سب خیریت ہے نا؟


عائشہ خان اور حمیرا اصغر کی کہانی صرف دو زندگیوں کا اختتام نہیں، بلکہ ایک بہت بڑے سماجی المیے کی علامت ہے۔ یقیناً، یہ ایک دل دہلا دینے والی حقیقت ہے جس پر اب صرف افسوس یا حیرت نہیں بلکہ سنجیدہ غور و فکر کی ضرورت ہے۔

دونوں خواتین اپنی زندگی کے الگ الگ مرحلوں میں تھیں ایک عمر گزار چکی تھی، تو دوسری ابھی زندگی کے خواب آنکھوں میں سجائے بیٹھی تھی۔ لیکن انجام دونوں کا ایک جیسا ہوا، تنہا، خاموش اور بے کسی میں لپٹی موت۔

کیا یہ وہی معاشرہ ہے جہاں کبھی دروازے کھلے رہتے تھے، جہاں کسی کی خیریت جاننے کے لیے محلے کی عورتیں چادریں اوڑھ کر نکل کھڑی ہوتی تھیں؟ آج ہر دروازہ بند ہے، ہر دل میں تنہائی کا قفل لگا ہے۔ لوگ ایک دوسرے کے درد کو محسوس کرنے کے بجائے صرف سکرین پر اموجیز بھیج کر ہمدردی کے تقاضے پورے کر لیتے ہیں۔ تنہائی ایک وبا بن گئی، عالمی ادارہ صحت نے جس خاموش وبا کا ذکر کیا ہے، ہر گھنٹے میں ایک سو افراد سالانہ 8 لاکھ 71 ہزار جان سے چلے جاتے ہیں۔

اکیلا پن یا تنہائی ہم سب کے گھروں، گلیوں اور دلوں میں سرایت کرچکی ہے۔ تنہائی اب صرف کسی بوڑھے فرد کی قسمت نہیں رہی، یہ نوجوانوں، بچوں، ماؤں، سب کو نگلتی جا رہی ہے۔ یہ وہ بیماری ہے جو جسم نہیں، روح کو کھا جاتی ہے۔ یہ وہ زہر ہے جو آہستہ آہستہ زندگی کی ہر خوشی، ہر امید کو مار دیتا ہے۔

ہم سمجھتے ہیں ہم جُڑے ہوئے ہیں، ہمارے پاس دوستوں کی فہرست ہے، میسجز کے نوٹیفکیشنز ہماری تنہائی کی گواہی نہیں دیں گے۔ مگر سچ یہ ہے کہ سوشل میڈیا نے ہمیں جسمانی طور پر قریب، اور روحانی طور پر اتنا ہی دور کر دیا ہے۔ اب رشتے ”آن لائن“ ہیں، لیکن احساسات ”آف لائن“ ہو چکے ہیں۔ حکومتیں، ادارے اور ہر فرد اگر اب بھی نہ جاگے، تو شاید کل اور کئی عائشہ اور کئی حمیرا، اپنے بند کمروں میں تنہائی کی اذیت میں خاموش ہو جائیں گی، اور ہمیں صرف یہ خبر ملے گی کہ ایک اور تنہا زندگی ختم ہو گئی۔

ہمیں واپس پلٹنا ہو گا اُس معاشرے کی طرف جہاں دلوں کا ربط تھا، آوازوں میں اپنائیت تھی اور ہاتھ تھامنے والا کوئی ضرور ہوتا تھا۔

ہمیں اپنے بزرگوں کے لیے وقت نکالنا ہو گا، نوجوانوں کو سُننا ہو گا، اور اپنے ارد گرد کے چہروں پر چھپے درد کو محسوس کرنا ہو گا۔ کیونکہ رابطہ صرف نیٹ ورک کا نام نہیں، بلکہ دلوں کے بیچ پل بنانے کا عمل ہے۔ اور شاید یہی رابطہ زندگی بچا سکتا ہے۔ وقت آ گیا ہے کہ ہم واٹس ایپ کے لسٹ ویو سے نکل کر اپنی کھڑکیوں سے جھانکیں اور پوچھیں ”سب خیریت ہے نا؟“

Facebook Comments HS

نعمان یاور

نعمان یاور پرنٹ اور الیکٹرانک صحافت میں وسیع تجربہ رکھتے ہیں اور ان دنوں ایک نجی ٹی وی چینل سے وابستہ ہیں

nauman-yawar has 153 posts and counting.See all posts by nauman-yawar