بنا ہے اس کا نام نواز شریف برج ہے۔
لاہور کا فلائی اوور بھی نواز شریف فلائی اوور کہلاتا ہے۔ جہلم میں ایک پل بنایا گیا جو تعمیر ہونے سے پہلے گر گیا، اس کا نام شہباز شریف برج ہے۔ اسی طرح سیالکوٹ میں بھی ایک پل کو شہباز شریف سے منسوب کیا گیا۔
اسلام آباد میں ایک شہید ذوالفقار علی بھٹو میڈیکل یونیورسٹی ہے۔
جامشورو میں ایک میڈیکل کالج کا نام بلاول بھٹو زرداری میڈیکل کالج ہے۔ جامشورو اب بے نظیر آباد ہو چکا ہے۔ اس بے نظیر آباد میں ایک کیڈٹ کالج کا نام بختاور بھٹو کیڈٹ کالج ہے۔ اسی بے نظیر آباد میں ایک یونیورسٹی کا نام بے نظیر بھٹو شہید یونیورسٹی ہے۔ بے نظیر آباد ہی میں ایک ڈسٹرکٹ سکول کا نام بھی بے نظیر بھٹو سکول ہے۔
اپر دیر میں بھی ایک شہید بے نظیر بھٹو یونیورسٹی قائم ہے۔ ایک شہید بے نظیر بھٹو وومن یونیورسٹی پشاور میں ہے۔
لاڑکانہ میں ایک یونیورسٹی کا نام شہید بے نظیر بھٹو میڈیکل یونیورسٹی ہے۔ لاڑکانہ میں ایک شہید بے نظیر گرلز کالج ہے۔
ایک بے نظیر بھٹو ڈگری کالج کراچی میں ہے۔ کراچی میں ویٹرنری اینڈ اینیمل سائنسز کی ایک یونیورسٹی قائم کی گئی، اس کا نام بھی شہید بے نظیر یونیورسٹی رکھ دیا گیا۔ کراچی میں ایک یونیورسٹی کو شہید بے نظیر بھٹو سٹی یونیورسٹی اور دوسری کو شہید بے نظیر بھٹو دیوان یونیورسٹی کہا جاتا ہے۔
راولپنڈی جنرل ہسپتال کا نیا نام بے نظیر بھٹو ہسپتال ہے۔ لیاری میں قائم میڈیکل کالج کو شہید بے نظیر بھٹو میڈیکل کالج کہتے ہیں۔
کراچی میں قائم اے این ایف ہسپتال کو اب بے نظیر بھٹو شہید اے این ایف ہسپتال کہا جاتا ہے۔
لاڑکانہ کے ڈینٹل کالج کو بے نظیر بھٹو ڈینٹل کالج لاڑکانہ کا نام دیا گیا ہے۔ سکھر میں ایک بیگم نصرت بھٹو ویمن یونیورسٹی ہے۔ خیر پور میں بے نظیر بھٹو شہید یونیورسٹی آف ٹیکنالوجی اینڈ سکل ڈویلپمنٹ ہے۔ لیاری کے گرلز کالج کا نام شہید بے نظیر بھٹو گرلز کالج ہے۔ گلشن اقبال کراچی کے کالج کو ذوالفقار علی بھٹو گورنمنٹ کالج کہتے ہیں۔
یہ فہرست ہمیں یہ سوچنے پر مجبور کرتی ہے کہ کیا واقعی یہ سب ادارے ان سیاسی خاندانوں نے اپنی ذاتی دولت سے تعمیر کیے؟ اگر ہاں، تو ہم بحیثیت قوم ان کا شکریہ ادا کرتے ہیں۔ لیکن اگر یہ تمام منصوبے عوام کے ٹیکسوں سے بنے ہیں، تو پھر ان پر کسی ایک شخص یا خاندان کا نام رکھنا نہ صرف غیر جمہوری بلکہ بدترین اخلاقی گراوٹ کی علامت ہے۔
اور پھر اس طرزِ حکمرانی سے دو بڑے نقصان سامنے آتے ہیں۔
اول، یہ عوام میں احساسِ ملکیت کو ختم کرتا ہے۔ جب کسی منصوبے کا نام کسی سیاستدان سے مخصوص کیا جاتا ہے، تو وہ ایک سیاسی علامت بن جاتا ہے نہ کہ ایک عوامی اثاثہ۔ یوں عوام اسے اپنا سمجھنے کے بجائے ایک جماعت کا کارنامہ سمجھتے ہیں، اور ان کے اندر ریاست کے ساتھ تعلق کمزور پڑتا ہے۔
