معاصر روسی افسانوں کے اردو ترجمہ کے بارے میں


( اکادمی ادبیات کی جانب سے شائع کردہ اپنی کتاب منتروس کی منتخب کہانیاں جسے میں نے ”11 معاصر روسی افسانے نام دیا تھا )

روس میں کوئی امریکی ادارہ سائنسی لغات لکھوا رہا تھا۔ مجھ سے رجوع کیا تو میں نے فی لفظ زیادہ سے زیادہ معاوضہ طلب کیا تھا، جو وہ مان گئے تھے۔ بحث کے دوران یہی تاثر دیا گیا کہ اس کہنہ لغت کی درستی بھی کرنی ہے۔ میں نے حیاتیات سے متعلق لغت چن لی اور اپنے ایک دوست کو کیمیا سے متعلق لغت دلوا دی، جن کے ساتھ متعلقہ ادارہ نے مجھ سے آدھا معاوضہ دینا طے کیا۔ میں نے خوب محنت کی ایک چوتھائی سے زیادہ لغت کے معانی درست کیے جبکہ دوست نے جیسے لکھا تھا ہو بہو نقل کر دیا۔ ادائیگی کا موقع آیا تو دوست کو پوری ادائیگی کی گئی اور میری ایک تہائی اجرت یہ کہہ کے کاٹ لی گئی کہ آپ نے وہ معنی نہیں لکھے جو دی گئی لغت میں تھے یعنی صرف نقل کر کے دینا تھی۔

یہ ہوئی ایک بات، دوسری بات یہ کہ جب آپ پہلے سے اردو میں ترجمہ کیے گئے روسی ادیبوں کے لکھے ناولوں میں پڑھتے ہیں کہ اس نے وادکا شراب کے ساتھ سرکہ میں ترش کیے ہوئے کھیرے کھائے تو آپ کو لمحہ بھر کے لیے سہی، حیرت ہوتی ہوگی کہ یہ شراب نوش تو اپنا نشہ مار رہا ہے، مگر ایسا نہیں ہے کیونکہ جب تک کسی دوسری ثقافت میں جا کر رہتے اور وہاں لوگوں میں رس بس جاتے نہیں آپ کو ان کے ناؤ نوش کی عادات کے علاوہ ان کا انداز گفتگو بھی معلوم نہیں ہو گا۔

تو ترجمہ یوں بھی کیا جا سکتا ہے کہ جیسا لکھا ہے ہو بہو، لفظ بہ لفظ ترجمہ کر دیا جائے اور ایسے بھی کیا جا سکتا ہے کہ پڑھ کے سمجھا جائے اور پھر کہی بات کو مقامی رنگ میں ڈھال دیا جائے لیکن ایسے بھی نہیں کہ جیسے ہمارے ہاں کیے گئے ایک روسی ناول کے ترجمہ میں مترجم موصوف نے نہ صرف کچھ نام عربی یعنی پاکستانی کر دیے تھے بلکہ کرداروں کے اعمال کو بھی مشرف بہ اسلام کر دیا تھا۔ اور تیسرا طریقہ یہ ہوتا ہے کہ آپ دوسری زبان کی تحریر کو، اس طرح بنا دیں کہ وہ زبان تو اپنی رہے مگر انداز اسی ملک کی زبان کا سا ہو جس میں وہ دراصل لکھی گئی تھی، یوں میں نے اس ترجمہ میں یہی طریقہ اختیار کیا ہے کہ جیسے آپ کو فقرہ کے شروع میں لکھا ہوا لفظ اور اوپرا لگے گا مگر روسی زبان لکھنے اور بولنے میں لفظ اور کسی فقرے یا لفظ سے عام طور پر پہلے استعمال ہوتا ہے جیسے آپ کو کہنا ہے پاکستان، روس اور امریکہ میں، اسے روسی میں کہا جائے گا، اور پاکستان، اور روس، اور امریکہ میں۔ تو یوں میں نے اس طرح کی معمولی چاشنی اردو میں بھی برقرار رہنے دی ہے۔ پھر روسی کے محاورے اور کہاوتیں جوں کی توں رہنے دیں ماسوائے ایک کے کیونکہ اس کو ویسے کا ویسا لکھ کے تاثر درست نہ ملتا، اردو کے محاوروں اور کہاوتوں سے تبدیل نہیں کیا تاکہ قاری کو وہاں کی معاشرت، اگر سمجھ نہ بھی آ سکے تو کم از کم یہ معلوم ہو کہ وہ معاشرت ہماری معاشرت سے اگر مختلف نہیں تو اور طرح کی ضرور ہے۔

