حمیرہ اصغر کی خاموش موت: تنہائی، بے حسی اور سوالات
حمیرہ اصغر علی، جو پاکستان کی معروف ماڈل، اداکارہ اور مصورہ تھیں، ایک پرکشش اور باصلاحیت شخصیت کے طور پر جانی جاتی تھیں۔ ان کا تعلق لاہور سے تھا اور انہوں نے نیشنل کالج آف آرٹس اور پنجاب یونیورسٹی سے تعلیم حاصل کی۔ اپنی فنی صلاحیتوں کی بدولت حمیرہ نے مختلف ڈراموں، اشتہارات، اور فلموں میں کام کیا، جن میں 2015 کی فلم ”جلیبی“ بھی شامل ہے۔ انہوں نے 2022 میں ریئلٹی شو ”تماشا گھر“ میں شرکت کر کے شہرت حاصل کی، جہاں ان کی شخصیت اور انداز کو ناظرین نے خوب سراہا۔
حمیرہ نے ایک فلم ”لو گرو“ میں بھی مختصر سا کردار ادا کیا تھا۔ اس فلم کی ڈبنگ کے لیے پروڈکشن ٹیم نے بعد میں ان سے رابطہ کرنے کی کوشش کی، لیکن ان کا نمبر مسلسل بند جا رہا تھا۔ اس واقعے نے بھی ان کی گمشدگی کے خدشے کو مزید گہرا کیا، مگر تب بھی کسی نے سنجیدگی سے ان کی عدم دستیابی پر غور نہیں کیا۔
حمیرہ نہ صرف شوبز کی دنیا میں جانی پہچانی جاتی تھیں بلکہ وہ ایک اچھی مصورہ بھی تھیں۔ ان کی فنکارانہ صلاحیتیں اور تخلیقی سوچ نے انہیں ان کے شعبے میں ممتاز مقام دیا۔ سوشل میڈیا پر بھی وہ کافی متحرک تھیں اور ان کے ہزاروں مداح ان کی پوسٹس اور تصاویر کے ذریعے ان سے جڑے رہتے تھے۔ تاہم 2024 کے ستمبر کے بعد ان کا سوشل میڈیا اچانک غیر فعال ہو گیا، جس پر کسی نے زیادہ توجہ نہیں دی۔
ان کی ایک قریبی دوست جو ان دنوں عمرہ کی ادائیگی کے لیے سعودی عرب میں تھیں، نے سوشل میڈیا پر ایک وائس نوٹ شیئر کیا، جو حمیرہ نے عمرہ کے دوران ان کے لیے بھیجا تھا۔ اس آڈیو پیغام میں حمیرہ نے اپنے لیے بہت سی دعاؤں کی درخواست کی تھی، جس سے صاف ظاہر ہوتا ہے کہ وہ اندرونی طور پر کسی تکلیف یا ذہنی دباؤ کا شکار تھیں۔
ان کی ذاتی زندگی میں کئی پیچیدگیاں تھیں۔ ان کے قریبی رشتہ داروں سے تعلقات کشیدہ تھے، اور وہ کراچی میں تنہا رہائش پذیر تھیں۔ حمیرہ کی بھابھی نے جنوری 2025 میں ان کی طویل غیر حاضری اور فون بند ہونے پر تشویش کا اظہار کیا اور پولیس کو ان کی گمشدگی کی اطلاع دی۔ تاہم، پولیس نے کارروائی سے انکار کرتے ہوئے کہا کہ چونکہ شکایت دہندہ ان کی بلڈ ریلیشن (خون کا رشتہ) نہیں ہے، اس لیے وہ اس پر رسمی کارروائی نہیں کر سکتے۔ یہ بیان خود حمیرہ کی بھابھی نے میڈیا سے گفتگو میں دیا، جس میں انہوں نے افسوس کا اظہار کیا کہ اگر پولیس اس وقت حرکت میں آتی تو شاید حقیقت جلد سامنے آ جاتی۔
حمیرہ کی لاش 8 جولائی 2025 کو کراچی کے ڈیفنس فیز 6 میں واقع ان کے فلیٹ سے اس وقت ملی جب کرایہ نہ دینے پر بیلف ٹیم نے عدالتی احکامات پر فلیٹ کا دروازہ توڑا۔ فلیٹ اندر سے بند تھا اور لاش شدید سڑن کا شکار تھی۔ ابتدائی طور پر موت کو 2 سے 3 ہفتے پرانا سمجھا گیا، لیکن بعد ازاں شواہد سے پتا چلا کہ ان کا انتقال اکتوبر 2024 کے آس پاس ہو چکا تھا۔ فلیٹ کی بجلی بند تھی، فریج میں موجود خوراک سڑ چکی تھی، اور ان کے موبائل نمبرز بھی غیر فعال تھے۔
پوسٹ مارٹم رپورٹ کے مطابق لاش پر کسی قسم کے زخم یا تشدد کے نشانات موجود نہیں تھے، تاہم مکمل وجہ موت جاننے کے لیے ٹاکسی کولوجی، ہسٹاپیتھالوجی اور دیگر فرانزک ٹیسٹ جاری ہیں۔ حمیرہ کے والد نے ابتدائی طور پر ان کی لاش لینے سے انکار کر دیا، جس پر سندھ کلچر ڈیپارٹمنٹ نے ان کی تدفین کی پیشکش کی، تاہم بعد ازاں ان کے بھائی لاہور سے آئے، قانونی کارروائی مکمل کی، اور لاش کو لاہور منتقل کر کے دفنایا گیا۔
سوشل میڈیا پر اس واقعے نے شدید ہلچل مچائی۔ لوگوں نے سوال اٹھائے کہ ایک مشہور شخصیت مہینوں تک لاپتہ رہی اور کسی نے دھیان تک نہیں دیا۔ ان کے مداحوں اور صارفین نے معاشرتی بے حسی، تنہائی، اور ذہنی صحت کے مسائل پر کھل کر گفتگو کی۔ ایک شہری نے عدالت میں درخواست دائر کی کہ حمیرہ کی موت کو قتل کا کیس سمجھ کر دوبارہ تحقیقات کی جائیں، کیونکہ ویڈیو شواہد اور حالات مشکوک لگتے ہیں۔ عدالت نے پولیس کو تمام پہلوؤں سے تفتیش کا حکم دیا ہے، اور رپورٹ 16 جولائی تک طلب کر لی گئی ہے۔
حمیرہ اصغر کی زندگی اور موت ایک دردناک کہانی ہے، جو شہرت کی چمک دمک کے پیچھے چھپی تنہائی، خاندانی دوری، اور معاشرتی غفلت کو بے نقاب کرتی ہے۔ ایک باصلاحیت فنکارہ، جو لاکھوں دلوں کی دھڑکن تھی، خاموشی سے دنیا سے رخصت ہو گئی، اور کئی ماہ تک کسی کو خبر تک نہ ہوئی۔ یہ واقعہ صرف ایک المیہ نہیں بلکہ ہمارے معاشرتی رویوں کے لیے ایک آئینہ بھی ہے۔