دوم، یہ عمل سیاسی تقسیم کو مزید گہرا کرتا ہے۔ فرض کریں کہ ایک تعلیمی ادارے کا نام نواز شریف یا بلاول بھٹو یونیورسٹی رکھا گیا ہے۔ جو طلبہ یا اساتذہ سیاسی طور پر نون لیگ یا پیپلز پارٹی کے مخالف ہوں، ان کے لیے اس ادارے سے جُڑاؤ یا فخر کا احساس ویسا نہیں ہو گا جیسا ہونا چاہیے۔
یہ طرزِ حکمرانی اس مخصوص ذہنیت کی عکاسی کرتا ہے جو اقتدار کو صرف حکمرانی نہیں بلکہ یادگار بنانے کے لیے استعمال کرتی ہے۔ وہ ذہنیت جو چاہتی ہے کہ اس کے اقتدار کے آثار پتھر پر نقش ہو جائیں، خواہ وہ ریاستی وسائل سے ہی کیوں نہ ہوں۔ یہ رویہ صرف مخالفین کو نہیں، بلکہ خود نظام کو بھی زخم دیتا ہے۔ اور ایک ایسا کلچر پیدا کرتا ہے جہاں ہر حکومت تختیاں لگاتی ہے اور اگلی حکومت انہیں اتارتی ہے۔
اور اس رویہ سے یہ تاثر دیا جا رہا ہے کہ جیسے پاکستان میں صرف دو ہی خاندانوں نے خدمت کی ہو، باقی تمام سیاسی قوتیں ناکام یا بے کار رہی ہوں۔ حالانکہ حقیقت یہ ہے کہ پاکستان کی تعمیر میں کئی سیاسی جماعتوں، افسران، انجینئروں، اساتذہ، ڈاکٹروں اور عام شہریوں کا خون پسینہ شامل ہے۔
یہ طرزِ عمل آئینی اور جمہوری اصولوں کی بھی خلاف ورزی کرتا ہے۔ ایک جمہوری ریاست میں ادارے، منصوبے اور وسائل تمام عوام کے لیے ہوتے ہیں، اور ان کا کوئی ایک مخصوص سیاسی رنگ نہیں ہوتا۔ ریاست اور حکومت میں فرق اسی بنیاد پر قائم ہے کہ حکومت وقتی ہوتی ہے، ریاست مستقل۔
یہ صرف ناموں کا معاملہ نہیں یہ ایک نظریاتی چال ہے۔ اس چال کے ذریعے عوام کے ذہنوں میں ایک مخصوص بیانیہ راسخ کیا جا رہا ہے کہ صرف دو خاندان ہی نجات دہندہ ہے، صرف وہی خدمت گزار ہے، باقی سب مفاد پرست یا ناکام۔ یہ بیانیہ جمہوریت کے بجائے ملوکیت کی سوچ کو فروغ دیتا ہے۔
عوام کو چاہیے کہ وہ اس طرزِ حکمرانی پر سوال اٹھائیں۔ میڈیا، عدلیہ اور سول سوسائٹی کو بھی اس رجحان کے خلاف آواز بلند کرنی چاہیے۔
سرکاری منصوبے عوام کے ٹیکس سے بنتے ہیں اور ان پر صرف عوام کا حق ہے، نہ کہ کسی خاندان کا۔ جمہوری معاشرے میں ادارے قومی اثاثہ ہوتے ہیں، نہ کہ کسی جماعت یا خاندان کی جاگیر۔
اس ملک کے ادارے قائداعظم، علامہ اقبال، فاطمہ جناح اور سرسید احمد خان جیسے اکابرین کے نظریات کی نمائندگی کرتے ہیں، نہ کہ ان افراد کی جو چند سال اقتدار میں آ کر عوامی سرمائے کو ذاتی تشہیر کے لیے استعمال کرتے ہیں۔
ہمیں بطور قوم یہ طے کرنا ہے کہ ہم اداروں کی شناخت کو نظریہ پاکستان کے ساتھ جوڑیں گے یا سیاسی خاندانوں کی ذاتی شہرت کے ساتھ۔
اگر آج ہم نے خاموشی اختیار کی، تو کل ہم اپنے بچوں کو ایک ایسا ملک دیں گے جس کی ہر دیوار پر تختی ہو گی، لیکن اس تختی کے پیچھے کوئی قومی تشخص نہ ہو گا۔
ہمیں تختیوں کی سیاست نہیں، خدمت کی سیاست چاہیے۔ ایسی سیاست جو اداروں کو مضبوط کرے، ناموں کو نہیں۔