بات ہو جائے روسی ناموں کی، روس میں نام ایک ہوتا ہے لیکن اس کا عرف مختلف ہو سکتا ہے جسے پیار کے سبب یا بعض اوقات طنز اور ناپسندیدگی کے سبب بدل دیا جاتا ہے مثال کے طور پر نام ہے الیکساندر جس کی عرفیت ساشا کے علاوہ شورک بھی ہے اور پیار سے سان بھی کہتے ہیں۔ لڑکی کا نام ہے ہے آلا، پیار سے آلوچکا، آلوک بھی کہیں گے۔ نام ہے واسیلی، عرفیت واسیا ہے مگر واسیون یا واسیونچک بھی کہیں گے۔ روسی میں چک لگا دینا کسی نام کو چھوٹا کرنا اور پیارا کرنا ہے جیسے آنچکا، اس میں آنا نام کی لڑکی ننھی بھی ہو جاتی ہے اور پیاری بھی۔ ایسے ہی صرف انسانوں کو ہی نہیں بلکہ پسندیدہ اشیا کو بھی ایسے ہی بول سکتے ہیں جیسے ٹماٹر کو پومادور کہتے ہیں مگر جب پسند ہو یا حجم میں چھوٹا ہو تو اسے پومادورچک بھی کہہ سکتے ہیں اور کہتے ہیں۔

بات کر لیں تخاطب میں تعظیم کی، ہمارے ہاں رائج ہے کہ ہم نزدیکی اور عمر میں بڑے یا قابل تعظیم افراد کو آپ کہہ کر پکارتے ہیں مگر روسی معاشرت میں آپ غیریت کا اظہار ہے یا کسی سبب بڑھی تعظیم کا چنانچہ ماں، باپ، دادی، نانی، دادا، نانا، چچاؤں، مامووں، خالاؤں غرض سبھی اقربا کو تم یا تو کہہ کر پکارتے ہیں ہاں البتہ جمع کے صیغے میں آپ ہی برتا جاتا ہے جیسے ماں سے کہیں گے تم نے ناشتہ دیا یا باپ سے کہیں گے تم میرے لیے کوک لائے مگر جب ماں باپ دونوں سے متعلق کہیں گے آپ دونوں نے میری زندگی برباد کردی تو بولنے کو وہ آپ ہی بولا جائے گا مگر صرف جمع کے سبب۔ اب تشکر کے چند الفاظ، مجھے فرانسیسی اردو ادیب ژولیاں نے کئی سال پہلے کہا کہ کہ روسی کا کوئی نیا ناول اردو میں ترجمہ کردو۔ اس کی بات ماننے کی کوشش کرتے ہوئے روس سے ایک روسی ناول خرید بھی لایا، کچھ پڑھا اور مگر ترجمہ کرنے کو دل نہ مانا۔ بہت زیادہ کتابیں پڑھنے والے میرے دوست اور ہم جماعت بریگیڈیئر ریٹائرڈ، ڈاکٹر چوہدری اظہار الحسن کب سے کہہ رہے ہیں کہ شاعر بھی ہو، اردو جانتے ہو، روسی بھی چنانچہ روسی نوبل انعام پانے والے شاعر ایوسف مندل شٹام کی نظموں کے تراجم ہی کر دو۔ ہامی بھر کے اب تک نہیں کیا، اب تو چوہدری صاحب جھنجھلا جاتے ہیں کہ تم نے کرنا ہی نہیں۔ مگر یہ اکادمی ادبیات کے مہربان اور فعال چیئرمین، جناب یوسف خششک کا رعب ہے یا کمالِ، جھٹ سے مجھے ایک نامہ تھما دیا کہ روسی افسانوں کے تراجم کر کے چاہے اکتوبر تک دے دیں۔ میں نہ کہنے کی خواہش رکھتے ہوئے بھی نا نہ کہہ سکا۔ سوچا کہ مجھے تو جلد روس جانا نہیں تو کیا کیا جائے؟ اوہ ریڈیو صدائے روس میں میری ایک بہت محبوب رفیق کار ہیں، لینا۔ جو آج کل روسی بین الاقوامی خبر رساں ایجنسی تاس کے شعبہ انگریزی میں صحافی ہیں۔ اس مہربان جوان خاتون سے درخواست کی تو انہوں نے وقفے وقفے سے افسانے بھیج دیے۔ ایلینا الیکساندروونا بادیکووا اور محترم یوسف خششک کا ممنون ہوں، جن کی معاونت سے معاصر کہانیوں کا یہ مختصر مجموعہ آپ پڑھ پائے ہیں۔

عرض آخر، یہ کہ افسانے گیارہ نہیں بلکہ دس جمع ایک ہیں۔ تاتیانا تولستایا کی تحریر بظاہر نامور مصور مالیوچ کے متنازعہ مگر مشہور شاہکار پر تنقید دکھائی دیتی ہے ایسے جیسے ناقدانہ رائے مگر اس میں لیو تالستوئی کے تجربے اور تحریر کے آخر میں رنجیدہ طنز کے سبب یہ افسانے کی شکل اختیار کر گیا ہے، اسی لیے اسے اس مجموعہ میں افسانے کے طور پر پیش کر دیا گیا ہے۔

Facebook Comments HS